08:02 am
چہرے بدل گئے! اقرار، اعتراف، تردیدیں

چہرے بدل گئے! اقرار، اعتراف، تردیدیں

08:02 am

٭میثاق معیشت آغاز سے پہلے ہی ختمO کل مولانا فضل الرحمن کی زیرصدارت آل پارٹیز کانفرنسO  مریم نواز کا یوٹرنO اسمبلی میں سلیکٹڈ کے لفظ پر پابندیO کرکٹ ٹیم، سات کیچ ڈراپ O’’ن لیگ سے محتاط رہو‘‘ بلاول کو اعتزاز احسن کا مشورہO مقبوضہ کشمیر میں مزید چار کشمیری شہید O لاہور پولیس، سنسنی خیز انکشاف، واہ آرڈی ننس فیکٹری کی اعلیٰ معیاری گولیاں اسلحہ فروشوں کو فروخت کر کے درہ آدم خیل کی سستی ناقص گولیاں خرید لیں! لاکھوں کا ہیر پھیر!
 
٭ملکی سیاست! ایک ہی دن میں چہرے اور ان کے رنگ بدل گئے۔ مریم نواز نے شہباز شریف کے مقابلہ میں خود کو اصل قائد قرار دینے کا بیان واپس لے لیا جو پریس کانفرنس میں نہائت غیظ و غضب کے ساتھ دیا تھا۔ وہاں موجود تمام صحافیوں نے حرف بحرف شائع کیا (میں نے خود ٹیلی ویژن پر اپنے کانوں سے سنا)۔ مریم نواز نے صاف الفاظ میں کہا کہ ’’ن لیگ کے صدر نوازشریف ہیں، …میثاق معیشت پر شہباز شریف کی اپنی رائے ہے، میری اپنی شہباز شریف کو پارٹی کافیصلہ قبول کرنا ہو گا…نوازشریف کی رہائی کے لئے میں چند روز تک قوم کو پروگرام دوں گی،… اس لڑائی میں آخری حد تک جائوں گی‘‘… بیان دیتے وقت اس بی بی کے غصے اور طیش کا عالم دیکھنے والا تھا۔ جو کچھ منہ میں آیا کہہ گئیں۔ وزیراعظم عمران خان کے لئے وہی گالی نما اصطلاحیں استعمال کیں جو روزانہ استعمال کی جاتی ہیں۔ وہ انتہائی اشتعال کے عالم میں ایک سے دوسرے، تیسرے، چوتھے…آسمان پر چڑھتی چلی گئیں۔ ٹیلی ویژنوں اور اخبارات میں سارا بیان حرف بحرف آ گیا۔ شہباز شریف کا موڈ سخت خراب ہو گیا تو بی بی اک دم واپس زمین پر آ گئی۔ نیا بیان دے دیا کہ ’’میرے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر چھایا گیا ہے۔ میں نے یوں نہیں کہا تھا! میرا مطلب یہ نہیں تھا! وہ نہیں تھا!شہباز شریف تو میرے چچا ہیں، بہت ادب کرتی ہوں، وہی مسلم لیگ (ن) کے صدر ہیں، ہم سب آپس میں متحد ہیں‘‘ (حمزہ شہباز بھی)۔ قارئین اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ن لیگ کا کیا حال ہو رہا ہے؟ اندر کی ایک بات یہ ہے کہ شہباز شریف کی عدالتوں میں حاضریاں ہو رہی ہیں، پھر گرفتاری ہو سکتی ہے۔ یہی صورت حال حمزہ شریف اور خود مریم نواز کی ہے۔ ضمانتوں پر رہائی ملی ہوئی ہے، اگلے لمحوں کا پتہ نہیں کیا ہونے والا ہے؟ مگر آخری حد تک جانے کی دھمکیاں!
