07:43 am
خشوگی قتل بہانہ‘ سعودی عرب نشانہ؟

خشوگی قتل بہانہ‘ سعودی عرب نشانہ؟

07:43 am

اقوام متحدہ نے سعودی صحافی جمال خشوگی کے قتل کی تحقیقاتی رپورٹ19 جون کو جاری کر دی ہے‘ ج
اقوام متحدہ نے سعودی صحافی جمال خشوگی کے قتل کی تحقیقاتی رپورٹ19 جون کو جاری کر دی ہے‘ جس میں کہا گیا ہے کہ ایسے شواہد ملے ہیں کہ جن کی بنیاد پر کہا جاسکتا ہے کہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ ساتھ دیگر سعودی اہلکار بھی اس قتل میں ملوث ہیں رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سلامتی کونسل سعودی ولی عہد کو تفتیش میں شامل کرے اور سعودیہ پر پابندیاں عائد کرے۔
تقریباً100 صفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں  مزید کہا گیا ہے کہ جمال خشوگی کے قتل کے اصل ذمہ داروں تک پہنچنے کے لئے مزید تحقیقات کی ضرورت ہے‘ جب تک سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی قتل کے حوالے سے بے گناہی ثابت نہیں ہو جاتی تب تک ان  کے تمام ذاتی اثاثے بھی منجمد کر دیئے جائیں۔
دوسری جانب سعودی عرب نے اقوام متحدہ کی اس رپورٹ کو مسترد کر دیا ہے … سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے اقوام متحدہ کے قتل سے متعلق رپورٹ کو تضادات اور بے بنیاد الزامات کا مجموعہ  قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے خود عالمی ادار ے کی ’’ساکھ‘‘ متاثر ہوگی‘ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے تحت انسانی حقوق کونسل کی خصوصی نمائندہ رپورٹ میں کچھ بھی نیا نہیں ہے‘ اقوام متحدہ نے اپنی رپورٹ میں پہلے سے میڈیا میں شائع اور نشر شدہ مواد ہی کا اعادہ کیا ہے۔
سعودی وزیر خارجہ نے بتایا کہ اس وقت سعودی عرب میں کیس کی تحقیقات اور ان کے قتل میں ملوث مشتبہ افراد کے خلاف مقدمہ چلایا جارہا ہے … سعودی عدلیہ خشوگی قتل کیس میں مکمل بااختیار مجاز اتھارٹی ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان  لندن سے شائع ہونے والے روزنامے الشرق الاوسط کو اپنے دیئے جانے والے انٹرویو میں خشوگی قتل کے حوالے سے یہ بات کہہ چکے ہیں کہ اس طرح کے واقعات سعودی عرب کی تہذیب سے مطابقت نہیں رکھتے اور یہ ہمارے اصول و اقدار کے منافی ہیں‘ انہوں نے کہا تھا کہ سعودی عرب نے اس کیس کے حوالے سے ضروری اقدامات کیے ہیں اور ذمہ داروں کو عدالت کے کٹہرے میں لایا جائے گا‘ اگر کسی کے پاس ثبوت موجود ہیں تو وہ انہیں سعودی عرب کی عدالت میں پیش کرے تاکہ انصاف کے حصول میں مد د مل سکے۔
قارئین کو اگر یاد ہو تو … گزشتہ سال ماہ اکتوبر میں ترکی کے شہر استنبول میں سعودی قونصلیٹ میں جمال خشوگی کو قتل کر دیا گیا تھا‘ جمال خشوگی سعودی شہری تھا‘ اس کی عمر تقریباً58 سال تھی اور وہ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ سے وابستہ تھا اور امریکہ میں مقیم تھا۔
