07:44 am
’’  بجٹ   دا کھڑاک ‘‘

’’ بجٹ دا کھڑاک ‘‘

07:44 am

اب کے برس  بجٹ نہیں بلکہ مولا بجٹ آیا ہے ! مولا جٹ اپنے گنڈاسے سے نوری نت جیسے  غنڈوں کا کھڑاک کر دیتا تھا ۔
  اب کے برس  بجٹ نہیں بلکہ مولا بجٹ آیا ہے ! مولا جٹ اپنے گنڈاسے سے نوری نت جیسے  غنڈوں کا کھڑاک کر دیتا تھا ۔ مولا بجٹ  ٹیکس اور مہنگائی کے گنڈاسے سے عوام کا کھڑاک  کر رہا ہے۔ یاد کیجیے  ایک مشہور فلم کا نام تھا جٹ دا کھڑاک  ۔  غالباً اسی فلم سے متاثر ہوکے وزارت خزانہ نے بجٹ دا کھڑاک نامی فلم پارلیمان کے فلور پر جاری کر دی ہے۔ مولا جٹ جیسی سپر ہٹ فلم ماضی میں کئی ہفتوں تک سینمائوں کی زینت بنی رہی۔  ہمارے مولابجٹ کی نمائش سال بھر ملک کے شہروں ، دیہاتوں اور قصبوں میں بلا تعطل جاری رہے گی ۔ بجٹ کے بطن سے جنم لینے والی مہنگائی اور معاشی دبائو پرطنز کرتے ہوئے  پی ٹی وی کے شہرہ آفاق مزاحیہ پروگرام ففٹی ففٹی کے ایک خاکے میں اسے گنڈاسہ بردار مولا بجٹ قرار دیا گیا تھا ۔ کھڑاک کا لفظ پنجابی زبان میں شور شرابے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے اور پریشان کن ہنگامے یا تباہی کے لیے بھی ۔
گنڈاسہ کلچر کو جنم دینے والی فلموں میں ہیرو یعنی کہ  سلطان راہی مرحوم اور اُن کے حریفِ مستقل مصطفیٰ قریشی اپنے دشمنوں کی جی بھر کے پٹائی لگانے کے عمل کو کھڑاک کہا کرتے تھے ۔ اس کھڑاک کے نتیجے میں چالیس یا پچاس افراد کا لہو لہان ہوکے دارِ فانی سے کوچ کر جانا  پنجابی فلموں میں  معمول کی کاروائی سمجھی جاتی رہی ہے ۔ حسب روایت ہر کھڑاک کے فوراً بعد  ڈھائی من کی ہیروئن اپنی درجن بھر سہولت کار  ہمجولیوں سمیت  ہرے بھرے کھیت میں نامعلوم مقام سے اچانک آن دھمکتی ہے !  یہ سب مل کے  کامیاب کھڑاک پہ ناچ ناچ اور گا گا کے گنڈاسہ بردار ہیرو کو خراج تحسین پیش کرتی ہیں ۔ عموماً ہر کھڑاک کے بعد ہیرو گنڈاسہ تھامے دونوں ہاتھ سر سے بلند کر کے بڑھک مار کے زندہ بچ جانے والے دشمنوں کو اگلے کھڑاک کی وارننگ بھی جاری کر دیتا ہے ۔ غالباً مولاجٹ یا اسی طرز کی ایک فلم میں ہیرو کا یہ دھمکی آمیز ڈائیلاگ بہت مشہور ہوا تھا‘ اوئے جاگیردارا ! میں کھڑاک کراں تے  دشمناں دے پتر ای نئیں بلکہ پوترے وی مار دیناں آں ( میں کھڑاک کر وں تو  دشمنوں کے بیٹے ہی نہیں بلکہ پوتے بھی مار دیتا ہوں ) ۔  مولا جٹ فلم کے ولن نوری نت کا   ایک اور شہرہ آفاق ڈائیلاگ یاد آیا ‘  جدوں میں تیری لت توڑاں گا تے تیری بیساکھی وچوں ٹھک ٹھک دے بجائے واج آئے گی نوری نت نت نت ( جب میں تیری ٹانگ توڑوں گا تو تیری بیساکھی سے ٹھک ٹھک کے بجائے آواز آئے گی نوری نت نت نت ) ۔ ایک اور فلمی کردار یہ دعویٰ کرتا ہے کہ میں دشمن کو کچا کھا جاتا ہوں ! اسی کی دہائی میں سینما کی زینت بننے والی فلموں کے پندرہ منٹ دورانئیے کے تشہیری  ریڈیو پروگرام نشر ہوا کرتے تھے  ۔ ریڈیو پروگرام میں فلم کی مختصر لیکن نامکمل کہانی اور گانوں کے چند بول نشر کر کے سامعین کو فلم دیکھنے کی تر غیب دی جاتی تھی ۔ ہمارے یارِ خاص تبریز میاں اُس دور کی فلموں پر خاصی تحقیق فرما چکے ہیں ۔ ارشاد ِ تبریزی ہے کہ ہماری پنجابی فلموں میں  ٹریجڈی یا المیہ سین آئے تو ہنسی نکل جاتی ہے  جبکہ طربیہ یا کامیڈی سین دیکھ کے رونا آجاتا ہے۔ ہم ایسے صاحبان سے واقف ہیں جو کامیڈی سے لطف اندوز ہونے کے لیے ایکشن سے بھرپور پنجابی فلموں کو ترجیح دیتے ہیں ۔ مولاجٹ فلم کو ہی لے لیجیے ! مولاجٹ کا دوست بالا گاڈی ایک مظلوم لڑکی کی عزت نوری نت کے بھائی سے بچاتا ہے۔ اس خوشی میں وہ لڑکی بھرے بازار میں  ناچتے ناچتے دم توڑ دیتی ہے۔ بعدازاں نوری نت انتقاماً  بالا گاڈی کی ٹانگ توڑ دیتا ہے۔  ٹوٹی ٹانگ کے ہرجانے کے طور پر  مولا جٹ  لنگڑے بالا گاڈی کے لیے نوری نت کی بہن کا رشتہ مانگ لیتے ہیں ۔ اس سارے قضیے میں ہر دو جانب کے تین چار سو بے گناہ بندے مارے جاتے ہیں ۔ فلم کے اختتام پر ولن نوری نت شرمندگی کے باعث اپنی پنڈلی اپنے ہی ہاتھ سے کاٹ کر مولاجٹ کی خدمت میں پیش کر کے خطے میں پائیدار امن کی بنیاد رکھ دیتا ہے اور خیر سگالی کے طور پر اپنی ہمشیرہ کو لنگڑے بالے گاڈی کے نکاح میں دے دیتا ہے ۔
آپ میں ذرا بھی عقل ہو گی تو چند باتیں ضرور سوچیں گے ۔ اول ، جس لڑکی کی عزت بالے گاڈی نے بچائی وہ نیک پروین بھرے بازار میں ناچتے ہوئے کیوں نہ شرمائی ؟ دوم ، اگر نوری نت نے بہن کا رشتہ دینا ہی تھا تو پہلے ہی مان جاتا ۔ بلاوجہ مولاجٹ سے کُٹ بھی کھائی ، اپنی ٹانگ خود ہی کاٹ ڈالی اور رشتہ بھی منظور کر لیا ۔ سوم، بالے گاڈی کی ٹانگ نوری نت نے توڑی تھی تو پھر ہرجانے میں اُس کی بہن کو لنگڑے کے پلے کیوں باندھ دیا گیا ؟ نیز  مولا جٹ  اور قبلہ  نوری نت صاحب نے اس پھڈے میں درجن بھر کھڑاک کر کے جو تین سو غیر متعلقہ بندے مار دیے وہ کس کھاتے میں درج ہوں گے ؟  چہارم ، کھڑاک  میں بے گناہ بندوں کے مرنے پر افسوس کے بجائے ہیروئن اور اُس کی ہمجولیوں کا والہانہ بلکہ وحشیانہ رقص سفاکیت نہیں تو کیا ہے ؟
آپ بھی حیران ہوں گے کہ بجٹ سے شروع ہونے والی بات مولاجٹ تک پہنچا دی ۔ اصل بات یہ ہے کہ جب سے بجٹ تقریر سنی ہے تبریز میاں کی حالت بگڑ گئی ہے ۔ وزیر خزانہ ، مشیر خزانہ  اور پارلیمان  میں بڑھکیں مارنے والے سیاسی مولاجٹوں  اور  نوری نتوں  کی  کی شکلیں  دیکھتے ہی تھر تھر کانپنے لگتے ہیں ۔ رات کو کئی مرتبہ سوتے میں چیخ مار کے اُٹھ جاتے ہیں ۔ کہتے ہیں خواب میں وزیر خزانہ اور مشیر خزانہ بجٹ کا گنڈاسہ ہاتھ میں لے کے بڑھکیں مار رہے تھے ‘ جدوں میں بجٹ دا کھڑاک کی تا تے تہاڈے پتر تے پوترے ای نئیں پڑ پوترے وی سود دی دلدل وچ مر جان گے۔  کچھ دیر بعد اپوزیشن کے نوری نت بڑھک مارتے ہیں ‘ جدوں   سود دے دے کے قوم دیاں لتاں ٹوٹیاں تے قرضے دی  بیساکھی وچوں واج آئے گی آئی ایم ایف ایف ایف ۔  تبریز میاں کے خواب میں مولا بجٹ کے کھڑاک سے معصوم شہریوں کی موت کے بعد حکومتی بنچوں پر بیٹھی سہیلیاں ڈھائی من کی ہیروئن کے ساتھ پارلیمان میں لڈیاں ڈالنا شروع کر دیتی ہیں ۔ تبریز میاں کی بگڑتی حالت کے پیش نظر حکومت سے اپیل ہے کہ بجٹ دا کھڑاک نامی فلم کی نمائش پہ پابندی عائد کر دے۔ مولاجٹ اور مولابجٹ میں مماثلت کو اتفاقی ہی سمجھئے حالانکہ ایسا ہے نہیں!

 

تازہ ترین خبریں