08:00 am
امریکہ ایران کشیدگی کا پس منظر

امریکہ ایران کشیدگی کا پس منظر

08:00 am

کیا امریکہ ایران سے خوفزدہ ہے؟ کیا واقعی امریکہ‘ ایران جنگ ہونے جارہی  ہے؟ کیا یہ کہنا درست ہے کہ خلیج میں موجود امریکی فوجیوں کی تعداد میں اضافے کے بعد ایران‘ امریکہ کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے؟ اور یہ بھی کہ اس سے پورا خطہ جنگ کے دہانے پر کھڑا کر دیاگیا ہے؟ اس بحث کو چھیڑنے سے پہلے روزنامہ اوصاف میں چھیننے والی سپرلیڈ سٹوری پر بھی ایک نظر ڈال لیتے ہیں۔
 
خبر کچھ یوں شروع ہوتی ہے کہ ’’کشیدگی ڈرامہ بے نقاب‘ امریکہ‘ ایرانی ’’ھوا‘‘ کر عرب ممالک کو 12کھرب 32ارب کے ہتھیار بیچے گا‘ تہران کو دھمکیاں جنگی بیڑے دکھاوا‘ خفیہ ایلچیوں کے ڈیرے‘ ایرانی ایجنسی نے بھانڈا پھوڑ دیا۔‘‘
حال ہی میں ایران نے امریکہ کا ایک ڈرون مار گرایا تھا جبکہ گزشتہ ہفتے خلیج عمان میں دو تیل بردار جہازوں پر حملوں کا ذمہ دا ری بھی امریکی‘ ایران پر ہی ڈال رہے ہیں‘ اس حوالے سے پینٹاگون کی طرف سے جاری کی گئی ویڈیو میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایک چھوٹی سی ایرانی کشتی اس ٹینکر کے بل سے بارودی سرنگ اتا رہی ہے جو اس وقت تک نہیں پھٹی تھی۔
ایران نے آئل ٹینکروں پر ہونے والے حملہ میں ملوث ہونے سے صاف انکار کر دیا اور یہ بھی کہا کہ کوئی طاقت ایسی ہے کہ جو ایران اور بین الاقوامی برادری کے درمیان تعلقات کو غیر مستحکم کرنا چاہتی ہے؟
سوال یہ ہے کہ کون سی طاقت؟ کیا ایران کے حکمران! دنیا میں ایران سے بڑھ کر کسی اور کو بھی طاقت ور سمجھتے ہیں؟1979ء میں ایران میں برپا ہونے والے انقلاب کو تقریباً چار  عشرے ہونے کو ہیں‘ امریکہ اور ایران کی عراق کے اندر پارٹنر شپ بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے‘ چار عشروں کے دوران امریکہ اور ایران کے درمیان باہمی تعلقات کے حوالے سے اتار چڑھائو کے جائزہ پر ایک غیر ملکی خبر رساں ادارے نے تیار کردہ اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ’’چار نومبر1979ء کو ایرانی طلباء کے ایک گروپ نے تہران میں امریکی سفارت خانے پر دھاوا بول کر 52سفارت کاروں اور امریکی عملے کو 444دن  یعنی 20جنوری 1981ء تک یرغمال بنائے رکھا۔ اس دوران امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات ہوئے‘ سابق امریکی صدر جمی کارٹر کی انتظامیہ نے نائب وزیر خارجہ وارن کریسٹوفر کے ذریعے امریکی یرغمالیوں کی رہائی کے لئے طویل مذاکرات کئے‘ ایران  پر دبائو بڑھانے کے لئے امریکہ نے ایرانی تیل پر بھی پابندیاں عائد کر دی تھیں‘ بالآخر طے پاجانے والے الجزائر معاہدے کے نتیجے میں ایران نے امریکی یرغمالیوں کو رہا کر دیا تو جواب میں امریکہ نے تہران کو ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرنے کی یقین دہانی کروائی۔
