07:56 am
حسن اخلاق

حسن اخلاق

07:56 am

(گزشتہ سےپیوستہ)
حسن اخلاق اپنانے کے 10طریقے:(۱)اچھی صحبت اختیار کرو: صحبت اثر رکھتی ہے، جو بندہ جیسی صحبت اختیار کرتا ہے ویسا ہی بن جاتا ہے، اچھوں کی صحبت اچھا اور بروں کی صحبت برا بنا دیتی ہے، بداخلاقوں کی صحبت بدخلق اور حسن اخلاق والوں کی صحبت حسن اخلاق والا بنا دیتی ہے۔ 
(۲) حسن اخلاق کے فضائل کا مطالعہ کیجئے:۔ جب کسی چیز کے فضائل پیش نظر ہوں تو اسے اپنانا آسان ہو جاتا ہے۔ حسن اخلاق کی معلومات کیلئے علامہ طبرانی کی علیہ رحمۃ اللہ القوی کی کتاب مکارم اخلاق ترجمہ بنام حسن اخلاق، حجۃ الاسلام حضرت سیدنا امام محمدغزالی علیہ رحمۃ اللہ الوالی کی مایہ ناز تصانیف احیاء العلوم، جلدسوم اور مکاشفۃ القلوب کا مطالعہ بہت مفید ہے۔
(۳)بداخلاقی کی دُنیوی اور اخروی برائیوں پر غور کیجئے:۔ بداخلاق شخص سے لوگ نفرت کرتے ہیں، اس سے دُور بھاگتے ہیں، اُسے دنیوی معاملات میں ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، وہ خود بھی پریشان رہتا ہے اور لوگوں کو بھی پریشان کرتا ہے، بداخلاق شخص کے دشمن بھی زیادہ ہوتے ہیں،بندہ برے اخلاق کے سبب جہنم کے نچلے طبقے میں پہنچ سکتا ہے، بداخلاق شخص اپنے آپ کو دنیاوی مصیبت میں بھی مبتلا کر لیتا ہے، بداخلاق شخص ٹوٹے ہوئے گھڑے کی طرح ہے جو قابل استعمال نہیں ہوتا۔
(۴)حسن اخلاق میں شامل نیک اعمال کی معلومات حاصل کیجئے:۔ جب تک بندے کو ایسے نیک اعمال کی معلومات نہیں ہوں گی جو حسن اخلاق میں شامل ہیں تو اس وقت تک حسن اخلاق کو اختیار کرنا دشوار ہو گا۔(۵) دل میں احترامِ مسلم پیدا کیجئے: جب بندے کے دل میں مسلمانوں کا احترام پیدا ہو گا تو خودبخود ان کے ساتھ حسن اخلاق سے پیش آئے گا، احترامِ مسلم پیدا کرنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ بندہ خود سے تمام لوگوں کو اچھا جانے، اپنے آپ کو بڑا گنہگار سمجھے، عاجزی و انکساری اختیار کرے، یوں احترامِ مسلم پیدا ہو گا اور حسن اخلاق کی دولت ن صیب ہو گی، ان شاء اللہ عزوجل۔(۶) نفسانی خواہشات سے پرہیز کیجئے: بسااوقات ذاتی رنجش، ناپسندیدگی اور ناراضی کی بناء پر نفس اپنے غصے کا اظہار غیبت، گالی گلوچ، چغلی وغیرہ جیسی بداخلاقی کی بدترین قسموں سے کرواتا ہے جو حسن اخلاق کی بدترین دشمن ہیں لہٰذا نفسانی خواہشات سے پرہیز کیجئے تاکہ حسن اخلاق کی دولت نصیب ہو۔
