08:40 am
مسلمان اپنی مدد آپ کریں

مسلمان اپنی مدد آپ کریں

08:40 am

امریکی کمیشن برائے عالمی مذہبی آزادی کی ایک رپورٹ کا کہنا ہے کہ بھارت میں ہندو قوم پرست گروپ’’ہندو توا‘‘ کی تشدد سے بھر پور پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔  غیر ہندو اقلیتوں پر بہیمانہ تشدد کیاجا رہا ہے، جبکہ بی جے پی قائدین بھی کھلے عام ’’ہندو توا‘‘ کا پرچار کر رہے ہیں۔ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ’ہندوتوا‘ کے تحت غیر ہندووں اور دلتوں کو دہشت اور خوف کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق بھار ت میں ایک تہائی ریاستی حکومتوں نے گائے کے ذبح پر پابندی عائد کر رکھی ہے، گائے ذبح کرنے کی جھوٹی اطلاع پر بھی مسلمانوں کو سرِعام تشدد کر کے قتل کیا گیا، دودھ، دہی، چمڑے اور گوشت کے کاروبار سے وابستہ افراد پر تشدد ہوا، غیر ہندوئوں کو  ’’گھر واپسی‘‘  نامی تقاریب منعقد کر کے زبردستی ہندو بنایا گیا۔ اس میں خبردار کیا گیا ہے کہ بھارت کی 10 ریاستوں میں اقلیتوں کیلئے حالات بدتر ہو چکے ہیں، بدترین ریاستوں میں اتر پردیش، آندھرا پردیش، بہار، چھتیس گڑھ اور گجرات شامل ہیں۔ بھارت مسلمانوں کے لیے تشدد اورخوف پھیلانے والا ملک ثابت ہوا ہے۔ 
 
