07:39 am
عاشقِ صادق

عاشقِ صادق

07:39 am

(گزشتہ سے پیوستہ)
ان دوستوں نے توحیدکی یہ شمع ایک مدت سے جلارکھی ہے اوریہ شمع اپنے رخِ تاباں سے اندھیرے کے اندرنورکے چھینٹے مسلسل برسا رہی ہے۔اس شمع پراس کے جانثارپروانے کدھرکدھرسے آئے،کن کن تاریکیوں کو پھلانگ کرآئے،کیسے دیوانہ وارآئے ،کیا کیا تاثرات،عشق ومحبت اپنے سینوں میں تڑپتے ہوئے لیکر گئے ،یہ داستان ہجرووصال  بڑی دراز،بڑی پرلطف اوربڑی پرکشش ہے۔وقت کم ہے، گردشِ  روزگار میں بڑی تیزی ہے،کسے فرصت ہے کہ کہی ہوئی کہانیاں دہرا سکے،بکھرے موتی چن سکے،چٹکے ہوئے پھول وکلیاں چن چن کردامن بھرسکے،ایک لحظہ اورکارواں کہیں کاکہیں نکل جاتاہے۔اس رواداری میں حکایات خونچکاں سنانے کی کسے مہلت ہے۔مرسی شہیدکی روح کاتقاضہ ہے کہ اس شمع توحیدکی کچھ خوبیوں کاتذکرہ کروں جنہوں نے ہزاروں لوگوں کے دلوں کوموہ لیا ہے،اس راہِ محبت کے ان مقامات کاتذکرہ کروں جنہوں نے کتنے ہی اربابِ دل ونگاہ کو مسخرکرکے اپناگرویدہ اوراپنی منزل کامستقل راہی بنالیاہے لیکن یہ بات کسی ایک شخص کے بتانے کی نہیں ہے۔
جب کسی محبوب کے ہزاروں شیدائی ہوں توظاہرہے کہ اس محبوب کے عشوہ واداکے بھی ہزاروں اندازہوں گے اوروہ بوقلمی خوبیاں اسی صورت میں سامنے آئیں گی جب عشاق کرام کاہجوم ہو......!اوروہ اپنی اپنی جراحت دل کی داستان اپنی عاشقانہ زبان میں بیان کرے۔بس یہ اجتماع بھی ایسے عشاق کاتھا۔ بہرحال وہاں جوجواہرریزے اپنے تنگ دامن میں جمع کرسکا،اس محبوب ازل کے کشتگان کی داستان وابستگی کے جن جن حصوں نے مجھے زیادہ متاثرکیا،آپ کی ضیافت طبع کیلئے تحریر کئے دیتاہوں!
 ہم سب جانتے ہیں کہ مقصد زندگی کی جس سنگلاخ وادی میں سے یہ قافلہ جان گزرہاہے وہ کٹھن بھی ہے اوردشواربھی،حوصلہ شکن بھی ہے اورصبرآزما بھی، لیکن ایک نصب العین کے حامل جب کچھ ساتھ جمع ہوجائیں توسارے بوجھ اترجاتے ہیں ،شکائتیں دورہوجاتی ہیں،دل شگفتہ ہوجاتے ہیں اوراشتراک غم،مرگ انبوہ کاجشن پیداکردیتاہے۔پھرکوئی حالات کے ہاتھوں دل گرفتہ نہیں ہوتااورمنزل کی کٹھن گھاٹیوں کاکوئی شکوہ سنج نہیں رہتا۔اس وقت محسوس ہونے لگتاہے کہ یہ کوئی رہینِ ستم ہائے روزگارلوگ نہیں ہیں بلکہ منہ زور زمانے کے شہہ سوارہیں اورحالات کی لگام تھامے جس طرف چاہیں زندگی کارخ موڑکرلے جاسکتے ہیں ۔ایسے وقت میں ذکروشکران کے لبوں پرہوتاہے توعزیمت آگے بڑھ کر ان کے قدم چومتی ہے۔
