07:36 am
مطالعہ شخصیات‘ علم نجوم کی روشنی میں

مطالعہ شخصیات‘ علم نجوم کی روشنی میں

07:36 am

چند اہم کرداروں کا شخصیت کے مطالعہ‘ ہمارے ’’متوقع ‘‘ معاملات و واقعات سے کچھ فہم دے سکتا ہے۔ جنرل راحیل شریف‘ تاریخ پیدائش16جون 1956ء شخصیت جمنائی ‘ جوزا‘ جب بطور آرمی چیف ان کی تین سالہ مدت تعیناتی ختم ہو رہی تھی تو وزیراعظم نواز شریف اور جنرل راحیل شریف کے مداحین میں ’’توتکار‘‘  ہو رہی تھی لاہور سے میرے روحانی دوست لاہور اور اسلام آباد کے ماہر علم نجوم جنرل راحیل شریف کے عہدے اور منصب کا مکمل  خاتمہ نہیں سمجھتے تھے۔ ان کا کہنا یوں اللہ تعالیٰ کے حکم سے پورا ہوا کہ جنرل راحیل شریف کو اسلامی عسکری اتحاد کے کمانڈر کے طور پر ریاض جانے کا موقعہ مل گیا اور نیا عہدہ بھی مل گیا تھا۔
 
