07:56 am
میثاق معیشت کیوں ضروری ہے؟

میثاق معیشت کیوں ضروری ہے؟

07:56 am

وطن عزیز جس مشکل دور سے گذررہاہے وہ کسی سے ڈھکاچھپانہیں ہے اہل سیاست اور اہل ریاست کاموضوع فی الحال یہی عنوان بناہواہے۔ گذشتہ دنوں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف نے میثاق معیشت تجویز کیاانہوں نے حکومت کوبجٹ سے متعلق مفاہمت کی پیشکش بھی کی تھی۔ اس پیشکش پر بڑی لے دے ہورہی ہے لیکن حکومت کی طرف سے ایک اچھی خبر یہ آرہی ہے کہ وزیراعظم عمران خان حزب اختلاف کے ساتھ مل کر میثاق معیشت کیلئے تیار ہوگئے ہیں۔ ملک کومعاشی بحران سے نکالنے کے لئے اعلیٰ سطح کی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے گی جس میں تمام  سیاسی جماعتوں کے نمائندے شامل کئے جائیں گے وزیراعظم کافیصلہ ملک کے لئے خوش آئندرہے گا ملکی معیشت کو سیاست سے بالاتر رکھنے میں ہی ملک کی بہتری ہے۔ اس وقت ملک وقوم جس معاشی بحران کاشکار ہے‘ اس سے نکلنے کیلے ہر محب وطن کواپنی پرخلوص کوشش کرنی چاہیے۔ 
 
