07:59 am
میڈیاپرمغرب کی قدغن

میڈیاپرمغرب کی قدغن

07:59 am

پریس یعنی صحافت کی آزادی کے حوالے سے امریکہ قائدانہ کردارکاحامل نہیں رہا۔دنیابھرمیں جمہوری اقدارکوپروان چڑھانے کے حوالے سے امریکہ نے پریس کی آزادی سے متعلق قائدانہ کرداراداکرنے میں عشروں تک دلچسپی لی مگراب ایسالگتاہے کہ وہ اس کردارمیں زیادہ دلچسپی نہیں لے رہا۔اس حوالے سے یورپ کوآگے بڑھ کراپنی ذمہ داری اداکرنی ہے۔ 4مئی کونیویارک ٹائمز میں نصف صفحے کا اشتہار شائع ہوا جو اسٹاک ہوم سینٹرفارفریڈم کی طرف سے تھا۔اس میں بتایاگیاتھاکہ191ترک صحافی جیلوں میں ہیں، 167 جلاوطنی کی زندگی بسرکررہے ہیں اوران کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے جاچکے ہیں جبکہ 34غیر ملکی صحافیوں کو انتقامی کارروائی کانشانہ بنایا جارہاہے۔ترک صدر اردگان  نے بہت بڑے پیمانے پرصحافیوں کوپابندِ سلاسل کیاہے اورامریکی ایوان صدرمیں ان کے ہم منصب ٹرمپ نے اِس کاخیرمقدم کرنے میں بخل سے کام نہیں لیا۔ 
 