رپورٹ میں بھارت میں مذہبی عدم برداشت کا گہرائی سے تجزیہ کیا گیا۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ ہندوقوم پرست گروہوں نے بھارت کوباقی قومیتوں کیلئے تشدد اورخوف وہراس پھیلانے والا ملک ثابت کیا۔ کئی ریاستوں نے گاؤکشی کے خلاف قانون بنائے، ہندوانتہا پسندوں نے گائے ذبح کرنے والے مسلمانوں پر تشدد کیا جب کہ بی جے پی مذہبی اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کر رہی ہے۔ ہندوقوم پرست گروپ  غیر ہندوئوں، دلتوں کے خلاف تشدد،  دھمکیوں اور حراسگی سے کام لے رہے ہیں، حکومتی اور غیر حکومتی دونوں عناصر اس میں ملوث ہیں۔ تقریباً ایک تہائی ریاستی حکومتوں نے غیر ہندووں کے خلاف مذہبی تبدیلی کے مخالف اور گائے کے ذبیح کے قوانین پر عمل کیا۔ کئی نسلوں سے دودھ، چمڑے اور گوشت کے کاروبارمیں ملوث مسلمان اور دلت تاجروں کے خلاف بلوائیوں نے حملے کئے جب کہ عیسائیوں کو زبردستی مذہب کی تبدیلی پر مجبور کیا گیا۔ گائے کے تحفظ کے نام پر 2017 ء میں دس سے زائد افراد کوقتل کرایا، غیر ہندئووں کو‘‘گھر واپسی ’’کے نام سے تقریبات میں زبردستی ہندو بنایا گیا۔ غیرملکی امداد سے چلنے والی این جی اوزکوبھی مذہبی اقلیتوں کے خلاف استعمال کیا گیا۔ بی جی پی کا ہندو انتہا پسند گروپوں کے ساتھ الحاق ہے۔  بی جے پی کے کئی اراکین نے مذہبی اقلیتوں کے خلاف امتیازی زبان استعمال کی۔ گزشتہ دو سال میں فرقہ ورانہ تشدد میں بہت تیزی سے اضافہ ہوا اورمودی حکومت فرقہ ورانہ تشدد کے شکار اقلیتوں کو تحفظ دینے میں ناکام رہی۔ مودی کی جماعت کے راہنماؤں کی بھڑکیلی اور اشتعال انگیز تقریروں سے اقلیتوں کے خلاف تشدد کو ہوا ملی جب کہ بھارتی ریاستی ادارے ان چیلنجوں سے نمٹنے میں بری طرح سے ناکام ہو گئے۔ رپورٹ میں مذہبی آزادیوں اورعدم برداشت کے معاملہ پر بھارت کو درجہ دوئم میں رکھا گیا، بین الاقوامی ریلیئیس فریڈم ایکٹ کے تحت بھارت کو مخصوص تشویش والے ممالک کی صف میں رکھا گیا ہے۔
امریکی رپورٹ کی اشاعت کے موقع پرہی بالی ووڈ کے معروف ہدایتکار راکیش روشن کی بیٹی اور اداکار ریتک روشن کی بہن سونینا روشن کا بیان آیا ہے کہ میرے والد نے مسلمان لڑکے سے شادی کی خواہش پر مجھے مارا پیٹا ۔میری فیملی روحیل امین کو صرف اس لیے قبول نہیں کررہی کہ وہ مسلمان ہے۔سونینا روشن نے ویب سائٹ کو انٹرویو میں کہا کہ میرے والد مذہب کی بنیاد پر سماج کی دیوار بنے ہوئے ہیں۔ریتک روشن کی بہن سونینا روشن نے کہا کہ میرے گھر والوں نے میری زندگی کو جہنم بنا دیا ہے اور میں ناقابل برداشت صورتحال میں زندگی گزار رہی ہوں۔ ریتک والد کے سامنے بے بس ہے کچھ نہیں کرسکتا اس لیے اداکارہ کنگنا رناوت سے مدد مانگی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میرے والد مجھ پر تشدد کر رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ دہشت گرد ہے جبکہ روحیل امین ایسا نہیں ہے۔سونینا روشن نے انکشاف کیا کہ میں نے اداکارہ کنگنا رناوت اور رنگولی چنڈل سے کہا ہے کہ وہ انصاف دلانے میں مجھے مدد فراہم کر یں۔
جھارکھنڈ میںگزشتہ روز ایک مسلم نوجوان کوہندو انتہا پسندوں نے  تشدد میںشہید کردیا۔ مسلم نوجوان کو جئے شری رام بولنے کیلئے مجبور کیا گیا اور اسے  پیٹ کرمار ڈالا گیا۔ نوجوان تبریز انصاری کی موت کی تحقیقات کیلئے ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم بھی تشکیل دی گئی ہے۔ دو پولیس اہلکاروں کو اس واقعہ کے سلسلہ میں معطل بھی کردیا گیا ہے مگر اس تحقیقات کا حشر بھی پہلے کی طرح ہو گا۔ بھارتی مسلمان مودی حکومت کو آنکھیں کھولنے کے لئے پکار رہے ہیں۔نریندر مودی حکومت اور بی جے پی  اقلیتوں کے خلاف مظالم اور انہیں دوسرے درجہ کا شہری بنانے کی کوششوں کے الزامات مسلسل عائد ہوتے رہے ہیں۔ مختلف گوشوں سے اور خاص طور پر مسلمانوں کی مختلف تنظیموں اور جماعتوں کی جانب سے یہ الزامات عائد ہوتے رہے ہیں ۔ بی جے پی ایک منظم منصوبہ کے تحت اقلیتوں کونشانہ بنا رہی  ہے اور اس کیلئے اس کی ساتھی تنظیمیں سرگرم ہیں۔ مبصرین کہتے ہیں کہ ان تنظیموں کے ذریعہ نریندر مودی حکومت اور بی جے پی اپنے عزائم اور منصوبوں کی تکمیل کرنا چاہتے ہیں۔ ملک کی اپوزیشن جماعتوں کو بھی یہ پوری طرح سے احساس ہے کہ یہ عزائم بی جے پی کسی بھی قیمت پر پورے کرنا چاہتی ہے اور وہ وقفہ وقفہ سے اس کیلئے کوئی نہ کوئی شوشہ چھوڑتی رہتی ہے۔
 نریندرمودی حکومت نے اپنی دوسری معیاد میں ایک بار پھر تین طلاق اور نکاح حلالہ جیسے مسائل کو چھیڑ دیا ہے جس کا مقصد مسلمانوں کو منتشر کرنا ہے۔منتشر مسلمانوں پر حملے آسان ہوتے ہیں۔ امریکہ کی رپورٹ  میں بھی بھارت  کا خاص طور پر تذکرہ کیا گیا ہے اور یہ کہا گیا ہے کہ یہاں مسلمانوں پرمنظم انداز میںحملے کئے جا رہے ہیں اور انہیں نشانہ بناتے ہوئے ان میںعدم تحفظ کا احساس اور ڈر و خوف کی فضاء پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔(جاری ہے)


