07:44 am
ترکی کے صدر کا بیان اور مقبوضہ کشمیر

ترکی کے صدر کا بیان اور مقبوضہ کشمیر

07:44 am

ترکی کے صدر طیب اردگان نے اپنے ایک اخباری بیان میں کہا ہے کہ کشمیر کے مسئلے کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق جلد حل کرنا چاہے۔
ترکی کے صدر طیب اردگان نے اپنے ایک اخباری بیان میں کہا ہے کہ کشمیر کے مسئلے کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق جلد حل کرنا چاہے۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں نہتے مسلمانوں کو تشدد کے ذریعہ قتل کر رہا ہے تاکہ استصواب رائے کے لیے ان کی آواز کو دبایا جا سکے۔ ترکی کے صدر کا مقبوضہ کشمیر سے متعلق بھارتی مظالم کے خلاف یہ پہلی آواز نہیں ہے‘ اس سے قبل بھی ترکی کشمیر کے مسئلہ پر پاکستان کے ساتھ کھڑا ہو اہے۔ کشمیر بھار ت اور پاکستان کے درمیان ایک متنازعہ مسئلہ ہے جس کو اقوام متحدہ نے بھی تسلیم کیا ہے۔ اقوام متحدہ ہی نے قرارداد بھی منظور کی ہے جس کے مطابق کشمیریوں کو یہ حق دیا گیا ہے کہ وہ رائے شماری کی صورت میں اپنا حق ظاہر کریں کہ آیا وہ پاکستان یابھارت یا پھر آزاد رہنا چاہتے ہیں ۔ بھارت اگر چہ اس قرار داد کو منظور کر چکا ہے لیکن وہ رائے شماری کرانے کے لیے تیار نہیں ۔ مقبوضہ کشمیر بھارت کا وہ واحد علاقہ ہے جہاں مسلمانوں کی اکثریت رہتی ہے اور یہ مسلمان اپنی آزادی اور حقوق کیلئے گزشتہ 70 سالوں سے جدوجہد کر رہے ہیں ۔ اس انقلابی جدوجہد میں اب تک ایک لاکھ سے زائد کشمیریوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے ۔
ابھی حال ہی میں مقبوضہ کشمیر میں دو نوجوانوں کو تشدد کر کے شہید کیا گیا ہے اس سے قبل ایک بارہ سالہ لڑکے کو بھی بھارتی فوجی نے بغیر کسی وجہ شہید کیا نیز مقبوضہ کشمیر میں صورتحال اتنی سنگین ہے کہ عوام کا رات کے وقت گھروں سے باہر نکلنا دشوار ہو گیا ہے ۔ ہر قدم پر موجود چیک پوسٹوں پر موجود بھارتی فوج بغیر کسی وجہ کے کشمیری مسلمانوں پر تشدد کرتی ہے ۔ اس وقت مقبوضہ کشمیر کے نوجوان ، بھارت، امریکہ اور اسرائیل کے کٹھ جوڑکے خلاف جلوس نکال رہے ہیں ان کی مذمت کررہے ہیں کیونکہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں غاصبانہ قبضہ بھی ان ہی دو طاقتوں کے ایما پر برقرار رکھے ہوئے ہے ‘ ورنہ اقوام متحدہ کی نگرانی میں رائے شماری کبھی بھی ہو سکتی تھی ۔
دوسری طرف بھارتی فوج کے جوان مقبوضہ کشمیر میں حالات کی سنگینی کے پیش نظر خود کشیاں کر رہے ہیں جو اس بات کی غمازی کر رہے ہیں کہ خود بھارتی فوجی مقبوضہ کشمیر میں پائی جانے والی صورتحال سے مطمئن نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ کشمیری نوجوانوں سے بھی انہیں ہر وقت خطرہ محسوس ہوتا رہتا ہے جو اپنے بنیادی حقوق کے لیے متحد او ر یک جان ہو کر اپنے بنیادی حقوق کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں ۔ اس وقت مقبوضہ کشمیر میں بنیادی حقوق کی جنگ اسلحہ کی صورت میں بھی شروع ہو چکی ہے نوجوان اب اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ بھارت پر امن جدوجہد پر یقین نہیں رکھتا ہے۔ وہ اسرائیل کے مشورے پر مقبوضہ کشمیر میں نہتے عوام پر جدید اسلحہ استعمال کر کے انہیں آزادی کی تحریک سے دستبرداری کے لیے مجبور کر رہا ہے لیکن اب مقبوضہ کشمیر بھارت کے ہاتھوں سے نکل چکا ہے ۔ اس حقیقت کو خود بھارتی دانشورو اور صنعت کار بھی تسلیم کر رہے ہیں مزید برآں اب مقبوضہ کشمیر کی تحریک ِ آزادی بھارت کے مختلف علاقوں میں پھیل چکی ہے مثال کے طور پرنکسل تحریک اپنی روحانی قوت مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کی جدجہد سے حاصل کر تی ہے۔
