08:00 am
حکومت و اپوزیشن آمنے سامنے، ڈالر162 روپے 

حکومت و اپوزیشن آمنے سامنے، ڈالر162 روپے 

08:00 am

٭وزیراعظم کا انکشاف: عرب سربراہ کا نواز شریف کی مدد سے انکارO افغانستان کے صدر اشرف غنی آج اسلام آباد آ رہے ہیںO مولانا فضل الرحمان کی آل پارٹیز کانفرنس ن لیگ کے تین سربراہ شریکO لاہور۔ غیر ملکی ادارے کے گوداموں پر چھاپے، آٹھ ہزار کلو زائد المیعاد کافی، چائے اور چاکلیٹ! دو گودام، تین بڑی دکانیں سربمہرO بلاول زرداری اور فواد چودھری گلے مل گئےO نندی پور بجلی گھر 27 ارب روپے کا نقصان، فرد جرم کا فیصلہO خاتون کلرک، ایک کروڑ 39 لاکھ روپے جرمانہO لاہور، وکیلوں کا ٹریفک وارڈن پر تشدد، وردی پھاڑ دی، مقدمہ Oڈالر 162 روپے کا ہو گیا، خدا تعالیٰ رحم کرے!
 
٭وزیراعظم عمران خاں نے انکشاف کیا ہے کہ نوازشریف کے بیٹوں نے نوازشریف کی رہائی کے لئے ایک عرب ملک کے سربراہ سے رابطہ قائم کیا مگر اس سربراہ نے یہ کہہ کر معذرت کر دی کہ یہ پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے، اس میں کچھ نہیں کر سکتے۔ گزشتہ کالم میں خبر موجود ہے کہ سعودی عرب اور عرب امارات نے ایسی مداخلت سے گریز کیا ہے۔ انسانی تاریخ کا المیہ کہ باپ جیل میں ہے، بیٹی روتی ہوئی پریشان پھر رہی ہے،ضعیف ماں کی حالت پر رحم آ رہا ہے اور جواں دولت مند بیٹے لندن میں عیش و طرب کی زندگی گزار رہے ہیں۔ کوئی بیان! کوئی احتجاجی مظاہرہ؟ بھٹو کو جیل میں ڈالا گیا تو دونوں بیٹوں، شاہ نواز اور مرتضیٰ نے دنیا بھر کے ممالک کے دورے کر کے ان کی مدد مانگی اور پرتشدد کارروائیاں بھی کیں اور نوازشریف کے اربوں میں کھیلنے والے جوان بیٹے؟! باپ کو مصیبت سے نجات دلانے کے لئے اپنی اربوں کھربوں کی جائیدادیں بیچ کر حکومت کا مطالبہ زر پورا کر دیتے اور بوڑھے بیمار باپ کو آزاد کرا لیتے! اس موضوع پر کیا کہا جائے! عبرت! عبرت!
٭مولانا فضل الرحمن کی کل پارٹیز کانفرنس! جماعت اسلامی کا شرکت سے انکار،بلوچستان نیشنل پارٹی وزیراعظم سے ملنے چلی گئی، مولانا کو ہمدردی کا خط بھیج دیا بلکہ مطالبہ بھیج دیا کہ کانفرنس میں تو نہیں آئیں گے مگر ہمارے مطالبات کی حمائت کی جائے! ایک مشہور فلمی مکالمہ یاد آ گیا ہے کہ ’’…تم مجھے زندگی سے زیادہ عزیز ہو، تم پرجاں نثار کرتا ہوں، ہر وقت تمہارے بارے میں سوچتا ہوں مگر شادی وہاں کروں گا، جہاں میری ماں کہے گی…!‘‘ مولانا فضل الرحمان والی کانفرنس کا اب تک اعلامیہ بھی آ چکا ہو گا۔ بتایا گیا ہے کہ ضیافت کا بہت اعلیٰ انتظام تھا۔ مجھے ذاتی تجربہ ہے کہ جے یو آئی کی ضیافتوں میں حلوہ ضرور ہوتا ہے۔ مولانا کی کانفرنس کا ایک بڑا مقصد بجٹ کی منظوری کو روکنا ہے۔ مگر انہو ںنے حکومت کے لئے بجٹ کی منظوری آسان کر دی ہے۔ کانفرنس ایسے وقت پر رکھ دی جب بجٹ کی شق وار منظوری کا مرحلہ شروع ہو چکا ہے۔ ایوان کی ساری اپوزیشن مولانا کی کانفرنس میں تقریریں کر رہی ہوں گی تو حکومت کتنی آسانی کے ساتھ اپنا کام مکمل کر چکی ہو گی!