بی جے پی کے کئی قائدین کی جانب سے مسلمانوں اور اقلیتوں کے خلاف اشتعال انگیز بیانات بھی جاری کئے جارہے  ہیں اور خودا پنے لیڈروںکو اقلیتوں کے خلاف اکسایا جاتا ہے۔ ان کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ نریندر مودی کے اقتدار میں ملک میں فاشسٹ طاقتیں اور فرقہ پرست عناصر بے لگام ہوگئے ہیں۔ وہ کسی کو خاطر میں لانے کو تیار نہیں ہیں۔بھارت  کے دستور کا مذاق اڑایا جا رہا ہے۔ دستور کی نقول کو سر عام نذر آتش کیا جا رہا ہے۔ دستور کو بدلنے کی بات کی جا رہی ہے۔ یہ سارا کچھ محض اس لئے ہے کیونکہ دستور میں اقلیتوں کے کچھ حقوق کو اجاگر کیا گیا ہے۔اسی  دستور کے نام پر حلف لینے اور  پارلیمنٹ کیلئے منتخب ہونے اور حکومت میںو زارت سنبھالنے والے افراد بھی دستورہند میں تبدیلی لانے کی بات کرتے ہیں‘ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ بھارت کا آئین فرسودہ ہے۔ اس میں اب صرف ہندوئوں کے حقوق کے تحفظ کے مطالبات پیش ہو رہے ہیں۔
 امریکی ادارے کی رپورٹ کہتی ہے کہ بھارت  میں اقلیتوں کونشانہ بنایا جار ہا ہے۔ ان پر ہجوم کی جانب سے پرتشدد حملے کئے جا رہے ہیں۔ انہیں مارپیٹ کرکے ہلاک کیا جار ہا ہے۔ انہیں دوسرے درجہ کا شہری بنانے کی کوششیں تیز ہوگئی ہیں۔ یہ کوششیں مودی حکومت کی پہلی معیاد  میںشروع ہوچکی تھیں اور اب ان میںمزید تیزی پیدا کردی گئی ہے حالانکہ بی جے پی کی جانب سے اس رپورٹ کو مودی کے خلاف جانبداری کا نام دیا جا رہا ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ امریکہ کوئی مسلم ملک نہیںہے اور امریکی انتظامیہ کوئی مسلم نواز نہیں بلکہ مودی نواز انتظامیہ ہے۔ اس پر جانبداری کا الزام لگاتے ہوئے حقیقت کو قبول کرنے سے گریز کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
مودی کی حلف برداری سے لے کر آج تک کئی واقعات میں مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ بہار کے بیگو سرائے میں مسلم نوجوان کو نام پوچھ کر گولی ماردی گئی۔ بھارتی دارالحکومت  دہلی میں نماز سے واپس ہونے والے نوجوان کی ٹوپی اچھال دی گئی اور اسے مشرکانہ نعرے لگانے پر مجبور کیا گیا۔ راجستھان اور اترپردیش میں بھی اس طرح کے واقعات پیش آچکے ہیں۔ 2010 ء سے 2017 ء تک بھارت کے  سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گائے کا گوشت کھانے  کے نام پر تشدد کے 63 واقعات پیش آئے، جن میں 28 افراد کو قتل کیا گیا، ان میں 24 مسلمان تھے۔ سیکڑوںافراد ان واقعات میں زخمی ہوئے ہیں۔ بھارتی سپریم کورٹ نے ہجومی تشدد کا بظاہر  نوٹس لیتے ہوئے ریاستوں کو نوڈل آفیسر کے تقرر کی ہدایت دی۔ اس کے باوجود واقعات کا سلسلہ جاری ہے کیوں کہ مسلمانوں کے تحفظ کیلئے سرکار بالکل سنجیدہ نہیں۔
 اقلیتوں پر تشدد اور مار دھاڑ کے  واقعات کو کس طرح روکا جاسکتا ہے؟ کیا  بھارت میں 20کروڑ مسلمان حشرات الارض کی طرح لاچار اور مجبور ہوکر اپنی قربانی دیتے رہیں گے۔ بالکل نہیں‘ بھارت  کے دستور نے ہر شہری کو حفاظت خود اختیاری کا حق دیا ہے مگر یہ دستور صرف ہندوئوں کے مفاد کے لئے رہ گیا ہے۔  اگربھارت میں مسلمانوں کو ہجومی تشدد کو روکنا ہے، اپنے مفادات کا تحفظ کرنا ہے،  تو مودی  حکومت یا آئندہ کی حکومتوں پر انحصار کرنا فضول ہو گا۔بھارت کے اندر بھی باشعور لوگ صلاح دے رہے ہیں کہ بھارتی مسلمان خود احتیاطی تدابیر اور حفاظت خود اختیاری کا راستہ اختیار کرلیں جس سے گاؤ دہشت گردوں کو منہ توڑ جواب دیا جا سکتا ہے۔ حفاظتِ خود اختیاری کوئی غیر قانونی عمل نہیں ہے بلکہ یہ بھارتی آئین اور قانون کے دائرہ میں اپنی حفاظت کیلئے ناگزیر بن چکا ہے۔

 

تازہ ترین خبریں