کہا جاتا ہے کہ یہ سعودی عرب کے حکمرانوں کی اندھی دشمنی میں امریکی سی آئی اے کے مفادات کی بھینٹ چڑھ گیا‘ سعودی عرب کو طاقتور بنانے کی سوچ رکھنے والے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو مستقل بنیادوں پر بلیک میل کرکے قابو میں رکھنے کے لئے امریکہ کو جس معیاری اور موثر ہتھیار کی ضرورت تھی ‘ خشوگی قتل کیس اس معیار پر پورا اترتا نظر آرہا ہے ‘ سعودی عرب ہو پاکستان ہو یا دنیا کے دیگر ممالک… امریکی سی آئی اے کو تو ان ممالک کے اندر بھی ایسے صحافیوں کی اشد ضرورت  رہتی ہے کہ جو اس کے لئے خدمات سرانجام دے سکیں‘ جمال خشوگی تو پھر امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ سے وابستہ تھا اور سعودی رائل فیملی کے قریب بھی تصور کیا جاتا تھا ‘ پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ امریکی سی آئی اے کے شہ دماغوں کا ’’شکار‘‘ بننے سے بچ جاتا؟ لیکن بہرحال استنبول کے سعودی قونصلیٹ میں اسے بے رحمانہ انداز میں قتل کرنے والوں کو سعودی عرب میں رائج مضبوط نظام انصاف کے ہاتھوں ضرور کیفر کردار تک پہنچنا چاہیے۔
یہ بات دنیا میں بڑی مشہور ہے کہ اقوام متحدہ دراصل امریکہ کی لونڈی کا دوسرا نام ہے‘  یہ ایک طرف اتنا طاقتور ہے کہ استنبول کے قونصلیٹ میں قتل ہونے والے خشوگی کے قتل میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو بھی پھنسانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگاتا ہے اور دوسری طرف مجبور اور بے بس اتنا کہ کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے لئے اپنی ہی منظور کردہ قراردادوں پر بھارت سے عمل کروانے میں مکمل ناکام ثابت ہوتا ہے‘  کیا امریکہ میں سعودی عرب سے زیادہ نظام انصاف مضبوط ہے؟ ہرگز نہیں … دختر پاکستان ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو جس ظالمانہ انداز میں86 سال سزا سنا کر اس کے ناتواں وجود پر قیامت خیز مظالم ڈھائے گئے وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکہ میں نظام انصاف کا جنازہ نکل چکا ہے اور سعودی عرب کی عدلیہ  اور نظام انصاف امریکہ سے کہیں بہتر ہے‘ شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ بہت سے معاملات پر اختلاف رکھنے والے بھی اس بات پر متفق ہیں کہ ایک آزاد ‘ خود مختار‘ روشن خیال اور مضبوط سعودی عرب ان کا ویژن ہے (روشن خیالی کی تعریف کیا ہے اور اس پر آئندہ کسی کالم میں بحث کریں گے) فی الحال تو جمال خشوگی قتل کیس پر ہی بحث مرکوز رکھتے ہیں‘ ایک آزاد ‘ خودمختار ‘امریکی بیساکھیوں کے بغیر اپنے پائوںپر مضبوط بنیادوں پر کھڑا ہونے والا ’’سعودی عرب‘‘ امریکہ کو کسی قیمت پر بھی قبول نہیں ہے۔سوال یہ ہے کہ پاکستان نے تو کبھی امریکی اخبار سے وابستہ کسی جمال خشوگی کو نہ قتل کیا اور نہ کروایاتو پھر امریکہ اسے گزشتہ20 سالوں سے کس بات کی سزا دے رہا ہے؟
گوانتاناموبے کے قیدخانوں میں افغانستان  اور پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ملکوں کے بے گناہ اسلام پسندوں پر جس طرح  کے خوفناک مظالم ڈ ھائے گئے ‘ اس نے پوری انسانیت کو شرمندہ کرکے رکھ دیا‘ کسی قیدی کو چار سال‘ کسی کو  8 سال‘ کسی کو12 سال تک انسانیت سوز مظالم کا نشانہ بنانے کے بعد آخر میں یہ کہہ کر رہا بھی کر دیا گیا کہ یہ سب بے گناہ ہیں‘ اقوام متحد ہ کی انسانی حقوق کونسل نے  آج تک امریکہ کی اس دہشت وحشت پر کیا نوٹس لیا؟

 

تازہ ترین خبریں