جنرل راحیل شریف سے ذاتی اور گھریلو تعلق رکھنے والے کچھ اراکین اسمبلی موجود تھے ان میں سے ایک جو میرے شناسا ہیں ان کے گھر جا کر انہیں بار بار قائل کرتے تھے کہ نواز شریف سے جان چھڑائو اور کچھ نہیں کر سکتے تو پھر مارشل لاء لگائو تاکہ قوم اور ملک بچ جائے‘ ذاتی گھریلو محبت بھرے تعلق کے سبب ملتی اس ’’ترغیب‘‘ دیتی دعوت کو عملاً جنرل نے قبول نہ کی اور یوں جنرل راحیل شریف مارشل لاء لگائے بغیر عزت سے رخصت ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کے تدبر و فراست اور شجاعت کا انعام ریاض میں قیام کا دے دیا ہے۔ اب ان کی مدت تعیناتی میں یعنی ریاض میں موجود رہنے کے لئے مزید ایک سال کی توسیع ہوگئی ہے۔ جب جنرل راحیل شریف رخصت ہو رہے تھے ان کی ’’توسیع‘‘ کے حوالے سے بھی  خبریں آیا کرتی تھیں جیسی کہ آج کل جنرل قمر جاوید باجوہ کی توسیع کے حوالے سے کھسر پھسر ہوتی رہتی ہے جبکہ ایک بھارتی جریدے نے تو وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل باجوہ کے حوالے سے کھسر پھسر اور غلط بیانی پر مبنی باتیں شائع کی  ہوئی ہیں جن میں جنرل باجوہ کے ’’توسیع‘‘ کے لئے شدید منتظر رہنے کے ساتھ ساتھ اگر ایسا نہ ہو تو ریاض والے اسلامی عسکری اتحاد کی سربراہی حاصل کرنے کی کوشش کی ’’تشہیر‘‘ ہے جبکہ یہ بھی کہ جنرل باجوہ کے دبائو پر ہی کابینہ  میں فوری ردوبدل اور تبدیلی ہوئی تھی۔
حیرت اور تعجب ہے کہ جب جنرل راحیل شریف رخصت ہوگئے تو جنرل باجوہ کی آمد پر مریم نواز شریف نے مسرت و خوشی پر مبنی پیغام سوشل میڈیا پر آویزاں  کئے تھے جنرل راحیل کو توسیع ملنے کے سبب جنرل باجوہ کے اسلامی عسکری اتحاد میں جانے کی بات غلط ثابت ہوچکی ہے ویسے جنرل باجوہ ایران کے ساتھ معاملہ فہم اور عربوں کے دوست ہیں ۔ ان کی خوبیوں سے مستفید رہنا ہے ۔ 
اب ذرا جنرل قمر جاوید اور مریم نواز کی تاریخ پیدائش کی بنیاد پر شخصی اوصاف کو  دیکھ لیں جنرل باجوہ تاریخ پیدائش11نومبر 1960ء‘ وزیراعظم عمران خان درست تاریخ پیدائش5یا 4اکتوبر1952ء مریم نواز تایخ پیدائش 28اکتوبر 1973ء ماضی میں کچھ ماہرین نجوم عمران خان کے لئے وزیراعظم منصب کو ناممکن اور مشکل ترین کہتے رہے ہیں۔ میرے خیال میں ان کا محترمہ بشریٰ بی بی سے نکاح کرنا‘ ان کی منتشر مزاج شخصیت میں ٹھہرائو اور استحکام کا باعث بنا ہے۔ لہٰذا اس طلوع ہوتے استحکام اور ٹھہرائو کے سبب ہی وہ اپنی قوت اور استحکام کا باعث بنا ہے۔ لہٰذا اس طلوع ہوتے استحکام اور ٹھہرائو کے سبب ہی وہ اپنی قوت ارادی اور عزم صمیم کے ذریعے انتخابی فتح حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ وہ وزیراعظم بنے تھے۔ لہٰذا اقتدار میں محترمہ بشریٰ پی پی کی قسمت او تقدیر کا بھی حصہ موجود ہے مگر سنجیدہ ماہرین نجوم ان کے وزیراعظم بن جانے کے بعد ان کی شدید ترین مشکلات کو ضرور بیان کرتے رہے ہیں۔ عمران خان کے لئے وسط اگست تک بہت زیادہ و مسائل موجود ہیں جن میں حکومت اور ریاست کے لئے معیشت کا بحران  اہم ہے۔ اگر تدبر و فراست سے وہ یہ مرحلہ کسی نہ کسی طرح نکال جائیں تو 11اگست کے بعد انشاء اللہ ان کی موجودہ مشکلات ختم ہو کر نیا  فیز شروع جائے گا جس میں ’’نیا‘‘ سفر ’’نئے‘‘ عزائم کو اچانک  ’’مدد‘‘  اور کامیابی دے سکتا ہے۔ عمران خان کی شخصیت ’’لبرا‘‘ ہے ۔ یاد رہے کہ حمزہ شہباز تاریخ پیدائش6ستمبر1974ء لبرا شخصیت جبکہ  شہباز شریف تاریخ پیدائش23 ستمبر1950ء شخصیت ’’لبرا‘‘ مگر ’’ورگو‘‘ کے منفی اثرات کے ساتھ یعنی شاطریت و مکاری‘ دھوکے بازی  اس شخصیت میں فطری طور پر بدرجہ اتم موجود ہوتی ہے‘ بہت گہرے ہوتے ہیں اور بہت خود غرض مطلبی اور طوطا چشم بھی۔
میرے ذاتی تجربات اور مشاہدات کی روشنی میں شہباز شریف کبھی بھی کسی سے مخلص نہیں رہتے نہ ہی عہد وفا کو اہمیت دیتے بشرطیکہ ان کا معاملہ اپنے سے طاقتور سے نہ ہو بلکہ کمزور جو ان پر اعتبار کرے گا وہ دھوکہ سے دوچار  ہوگا۔ جنرل باجوہ ’’سکارپیو‘‘ شخصیت ہیں  جبکہ مریم نواز بھی سکارپیو شخصیت ہیں۔ 
مریم نواز خود کو فاتح بنانے میں پیدائشی طور پر مجبور رہتی ہے‘ ہر خواہش کی تکمیل کا فطری شدید جذبہ موجود اور اپنی ہر خواہش اور ہر مطالبے کے سامنے ہر مخالف بن کر آنے والے مخلص کو بھی دو ٹوک دشمن سمجھنا ان کی فطری خامیاں یا خوبیاں ہیں۔ دو ٹوک دشمنی اور دو ٹوک دوستی فطری ہے انتقام لینا ان کی مجبوری ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے 22جون سے ان کی زندگی کا ’’نیا‘‘ مرحلہ شروع ہوگیا ہے۔ سنجیدہ ماہرین نجوم کے مطالعہ کے مطابق وہ نئے مقدمات  سے بھی مستقبل میں دوچار ہوسکتی ہیں۔ ان کی سیاست میں جنون و اشتعال اور تصادم برقرار رہے گا۔ اگلے پانچ سال میں نہ ان کی سیاست نہ ہی شخصیت اقتدار پر متمکن  دکھائی دیتی ہے بلکہ وہ زیادہ مشکلات سے مزید دوچار اور نجی اور گھریلو ذاتی زندگی میں موجود بدمزگی اور تلخی میں اضافہ ممکن ہے۔ 
مسلم لیگ (ن) کو مریم نواز کے ذریعے مستقبل قریب میں اقتدار ناممکن سی بات ہے بلکہ جو بھی اس کے ساتھ جائے گا وہ خود کو گناہ بے لذت سے دوچار کرنے کے ساتھ ساتھ اقتدار کے لئے غیر مستحق قرار بھی دلوالے گا۔ سکارپیو جنرل اور فوج پر شدید ترین دبائو  ہے۔ بیرونی دنیا سے بھی اور اندرونی دنیا سے بھی سیاسی عدم استحکام کے معاملات بھی کافی موجود ہیں۔ اس بات کا امکان موجود ہے کہ بجٹ کے حوالے سے ’’امیدیں‘‘ مایوسی میں بدل جائیں ایسی صورت میں حکومت ختم ہو جائے گی۔ اگر بجٹ پاس ہوگیا تب بھی فوج  پر اندرونی استحکام  کے حوالے سے شدید ترین دبائو موجود رہے گا۔  یہ صورتحال دسمبر‘ نومبر تک موجود رہ سکتی ہے۔ خدانخواستہ اگر اس عرصے میں مارشل لاء کسی بھی وجہ سے لگ گیا تو شاید یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلا سفاک اور بے رحم مارشل لاء ہوگا لاہور میں 1953ء میں جو مارشل لاء لگا تھا متوقع مارشل لاء اس سے بہت زیادہ بے رحم اور سفاک فیصلے کرنے کی خوبیوں سے مزین ہوسکتا ہے۔

تازہ ترین خبریں