بچپن میں ٹارزن کی کہانیاں بہت مشہور تھیں۔ ہم بڑے شوق سے پڑھا کرتے تھے۔ ٹارزن کسی جنگل میں پرورش پا کر جوان ہونے والا ایک کردار تھا جوجنگل کے تمام جانوروں کا سردار بن گیا تھا اور مختلف معاملات انجام دیتا تھا۔ اس کی کہانیاں کچھ عرصہ بند رہیں، پھر اچانک ’ٹارزن کی واپسی‘ کے نام سے شروع ہو گئیں ایسی ایک مختلف کہانی پر مشتمل سنسنی خیز کہانیاں لکھنے والے انگریز ناول نگار ’رائیڈر ہیگرڈ‘ نے دو جلدوں پر مشتمل مشہور ناول 'SHE' اور 'Return, of, she' لکھا۔ اس کا بیگم حجاب امتیاز نے اُردو میں  ’’عذرا کا سفر‘‘ اور ’’عذرا کی واپسی‘‘ کے نام سے ترجمہ کیا۔ کراچی کے ایک ادارے نے یہی داستان ’روح کا سفر‘ اور ’روح کی واپسی‘ سے شائع کی۔ اس داستان کا مرکزی کردار صدیوں سے زندہ رہنے والی ایک نہایت خوبصورت حسینہ ہے جو آسمانی فضائوں میں کہیں رہتی ہے۔ زمین پر آتی ہے تو دنیا بھر کے بڑے بڑے حکمران دیوانہ وار اس کے پیچھے لگ جاتے ہیں مگر اسے حاصل نہیں کر پاتے۔ یہ حسینہ ہر 100 سال کے بعد بھڑکتی آگ کے الائوء میں غسل کر کے پھر سے جوان ہو جاتی ہے۔ اس داستان کا انجام بہت دلچسپ ہے مگر کالم میں اتنی جگہ نہیں، پھر سہی۔ اب یہ کہ مجھے اچانک کیوں یہ یاد  آ گئی ہے!؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ دو روز قبل آصف زرداری نے قومی اسمبلی میں شہباز شریف کے حکومت کے ساتھ میثاق معیشت کی تائیداس طرح کی کہ ’’آئو پچھلی باتیں ختم کر کے آگے بڑھیں!‘‘ واضح طور پر یہ صلح صفائی، مفاہمت اور مصالحت کا بیان تھا۔ مگر اسمبلی سے باہر آئے تو اندازہ ہوا کہ کیا کہہ گیا ہوں! اس حکومت کے ساتھ کیسی صلح جس کے دور میں سارا زرداری خاندان گرفتاریوں اور عدالتوں میں پیشیوں کی زد میں آیا ہوا ہے؟ اگلے روز عدالت سے آتے ہوئے ایک  صحافی نے پوچھا کہ ’’کیا حکومت کے ساتھ مفاہمت ہو رہی ہے؟‘‘ اس پر موصوف بھڑک اٹھے کہ کیسی مفاہمت؟ کون سی مفاہمت؟ تمہارا سوال ہی غلط ہے‘‘ قارئین کرام! کیا مجھے ٹارزن کی واپسی ایسے ہی یاد آگئی ہے؟‘‘
٭پیپلزپارٹی کے نہائت سنجیدہ اور مدبر سیاست دان چودھری اعتزاز احسن نے پارٹی کے ولی عہد برخوردار بلاول زرداری (بھٹو؟) کو بزرگانہ مشورہ دیا ہے کہ ’’شریف خاندان سے محتاط رہنا!‘‘ اس مشورہ کے ساتھ انہوں نے مختصر طور پر اپنے ساتھ ہونے والا ایک اہم واقعہ بھی بیان کیا ہے جس کا میں بھی گواہ ہوں۔ بات یوں ہے کہ جنرل پرویز مشرف نے 1999ء میں مارشل لا لگا کر نوازشریف، شہبازشریف، حمزہ شہباز اور دوسرے افراد کو قلعہ اٹک میں قید کر دیا (وہاں مچھر، مکھیاں اور بچھو بہت تھے) تو مرحومہ بیگم کلثوم نواز نے ان کی رہائی کیلئے اسی طرح کی تحریک چلائی، جیسی تحریک مریم نواز چلانے کا اعلان کر رہی ہیں۔ ان دنوں ن لیگ اور پیپلزپارٹی ایک دوسرے کی سخت دشمن تھیں، ایک دوسرے کا نام بھی گوارا نہیں تھا۔ ملک میں کوئی وکیل نوازشریف کی رہائی کے لئے مارشل لا سے ٹکرانے کو تیار نہیں تھا۔ البتہ پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما اور سینئر وکیل چودھری اعتزاز احسن مارشل لا کی قانونی طور پر مزاحمت کر رہے تھے۔ ایک روز اعتزاز احسن کو اچانک بیگم کلثوم نواز کا فون آیا کہ کہیں نہ جائیں، میں آ رہی ہوں۔ وہ آئیں تو اعتزاز احسن نے نہائت پرتپاک پذیرائی کی۔ بیگم صاحبہ نے کہا کہ ہماری سیاسی تفریق اپنی جگہ مگر میں اس وقت ایک موکل کے طور پرایک وکیل کے پاس آئی ہوں۔ چودھری اعتزاز احسن نے مقدمہ لڑنے کا یقین دلایا۔ بیگم صاحبہ نے بھاری فیس ادا کی۔ (مجھے اعتزاز صاحب نے ساری بات بتائی تھی) اعتزاز احسن نے بہت زبردست مقدمہ تیار کر کے لاہور ہائی کورٹ میںدائرکر دیا۔ ہائی کورٹ نے نوٹس بھی جاری کر دیئے۔ اب اگلی بات چودھری صاحب بتا رہے ہیں کہ مقدمہ تو شروع ہو گیا مگر انہیں کسی قسم کی اطلاع کے بغیر صرف تین دن بعد پورا شریف خاندان رہاہو کر سعودی عرب چلا گیا۔ مقدمہ وہیں رہ گیا۔ اسی بنا پر چودھری صاحب بلاول کو مشورہ دے رہے ہیں کہ ’’شریف خاندان سے محتاط رہنا!‘‘
٭کرکٹ ٹیم نے سات اہم کیچ چھوڑ کر خدا خدا کر کے جنوبی افریقہ کے خلاف ایک میچ جیت لیا! سات کیچ چھوڑنے پر تو سخت جواب طلبی ہونی چاہئے، جیتنے کی مبارکباد کیسی؟! صرف پہلا ایک کیچ ہی پکڑ لیا جاتا تو کھیل کا نقشہ بدل جاتا! مجھے تو جنوبی افریقہ کی ٹیم پر حیرت ہو رہی ہے۔ ایسی دیمک زدہ ٹیم! سات کیچ چھوٹ جانے پر بھی ہار گئی اور ٹورنامنٹ کے سیمی فائنل سے باہر ہوگئی۔ اور پاکستان کی ٹیم؟ چار کیچ تو اکیلے محمد عامر نے چھوڑے۔ٹھیک ہے دو ایک وکٹیں لے لیں مگر کیچ چھوڑنے کی ناقابل معافی نااہلی! باقی کیچ چھورنے والوں میں خود ٹیم کا کپتان بھی شامل ہے (کپتان!) یہ ٹیم اس حال میں آگے بڑھے گی؟ میں ایک مشکل میں ہوں۔ ٹیم کا کپتان میرا ہم نام ہے! اس نے کیچ چھوڑا تو ایک عزیز نے مجھے فون کر دیا کہ شاہ جی! یہ کیا کیا؟ بات محبت اور تفریح کی ہے مگر میں اس عمر میں اپنا نام کیسے بدل لوں؟ 1960ء کے اردگرد کی بات ہے۔ حفیظ کاردار کی زیرقیادت لاہور میں نیوزی لینڈ کی ٹیم کے ساتھ باغ جناح کی گرائونڈ میں میچ کے دوران  حنیف محمد کے بھائی وزیر محمد نے مشکل وقت میں 50 رنز بنائے مگر ایک مخالف کھلاڑی کا کیچ چھوڑ دیا۔ کاردار نے اسے یہ کہتے ہوئے اگلے میچ سے فارغ کرایا کہ مجھے ایسے کھلاڑی کی ضرورت نہیں جو 50 رنز تو بناتا ہے مگر کیچ چھوڑ دیتا ہے۔
 

تازہ ترین خبریں