حزب اختلاف کے ساتھ مل کر جومعاشی اقتصادی منصوبہ بندی کی جائے گی اس سے امید ہے کہ ملک کے کاروباری حالات ومعاملات درست ہوسکیں گے۔ اس طرح جہاں ناصرف ٹیکس اہداف حاصل ہوسکیںگے وہیں اندرونی بیرونی سرمایہ کاری کی بھی حوصلہ افزائی ہوسکے گی۔ یو ں بے روزگاری غربت کے خاتمے میں کسی حدتک ہی سہی مدد مل سکے گی۔
میاں شہباز شریف کی مجوزہ تجویز سے  آصف علی  زرداری نے بھی اتفاق کیاہے ۔اگر جماعتی سیاست سے ہٹ کرملک کے عظیم مفادات کو پیش  نظر رکھتے ہوئے  معاشی استحکام کے لئے اتفاق کرلیاجائے تو ملک کودرپیش مشکل حالات سے نکالاجاسکتاہے۔ اس کے لئے یہ ضروری ہے کہ تمام سیاسی مصلحتوں کوپس پشت ڈال کرایسی مضبوط و مستحکم منصوبہ بندی کی جائے کہ جس پرتمام جماعتیں متفق ہوں۔ اب دیکھنا اور سمجھنایہ ہے کہ کیا حزب اختلاف کی جما عتیں کسی ایک نکتہ پر متفق ہوتی ہیں کہ نہیں۔ دوسری طرف خود حکومت ان مشکل اقتصادی معاملات سے نکلنے کیلئے کس قدر سنجیدہ ہے کیونکہ گذشتہ چند مہینوں کی حکمرانی میں عوام کواپنی منفی سوچ وعمل سے جن مشکل ترین حالات سے دوچار کردیاہے اورباربار صبر وبرداشت کی تلقین کے ساتھ جلداچھے دنوں کی نوید سنائی جارہی ہے جس کے آثار ماہرین معیشت کودوردور نظر نہیں آرہے بلکہ مشکل ترین دور اور مفلسی قحط سالی کی خبریں سنائی دے رہی ہیں۔  غریب غریب تر ہوچکاہے۔ اس کے پاس زندگی بسر کرنے کاکوئی رستہ نہیں بچ رہا۔ دووقت کی روٹی توکیا ایک وقت کی روٹی ملنا مشکل ہورہی ہے۔ کچھ ناقدین کے مطابق تو لوگوں کو زندگی گزارنامشکل کردیا گیاہے تاکہ عوام چاہے خاص ہویاعام سب کے سب اپنے اپنے مسائل اس طرح الجھ کررہ جائیں کہ کسی کو کسی طرف دھیان دینے کے قابل ہی ناچھوڑا جائے۔ یوں قرض خواہوں کی شرائط جومانی جاچکی ہیں پرعمل درآمد میں کوئی دشواری ناہو لیکن موجودہ صورت حال کا ادراک کرتے ہوئے ہی شاید قائد حزب اختلاف نے میثاق معیشت کی پیش کش کی ہو۔ موجودہ صورت حا ل میں ایسا محسوس ہورہا ہے کہ حکومت بندگلی میں پھنس گی ہے جس سے نکلنا مشکل معلوم ہورہاہے ۔
 حزب اختلاف کی تقریباً تمام سیاسی جماعتیں اس پر متفق ہیں کہ حکومت گرانے کی کسی کوضروت نہیں‘ صرف تماشا دیکھنا چاہیے۔ حکومت تو حکمرانوں کی نااہلی ناتجربہ کاری سے‘چند مہینوں میں خود ہی گرجائے گی  یا گھرچلی جائے گی کیونکہ خدشہ اس کابھی محسوس کیا جارہاہے کہ کہیں سیاسی زورآوری کے نتیجہ میں سب کچھ ہاتھ سے نا نکل جائے اور خلائی مخلوق ناتشریف آور ہوجائے ۔لاکھ آئین اسکی ضمانت دے رہاہے کہ اب ایساہونا مشکل ہے لیکن جب آئین کومعطل کردیاجائے توپھر سب کچھ برداشت کرناپڑے گا ورنہ ساری کے چکرمیں آدھی ادھوری بھی ہاتھوں سے نکل سکتی ہے ۔ شاید یہی خوف حزب اختلاف کی جماعتوں کو روکے ہوئے ہے۔ صرف زبانی کلامی جنگ لڑی جارہی ہے ایک کہاوت ہے۔ برف خانے کے چمار کی مانند اب کے مارے توجانوں‘کارویااپنائے ہوئے ہیں ۔
نوکر شاہی میں اب بھی اکثریت میاں نواز شریف کے وفادار اور پروردہ افرادکی  موجود ہے۔ گذشتہ دنوں اسلام آباد کے ایک بڑے اہم عہدے سے فارغ شدہ افسر سے ملاقات ہوئی تو ان سے معلوم ہوا کہ میاں صاحب جب بھی کسی اہم عہدے پرکسی افسر کوتعینات کرتے تھے تواس کواپنی وفاداری کاپابند کرتے تھے۔ کچھ جبراً اور کچھ خوشی سے عہدے کی ترقی کے لئے تیار ہوجاتے تھے اور جو نہیں مانتے تھے انہیں گھر بٹھا دیا جاتاتھا۔ اب بھی کچھ لوگ اپنی وفا نبھا رہے ہیں۔ حکمرانوں کوان کاماتحت عملہ ہی راہ سمجھتا سیکرٹری اپنے وزیر صاحب کو بتاتا سمجھاتااورچلاتاہے ۔وزیرعام طور پر امور حکمرانی سے اکثر ناواقف ہوتے ہیں۔ اسے ان کاعملہ جوبتاتا ہے یاکرتاکراتا ہے‘ وہی وزیر صاحب کاعمل قرار پاتا ہے۔ پوچھنے پرکہا سب ایسے نہیں ہوتے بس وہی ہوتے ہیں جن کے مفادات متاثر ہوئے ہیں۔ موجودہ سیاسی اور معاشی صورت حال کے بارے میں دریافت کرنے پربولے یہ کسی سازش کانتیجہ نہیں ہے بلکہ ناتجربہ کاری اور ضرورت سے زیادہ پریقین ہونے کی وجہ سے ہورہا ہے چونکہ موجودہ کابینہ میں ایک سے بڑھ کے ایک تیس مار خان تجربہ یافتہ وزیر باتدبیر موجود ہے۔ نوکرشاہی نے انہیں کھمبے پرچڑھادیاہے۔ انہیں اس لئے اپنی اونچائی سے ہرچیز چھوٹی اور غیر اہم دکھائی دیتی ہے۔ کھیلنے والے کھیل رہے ہے حکمران دلدد ل میں پھنستے جارہے ہیں۔ پوچھنے پر کہ انہیں لانے والے بٹھانے والے کیاصرف تماشا دیکھ رہے ہیں؟ بولے ان کی حدود ہیں وہ اس سے کبھی کبھی ہی مجبوری میں باہر آتے ہیں۔ انہوں نے جوکرناتھاوہ کرچکے ۔ان کاکام انگلی پکڑ کرچلانانہیں ہے ۔اگر حکمران بتائے ہو سکھائے ہوئے راستہ پر چلنے میں ناکام ہوگئے تووہ انہیں ڈھکے چھپے انداز میں مشورہ ہی دے سکتے ہیں۔ فی الحال گردن سے نہیں پکڑسکتے۔ ایساوقت آیاتوسابقہ حکمران کی طرح رخصت کرنے میں دیرنہیں لگائیں گئے موجودہ حالات ابھی بے قابونہیں ہوئے ‘ابھی تو  معیشت کامسئلہ ہے وہ اگر حکمرانوں کو قائد حزب اختلاف جس نے کسی کے اشارے پرہی میثاق معیشت کی پیشکش کی ہے‘ توحکومت آسانی سے اس معاشی  بحران سے نکل جائے گی ورنہ مجبوراً گھر جاناہوگا۔ اتناکہہ کرانھیں کہیں جانایاد آگیا ۔ ہم بھی اٹھ آئے۔ اللہ وطن کی حفاظت کرے    ۔

تازہ ترین خبریں