1983ء میں لبنان کے دارالحکومت بیروت میں حزب اللہ نے امریکی سفارت خانے پر بم حملہ کرکے 63افراد کو قتل کر دیا‘ اس حملے کا الزام امریکہ نے ایران اور شام کی حکومتوں پر عائد کیا اور کہاکہ ان کی منصوبہ بندی کے نتیجے میں امریکیوں پر  حملے کئے گئے‘ رپورٹ کے مطابق 1985ء کو امریکہ اور ایران میں اس وقت کشیدگی پیداہوئی...جب عراق‘ ایران جنگ اپنے عروج پر تھی‘ اس دوران امریکہ‘ ایران کے درمیان خفیہ رابطہ کاری کا آغاز ہوا جس کا مقصد لبنان میں حزب اللہ کے پاس یرغمال بنائے گئے امریکیوں کو رہا کروانا تھا‘ اسی عرصے میں امریکی اسلحہ کی ایران کو فراہمی کا ایک سیکنڈل بھی سامنے آیا۔
یہ سیکنڈل میڈیا میں ایران کونٹرا سیکنڈل کے نام سے مشہور ہوا‘ اس میں ایران کو امریکی ٹینک شکن میزائلوں‘ جنگی طیاروں‘ بالخصوص ایف 14کے سپیئر پارٹس اور دیگر جنگی سامان کی فراہمی کا الزام عائد کیا گیا۔
1990ء کے عشرے میں امریکہ اور ایران کے درمیان تعلقات میں اس وقت معمولی بہتری آئی کہ جب ایران میں اصلاح  پسند لیڈر علی اکبر ہاشمی رفسنجانی صدر بنے‘ پھر 1997ء میں صدر محمد خاتمی کے دور میں ایران‘ امریکہ تعلقات مین کافی بہتری آچکی تھی‘ مگر ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام پر دونوں ملکوں میں ایک بار پھر کشیدگی پیدا ہوگئی۔
1995ء میں امریکی صدر بل کلنٹن نے امریکی کمپنیوں کو ایران کے ساتھ  لین دین سے روکتے ہوئے ایران کے آئل سیکٹر میں سرمایہ کاری پر پابندی لگا دی‘ اس سے اگلے سال ایران‘ لیبیا پابندی کے بل کی منظور دی گئی‘ مارچ 2000ء میں امریکی وزیر خارجہ میڈلین البرائیٹ نے 1953ء میں پہلے منتخب وزیراعظم محمد مصدق کو اقتدار سے ہٹانے پر باقاعدہ معافی مانگی‘ اور تسلیم کیا کہ اس غیر جمہوری اقدام کے نتیجے میں ایران میں بادشاہت کو فروغ ملا‘ غیر ملکی خبر رساں ادارے کی یہ رپورٹ بہت طویل ہے‘ سردست اسے یہیں پر موقوف کرتے ہوئے تازہ ترین حالات کی طرف آتے ہیں‘ ہفتے کے دن امریکی صدر ٹرمپ نے جنگ کی صورت میں ایران کو نیست و نابود کرنے کی دھمکی دی ہے‘ برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق ’’امریکی میڈیا سے صدر ٹرمپ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے امریکی ڈرون مار گرانے کے بعد ایران پر حملے کا حکم دے کر واپس  اس لئے لے لیا تھا کیونکہ انہیں بتایا گیا تھا کہ اسکے نتیجے میں 150ایرانی ہلاک ہوں گے۔
خطے کی صورتحال اور امریکہ‘ ایران حکمرانوں کی ایک دوسرے کو دی جانے والی دھمکیوں کا بغور جائزہ لیا جائے تو دل  بے اختیار پکار اٹھتا ہے کہ امریکہ‘ ایران پر حملہ کرنے کی دھمکیاں تو دیتا رہے گا‘ مگر ان دھمکیوں کی آڑ میں اس کے نشانے پر کوئی اور ہوگا۔
یہ بات ٹھیک ہے کہ افغان طالبان کی زبردست مزاحمت نے امریکہ کے کس بل نکال کر رکھ دئیے ہیں‘ لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ امریکی آئل ٹینکروں پر ہونے والے حملوں سے لے کر امریکی ڈرون گرائے جانے تک امریکہ ذمہ دار‘ ایران کو ٹھہرائے‘ لیکن پھر عراق پر ممنوعہ ہتھیار رکھنے کے جھوٹے الزامات عائد کرکے 15لاکھ کے لگ بھگ عراق کے مظلوم انسانوں کو موت کے گھاٹ اتارنے  والا امریکہ صرف 150ایرانیوں کے مرنے سے خوفزدہ ہو کر ایران پر حملے کا حکم دیکر واپس لینے پر مجبور ہوجائے‘ کیا امریکی صدر ٹرمپ کو واقعی ’’انسانیت‘‘ سے پیار ہوگیا ہے؟ یا پھر بات کوئی اور ہے۔(فیر گل وچوں ہور ہے؟)

 

تازہ ترین خبریں