08:41 am
مکتی باہنی اور پی ٹی ایم 

مکتی باہنی اور پی ٹی ایم 

08:41 am

بعض دانشور احباب کی رائے کے مطابق منظور پشتین کی پی ٹی ایم بنگلہ دیش کی مکتی باہنی کا ہی جدید ایڈیشن ہے‘ کرنل شریف الحق  دالیم1971 ء میں پاکستان سے منحرف ہوکر بھارت گئے اور انہوں نے بھارتی انٹیلی جنس ’’را‘‘ سے مل کر مکتی باہنی بنائی‘ کرنل شریف الحق نے اپنی کتاب "BANGLADESH-UNTOLD FACTS"  میں لکھا ہے کہ ’’بھارت اور مکتی باہنی کا سب سے بڑا ہتھیار جھوٹ تھا‘ پاک فوج کے مظالم کی جھوٹی داستانیں گھڑ کے منظم انداز میں پھیلائی جاتیں‘ کلکتہ میں باقاعدہ سیل قائم تھا‘‘
 
سبھاش چندربوس برصغیر کی تحریک آزادی کے ہیروز میں بڑا مقام رکھتے ہیں… ان کی پوتی اور آکسفورڈ یونیورسٹی کی ریسرچ ایسوسی ایٹ سرمیلا بھوس نے بھی اپنی کتابDead Reckoning Memories of the 1971 Bangladesh War میں یہی کہا ہے کہ ’’بھار ت نے مشرقی پاکستانیوں کو فوج سے متنفر کرنے کی خاطر جھوٹ کا ہتھیار استعمال کیا‘‘ ان دانشور دوستوں کایہ کہنا ہے کہ پی ٹی ایم کی طرف سے پاک فوج کے خلاف کیے جانے والے پروپیگنڈے کا بغور جائزہ لیا جائے تو صاف نظر آتا ہے کہ پی ٹی ایم پروپیگنڈہ سیل‘ مکتی باہنی پروپیگنڈا سیل کی طرح بلکہ اس سے بھی کہیں بڑھ کر پاک فوج کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈے میں مصروف ہے۔
اس خاکسار سمیت پوری قوم2019 ء میں جینا چاہتی ہے‘ مگر بعض سیاست دان اور مخصوص مائنڈ سیٹ کا حامل میڈیا‘ بار بار پاکستان کو زور زبردستی سے 1971 ء میں لے جانا چاہتا ہے حالانکہ یہ بات وہ بھی جانتے ہیں کہ منظور پشتین اور محسن داوڑ کی پی ٹی ایم مطالبات کی آڑ لے کر پاک فوج کے خلاف ’’را‘‘ مائنڈ سیٹ پروان چڑھانے میں مصروف ہے۔
16 جون اتوار کی رات اسلام آباد کے جی نائن سیکٹر میں اسلامی یونیورسٹی کے سٹوڈنٹ اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ حافظ محمد بلال خان کو دہشت گردوں نے فون کرکے بہارہ کہو سے بلوایا اور پھر خنجر وں کے17 وار کرکے اس21 سالہ نوجوان کو انتہائی بہیمانہ انداز میں شہید کر دیا۔
بلال خان کی شہادت کے بعد اپنے پرائے  دانشور‘ کالم نگار سب اس بات پر متفق نظر آئے کہ وہ ناموس رسالتؐ اور ناموس صحابہؓ کا عاشق زار اور انتہائی محب وطن نوجوان تھا‘ اطلاعات کے مطابق حافظ بلال خان کے قتل کے بعد آئی ایس پی آر نے بھی تعزیتی بیان جاری کیا‘ جن میں اس کے قتل کی مذمت کی گئی۔
ابھی تک حافظ بلال خان کے والد محترم یا خاندان کے کسی شخص نے قاتل افراد‘ گروہ یا تنظیم کو نامزد نہیں کیا‘ تفتیشی ادارے قاتلوں کا کھوج لگانے میں مصروف ہیں ‘ مگر پی ٹی ایم کے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ نے نہ آئو دیکھا نہ تائو ‘ فوراً اس مظلوم نوجوان کے قتل کی ذمہ داری فوجی اداروں پر ڈالنا شروع کر دی۔