ترک سیاست کارخ تھوڑاساتبدیل ہواہے۔ اردگان پراپوزیشن کی طرف سے دباؤبڑھ رہا ہے ۔ ایسے میں اس بات کاقوی امکان ہے کہ وہ صحافیوں پرپابندیوں میں اضافہ کریں گے۔ حال ہی میں 6 صحافیوں کی درخواستِ ضمانت منظورہوئی اورانہیں رہا کیا گیا مگر حکومت نے انہیں پھرجیل میں ڈال دیا۔بہانہ وہی پرانایعنی انسدادِ دہشت گردی۔ امریکی صدرصحافیوں کوعوام کے دشمن قراردینے میں تساہل سے کام لیتے ہیں نہ بخل سے اوراس کانتیجہ یہ بر آ مد ہواہے کہ دنیابھرمیں آمرانہ حکومتیں پریس کی آزادی پر قدغن لگانے میں پھرغیرمعمولی دلچسپی لینے لگی ہیں۔ ٹرمپ نے مین اسٹریم میڈیاکوزیادہ سے زیادہ پابند کرنے کی اپنی سی کوشش کی ہے۔یہ کوشش دنیا بھرمیں اظہارِرائے کی آزادی پرقدغن لگانے والوں کی غیر معمو لی  حوصلہ افزائی کاذریعہ ثابت ہوئی ہے۔ 
رپورٹروِدھ آوٹ بارڈر(آرڈبلیوبی)کے شائع کردہ دی ورلڈ فریڈمیپ کے مطابق اِس دقت دنیابھر میں پابندِ سلاسل صحافیوں کی تعداد250سے زائد ہے۔دنیابھرمیں ان صحافیوں کوزیادہ مشکلات کا سامناکرناپڑتاہے جواپنی حکومتوں کی کرپشن بے نقاب کرنے کے حوالے سے کلیدی کردارادا کرتے ہیں۔ آذربائیجان سے مصراور وینزویلا تک ایسے تمام صحافی حکومتوں کی ہٹ لسٹ پررہتے ہیں جوکرپشن کوبے نقاب کرنے کے ساتھ ساتھ عوام کواس حوالے سے با شعو ر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ٹرمپ نے ہنگری کے وزیراعظم وکٹرآربن کومدعوکیاہے۔اس ملاقات میں اورکچھ ہونہ ہو،اس بات کایقین ظاہر کیاجا رہاہے کہ فیک نیوزکے نام پرکارروائی کو آگے بڑھاتے ہوئے ٹرمپ مین اسٹریم میڈیاکومزیدنشانے پر لیں گے اورانہیں نیچے لانے کی کوشش کریں گے تاکہ ان کے پروپیگنڈہ آرگن فاکس نیوزکوزیادہ سے زیادہ آزادی مل سکے اوروہ کھل کراپنے حصے کاکام کر سکے۔ 
کئی عشروں تک امریکہ نے پریس کی آزادی کویقینی بنانے کے حوالے سے عالمی سطح پرقائدانہ کرداراداکیا ۔ اس کابنیادی سبب یہ تھاکہ امریکہ دنیا بھر میں لبرل ڈیموکریسی کو پروان چڑھاناچاہتاتھا۔وہ چاہتاتھاکہ دنیابھرکی حکومتیں اپنے صحافیوں کوکھل کرلکھنے اوربولنے کی اجازت دیں۔ٹرمپ اوران کے ساتھیوں نے روش بدل دی ہے۔انہوں نے مین اسٹریم میڈیاکے خلاف جاتے ہوئے اظہارِرائے کی آزادی پرقدغن لگانے کے حوالے سے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔ اس کا نتیجہ یہ برآمدہواہے کہ اظہارِرائے کی آزادی کے حوالے سے قیادت کاخلاء پیداہوگیاہے۔ یہ خلاء فی الحال اگرکوئی پرکرسکتاہے تووہ یورپ ہے۔ یورپی حکومتیں اس حوالے سے اب تک تذبذب کاشکاررہی ہیں۔صرف جرمن چانسلراینجل امرکل نے سعودی عرب میں جمال خاشقجی کے قتل کی مذمت کرنے میں دیرنہیں لگائی‘دیگر یورپی قائدین سفارتی مصلحتوں کے تحت کسی بھی معاملے میں کھل کرکچھ کہنے سے واضح طورپرگریزکرتے آرہے ہیں۔ 
دنیا بھرمیں صحافیوں پرعائد کی جانے والی پابندیوں کے خلاف بولنے کے معاملے میں دی کاء نسل آف یورپ بہت نمایاں رہی ہے۔اس نے صحافت کی آزادی پر لگائی جانے والی ہرقدغن کی مذمت کی ہے تاہم افسوس ناک امریہ ہے کہ یورپی یونین کے کمیشن پراس حوالے سے کچھ زیادہ اثرات مرتب نہیں ہوئے ہیں۔ وہ اس سلسلے میں قائدانہ کرداراداکرنے سے اب تک گریزکر رہا ہے ۔ 
