08:00 am
تہران میں چند روز

تہران میں چند روز

08:00 am

تہران یونیورسٹی کے زیر اہتمام 26 جون کو پر امن معاشرہ کے حوالہ سے اسلامی تعلیمات و اقدار کی حکمت عملی کے عنوان سے منعقد ہونے والے بین الاقوامی  موتمر میں شرکت کی دعوت ملی تو میں نے اس سلسلہ میں ایران میں اہل سنت کے مرکزی ادارہ دارالعلوم زاھدان کے بزرگوں کے ساتھ مشورہ کو ضروری سمجھتے ہوئے ان سے رابطہ کیا تو انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ میں اس میں ضرور شریک ہوں اور بتایا کہ وہ بھی اس اجتماع میں شریک ہو رہے ہیں، چنانچہ میں نے دعوت قبول کر لی۔  اگرچہ جامعہ نصر العلوم گوجرانوالہ میں نئے تعلیمی سال کے آغاز کے موقع پر یہ سفر میرے معمولات سے ہٹ کر ہے مگر زاھدان کے بزرگوں کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے حاضری کا پروگرام بنا لیا اور 24 جون پیر کو صبح ماھان ایئر کے ذریعے  تہران پہنچ گیا۔ 
 
تہران میں اہل سنت کے سرکردہ علما کرام مولانا عبید اللہ موسیٰ زادہ، مولانا شبیر احمد صمدانی، مولانا محمد براھوی، ڈاکٹر بلوچ کاری اور مولانا محمد یحییٰ حقانی خیرمقدم کے لیے ایئرپورٹ پر موجود تھے۔ تہران یونیورسٹی کی طرف سے مہمانوں کے قیام کا اہتمام ایک ہوٹل میں کیا گیا ہے وہاں پہنچ کر کچھ آرام کیا اور پھر مولانا محمد شاہنوازی کے ہمراہ ڈاکٹر بلوچ کاری محترم کی طرف سے دیے گئے ظہرانہ میں حاضری دی جس میں ایران کے دو بزرگ اور اکابر علما کرام حضرت مولانا عبد الحمید اور مولانا محمد حسین گورگیج کی زیارت سے شادکام ہوا۔ 
مولانا عبد الحمید ایران کے علما اہل سنت کے سرخیل اور دارالعلوم زاھدان کے سربراہ ہیں، انہیں ایران کے سنی حلقوں میں شیخ الاسلام کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے اور ملک کے مقتدر اور با اثر علما میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ دونوں بزرگوں نے میری حاضری پر خوشی کا اظہار کیا اور دعائوں سے نوازا۔ 
مذکورہ عالمی موتمر جامعہ تہران کے کلی الشریع والمعارف الاسلامی کے زیر اہتمام منعقد ہو رہا ہے جس میں شرکت کے لیے مختلف ممالک سے سرکردہ علما کرام تہران پہنچ چکے ہیں اور پاکستان سے بھی بہت سے حضرات شریک ہو رہے ہیں جن کی تفصیل اگلے کالم میں ہی عرض کر سکوں گا۔ 
میں اس سے قبل جنوری 1987 میں ایران آچکا ہوں۔ مولانا منظور احمد چنیوٹی اور حافظ حسین احمد سمیت ایک بڑے وفد نے تہران، قم، زاھدان، مشہد اور دیگر مقامات کا گیارہ روزہ دورہ کر کے انقلاب ایران کا جائزہ لیا تھا۔ میں بھی اس وفد میں شامل تھا اور اپنے مشاہدات و تاثرات کا ایک تفصیلی رپورٹ میں تذکرہ کیا تھا جو ہفت روزہ ترجمان اسلام لاہور کے 6 فروری 1987 کے شمارہ میں شائع ہوئی تھی۔ 
موتمر سے ایک روز قبل ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے مختلف مہمانوں سے انٹرویو کیا‘ میں بھی ان میں شامل تھا، اس میں سے چند سوالات اور ان کے جوابات کا تذکرہ یہاں کیا جا رہا ہے۔ 