 اسی طرح مشرقی بھارت کی ریاستوں میں جاری بھارت کے خلاف تحریکیں بھی مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں تحریک سے جذباتی طور پر منسلک ہو چکی ہیں ۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل نے اپنی حالیہ ضخیم رپورٹ میں بھارتی فوج کی مقبوضہ کشمیر میں ظلم و تشدد کو بے نقاب کیا ہے اور لکھا ہے بھارت طاقت، تشدد اور ظلم روا رکھ کر کشمیر کے عوام کو مطیع بنانا چاہتا ہے لیکن بھارت کی یہ سوچ اور طریقہ کار غلط اور سراسر غلط فہمی پر مبنی ہے ۔ اب بھارت کو یہ سوچنا پڑے گا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں حالات کو بہتر بنانے کے لیے نہ صرف پاکستان کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کرے بلکہ مقبوضہ کشمیرکی سیاسی لیڈر شپ کے ساتھ بھی جو بھارت کے ظلم و ستم کا گزشتہ 70 سالوں سے شکار ہیں۔ خطہ کشمیر کے مسئلے کے حل کی اصل کنجی مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کے پاس ہے ۔
دوسری طرف بھارت کے عام انتخابات جیتنے کے بعد نریندر مودی اپنے انتہا پسند ساتھیوں کے مشورے سے کشمیر کا اسٹیٹس بدلنے کی کوشش کررہے ہیں بھارتی آئین70 3کے تحت مقبوضہ کشمیر کو اسپیشل اسٹیٹس حاصل ہے ۔ مزید برآں بھارت نے حال ہی میں فوج اور پولیس کو غیر معمولی اختیارات سونپ دیے ہیں تاکہ وہ کشمیری نوجوانوں کے خلاف جس قسم کی کارروائی کریں ’’قانون‘‘ ان کی مدد کریگا۔ ان کالے قوانین کا اطلاق ہو چکا ہے جس کے ذریعے وادی میں نوجونوں کو بغیر کسی وجہ کے گرفتار کر کے جیلوں میں بند کیا جا رہا ہے ، کئی ماہ گزر جانے باوجود انہیں عدالتوں میں پیش نہیں کیا جاتا ہے۔ اس طرح مقبوضہ کشمیر میں صدیوں سے رہنے والے مسلمانوں کے خلاف ریاستی تشدد کو بروئے کار لایا جا رہا ہے جس کو روکنے کے لیے تمام عالمی تنظیمیں خاموش تما شا ئی بنی ہوئی ہیں یہ اس صدی کا سب سے بڑا المیہ ہے ۔
 ترکی کے صدر نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی جانب سے ظلم کے خلاف موثر آواز بلند کی ہے اس کے اثرات یقینا عالمی سطح پر پڑیں گے ۔ ان کے بیان سے مقبوضہ کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کو نیا حوصلہ ملا ہے ۔ اگر اس طرح اسلامی ممالک کی تنظیم گرجدار آواز میں مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں پر بھارتی فوج کی جانب سے جاری ظلم کی مذمت کر دیتی ہے تو بھارت کی مقبوضہ کشمیر میں پالیسیوں کی حوصلہ شکنی ہو سکتی ہے‘ تاہم حال ہی میں مکہ شریف میں ہونے والے او آئی سی کے اجلا س میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے ظلم سے متعلق کوئی بات چیت نہیں کی گئی۔ او آئی سی کے فائنل ڈرافٹ میں بھی مقبوضہ کشمیر کا کوئی ذکر نہیں ہے تاہم پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کھل کر مقبوضہ کشمیرکے مسلمانوں کا معاملہ اٹھایا اور بڑی دلیل کے ساتھ کہا کہ بھارت کا کشمیر پر ناجائز تسلط انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی کے مترادف ہے بالکل اسی طرح جس طرح اسرائیل غزہ کی پٹی پر فلسطینیوں پر ظلم ڈھا رہا ہے انہوں نے کہا کہ ظلم اور بربریت کے سلسلے میں بھارت اور اسرائیل کا مکروہ تعلق عالمی سطح پر بے نقاب ہو چکاہے ۔ انہوں نے جولان کی پہاڑیوں سے متعلق بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ علاقہ شام کا حصہ ہے جس پر اسرائیل نے ناجائز قبضہ کیا ہو ا ہے نیزامریکی صدر کو یہ حق نہیں پہنچتا ہے کہ وہ جولان کی پہاڑیوں کو اسرائیل کا حصہ قرار دے ۔ تاہم اس وقت مسلمان ہر طرف سے عالمی طاغوتی قوتوں کی زد میں ہیں ۔ ان پر زندگی کا دروازہ بند کیا جارہا ہے ان کے وسائل پر قبضہ کرنے کی ترکیبیں سوچی جارہی ہیں انہیں فرقوں کی بنیاد پر تقسیم کرکے ان کی قوت کو کمزور کیا جارہا ہے ۔مسلمان ابھی تک عالمی سطح پر ان کے خلاف ہونے والی سازشوں سے واقف نہیں ہیں اور اگر واقف بھی ہیں تو کچھ کرنے صلاحیت نہیں رکھتے ہیں ۔ ذرا سوچیے!

 

تازہ ترین خبریں