(۷) حسن اخلاق کی بارگاہ الٰہی میں دعا کیجئے: دعا مومن کا ہتھیار ہے، حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دو دعائیں پیش خدمت ہیں: ’’اَللّٰھُمَّ حَسَّنْتَ خَلَقِیْ فَحَسِّنْ خُلُقِیْ‘‘ یعنی ’’اے اللہ عزوجل! تو نے میری صورت اچھی بنائی ہے پس میرے اخلاق کو بھی اچھا کر دے‘‘۔ ’’اَللّٰھُمَّ  اِنِّیْ اَسْئَلُکَ الصِّحَّۃَ وَالْعَافِیَۃَ وَحُسْنَ الْخُلُق‘‘ یعنی ’’اے اللہ عزوجل! میں تجھ سے صحت، عافیت اور اچھے اخلاق کا سوال کرتا ہوں‘‘۔ 
(۸) برائی کا جواب اچھائی سے دیجئے: برائی کا جواب بھلائی سے دینے کو افضل اخلاق میں شمار کیا گیا ہے۔ چنانچہ فرمانِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے، ’’دُنیا و آخرت کے افضل اخلاق میں سے یہ ہے کہ تم قطع تعلق کرنے والے سے صلہ رحمی کرو، جو تمہیں محروم کرے اسے عطا کرو اور جو تم پر ظلم کرے اسے معاف کر دو‘‘۔
(۹) بداخلاقی کے اسباب کو دُور کیجئے: بداخلاقی حسن اخلاق کی ضد ہے، جب بداخلاقی دُور ہو جائیگی تو حسن اخلاق خود ہی پیدا ہو جائیگا۔ بداخلاقی کا ایک سبب گھر کا ماحول اچھا نہ ہونا ہے، اس کا علاج یہ ہے کہ گھر میں حکمت عملی کے ساتھ مدنی ماحول بنائیے، فحاشی و عریانی والے چینلز کو بند کر کے دینی چینل کو بسائیے، ان شاء اللہ عزوجل آپ کی اور آپ کے گھر والوں کی، بچوں کی والدین اور دیگر رشتہ داروں کی ایسی تربیت ہو گی جس سے حسن اخلاق پیدا کرنے میں آسانی ہو گی۔ بداخلاقی کا ایک سبب منصب یا عہدے کا چھن جانا بھی ہے کہ جب بندے س کوئی منصب یا عہدہ چھین لیا جائے تو بسا اوقات وہ بداخلاق ہو جاتا ہے، اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ کسی بھی منصب کو مستقبل اور دائمی نہ سمجھے بلکہ اپنا یوں ذہن بنائیے کہ مجھے تو دنیا میں بھی مخصوص مدت تک رہنا ہے تو یہ منصب ہمیشہ کیسے رہے گا، جب پہلے سے ہی منصب کے ہمیشہ نہ رہنے کا ذہن ہو گا تو اس کے چھن جانے پر افسوس بھی نہ ہو گا اور بداخلاقی بھی پیدا نہ ہو گی‘ ان شاء اللہ عزوجل۔ بسااوقات ضرورت سے زائد مالداری بھی بداخلاقی کا سبب بن جاتی ہے لہٰذا بندے کو چاہئے کہ جتنا دنیا میں رہنا ہے اتنا دنیا کیلئے کمائے اور جتنا آخرت میں رہنا ہے اتنا آخرت کی تیاری کرے، اعمال صالحہ بجالائے، رضائے الٰہی والے کام کرے۔
(۱۰) بلاوجہ غصہ چھوڑ دیجئے: بلاوجہ غصہ بہت ساری برائیوں کی جڑ اور کئی خامیوں کی بنیاد ہے، جب بندہ بلاوجہ غصہ کرتا ہے تو بداخلاقی کا شکار ہو جاتا ہے، بلاوجہ غصے کو چھوڑ دینا ہی اچھے اخلاق کی علامت ہے۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن مبارک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے عرض کی گئی کہ ’’ایک جملے میں بتائیے کہ اچھے اخلاق کیا ہیں؟‘‘ ارشاد فرمایا : ’’(بلاوجہ) غصے کو چھوڑ دینا‘‘۔ 

تازہ ترین خبریں