اس محفل میں’’اپنی تربیت آپ‘‘ کے اصول پرسب دوست جمع تھے۔جب یہ ذکرچل نکلاکہ نصب العین کی محبوبہ عالم کی کس اداسے کون مجروح ہوا،ظاہر ہے کہ عشاق کی محفل میں جب ذکرمحبوب کی ادائوں کاچھڑجائے توبات قیامت کارنگ دھارلیتی ہے اورتب پتہ چلتاہے کہ کشتی دل کیلئے محبوب کاہرسانس ایک طوفان اورمرغ آرزوکیلئے اس کاہررونگٹا ایک بے پناہ تیرکی حیثیت رکھتا ہے۔مرسی شہیدجواس محفل کے دولہاتھے،اس محفل عشاق کاآغازجب غم ناک چشم سے خوفِ خدا،آخرت کی جوابدہی اوراس زمانے میں دین کی مظلومی سے کیاتوگویاوقت تھم گیاہو،سانس کاتسلسل جوپچھلی کئی دہائیوں سے کبھی مشکل نظرنہیں آتاتھا،اب اگلے سانس لینے کی گویاہمت نہ ہو۔
مجھ جیسے گناہگارکوسور بقرہ کی آیت چالیس سے لیکر چھیالیس تک درس قرآن کاجب حکم ملاتومحسوس ہوا کہ قرآن کی ان آیات میں یہود کونہیں بلکہ مجھے مخاطب کیاجارہاہو۔قرآن جوایک زندہ معجزہ ،اپنی جبروت وسطوت کے رنگ دکھارہاتھاوہاں میرااپنارنگ پھیکا پڑرہاتھا،قلب و ضمیرساتھ نہیں دے رہے تھے ،زبان یوں لڑکھڑارہی تھی جیسے اس نے بولناکبھی سیکھاہی نہیں.....سب دعائیں یادنہ رہیں بس یہی سرور،کائنات ﷺ کی دعاکہ: ’’اے رب ذوالجلال!میراسینہ اس کیلئے کھول دے اورسمجھنے وعمل کی توفیق نصیب فرماآمین!
بعدمیں دوستوں کااس پرتبصرہ،سینہ مزید کھلتاگیا،دماغ سے پردے ایک ایک کرکے ہٹ رہے تھے،خداکی وحدانیت کایقین،رسول اکرمﷺ کی سیرت مبارک، اصحابہ کرام کا ایثار،قربانی واستقامت دل پرنقش ہورہے تھے اورکالک وسیاہی اس طرح دورہورہی تھی جس طرح کالے بادلوں سے اٹاہواآسمان نورکی پہلی کرن سے خوفزدہ ہوکراس کیلئے جگہ چھوڑرہاہو،اورواقعی قرآن کی یہ آیت کہ:’’جب حق آتاہے باطل بھاگتاہے،روشنی آتی ہے،اندھیراچھٹ جاتا ہے،، کی عملاً تفسیراپنے دل کی کیفیت سے محسوس ہوئی۔
غیرمسلموں کے اس معاشرے میں اسلام کی دعوت،پلاننگ،نمائش،تعارف،غرضیکہ زندگی  کے تمام ضروری پہلوں پراس مختصر وقت (ڈھائی دن)میں اس طرح عملی روشنی پڑی کہ سب ہی اندھیرے چھٹ گئے،گرددورہوئی توذہنی بوجھ اورجسم کواس طرح ہلکامحسوس کیاکہ داڑھی کی سپیدی بھی کچھ اچھی نظرآنے لگی اوردل میں یہ احساس جاگزیں ہوگیاکہ اس کیفیت میں محبوب سے ملاقات ہوگئی توعاشقِ صادق کاپروانہ مل جائے گاوروصل بھی نصیب ہوجائے گا، اور ہاں! یہاں رازکی ایک اوربات بتائوں کہ وہاں راہ حق میں شہادت کی دعابھی بڑی دلسوازی سے مانگی گئی اوراس مجلس کے شرکا میں سے درجن سے زائدکی دعاتوقبول بھی ہوگئی اوراب مرسی شہیدبھی اسی قافلے میں شریک ہوگئے ہیں۔
آیئے!اپنی زندگی کے عشق کاآغازاس اندازسے کریں کہ محبوب منتظرومضطرب ہو،بے چین ہواوربے ساختہ یہ کہے:
کیاڈر ہے جوہو ساری خدائی بھی مخالف
کافی ہے اگر ایک خدامیرے لئے ہے
توحیدتویہ ہے کہ خداحشرمیں کہہ دے
یہ بندہ دوعالم سے خفامیرے لئے ہے

تازہ ترین خبریں