مذکورہ موتمر کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے عرض کیا کہ ایسے اجتماعات کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ مختلف ممالک اور مختلف مکاتب فکر کے علما ء کرام اور اہل دانش کو باہم مل بیٹھنے اور ضروری مسائل پر آپس میں تبادلہ خیالات کا موقع مل جاتا ہے۔ اس وقت پوری دنیا بالخصوص عالم اسلام میں جس فکری اور تہذیبی انتشار بلکہ خلفشار کا دائرہ وسیع ہوتا جا رہا ہے اس کے ماحول میں اس قسم کے مشترکہ اجتماعات کو میں ضروری اور مفید سمجھتا ہوں اور اسی جذبہ کے ساتھ اس میں شریک ہوا ہوں، ایسے علمی و فکری اجتماعات دنیائے اسلام کے مختلف حصوں میں ہوتے رہنے چاہئیں۔
ایک سوال یہ تھا کہ اس وقت عالم اسلام میں جو باہمی تنازعات اور کشمکش کی صورتحال دکھائی دے رہی ہے اس کا کیا حل ہے؟ میں نے گزارش کی کہ مسلم اقوام و ممالک کو اس وقت باہمی ماحول میں جن تنازعات اور کشمکش کا سامنا ہے ان کے حوالہ سے تین امور کا اہتمام میرے خیال میں انتہائی ضروری ہے۔ ایک یہ کہ اس امر کی پوری کوشش کی جائے کہ مسلم امہ کے کسی باہمی تنازعہ سے عالمی استعماری قوتوں کو اپنے مقاصد کو آگے بڑھانے کا موقع نہ ملے اور ایسے تنازعات کو عالمی قوتوں کی دخل اندازی سے ہر ممکن طور پر بچانے کی کوشش کی جائے۔ دوسری بات یہ کہ ایک دوسرے کے وجود، سالمیت، وقار اور مفادات کو تسلیم کرتے ہوئے ان کا احترام کیا جائے، ایک دوسرے کی حدود میں مداخلت سے گریز کیا جائے اور باہمی تنازعات کو مذاکرات اور افہام و تفہیم کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جائے جبکہ تیسری گزارش یہ ہے کہ مسلم ممالک کے مشترکہ فورم اسلامی تعاون تنظیم(او آئی سی)کو ان معاملات میں فعال کردار ادا کرنا چاہیے بالخصوص مشرق وسطیٰ میں سعودی عرب اور ایران کے مابین جو صورتحال دکھائی دے رہی ہے اس میں او آئی سی کا متحرک ہونا بہت ضروری ہے اور اگر خدانخواستہ ایسا نہ ہو سکے تو پاکستان، ترکی اور ملائیشیا جیسے ممالک کو باہمی مشاورت کے ساتھ آگے بڑھ کر کشیدگی کو کم کرنے اور مسائل کو حل کرانے کے راستے نکالنے چاہئیں۔ 
فرقہ وارانہ مسائل میں کشیدگی کے بارے میں ایک سوال پر عرض کیا کہ ہر قوم، طبقہ اور کمیونٹی میں شدت پسند بھی ہوتے ہیں اور اعتدال پسند بھی ہوتے ہیں۔ اگر اعتدال و توازن کی قوتیں اپنا کردار ادا کرتی رہیں اور پیش آمدہ مسائل و مشکلات کو مطلوبہ توجہ ملتی رہے تو صورتحال کو قابو میں رکھا جا سکتا ہے، لیکن اگر مسائل و مشکلات کے بروقت حل کی کوشش نہ کی جائے تو پھر شدت پسندوں کو آگے آنے کا موقع ملتا ہے جس سے بگاڑ پیدا ہوتا ہے، وغیر ذلک۔
ایران آنے سے پہلے کے طے شدہ پروگرام کے مطابق مجھے جمعرات کو پاکستان واپس پہنچنا تھا، لیکن جمعرات کو دارالعلوم زاھدان کے نئے تعلیمی سال کے آغاز کی تقریب ہے جس میں میری شرکت کے لیے حضرت مولانا عبد الحمید کا اصرار ہے اس لیے ہو سکتا ہے ایک آدھ دن واپسی میں تاخیر ہو جائے، اس کے بعد قارئین کی خدمت میں موتمر اور سفر کے حوالہ سے مزید معروضات پیش کر سکوں گا، ان شا اللہ تعالیٰ۔

تازہ ترین خبریں