07:58 am
دوسری شادی‘ سلیکٹڈ مافیا اور شمشان گھاٹ

دوسری شادی‘ سلیکٹڈ مافیا اور شمشان گھاٹ

07:58 am

ٹی وی اسٹوڈیوز میں بیٹھ کر  سلیکٹڈ ‘ اینکرنیاں ‘ اینکرز‘ ٹی وی مارکہ اسکالرز اور ’’سلیکٹڈ‘‘ سیاست دان جب یہ شور مچاتے ہیں کہ پاکستان کا آئین اسلامی ہے‘ یہاں کوئی غیر اسلامی قانون بن ہی نہیں سکتا‘ اس ’’سلیکٹڈ‘‘ مافیا کی یہ باتیں سن کر ہنسی چھوٹ جاتی ہے‘ پچھلے  غیر شرعی فیصلوں کو تو ایک طرف رکھیئے ابھی دو دن پہلے کی بات ہے یعنی پیر  24جون کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے دوسری شادی کے حوالے سے ایک کیس کا تحریری فیصلہ جاری   کیا ہے۔
 
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ’’مسلم فیملی لاء آرڈیننس کے تحت چیئرمین مصالحتی کونسل کو دوسری شادی کیلئے اجازت کی درخواست دی جائے گی‘ پہلی بیوی کی اجازت کے باوجود مصالحتی کونسل انکار کر دے تو دوسری شادی پر ایک سال تک سزا ہوسکتی ہے‘ اسلام  آباد ہائیکورٹ کے اس فیصلے کی آمد کے بعد اسلامی نظریاتی کونسل نے کہا کہ دوسری  شادی کے لئے مصالحتی کونسل یا دوسری بیوی کی اجازت لازمی نہیں۔
اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر قبلہ ایاز‘ کونسل کے اراکین شیخ الحدیث مولانا محمد حنیف جالندھری‘ علامہ عارف حسین واحدی نے دوسری شادی کے حوالے سے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کو 1962ء کے قانون کے مطابق ‘ مگراسلام سے متصادم قرار دیتے ہوئے کہا کہ دوسری شادی کے حوالے سے اسلامی نظریاتی کونسل2014ء میں سفارش دے چکی ہے کہ جس میں دوسری بیوی یا مصالحتی کونسل کی کوئی شرط نہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارے تمام قوانین کو اسلام کے تابع ہونا چاہیے‘ دوسری شادی کے معاملے پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کو ملک کے آئینی ادارے اسلامی نظریاتی کونسل کہ جس میں تمام مسالک کی نمائندگی موجود ہے...کے اکابرین نے غیر شرعی اور غیر اسلامی قرار دے کر یہ بات ثابت کر دی ہے کہ اگرچہ ہمارا آئین اسلامی ہے مگر اس کے باوجود یہاں غیر اسلامی‘ غیر شرعی فیصلے ہوتے رہے ہیں اور اب بھی ہو رہے ہیں۔
اب ‘ہے کسی سلیکٹڈ ‘ اینکرنی‘ اینکر یا کالم نگار میں جرات کہ وہ اسلام آباد  ہائیکورٹ کے اس غیر اسلامی فیصلے کے خلاف پروگرام کر سکے یا کالم لکھ سکے؟ اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر قبلہ ایاز‘ مولانا حنیف جالندھری اور علامہ عارف واحدی کو چاہیے کہ  وہ وزیراعظم‘ آرمی چیف‘ صدر مملکت اور چیف جسٹس کے نام ایک خط لکھیں کہ اگر حکومت نے اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر عمل درآمد ہی نہیں کرنا تو اس ادارے کو قائم رکھنے کا کیا فائدہ؟
