07:58 am
جنت کی طرف مسابقت

جنت کی طرف مسابقت

07:58 am

(گزشتہ سے پیوستہ)
’’ہر کہ ساقی ٔماریخت عین الطاف است!‘‘ 
جو بھی کچھ میرے ساقی نے میرے پیالے میں ڈال دیا ہے وہ عین اس کا لطف و کرم ہے۔ اس کو انسان صبر و شکر کے ساتھ قبول کرے۔ مومن کو زیبا نہیں کہ کسی مصیبت اور نقصان پر غم کھائے۔ اُسے یہ یقین ہو کہ میرا رب مجھ سے بڑھ کر میرا خیر خواہ ہے۔ اور وہ جو کچھ بھی کرے گا وہ میرے لیے بہتر ہے۔ اسی کو مقام رضا کہتے ہیں اور اولیاء اللہ اسی مقام پر فائز ہوتے ہیں۔ چنانچہ اُن کے بارے میں فرمایا گیا:’’سن رکھو کہ جو اللہ کے دوست ہیں ان کو نہ کچھ خوف ہو گا اور نہ وہ غمناک ہوں گے۔‘‘(یونس)
 
جو چیز ہاتھ سے جاتی رہے اس پر افسوس نہ کیا کرو کی تلقین کے ساتھ ہی یہ ہدایت بھی دے دی گئی کہ: ’’اور جو کچھ اللہ تمہیں عطا فرمائے اس پر پھول نہ جایا کرواور اللہ کسی اترانے اور شیخی بگھارنے والے کو دوست نہیں رکھتا۔‘‘
دنیا میں اگر مال ملا ہے، تو یہ اللہ کی طرف سے آزمائش ہے۔ اگرچہ مال رحمت کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے جبکہ وہ اللہ کی راہ میں خرچ کیا جائے۔ لیکن عام طور پر یہ آدمی کو غافل کر دیتا ہے۔ انسان اُس پر اتراتااور تکبر کا مظاہرہ کرتا ہے۔ لوگوں کی اکثریت کا حال یہ ہے کہ ذرا مال آیا نہیں اور قارونی ذہنیت بن گئی۔ چال، لب ولہجہ دوستوں سے ملنے کے انداز اور بدل گئے۔ یہ رویہ کم ظرفی ،   غفلت، لا عملی اور جہالت کی علامت ہے۔ دنیا میں فقر و فاقہ کی کیفیت بھی آزمائش کے لئے ہوتی ہے اور تو نگری اور مالداری بھی امتحان کے لئے ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر دو حالتوں میں بندے کو آزماتا ہے لیکن جو شخص اس حقیقت کو نہ سمجھ رہا ہو اُسے تھوڑا سا مال بھی ملے تو وہ قارون بن جاتاہے۔ کچھ اختیار ہاتھ میں آ جائے  تو فرعون بن جاتا ہے۔یہاں فرمایا کہ اس رویہ سے اجتناب کرو۔ اگر مال ملا ہے تو اُس پر اکڑنے کی بجائے اللہ کا شکر ادا کرو۔ شکر کے عمل تقاضوں کو پورا کرے۔ شاہانہ ومتکبرانہ انداز اللہ کو ہر گزپسند نہیں ہے۔ ایسے لوگوں پر اللہ کا سخت ترین غضب برستا ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر کبر اور تکبر ہو گا وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پا سکے گا۔ آدمی کی چال ڈھال سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ یہ اپنے آپ کو کچھ سمجھتا ہے ‘ یہ کسی زعم میں ہے‘ اونچی ہوائوں میں ہے‘ اس کو کوئی غرور ہے۔ تو یہ اختیال ہے۔ اور فخر وہی لفظ ہے جو ہم پہلے پڑھ چکے ہیں کہ ’’تَفَاخُرٌبَیْنَـکُمْ‘‘ ۔یہ فخر کرنا رنگ و نسل پر ہے‘ حسب و نسب پر ہے‘ مال پر ہے‘ علم پر ہے‘ زہد و تقویٰ پر ہے۔ پھر اس کو بیان کرتے رہنا‘ اس کا اظہار کرنا‘ اللہ کو یہ چیزیں بالکل پسند نہیں ہیں۔
