07:35 am
لوگ ٹیکس کیوں نہیں دیتے؟

لوگ ٹیکس کیوں نہیں دیتے؟

07:35 am

یہ بات بار بار کہی جاتی ہے کہ پاکستان کے لوگ ٹیکس نہیں دیتے۔ ملک کی مجموعی پیداوار کا صرف گیارہ فیصد بطور ٹیکس جمع ہوتا ہے اور یہ ریٹ  سب سے کم ہے۔ عمران  خان بھی اپنی ہر تقریر میں عوام سے اپیل کرتے نظر آتے ہیں کہ عوام کو ٹیکس دینا چاہیے ورنہ ملک کیسے چلے گا۔ آج کل تو حکومت کا یہ حال ہے کہ بجٹ کے مطابق اگلے سال5500 ارب کی ٹیکس آمدن کی توقع ہے جبکہ 2982 ارب صرف قرضہ جات کے سود کے طور پر ادا کرنے ہیں۔گویا حکومتی اخراجات بہت بڑھ گئے ہیں اور حکومتی آمدن ان اخراجات کو پورا نہیں کرسکتی  چنانچہ مزید قرضے لئے جائیں گے اور نتیجتاً اگلے سالوں میں حالات مزید ابتر ہو جائیں گے۔
 
عمران خان نے خود اعتراف کیا ہے کہ عوام اور حکومت کے درمیان بے اعتباری ہے ۔ عوام کو یہ اعتبار نہیں ہے کہ ان کے دیئے ہوئے ٹیکسز ان کی فلاح کیلئے خرچ کیے جائیں گے۔ جس دن عوام کو یہ نظر آگیا کہ ان کے ٹیکسز کی رقوم حکمرانوں کی عیش و عشرت اور سول سروس کی حرام خوری پر خرچ نہیں ہو رہی اس دن عوام اپنے حصے کا ٹیکس دینے میں تامل نہیں کریں گے۔
آج کی صورتحال یہ ہے کہ ایک اوسط گھرانے کو حکومت سے تقریباً کچھ بھی نہیں مل رہا۔ نہ ان کے بچوں کیلئے اچھے سرکاری سکول ہیں اور ان کے علاج کیلئے سرکاری ہسپتال ہیں۔ اگر وہ  سرکاری سکولوں یا ہسپتالوں میں چلے بھی جائیں تو قدم قدم پر ان سے رشوت طلب کی جاتی ہے۔ جان و مال کی حفاظت حکومت کی ذمہ داری ہے مگر چوریاں ڈاکے چھینا  جھپٹی کے واقعات روز کا معمول بن چکے ہیں۔ ایک عام آدمی پولیس کے پاس جاتے ہوئے گھبراتا ہے۔ پولیس  بغیر رشوت  لئے رپورٹ تک درج نہیں کرتی۔ عوام حکومت سے توقع رکھتے ہیں کہ انہیں پانی‘ بجلی‘ گیس کی بنیادی سہولتیں جائز قیمت پر مہیا ہوںگی مگر یہ بھی نہیں ہو پارہا۔ پانی ملتا نہیں۔ لوگوں کو ٹینکر خریدنے پڑتے ہیں یا پھر گھر میں ٹیوب ویل لگوانے پڑتے ہیں۔ پچھلے دو سالوں سے بجلی کی دستیابی بہتر ہوئی ہے مگر اب اس کی قیمت اتنی بڑھا دی گئی ہے کہ ایک اوسط گھرانہ پریشان ہوگیا ہے۔ یہی حال گیس اور پٹر ول ڈیزل کا ہے۔ اب عوام کا یہ سوال پوچھنا تو بنتا ہے کہ ہم کیوں ٹیکس دیں۔ ہمیں اس ٹیکس کے عوض ملتا کیا ہے؟
جو لوگ یورپ اور امریکہ کی مثالیں دیتے ہیں انہیں یہ بھی اچھی طرح پتہ ہے کہ وہاں کی حکومتیں اپنے عوام کے لئے کیا کرتی ہیں ان کے سرکاری سکولوں‘ ہسپتالوں اور پولیس سٹیشنوں کا کیا معیار ہے وہاں بیروزگار کو بھی الائونس ملتا ہے۔ اس لئے وہاں کے عوام ٹیکس ادا کرنے میں عار نہیں کرتے۔ ایک طبقہ فکر یہ بھی کہتا ہے کہ پہلے عوام اچھی طرح سے اپنا تمام جائز ٹیکس ادا کرنا شروع کر یں اس کے بعد انہیں حق ہوگا کہ وہ حکومت سے یہ سہولیات طلب کریں۔ گویا معاملہ مرغی اور انڈے والا ہے کہ پہلے کیا ہو۔
اب ایک نظر اس الزام پر بھی ہو جائے کہ پاکستانی عوام ٹیکس نہیں دیتے۔ ٹیکس دو قسموں کے ہوتے ہیں ایک ڈائریکٹ ٹیکسز جیسے انکم ٹیکس سے یا جائیداد کی ٹرانسفر فیس ہے یہ ٹیکس سیدھا اس شخص سے وصول کیا جاتا ہے جس پر یہ لاگو ہوتا ہے۔ دوسرے ٹیکس ان ڈائریکٹ ٹیکسز ہوتے ہیں جس کی ادائیگی تو کوئی کاروباری ادارہ کرتا ہے مگر اس کا بوجھ عوام پر پڑتا ہے۔ اس کی سادہ سی مثال سیلز ٹیکس ہے۔ ہر فیکٹری ہر ہول سیلر و پرچون والا تاجر یہ سیلز ٹیکس اپنی فروخت کی اشیاء کی قیمت میں لگاکر عوام سے وصول کرتا ہے۔ اب ہمارے بجٹ کے مطابق5500 ارب روپے میں سے دو تہائی حصہ ان ڈائریکٹ ٹیکسز کا ہے اور تقریباً ایک تہائی ڈ ائریکٹ ٹیکس کا ہے۔ جب حکومت  یہ رونا روتی ہے کہ عوام ٹیکس نہیں دیتے تو ان کا مطلب ہوتا ہے کہ پاکستانی عوام ڈائریکٹ ٹیکس یعنی انکم ٹیکس نہیں دیتے۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ تنخواہ  دار طبقے کو چھوڑ کر کوئی بھی اپنا جائز ٹیکس ادا نہیں کرتا۔ بڑے بڑے امیر لوگ جن کے پاس اربوں کی جائیدادیں ہیں وہ بہت تھوڑا سا انکم ٹیکس دیتے ہیں۔ اتفاق سے تنخواہ دار طبقہ ہی وہ طبقہ ہے جسے حکومت کوئی سہولت مہیا نہیں کرتی۔ بڑے بڑے لوگ تو اپنی د ولت اور طاقت کے سہارے ہر سرکاری ادارے سے وی آئی پی  کام کروالیتے ہیں مگر تھوڑی آمدن پر بھی ٹیکس دینے والا خجل خوار ہوتا رہتاہے۔
(جاری ہے)

تازہ ترین خبریں