08:40 am
 یہ بین ڈالتی رُدالیاں! 

 یہ بین ڈالتی رُدالیاں! 

08:40 am

  اس بات میں اب کوئی شبہ نہیں کہ پاکستان کا استحکام کن عالمی قوتوں اور کس کس پڑوسی کی آنکھوں میں کانٹا بن کے کھٹکتا ہے۔ امریکہ بہادر اور اس کے مقامی حواری بھارت کا بس نہیں چلتا کہ آنِ واحد میں پاکستان کا وجود مٹا کے سب صوبوں میں متعصب قوم پرستوں اور اخلاق باختہ لبرل ٹوڈیوں کی بے اختیار اور بد عنوان حکومتیں قائم کروادیں ۔ پاکستان دشمن قوتوں کا دیرینہ خواب ہے کہ اس سر زمیں پر سیاسی انتشار‘ معاشی بدحالی ،  بد عنوانی ، لاقانونیت اور مذہب بیزاری کا دور دورہ ہو ۔ اپنی بد اعمالیوں کے سبب آج پاکستان بد ترین سیاسی ، معاشی اور انتظامی بحرانوں میں گھرا ہے ۔ معاملہ بد ا منی  کے حوالے سے بھی تشویشناک ہی تھا ۔ خیبر سے کراچی اور گلگت بلتستان سے گوادر تک غیر ملکی سرمائے پر پلنے  والے دہشت گردوں نے جب متوازی ریاست قائم کرنا چاہی تو یہ افواجِ پاکستان ہی تھیں جو دشمنوں کی  راہ میں آہنی چٹان بن کے کھڑی ہوئیں۔ دہشت گردی کے خلاف اعصاب شکن چومکھی جنگ میں آج پاکستان ایک بر تر پوزیشن پر ہے تو اُس کا سہرا عساکر پاکستان کے سر ہے۔  فوج کے عزم و استقلال نے قانون نافذ کرنے والے سول اداروں کو بھی اپنی کمزوریوں پر قابو پاکے میدان میں ڈٹے رہنے کا حوصلہ فراہم کیا ۔ 
 