رپورٹروِدھ آوٹ بارڈرکے چیف ایگزیکٹیو کرسٹوف ڈیلوئرکہتے ہیں کہ یورپی پارلیمان کے انتخابات کے بعدپریس یاصحافت کی آزادی پرلگائی جانے والی ہرقدغن کے خلاف بھرپورصدائے احتجاج بلند کرنے کی ضرورت ہے تاکہ یورپی قائدین اِس حوالے سے اپنی ذمہ داری محسوس کرتے ہوئے عالمی سطح پر قائدانہ کردار ادا کرنے کی تیاری کریں۔ کرسٹوف ڈیلوئرکے نزدیک لا ز م  ہوگیاہے کہ یورپی پارلیمنٹ کی انتخابی مہم میں پریس کی آزادی کوبنیادی نکتے کے طورپر شامل ہی نہ کیاجائے بلکہ سامنے بھی رکھاجائے۔کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کے ٹام گبسن ایک قدم آگے جانے کی بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یورپی کمیشن کی نئی قیادت کیلئے صحافت کی آزادی ایک بڑی ذمہ داری ہونی چاہیے اوراسے دنیابھرمیں کرپشن اوردیگربے قاعدگیوں کے خلاف کام کرنے والے صحافیوں کاتحفظ یقینی بنانے کیلئے بھرپور کرداراداکرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ٹام گبسن کہتے ہیں کہ یورپی کمیشن کوایساماحول یقینی بنانا چاہیے، جس میں صحافی اپناکام پوری آزادی، ایمان داری اور غیرجانبداری سے کرسکیں۔ 
ایک بڑی مشکل یہ ہے کہ یورپی یونین کے ارکان کے ہاں صحافت کی آزادی پرقدغن کے حوالے سے چند ایک معاملات پربھی یورپی کمیشن کاردعمل زیادہ حوصلہ افزانہیں رہا۔اس حوالے سے بھی صدائے احتجاج بلندکی جاتی رہی ہے۔ مثلاًاکتوبر2017ء میں مالٹامیں ڈیفنی غالیزیاکوقتل کردیاگیاتھا۔ڈیفنی اپنی حکومت کی غیر معمولی کرپشن کے حوالے سے تحقیقات کررہی تھی اوربہت سے ملزموں کوبے نقاب بھی کرچکی تھی۔کاء نسل آف یورپ نے چارہفتے قبل مالٹاکے حوالے سے ایک رپورٹ میں بتایاہے کہ پرمیننٹ کمیشن اگینسٹ کرپشن اورایسے ہی چنددوسرے ادارے اپنے قیام کے تیس سال مکمل ہونے پربھی کوئی قابلِ ذکرکام کرنے کے قابل نہیں ہوسکے ہیں۔ ہوسکتاہے کہ سلوواکیہ کی نئی صدر زوزانہ کاپوتوواصحافت کی آزادی کے حوالے سے کوئی قابلِ ذکرکلیدی کردار ادا کرسکیں۔ انہوں نے چارہفتے قبل  صدرکاعہدہ ایک ایسی انتخابی مہم کے نتیجے میں حاصل کیاہے،جس میں کرپشن اورصحافت پرلگائی جانے والی ہرقدغن کے خلاف احتجاج کوبنیادی حیثیت حاصل تھی۔ اشتراکیت کے خاتمے کے بعدسے سلوواکیہ میں کرپشن کے خلاف بڑے پیمانے پراحتجاج کیاجاتا ر ہا ہے۔ 27سالہ تفتیشی رپورٹر ژاں کشیاک اوراس کی منگیتر مارٹینا کشنیرووا کو ملک کی چندبااثرکاروباری شخصیات اور ریاستی اداروں کی کرپشن بے نقاب کرنے پرقتل کردیاگیا تھا ۔ 
یورپین گرین پارٹی کی صدارت مونیکافراسونی اوررائنہارڈبیوٹیکوفرکے ہاتھ میں ہے۔ان دونوں کا کہنا ہے کہ کرپشن اوراختیارات کے ناجائزاستعمال کوروکنے کے حوالے سے بنیادی انسانی اورشہری حقوق کامکمل تحفظ یقینی بنانے کیلئے ہرقیمت پرآزادی صحافت کاتحفظ یقینی بناناچاہیے۔ دنیابھرمیں حکومتیں شدیدکرپشن میں مبتلا ہیں۔ان کاایک بنیادی وتیرہ یہ ہے کہ جو بھی کرپشن کے خلاف آوازاٹھائے اس کا گلا دبا دیا جائے۔ ایشیا،افریقہ اوربحرالکاہل میں ایسے بہت سے صحافی ہیں جنہیں کرپشن کے خلاف آواز اٹھانے پرقید وبند کی صعوبتوں یا پھر موت کاسامنا کرنا پڑاہے۔آذربائیجان کاصحافی امین حسینوف اس وقت سوئٹزرلینڈمیں پناہ لیے ہوئے ہے۔ حکومتی کرپشن بے نقاب کرنے پراسے انتقامی کارروائی کاسامناتھا،جس سے بچنے کیلئے وہ ملک سے نکلنے پر مجبور ہوا۔  اس کابھائی مہمن حسینوف اب بھی باکوکی جیل میں ہے۔اس کی رہائی کیلئے امین حسینوف نے اچھی خاصی کوشش کی مگرتاحال کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔بہر کیف،دوسال مکمل ہونے پرآذربائیجان کی حکومت نے مہمن حسینوف اورچنددوسرے صحافیوں کورہا تو کر دیا مگروہ ملک نہیں چھوڑسکتااورکسی بھی وقت گرفتار بھی کیا جاسکتاہے۔
ایران میں نیوزویب سائٹس انارپریس اور عبن پریس کے ایڈیٹرانچیف محمدرضانسب عبداللہی کو2018ء میں اس الزام کی بنیادپرگرفتارکیاگیاکہ وہ غلط بیانی پرمبنی خبریں پھیلارہے ہیں۔ تین ہفتے قبل انہیں دوبارہ گرفتارکرلیاگیاہے۔ان کی ویب سائٹس بندکردی گئی ہیں اورحکومتِ ایران نے اس اقدام کی کوئی وضا حت  بھی نہیں کی ہے۔ 


 

تازہ ترین خبریں