کوئی مانے یا نہ مانے! لیکن آسیہ ملعونہ کی بریت کے فیصلے سے شروع ہونے والا تبدیلی کا سفر دوسری شادی کے غیر شرعی فیصلے تک آن پہنچا ہے‘ نجانے پاکستان میں بسنے والے 21کروڑ مذہب پسند عوام ایسے فیصلوں کو این جی اوز مارکہ مغربی ایجنڈے کے قریب تر کیوں سمجھ رہے ہیں؟ اسلامی نظریاتی کونسل کا یہ مطالبہ بالکل درست ہے کہ اگر 1962ء کا کوئی قانون یا کسی قانون کی کوئی شق شریعت مطہرہ سے ٹکرا رہی ہے تو اس قانون اور شق کو اسلام کے تابع کرنے کی ضرورت ہے ناکہ غیر اسلامی قوانین کے مطابق فیصلے سنانے شروع کر دئیے جائیں۔
 چلتے چلتے‘ اس خبر کو بھی پڑھ لیجئے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی دارالحکومت میں ہندو ٹیمپل اور شمشان گھاٹ کی تعمیر کی درخواست پر سیکرٹری مذہبی امور اور چیئرمین سی ڈی اے  سے دو ہفتوں میں جواب طلب کرلیا ہے...مسٹر اشوک چند کی طرف سے دائر درخواست کی سماعت عدالت عالیہ اسلام آباد کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کی‘ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ دو سال کے عرصہ میں تین ہندو افراد کو مجبوری میں دفنانا پڑا‘ کیونکہ اسلام آباد میں شمشان گھاٹ نہیں ہے‘ چونکہ یہ معاملہ ابھی تک عدالت میں زیر سماعت ہے اس لئے زیر سماعت درخواست پر تو  میں کوئی تبصرہ  نہیں کرونگالیکن بغیر لگی لپٹی کے یہ بتانا میری ذمہ داری ہے کہ اسلا آباد تو پہلے  سے ہی 22کروڑ عوام کی آرزوں‘ تمنائوں اور جائز خواہشات کے لئے شمشان گھاٹ بنا ہوا ہے‘ اس کے اندر قائم بڑی‘ بڑی سرکاری عمارتوں کے اندر بیٹھنے والوں کے کانوں میں غریب عوام کی آوازیں تو درکنار چیخیں تک پہنچنے سے قاصر ہیں۔
سارے ملک کی صفائی ستھرائی اور دھلائی ایک طرف  اور تنہا اسلام آباد دوسری طرف‘ کراچی سے دارالخلافہ اسلام آباد میں منتقل کیا گیا تھا...آج کوئی کراچی کی حالت زار دیکھے تو اس شہر کے ’’حسن و جمال‘‘ اور وہاں  ہوتی ہوئی ’’ترقی ‘‘ دیکھ کر اس کی چیخیں نکل جائیں گی۔
پاکستان کے سابق دارالحکومت کراچی کے ایک معزز رہائشی سے میں نے پوچھا کہ یہ آپ کے گھر  کے پچھواڑے میں کوڑے کرکٹ کا جو ڈھیر ہے اس سے اٹھنے والے تعفن اور بدبو سے آپ کو تکلیف تو نہیں ہوتی؟ اس نے سرد نگاہوں سے دیکھتے ہوئے مجھے بتایا کہ صاحب! اللہ جھوٹ نہ بلوائے‘ پچھلے 35سالوں سے ہم اس گندگی کے ڈھیر کو دیکھ رہے ہیں‘ کبھی 6,8 ماہ بعد اس میں کچھ کمی بھی واقع ہو جاتی ہے‘ لیکن چند دنوں بعد یہ پہلے سے ڈبل ہو جاتا ہے... اب تو گندگی کے اس ڈھیر سے ہمیں ’’محبت‘‘ سی ہوگئی ہے‘ہمارے ہاں جو کبھی‘ کبھی پینے کا سرکاری پانی آتا ہے اس میں بھی سیوریج کا پانی مکس ہوتا ہے‘ ہم تو صبرو شکر کے ساتھ وہ پانی بھی آب حیات سمجھ کے پی جاتے ہیں‘ گندگی کے اس ڈھیر سے اٹھنے والا تعفن آپ کے نزدیک ’’بدبو‘‘ ہوگا‘ ہمارے نزدیک تو ’’خوشبو‘‘ ہے‘ 35سال ہوگئے رات‘ دن اسے سونگھتے ہوئے‘ عود‘ مشک و عنبر‘ کستوری یہ چونچلے ہیں صاحب چونچلے... اس کی سرد نگاہوں اور سرد لہجے کے پیچھے چھپے ہوئے کرب کو محسوس کرکے میری آنکھیں بھر آئیں‘ میں نے بھرائی ہوئی آواز میں اس سے آخری سوال کیا‘ کیا کبھی اسلام آباد بھی گئے ہو؟ کون سا اسلام آباد وہ شمشان گھاٹ؟ اس کا جواب تھا۔

تازہ ترین خبریں