’’جو خود بھی بخل کرتے ہیں اور لوگوں کو بھی بخل کا مشورہ دیتے ہیں۔‘‘ 
یہ آیت دراصل اس طرزِ عمل اور اس ذہنیت کا منطقی نتیجہ بیان کر رہی ہے۔ اگر دنیا میں انسان کو نعمتیں ملی ہیں تو ان پر فرح‘ پھر اختیال اور اس کے بعد فخر‘ یہ تینوں چیزیں درحقیقت اس بات کی غمازی کرتی ہیں کہ انسان کی نظر میں اصل قدر و قیمت اس دنیا کے مال و اسباب کی ہے۔ تب ہی تو وہ اس پر فخر کر رہا ہے۔ایسا آدمی دراصل دنیا ہی سب کچھ سمجھ رہا ہوتا ہے۔ دنیا میں اُسے کچھ مل جائے تو یہ اُس پر اکڑتا ہے، غریبوں کو حقارت کی نظر سے دیکھتا ہے، اپنے مال اور اپنی کمائی کو محنت، ہنر اور فن کا نتیجہ خیال کرتا ہے اور دوسروں کے بارے میں رائے رکھتا ہے کہ انہوں نے محنت نہیں کی ہے اس لیے جوتیاں چٹخاتے پھر رہے ہیں۔ ان کے اندرصلاحیتیں نہیں ہیں، لہٰذایہ اسی قابل ہیںجبکہ ہم اس قابل تھے کہ ارب پتی ہوں۔ یہ سوچ آدمی کو بخل کی طرف لے جاتی ہے ۔ ایسے لوگ انتہائی بخیل ہوتے ہیں، کسی غریب کو دیکھ کر ان کا دل نہیں پسیجتا ۔ یہ سمجھتے ہیں کہ مال ہمارا ہے، ہم اِسے سمیٹ کر رکھیں گے، تاکہ مستقبل میں ہمارے کام آئے، ہماری اولاد کے کام آئے ۔ ہم اُسے غریبوں کی مدد اور ویلفیئرکے کاموں میں کیوں لگائیں، اللہ کے دین کے لیے اور جہاد اور قتال کے لیے کیوں خرچ کریں۔ پھرچونکہ یہ لوگ خود بخل کر رہے ہوتے ہیں، لہٰذا دوسروں کو بھی بخل ہی کا مشورہ دیتے ہیں کہ دیکھو، لوگوں پر اپنا مال خرچ کرنے کی حماقت نہ کر بیٹھنا، ٹھیک ہے اس وقت قوم کو مال کی بڑی ضرورت ہے، سیلاب آیا ہوا ہے، زلزلہ آیا ہوا ہے، لیکن اپنا مال بچا کر رکھو۔ دوسروں کو چھوڑو، اپنی فکر کرو۔ یہ ایک سرمایہ پرستانہ ذہنیت ہے جس کا ذکر کر کے دراصل اہل ایمان کو اس سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے۔
’’تو جو شخص روگردانی کرے تو اللہ بھی بے پروا اور سزا وار حمد (وثنا) ہے۔‘‘
یاد رکھو، اللہ کسی کا محتاج نہیں ہے۔ جو کوئی بخل کا رویہ اختیار کرے گا اس کا خمیازہ اسی کو بھگتنا ہو گا۔ وہ اللہ کا توکچھ بگاڑ نہیں سکتا، ہاں سارا نقصان اپنا کر رہا ہے۔ کچھ دیر کی بات ہے کہ وہ نقصان اس کے سامنے آ جائے گا۔ جب ابدی خسارہ اور نا کامی سے دو چار ہو گا تو اُسے معلوم ہو جائے گا کہ اُس نے دنیا میں کتنے بڑے خسارے کا سودا کیا تھا اور کتنی بڑی حماقت کی تھی۔     یاد رکھو، اگر یہ سب کچھ سن کر بھی تم انفاق پرآمادہ نہ     ہو گے تو اللہ غنی اور حمید ہے۔

تازہ ترین خبریں