دشمنوں  کے ارادے تو  یہ تھے کہ  دہشت گردی‘   لسانی تعصب اور فرقہ ورانہ تشدد کے ہتھیاروں سے لہو لہان کر کے ٹوٹے پھوٹے پاکستان کو  بھارت کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا جائے تاہم افواجِ پاکستان کی تاریخی مزاحمت نے ان زہریلے ارادوں کو خاک میں ملا دیا ۔ الحمداﷲ ! پاکستان قائم و دائم ہے ۔ اپنے دشمنوں اور بد خواہوں کے سینے میں خنجر کی طرح پیوست ہے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ نہ تو پاکستان کے مسائل کلی طو ر پر حل ہو پائے ہیں اور نہ ہی دشمن نے سازشوں کی روش بدلی ہے۔ معاشی اور سیاسی میدان میں دشمن کے گماشتے پاکستان کی شہ رگ کاٹنے کے لیے گھات لگائے بیٹھے ہیں ۔ ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کے گرد گھیرا ڈالنے والوں میں بھارت اور امریکہ سر فہرست ہیں ۔ آئی ایم ایف کی کڑی شرائط بھی عالمی سازشوں کی پیچ دار زنجیر کی ہی ایک کڑی ہے۔ سفارتی محاذ پر پاکستان نے اپنی بساط مطابق ان سازشوں کے خلاف دفاعی حکمت عملی اپنا لی ہے ۔ افسوس یہ ہے کہ سابقہ حکمراں ٹولہ ان حساس معاملات پر مجرمانہ غفلت کا شکار رہا ۔ 
ایک جانب پاکستان میں داخلی انتشار بڑ ھا نے کیلئے بھارت کے پروردہ دہشت گردوں کو افغانستان کے راستے دراندازی کروائی جا رہی ہے تو دوسری جانب سوشل میڈیا کے محاذ سے افواج پاکستان کے خلاف زہریلا پروپیگنڈہ کر کے فکری انتشار کے بیج بوئے جا رہے ہیں ۔ اس کام کے لیے ایک جانب تو جعلی شناخت سے ایسے  سوشل میڈیا اکائونٹس بنا کے پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے جن کو بھارت اور افغانستان سے چلایا جا رہا ہے۔ دوسری جانب ایسے میڈیائی مینڈکوں کو  خریدا گیا  ہے  جو بیرون ملک  دشمن ایجنسیوں کی گود میں بیٹھ کے پاک فوج اور پاکستان کے خلاف ٹرا رہے ہیں ۔ ایک بات سمجھنا بے حد ضروری ہے کہ لسانی دہشت گرد وں ‘  مذہب کے نام پر گلے کاٹنے والوں اور مذہب بیزار لبرل ٹوڈیوں کو ایک ہی ادارے سے تکلیف ہے ۔ یہ سب پاک فوج کے خلاف یک زبان ہو کے بین ڈال رہے ہیں ۔ ان سب کو آئی ایس آئی اور ایم آئی کے وطن دوست کردار پر اعتراض ہے۔ یہ سب چاہتے ہیں کہ پاکستان غیر ملکی ایجنسیوں کی یلغار کے سامنے مزاحم نہ ہو ۔ امریکہ بھارت اتحاد کے سامنے پاکستان کسی حقیر کیچوے کی طرح قومی غیرت و حمیت کو با لا ئے طاق رکھ کے گھٹنے ٹیک دے۔ پاکستان تحریک حریت کشمیر کی اخلاقی اور سفارتی حمایت سے کنارہ کش ہو جائے اور اپنے ایٹمی پروگرام سے بھی دست بردار ہو جائے۔ آپ کو یقین نہ آئے تو درج بالا طبقات کے بیانات ، تقاریر ، مضامین اور سوشل میڈیا پر جاری کی جانے والی مغلظات کا تسلی سے جائزہ لے لیں ۔ بظاہر مخالف نظریات و فکر کے حامل یہ عناصر پاکستان دشمنی کے دھاگے میں  پروئے ہوئے ہیں ۔ ان پاکستان دشمن عناصر کی چند مشترکہ نشانیاں ان کی شناخت آسان بنا دیتی ہیں ۔ یہ ہمیشہ پاکستا ن ، دو قومی نظریے اور نظریہ پاکستان کو ہدف تنقید بناتے ہیں ۔ مذہب بیزار طبقے کے لیے لبرل نقاب اوڑھ لیتے ہیں اور مذہب پسند لوگوںکیلئے فرقہ واریت اور جہاد کی من مانی تشریحات کا جال بچھاتے ہیں ۔
 پاک فوج ، آئی ایس آئی اور ایم آئی سمیت ہر اُس ریاستی ادارے سے انہیں خدا واسطے کا بیر ہے جو پاکستان میں استحکام کے لیے کوشاں ہے۔ لبرل ٹوڈیوں کی بڑی تعداد آج کل بیرونِ ملک مقیم ہے۔ بھگوڑوں کے اس دیہاڑی دار لشکر کے سرغنہ امریکہ میں مقیم سابق سفیر ہیں جو خود بھی پاکستانی عدالتوں سے مفرور ہیں۔ سال میں ایک دو بار ان بھگوڑوں پر جنوبی ایشیا میں انسانی حقوق اور سیاسی اصلاحات  کا شدید دورہ پڑتا ہے تو غیر ملکی سرمائے سے قائم تنظیم کا اجتماع لندن یا امریکہ کی مخمور فضائوں میں کر کے پاکستان کی فوج اور ریاستی اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی   کے لیے صف ماتم بچھا لیتے ہیں۔ 
اسی بھگوڑے لشکر کی لندن میں مقیم ایک نام نہاد لکھاری خاتون نے بھارتی میڈیا ویب سائٹ دی پرنٹ میں پاک فوج کی معمول کی ترقیوں اور تبادلوں کو بنیاد بنا کے آرمی چیف‘ آئی ایس آئی سربراہان سمیت فوج کی سینئر کمان کے خلاف دشمن کی زبان میں زہر اگلا ہے۔ محترمہ کسی زمانے میں پاک بحریہ میں ملازمت بھی فرما چکی ہیں تاہم میڈیا پر ان کی شہرت وقت بے وقت افواج پاکستان کے خلاف فرمائشی مواد گھڑنے کا ہے ۔ یہ فرمائشیں ظاہر ہے ملک دشمن ایجنسیوں سے ہی آتی ہیں ۔ اگر محترمہ سمیت لبرل ٹوڈی رتی بھر بھی غیر جانبدار یا دیانتدار ہوتے تو کبھی نہ کبھی مقبوضہ کشمیر کے مظلوموں کا ذکر بھی کرتے ! کشمیر میںبھارتی افواج کے ماورائے عدالت قتل ، گینگ ریپ ، غیر قانونی حراست اور مظلوم قیدیوں پر بد ترین تشدد کی بھی مذمت کرتے۔ را کی پاکستان میں دہشت گردی کا نوحہ بھی لکھتے۔ کھل بھوشن یادو کا تذکرہ کر کے بھارتی ریاستی دہشت گردی کا پردہ بھی چاک کرتے ۔ پاک فوج کے خلاف صف ماتم بچھانے والے نام نہاد دانشوروں کی حیثیت اُن ردالیوں جیسی ہے جنہیں راجھستان میں کرائے پر لا کے مرنے والے کے لیے بین ڈلوایا جاتا ہے۔ لبرل ردالیوں کے میڈیائی گروہ کو چونکہ پیسہ پاکستان اور اُس کے ریاستی اداروں کے خلاف بین ڈالنے کا ملتا ہے لہٰذا یہ بھارت اور امریکہ کے خلاف کبھی حرفِ شکایت زبان پر نہیں لاسکتے۔ 

تازہ ترین خبریں