دلچسپ بات یہ کہ نیو یارک ٹائمز‘ ڈی ڈبلیو ٹی وی  اور واشنگٹن پوسٹ سے لے کر بھارتی میڈیا اور پی ٹی ایم اس حوالے سے ایک پیج پر نظر آئے‘ بھارتی اور امریکی میڈیا کا اس طرح کا جھوٹا پروپیگنڈہ تو قابل فہم ہے ‘ لیکن پی ٹی ایم  کوئلوں کی دلالی میں منہ کالا کیوں کرتی ہے؟ اب یہ بات بھی کوئی زیادہ ڈھکی چھپی نہیں رہی‘ یادش بخیر! ابھی پچھلے مہینے میں اسلام آباد کے علاقے بہارہ کہو میں ’’فرشتہ‘‘ نامی معصوم بچی کو درندگی کانشانہ بناکر قتل کردیا گیا … یہ ایک ایسی گھنائونی اور شرمناک واردات تھی جس نے بھی سنا وہ سر پکڑ کر رہ گیا؟ معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کے مطابق اب تو معصوم ’’فرشتہ‘‘ بیٹی کے قاتل بھی قانون کی گرفت میں آچکے ہیں … اللہ کرے کہ انہیں جلد سے جلد عبرتناک انجام سے بھی دوچار کیا جائے ‘معصوم بچی ’’فرشتہ‘‘ کے ساتھ ہونے والی درندگی کو بنیاد بناکر پی ٹی ایم نے سوشل میڈیا پر جس طرح سے اس واقعہ کو پنجابی‘ پختون نفرتوں کے بڑھاوے ے لئے استعمال کیا‘  صوبائی اور لسانی تعصبات کو پروان چڑھایا‘ وہ نہ صرف یہ کہ المناک بلکہ شرمناک بھی ہے۔
بات اگر جائز مطالبات اور ان مطالبات کو منوانے کے لئے آئینی اور قانونی جدوجہد تک  محدود رہے تو اس کے فوائد اور مثبت نتائج بھی حاصل کیے جاسکتے ہیں‘ لیکن مطالبات کی آڑ میں  قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈہ کرنا اسے کم سے کم لفظوں میں بھی ملک دشمنی ہی قرار دیا جائے گا۔
کون نہیں جانتا کہ2007 ء میں  اسلام آباد کے دل میں واقع لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے مولانا عبد العزیز کے مطالبات کو پاکستان کے تمام اکابر علماء کرام‘ اسکالرز اور سنجیدہ طبقات کا حامل ہر انسان نہ صرف د رست قرار دیتا تھا بلکہ ان کا حامی بھی تھا‘ مگر سب نے مولانا عبدالعزیز کے طریقہ کار سے کھل کر اختلاف کیا‘ اگر اسلام کے نفاذ کا مطالبہ کرنے والوں کے طریقہ کار سے اختلاف کیا جاسکتا ہے‘ ان کی کسی بھی عسکری ادارے کے خلاف پروپیگنڈے یا ٹکرانے کی پالیسی کی کوئی حمایت کرنے کے لئے تیار  نہیں ہے ‘  تو پی ٹی ایم کی طرف سے مسلح افواج کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈے کی حمایت کوئی بھی محب وطن پاکستانی کیسے کرسکتا ہے؟ لہٰذا میری پی ٹی ایم کی قیادت سے درخواست ہے کہ وہ مکتی باہنی کے جھوٹ بولنے کے ہتھیار کو پھینک کر آئین اور قانون کے دائرے کے اندر رہتے ہوئے اپنی جدوجہد کرے۔

تازہ ترین خبریں