07:41 am
جنت کی طرف مسابقت

جنت کی طرف مسابقت

07:41 am

قارئین!  میں نے آپ کے سامنے سورۃ الحدید کے تیسرے رکوع کی تین آیات 21 تا24 پر گفتگو کرنی ہے۔
قارئین!  میں نے آپ کے سامنے سورۃ الحدید کے تیسرے رکوع کی تین آیات 21 تا24 پر گفتگو کرنی ہے۔ جن میںاصل زندگی آخرت کے حوالے سے جنت کی طرف مسابقت اور رضائے رب پر راضی رہنے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔ فرمایا’’(بندو) لپکواپنے پروردگار کی بخشش کی طرف اور جنت کی (طرف)۔ جس کا عرض آسمان اور زمین کے عرض کا سا ہے۔ اور جو اُن لوگوں کے لئے تیار کی گئی ہے جو اللہ پر اور اُس کے پیغمبر پر ایمان لائے ہیں۔ یہ اللہ کا فضل ہے، جسے چاہے عطا فرمائے اور اللہ بڑے فضل کا مالک ہے۔‘‘
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو سمجھا رہا ہے کہ اگر دنیا کی حقیقت سمجھ آ گئی اور آخرت منزل مقصود بن گئی ہے تو آخرت بنانے کے لئے دوڑ لگائو۔ دنیا میں جو مہلت عمل ملی ہے، اُس سے فائدہ اُٹھائو اور آخرت کو سنوارنے کی جدوجہد کرو۔ دنیا، جو دھوکے کا سامان ہے، اِس کے چکر میں نہ آئو۔ تم دنیا میں مقابلہ کی بجائے آخرت بنانے کے لئے ایک دوسرے سے مقابلہ کرو۔ اللہ سے مغفرت کے حصول اور اُس جنت کو حاصل کرنے کی کوشش کرو، جس کا عرض آسمان اور زمین جیسا ہے_
ہر صاحب ایمان شخص جنت تک پہنچ سکتا ہے، لیکن ضروری ہے کہ وہ اس کے لئے سعی کرے، راہ اطاعت پرگامزن ہو۔ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا:   ’’ ہر بندئہ مومن جنت میں داخل ہو گا سوائے اس کے کہ جو خود انکار کر دے۔‘‘اس سے زیادہ خوبصورت انداز سمجھانے کا نہیں ہو سکتا جو اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا۔ آپؐ معلم کامل ہیں، آپؐ راہنمائے کامل ، رسول کامل، امام کامل اور عبد کامل ہیں۔ صحابہؓ نے پوچھا کہ حضورﷺ کون ایسا (بدبخت) ہو گا جو جنت میں جانے سے انکار کرے گا؟ توآپؐ نے فرمایا:’’ جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہو جائے گا اور جس نے میری نا فرمانی کی(یعنی میری اطاعت کے راستے کو چھوڑ کر کوئی اور راستہ اختیار کیا) اس نے خود ہی جنت میں جانے سے انکار کر دیا۔‘‘ آسمانی ہدایت کا خلاصہ رسول اللہ ﷺ کی اطاعت ہے۔ دین نام ہی رسولﷺ کی اطاعت کا ہے۔ قرآن مجید کی تعلیمات کا حاصل ہی یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺکی اطاعت اور پیروی کی جائے۔ یہی کامیابی کا راستہ ہے۔   اللہ تعالیٰ ہمیں اس راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔(آمین)
 اس راستے پر چلنے میں ایک نفسیاتی رکاوٹ حائل  ہو سکتی ہے۔ فرض کریں، ایک شخص کی سمجھ میں آگیا کہ مجھے ساری محنت آخرت کے لئے کرنی چاہیے کہ جواصل زندگی ہے، لیکن اس کے ذہن میںیہ کھٹکا بھی پیدا ہو سکتا ہے کہ اگر دنیا کی طرف سے غافل ہو جائوں گا تو پھر کھائوںگا کہاں سے، اللہ کی راہ میں بے دریغ خرچ کر دیا تو بڑھاپے میںمیراکیا بنے گا۔ اولاد کو بھی اونچے مقامات پر پہنچانا ہے، اس کا کیا بنے گا۔پھراگراللہ کی راہ میں نکلوں گا،تو کوئی مشکل اور سختی بھی آ سکتی ہے جان کوبھی خطرہ ہو گا، لہٰذا گھر کے اندر عافیت سے رہنا ہی بہتر ہے۔ چنانچہ اس کھٹکے کے ازالہ کے لیے فرمایا:’’کوئی مصیبت ملک پر اور خود تم پر نہیں پڑتی مگر پیشتر اس کے ہم اس کو پیدا کریں ایک کتاب میں (لکھی ہوئی) ہے۔‘‘
زیربیان آیت کے آخر میں فرمایا:’’ بے شک یہ کام اللہ کو آسان ہے۔‘‘
 تمہیں تو یہ بات بڑی مشکل معلوم ہو گی کہ یہ ساری چیزیں ہی کسی کے علم میں موجود ہوں۔ لیکن یہ اللہ کی بات ہو رہی ہے۔ تم اللہ کے علم کو اپنے علم پر قیاس نہ کرو۔ اس کا علم، اس کی قدرت، اس کی مشیت، اس کا ارادہ، وہ سب لامحدودہیں۔
