08:39 am
حسن اخلاق

حسن اخلاق

08:39 am

حسن اخلاق کی ایک پہلو کے اعتبار سے تعریف:۔ ’’حسن‘‘ اچھائی اور خوبصورتی کو کہتے ہیں، ’’اخلاق‘‘ جمع ہے ’’خلق‘‘ کی جس کا معنی ہے ’’رویہ، برتائو، عادت‘‘ یعنی لوگوں کے ساتھ اچھے رویے یا اچھے برتائو یا اچھی عادات کو حسن اخلاق کہا جاتا ہے۔ امام غزالی علیہ رحمۃ اللہ الوالی فرماتے ہیں: ’’اگر نفس میں موجود کیفیت ایسی ہو کہ اس کے باعث عقلی اور شرعی طور پر پسندیدہ اچھے افعال ادا ہوں تو اسے حسن اخلاق کہتے ہیں اور اگر عقلی اور شرعی طور پر ناپسندیدہ برے افعال ادا ہوں تو اسے بداخلاقی سے تعبیر کیا جاتا ہے‘‘۔ 
 
حسن اخلاق میں شامل نیک اعمال:۔ حقیقت میں حسن اخلاق کا مفہوم بہت وسیع ہے، اس میں کئی نیک اعمال شامل ہیں، چند اعمال یہ ہیں: معافی کو اختیار کرنا، بھلائی کا حکم دینا، برائی سے منع کرنا، جاہلوں سے اعراض کرنا، قطع تعلق کرنیوالے سے صلہ رحمی کرنا، محروم کرنے والے کو عطا کرنا، ظلم کرنے والے کو معاف کر دینا، خندہ پیشانی سے ملاقات کرنا، کسی کو تکلیف نہ دینا، نرم مزاجی، بردباری، غصے کے وقت خود پر قابو پا لینا، غصہ پی جانا، عفوودرگزر سے کام لینا، لوگوں سے خندہ پیشانی سے ملنا، مسلمان بھائی کیلئے مسکرانا، مسلمانوں کی خیرخواہی کرنا، لوگوں میں صلح کروانا، حقوق العباد کی ادائیگی کرنا، مظلوم کی مدد کرنا، ظالم کو اس کے ظلم سے روکنا، دعائے مغفرت کرنا، کسی کی پریشانی دُور کرنا، کمزوروں کی کفالت کرنا، لاوارث بچوں کی تربیت کرنا، چھوٹوں پر شفقت کرنا، بڑوں کا احترام کرنا، علماء کا ادب کرنا، مسلمانوں کو کھانا کھلانا، مسلمانوں کو لباس پہنانا، پڑوسیوں کے حقوق ادا کرنا، مشقتوں کو برداشت کرنا، حرام سے بچنا، حلال حاصل کرنا، اہل و عیال پر خرچ میں کشادگی کرنا وغیرہ وغیرہ۔
آیت مبارکہ:۔ اللہ عزوجل قرآن مجید فرقانِ حمید میں ارشاد فرماتا ہے: ’’وَاِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقِ عَظِیْمٍ‘‘۔ (پ۲۹، القلم:۴)۔ (ترجمہ کنزالایمان) ’’اور بیشک تمہاری خوبو بڑی شان کی ہے‘‘۔ اس آیت مبارکہ کے تحت تفسیر خزائن العرفان میں ہے: ’’حضرت اُم المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ سیدعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خلق قرآن ہے۔ حدیث شریک میں ہے سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ مکارمِ اخلاق و محاسن افعال کی تکمیل و تتمیم (مکمل و پورا کرنے) کیلئے مبعوث فرمایا۔
ترے خلق کو حق نے عظیم کہا
تری خلق کو حق نے جمیل کیا
کوئی تجھ سا ہوا ہے نہ ہو گا شہا!
تیرے خالق حسن و ادا کی قسم
حدیث مبارکہ: حضرت سیدنا ابودَردَاء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ تاجدار انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے: ’’قیامت کے دن مومن کے میزبان میں حسن اخلاق سے زیادہ وزنی کوئی شے نہیں ہو گی‘‘۔
حسن اخلاق کا حکم:۔ حسن اخلاق کے مختلف پہلو ہیں اسی وجہ سے بعض صورتوں میں حسن اخلاق واجب، بعض میں سنت اور بعض صورتوں میں مستحب ہے۔
نواسۂ رسول کا کمالِ حسن اخلاق: ایک شامی کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ میں مدینہ منورہ حاضر ہوا تو میں نے خچر پر سوار ایک ایسے شخص کو دیکھا کہ اس جیسا خوبصورت، پروقار اور خوش لباس شخص میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا اور نہ ہی اس کی سواری سے عمدہ سواری کبھی دیکھی تھی، میرا دل اس شخص کی جانب کھنچا جا رہا تھا، جب میں نے ان کے متعلق دریافت کیا تو پتہ چلا کہ یہ امیرالمومنین حضرت سیدنا علی المرتضیٰ شیرخدا کرم اللہ وجہہ الکریم کے بڑے فرزند حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔ میرا دل آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بغض و عداوت سے بھر گیا، مجھے مولاِ علی شیرخدا کرم اللہ وجہہ الکریم سے حسد ہو گیا کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیٹا بھی (شان و شوکت کے لحاظ سے) آپ ہی کی مثل ہے۔ میں نے آگے بڑھ کر پوچھا ’’کیا تم فرزند علی ہو؟‘‘ امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا: ’’جی ہاں! میں سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کا بیٹا ہوں‘‘۔ یہ سنتے ہی میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور آپ کے والد ماجد حضرت سیدنا علی المرتضیٰ شیرخدا کرم اللہ وجہہ الکریم کو سب و شتم کرنے (یعنی برا بھلا کہنے) لگا۔
جب میں خاموش ہوا تو سیدنا امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھے کچھ کہنے یا میری سرزنش کرنے کی بجائے حسن اخلاق کا بہترین مظاہرہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’لگتا ہے تم حاجت مند ہو؟‘‘۔ میں نے کہا: ’’جی ہاں! میں حاجت مند ہوں‘‘۔ فرمایا: ’’ہمارے پاس آجائو، اگر تمہیں رہائش کی حاجت ہوئی تو ہم تمہارے قیام کا انتظام کر دینگے، اگر مال کی حاجت ہوئی تو مالی اعتبار سے خیرخواہی میں ذرہ برابر کمی نہیں چھوڑیں گے، اس کے علاوہ بھی تمہیں کسی چیز کی ضرورت پڑی تو تمہارے ساتھ ضرور تعاون کرینگے‘‘۔ حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اس کمال حسن اخلاق کو دیکھ کر اس شامی کے دل میں آپ کی محبت گھر کر گئی۔ وہ شامی شخص کہتا ہے: ’’جب میں حضرت سیدنا امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جدا ہوا تو روئے زمین پر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بڑھ کر مجھے کوئی محبوب نہ تھا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حسن اخلاق نے مجھے بہت متاثر کیا، آپ کا شکریہ ادا کرنے کے سوا میرے لئے کوئی چارہ نہ رہا اور مجھے اپنے برے رویے پر انتہائی شرمندگی ہوئی۔
(جاری ہے)

تازہ ترین خبریں