08:43 am
ڈِیل ہوگئی! ڈالراِن، نوازشریف باہر!؟

ڈِیل ہوگئی! ڈالراِن، نوازشریف باہر!؟

08:43 am

٭ڈِیل ہو گئی؟12. ارب ڈالر! ڈالر اندر نوازشریف ملک سے باہر!! امیر قطر کا معنی خیز دورہO آج مولانا فضل الرحمن کی آل پارٹیز کانفرنس، جماعت اسلامی کا انکار، ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے اعتراضاتO ہم مولانا کے اسلام آباد کا گھیرائو کے خلاف ہیں، سید خورشیدشاہO خواجہ آصف شہباز شریف کے خلافO ایوان صدر: آرائش وزیبائش طوطوں کے سنہری پنجرو ںکا منصوبہ ختمO اپوزیشن کے تمام ارکان اسمبلی مستعفی ہو جائیں، مولانا فضل الرحمن کی ہدائتO کیمبرج، ہائیڈل برگ یونیورسٹیوں میں اقبال چیئر معطل، استنبول یونیورسٹی میں منسوخO بجٹ منظور کرانے کے لئے ق لیگ، ایم کیو ایم، جی ڈی اے کا مزیدوزارتوں کا مطالبہ۔
 
٭یہ انکشاف مختلف ذرائع نے کیا ہے مگر سابق وزیراطلاعات اور سینئر صحافی عارف نظامی نے واضح الفاظ میں زبانی اور تحریری طور پر دعویٰ کر دیا ہے کہ قطر کے امیر کے آنے پر نوازشریف اور مریم نواز کو مستقل طور پر پاکستان سے باہر بھیجنے کی ڈِیل ہو گئی ہے اس کے 70 فیصد حصے پر کام مکمل ہو چکا ہے، صرف 30 فیصد رہ گیا ہے۔ اس کے بعد نوازشریف اور مریم نواز کی سزا اور باہر جانے پر پابندی معطل کرا کے انہیں مستقل طور پر پاکستان سے باہر جانے کی اجازت مل جائے گی، تاہم شہباز اور حمزہ شریف پاکستان میں ہی رہیں گے۔ ان کے خلاف بھی کیس واپس لے لئے جائیں گے یا نرم کر دیئے جائیں گے! ان مراعات کے عوض پاکستان کو فوری طور پر قطر سے تین ارب ڈالر مل رہے ہیں، مزید نو(9) ارب ڈالر کی مختلف انداز میں سرمایہ کاری آ رہی ہے۔ پاکستانی کرنسی میں یہ ساری رقم 14 کھرب 13 ارب روپے بنتی ہے۔ جو پاکستان کے موجودہ کل بجٹ کا پانچواں حصہ بنتی ہے۔ تجزیہ نگار اس ڈیل کے سلسلے میں عمران خان کے اچانک دورہ قطر اور پھر قطر کے امیر کاصرف 24 گھنٹے کا پاکستان کا دورہ خاص مقصد کا حامل قرار دے رہے ہیں۔ یہ بات بھی نوٹ کی جا رہی ہے کہ ان خبروں کے بار بار نشروشائع ہونے پر پاکستان کی حکومت کی طرف سے تادم تحریر کوئی تردید یا وضاحت نہیں آئی تھی۔ شائد نہ ہی آئے! تجزیہ نگاروں کے مطابق قطر سے پاکستان کو تقریباً 12 ارب ڈالر کی ہنگامی امداد دراصل اس رقم کی متبادل ہے جس کا مطالبہ حکومت شریف خاندان کے اندرونی و بیرونی اثاثوں کی قیمت کے طور پر کرتی رہی ہے۔ان اقدامات سے عمران خان حکومت کو مستحکم کر سکیں گے۔ یہ معاملات تو شریف خاندان کے ساتھ ہیں جس کے خلاف پانامہ کیس میں ایک قطری شہزادے کے خط کا بار بار ذکر آتا رہا ہے۔ تجزیہ نگار اس بات کو بھی اہم قرار دے رہے ہیں کہ جنرل مشرف کے دور میں شریف خاندان کو پناہ دینے والا سعودی عرب اس بار اس سارے معاملے میں بالکل لاتعلق اور خاموش رہا ہے، بلکہ عمران خان کی غیر معمول پذیرائی بھی کر رہا ہے۔ اس کی وجہ بتائی جا رہی ہے کہ سعودی حکومت جنرل مشرف کے ہاتھوں شریف خاندان کے سلوک قید وبند کے سلوک کو زیادتی اور مظلومیت قرار دے رہی تھی۔ اب معاملات کی نوعیت دوسری ہے اور شریف خاندان کے خلاف کسی فوجی جرنیل نے نہیں بلکہ ملک کی اعلیٰ عدالتوں نے کارروائی کی ہے! اسے سعودی عرب نظر انداز نہیں کر رہا۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق شہباز شریف کی طرف سے اسمبلی میں اچانک ’میثاق معیشت‘ کی پیش کش بھی مبینہ ڈیل کی ابتدائی کڑی قرار دی جا سکتی ہے۔
٭دریں اثنا سوال پیدا ہو رہا ہے کہ زرداری خاندان بھی شریف خاندان والی صورت حال سے دوچار ہے، اس کا کیا بنے گا؟ مبصرین کے مطابق زرداری خاندان کے معاملات بالکل مختلف ہیں۔ شریف خاندان نے عرب ممالک کے ساتھ سیاسی اور کاروباری اور ذاتی تعلقات قائم کر رکھے تھے جو کام آ رہے ہیں۔ جب کہ زرداری خاندان نے ان ممالک کے ساتھ صرف مالی مفادات کے کاروباری مراسم رکھے! نواز شریف کے دور میں عرب امارات سے تعلقات اتنے خراب ہو گئے کہ اس کے وزیر خارجہ نے پاکستان کو کھلی گالیاں اور دھمکیاں دیں۔ بھارتی وزیراعظم مودی کو اعلیٰ ترین ریاستی ایوارڈ دیا اور دو بڑے بڑے مندر تعمیر کر کے تحفہ میں دیئے گئے! دوسری طرف امریکی سینٹ  آصف زرداری کی مبینہ منی لانڈرنگ کے خلاف واضح قرار داد جاری کر چکا ہے (انٹرنیٹ پر محفوظ ہے)۔ شریف خاندان کے بیرون اور اندرون ملک اثاثوں کی تفصیلات کبھی اس انداز میں سامنے نہیں آئیں، جس طرح آصف زرداری کی انٹرنیٹ پر اندرون و بیرونی ملک 87 بری بڑی جائیدادیں بار بار دکھائی جا رہی ہیں! آصف زرداری اور بہن فریال تالپور دونوں اس وقت زیر حراست ہیں، ان کے خلاف بھی عدالتی کارروائیاں تیزی سے مکمل ہو رہی ہیں۔ نتیجہ کچھ بھی نکل سکتا ہے تاہم کڑا احتساب زیادہ نمایاں دکھائی دے رہا ہے۔
٭مولانا فضل الرحمن کی زیر صدارت آج اسلام آباد میں اپوزیشن پارٹیو ںکی کل پارٹیز کانفرنس منعقد ہو رہی ہے۔ مولانا نے 30 لاکھ افراد کے ساتھ اسلام آباد کی تالہ بندی کا اعلان بھی کر رکھا ہے اس کی تاریخ کا آج اعلان ممکن ہے۔ اب عالم یہ ہے کہ جماعت اسلامی نے کل پارٹیز کانفرنس میں شرکت سے دو ٹوک انکار کر دیا ہے اور واضح موقف اختیار کیا ہے کہ عدالتوں میں ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے خلاف شدید مالی بدعنوانیو ںکے کیس چل رہے ہیں۔ ان پارٹیوںکو پہلے ان الزامات سے بری ہونا چاہئے۔ دوسری طرف مولانا کے بھرپور مذاکرات کے باوجود ق لیگ، ایم کیو ایم اور پیر پگاڑا اتحاد ’جی ڈی اے‘ نے نئی وزارتوں کے عوض حکومت کو ساتھ دینے کا یقین دلا دیا ہے۔ بی این پی کے سربراہ اختر مینگل نے مولانا کو بھی یقین دلایا کہ حکومت کو گرانے کے لئے ان کا ساتھ دیں گے اور تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین کو یقین دلایا کہ بجٹ کی منظوری کے لئے حکومت کا ساتھ دیں گے۔ ان چاروں اتحادی پارٹیوں نے عمران خان سے حمائت کے معاوضہ کے طور پر ایک ایک وزارت مانگ لی ہے! اور یہ وزارتیں مل بھی جانی ہیں! ہر موقع پر ہر بات پربلیک میلنگ! یہ سیاست ہے! کوئی بھی مخلص نہیں۔
٭کچھ ذکر مولانا کی 30 لاکھ افراد کے ساتھ اسلام آباد کے مکمل ’لاک ان‘ کا! لاک اِن کے واضح معانی تالہ بندی کے ہیں۔ گویا 30 لاکھ افراد اسلام آباد کو چاروں طرف سے گھیر کر اس کے سارے داخلی خارجی راستے بند کر دیں گے، اسلام آباد ایک جیل کی شکل اختیار کر لے گا، اس میں لاکھوں افراد قید ہو جائیں گے۔ سرکاری دفاتر بند کر دیئے جائیں گے اگر پولیس وغیرہ نے روکا تو شدید مزاحمت وسیع خونریزی میں بھی تبدیل ہو سکتی ہے۔ یہ اتنی اذیت ناک کارروائی ہو سکتی ہے کہ پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما سید خورشید احمد شاہ نے اسکی مخالفت کر دی ہے! اس پر کیا تبصرہ کیا جائے! ذاتی محرومیوں کا پوری قوم سے اتنا بڑا انتقام!
٭دلچسپ خبر! بھارت کی لوک سبھا میں کانگریس کے ایک رکن ’ادھیررنجن چودھری‘ نے تجویز پیش کی ہے کہ پاکستان سے رہا ہونے والے بھارتی ایئرفورس کے پائلٹ ’ابھی نندن‘ کی مونچھوں کو ’قومی مونچھوں‘ کا درجہ دے دیا جائے اوراس کا ’ابھی نندن‘ کو بھاری معاوضہ دیا جائے۔ ابھی نندن کی یہ مونچھیں منہ کے دونوں طرف نیچے کی طرف اس طرح لٹکی ہوئی ہیں کہ جیسے کسی وال کلاک میں سات بج کر 25 منٹ ہو رہے ہوں۔ ویسے مونچھوں کا یہ انداز ہمارے ادھر بھی عام ہو رہاہے۔ چند سنٹی میٹر کی ٹیڈی سی داڑھی، دونوں طرف لٹکتی ہوئی بھول مونچھیں! اُردو ادب میں آنکھوں، زلفوں اور محبوب کے ہونٹوں کا بہت ذکر ہوا ہے مگر مونچھوں کی عام پذیرائی نہیں ہوئی! میں نے یونیورسٹی کے دور میں ایک بار مونچھوں کے موضوع پر مشاعرہ کرایا تھا۔ بڑی مونچھوں والا گورنر ملک امیر محمد خان سخت ناراض ہوا۔
٭صدر پاکستان نے ایوان صدر کے طوطوں کے لئے لاکھوں روپے کے نئے سنہرے پنجروں اور لاکھوں روپے کی دوسری آرائش و زیبائش کا منصوبہ اور اس کے جاری ہونے والے ڈیڑھ کروڑ روپے کے ٹینڈر منسوخ کر دیئے ہیں۔ افسوس! ایسے ’’عظیم الشان‘‘ منصوبے کا یہ انجام! کیا تھا اگر ایوان صدر کی انتظامیہ کی تجوریوں میں چند لاکھ روپے چلے جاتے!

تازہ ترین خبریں