٭افغانستان کا توسیع شدہ صدر اشرف غنی آج آخری بار اسلام آباد میں الوداعی ملاقات کے لئے آ رہا ہے۔ اس کی صدارتی مدت ختم ہو چکی ہے۔ امریکہ نے اسے اکتوبر تک چند ماہ کی توسیع دے رکھی ہے۔ افغانستان میں نئے صدارتی انتخابات بھی طالبان کی کارروائیوں کے باعث ملتوی کئے گئے ہیں، ممکن ہے مزید ملتوی ہو جائیں اور اشرف غنی کو صدارتی گائون پہننے کے لئے چند ماہ اور مل جائیں۔ صدارتی انتخاب کے لئے اب تک 16 امیدوار سامنے آ چکے ہیں ان میں حکمت یار بھی شامل ہیں۔ ویسے صدر وہی ہو گا جسے امریکہ اور بھارت کا سایہ حاصل ہو گا۔ چلیں، اشرف غنی کو ایک بار پھر پاکستان کے لذیذ کھانے، خاص طور پر سوات کی ٹرائوٹ مچھلی کھانے کا موقع مل گیا!
٭اسمبلی میں عرصے سے بچھڑے ہوئے بلاول اور فواد چودھری ایک دوسرے سے گلے مل گئے۔ فواد چودھری کی سیاست پیپلزپارٹی سے ہی شروع ہوئی تھی۔ تایا چودھری الطاف حسین دوبار پیپلزپارٹی کی طرف سے پنجاب کے گورنر رہے۔ ان دنوں فواد نوجوان تھے، پیپلزپارٹی میں بہت سرگرم تھے۔ وزیراعظم بے نظیر بھٹو گورنر ہائوس آتیں تو فواد چودھری مسلسل حاضر رہتے۔ ان کی حکومت نہ رہی تو فواد (ق) لیگ کے راستے سے ہو کر تحریک انصاف میں چلے آئے۔ اطلاعات کی وزارت مل گئی، ہرروز ٹی وی پر رونمائی، صحافیوں سے ہر روز جھگڑے، حکومت کارکردگی سے ناخوش! وزارت تبدیل ہو گئی، ٹھاٹ باٹ ختم، سائنس پلے پڑ گئی۔ باتوں میں تلخی آنے لگی اور…اور پیپلزپارٹی سے واپسی کے اشارے آنے لگے! خبریں چھپ گئیں اور پھراسمبلی میں بلاول نے آواز دے دی کہ ’’کہاں بھاگے جا رہے ہیں؟‘‘ مڑ کر دیکھا پرانا خاندانی لہجہ کام کر گیا، اور پھر دونوں بھرپور جوش کے ساتھ گلے مل گئے۔ قارئین باقی اندازے خود لگا لیں!
٭ایک خبر کی وضاحت لاہور کی سیشن عدالت نے دو بھائیوں نوازشریف اور شہباز شریف کو قتل کے ایک مقدمہ میں بری کر دیا۔ استغاثہ الزامات ثابت نہیں کر سکا۔ وضاحت ضروری ہے کہ ان دونوں افراد کا شریف خاندان سے کوئی تعلق نہیں۔ اِن کے والد نے ان کے نام شریف خاندان کی محبت میں نوازشریف اور شہباز شریف کے ناموں پررکھ دیئے تھے۔