اللہ کے علم کامل پر ایمان کا نتیجہ کیا نکلنا چاہئے؟فرمایا:’’تاکہ جو(مطلب) تم سے فوت ہو گیا ہو اس کاغم نہ کھایا کرو اور جو تم کو اس نے دیا ہو اس پر اترایا نہ کرو۔‘‘
بندۂ مومن یہ یقین رکھے کہ سب کچھ اللہ کے اذن سے ہو رہا ہے، لہٰذا اگر میرا نقصان ہوا تو اس کے اذن سے ہوا،از خود تو نہیں ہو گیا۔ اور جو ہوا ہے وہ پہلے سے طے شدہ تھا، اللہ کے علم میں تھا، اس کو میں روک نہیں سکتا تھا۔ لہٰذا جو ہوا سر تسلیم خم ہے۔ میں جنگ کے لیے ، جہاد اور قتال کے لیے باہر نہ بھی نکلوں ، اگر میری موت سڑک پر طے ہے تو کوئی آئے گا اور مجھے قتل کر کے چلا جائے گا۔مؤمن کی کیفیت تویہ ہونی چاہیے کہ: ’’نہیں آن پڑتی کوئی مصیبت مگر اللہ کے حکم سے‘ اور جو اللہ پر ایمان رکھتا ہے اللہ اس کے دل کوہدایت دے دیتا ہے‘‘۔ مؤمن یہ یقین رکھتا ہے کہ جوبھی تکلیف آتی ہے اللہ کے اذن سے آتی ہے۔ چنانچہ وہ مطمئن رہتا ہے کہ اللہ کی مرضی یہی تھی، اللہ کا فیصلہ یہی تھا۔اسی میں میرے لیے خیر ہو گا‘ چاہے وہ خیر مجھے نظر آئے یا نہ آئے!یہاں بتایا جا رہا ہے کہ تکالیف و مصائب انسانی زندگی کا لازمی حصہ ہیں۔ انسان اگر کسی جدوجہد میں حصہ لیے بغیرpassiveزندگی بسر کر رہا ہو تب بھی ان سے سابقہ پیش آ سکتا ہے۔ آدمی کو ہارٹ اٹیک ہو سکتا ہے‘کینسر ہو سکتا ہے‘ کوئی اور مصیبت آ سکتی ہے‘ کوئی حادثہ ہو سکتا ہے‘ اور اس طرح اس کی جان    جا سکتی ہے۔ یہ جان تو ہر حال میں جانی ہی ہے اور مصیبتوں سے بچنے کی یہاں پر کسی کے پاس کوئی ضمانت نہیں ہے‘تو کیوں نہ انسان کسی اعلیٰ تر نصب العین کے لیے اپنی زندگی actively کھپائے اور اس کے لیے  فی الواقع خطرات کا رسک لے، اور اس راہ میں آنے والی مشکلات پرکبیدئہ خاطر نہ ہو بلکہ ہر حال میں رضائے رب پر راضی رہے۔ کسی چیونٹی کے کاٹنے پر آپ کے ہاتھ میں جنبش ہوئی اور آپ نے اپنا ہاتھ ہٹا لیا کہ یہ کیا ہوا‘ یہ reflex action ہے۔ اس درجے میں انسان پر کسی شے کا کوئی فوری ردعمل طاری ہو جائے تو یہ بات تسلیم و رضا کے منافی نہیں ہے۔ جیسے کہ آنحضورﷺ کے صاحبزادے حضرت ابراہیمؓ  جب عالم نزع میں تھے تو آپ ؐ  کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس پر بعض صحابہ کرامؓ نے سوال بھی کیا کہ حضورﷺ آپؐ  کی آنکھوں میں آنسو؟ آپؐ نے فرمایا :   یہ تو اللہ تعالیٰ کی اُس رحمت کا ظہور ہے جو اُس نے انسان کے دل میں رکھی ہوئی ہے‘ لیکن ہم کہیں گے وہی کچھ جو اللہ کو پسند ہے‘ ہم اُس کی رضا پر راضی ہیں۔ یہ تسلیم و رضا کا مقام ہے‘ یعنی راضی برضائے رب رہنا۔ کوئی شکوہ اور شکایت کا کلمہ زبان پر نہ آئے۔   
رضائے حق پہ راضی رہ ‘ یہ حرفِ آرزو کیسا؟
خدا مالک ‘ خدا خالق‘ خدا کا حکم‘ تو کیسا!
اللہ کی رضا پر راضی رہنے کا معاملہ درحقیقت ایمان کے ثمرات میں سے چوٹی کا ثمرہ ہے۔ اگر کوئی تکلیف آئی ہے تو اس کا طبعی اثر تو یقینا ہو گا ‘لیکن اس سے زیادہ آپ کے اعصاب پر اور آپ کے احساسات پر اس کی چھاپ نہ پڑنے پائے۔ آپ کا طرزِ عمل یہ ہو کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے اور اس سے یقینا اللہ کو کوئی نہ کوئی خیر ہی منظور ہو گا۔ ہم short sightedہیں‘ ہم نہیں دیکھ سکتے۔ دعائے استخارہ میں رسول اللہﷺ نے ہمیں یہ الفاظ سکھائے ہیں : ُ ’’یقینا تو جانتا ہے اور میں نہیں جانتا‘ ’’تجھے ہر شے کی قدرت حاصل ہے‘ مجھے قدرت حاصل نہیں ہے‘‘۔جو بھی تیرا فیصلہ ہے میں اُس پر راضی ہوں۔
(جاری ہے)

 

تازہ ترین خبریں