٭پشاور میں ایک خاتون پنشن فنڈ اکائونٹس کے شعبے میں کلرک بھرتی ہوئی۔ دو سال میں ایک کروڑ 39 لاکھ روپے کا گھپلا کیا، پکڑی گئی، 14 سال قید ایک کروڑ 39 لاکھ روپے کا جرمانہ ہوا۔ چار سال قید کے بعد سزا کے خلاف اپیل سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے پاس آئی۔ فاضل چیف جسٹس حیران رہ گئے کہ ایک خاتون اور اتنا بڑا فراڈ! انہوں نے باقی دس سال کی قید تو ختم کر دی مگر اور یہ کہتے ہوئے جرمانہ برقرار رکھا کہ ’’صرف دو سال میں اتنی بڑی واردات! یہ بی بی 20 سال رہ جاتی تو سارا ملک لوٹ کر لے جاتی!‘‘ عجیب عالم ہے کہ ملک میں پہلی خواتین لمبے ہاتھ مار رہی ہیں۔ یہ خاتون تو نچلے درجے کی تھی، پھر بھی کروڑ سے زیادہ کا چکر چلا گئی، اونچے درجے کی خواتین تو اربوں کے چکر میں ملوث پائی جا رہی ہیں۔ نام کیا لینا! نیب کا حوالہ کافی ہے۔ ہاں یہ کہ حکمران اور ان کے خاندان لوٹ مار پر آ جائیں تو نچلے ترین درجے کی کلرک خاتون کیسے پیچھے رہے گی؟
٭پولیس کے ہر تھانے میں ایک مال خانہ ہوتا ہے۔ اس میں پکڑا جانے والا غیر قانونی مال، اسلحہ، مسروقہ سامان، موٹر سائیکل، گاڑیاں اور دوسری مختلف چیزیں رکھی جاتی ہیں۔ اسے مال مقدمہ کہا جاتا ہے۔ یہ چیزیں عدالت میںپیش کی جاتی ہیں۔ لاہور کی صدر پولیس کے ایک ڈی ایس پی کو اس الزام میں معطل کیا گیا ہے کہ اس نے ساتھیوں کی مدد سے مال خانہ کا بیشتر مال بازار میں فروخت کر دیا کچھ گاڑیاں بھیج دیں باقی اپنے عزیز و اقارب کو چلانے کے لئے سپرد داری پر دے دیں۔ یہاں تک معاملہ چوری چکاری کا تھا، اگلی بات قابل توجہ ہے کہ یہ لوگ مال خانہ کے سامان کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقمیں اپنے ناموں کی بجائے مختلف لڑکیوں کے نام پر جمع کرا دیتے تھے اور بعد میں حساب کتاب کے لئے بنکوں کی رسیدیں سنبھال رکھتے تھے۔ یہ رسیدیں بھی پکڑی گئی ہیں! پولیس چور بن گئی!
٭ایک قاری نے کہا ہے کہ میں نے کچھ سیاسی مینڈکوں کا ذکر کیا ہے۔ مینڈکوں کی کتنی قسمیں پائی جاتی ہیں؟ جواب یہ ہے کہ دنیا بھر میں مینڈکوں کی 500 قسمیں ہیں۔ پاکستان میں 200 موجود ہیں۔ (سیاسی مینڈک الگ ہیں) یہ عجیب چیز ہے۔ پانی میں رہتا ہے مگر منہ سے پانی نہیں پیتا۔ اس کے جسم کے مساموں سے پانی اندر جاتا ہے۔ جسم پر بال اور پسلیاں نہیں ہوتیں مگر حیرت انگیز طور پر مینڈک کا دماغ، دل،جگر، پھیپھڑے، ریڑھ کی ہڈی کا نظام بالکل انسانی جسم جیسا ہوتا ہے۔ یہ کیڑے مکوڑے، مکھیاں کھاتا ہے۔ شکار پر حملہ نہیں کرتا، شکار اس کے پاس آتا ہے تو لمبی زبان کے ساتھ پکڑ کر سالم نگل جاتا ہے۔ مینڈک سبز، سرخ، نیلے، پیلے، نارنجی، بھورے ہر رنگ میں پایا جاتا ہے۔ محترم قارئین میں نے صرف اصلی مینڈکوں کی بات کی ہے۔

تازہ ترین خبریں