07:40 am
اے پی سی اور ہارے ہوئے لشکری

اے پی سی اور ہارے ہوئے لشکری

07:40 am

مولانا فضل الرحمن آسمان سیاست پر چودھویں کے چاند کی طرح چمک رہے ہیں‘ لیکن ان کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ زمین پر زرداری اور شریفوں جیسے ہارے ہوئے لشکریوں کے بل بوتے پر حکومت کے خلاف تحریک چلانا چاہتے ہیں‘ زرداری اور شریف خاندان اس وقت جن مصیبتوں میں گھر چکا ہے... ان کی کرپشن کہانیوں کی داستانیں سن سن کر قوم کے کان درد کرنا شروع ہوگئے ہیں‘ احتساب کی دیکھی اور ان دیکھی زنجیریں جس طرح سے ان خاندانوں کو جکڑنا چاہ رہی ہیں یہ دونوں خاندان اور ان کے فالورز کی سب سے پہلی ترجیح یہی ہے کہ ہو نہ ہو شریفوں اور زرداریوں کی جان احتساب کے شکنجے سے چھڑائی جائے۔
 
عمران خان کی حکومت کی گڈگورننس بھی زیرو بٹا زیرو ہے  لیکن کئی عشروں تک بار‘ بار اقتدار کو انجوائے کرنے والے ان دونوں خاندانوں کی حکومتوں نے بھی اس ملک او رقوم کے خزانے کو صاف کرنے میں کسی بخل  سے کام نہیں لیا۔
آج مہنگائی جن بلندیوں کو چھو رہی ہے‘ بجلی‘ گیس ‘ پٹرول‘ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کرکے عوام کو جس طرح سے  خون کے آنسو رونے پر مجبور کر دیا گیا ہے‘ بڑے تاجر  ہوں‘ چھوٹے دوکاندار ہوں ‘ صنعت کارہوں ‘ ریڑھیاں اور چھابڑیاں لگانے والے ہوں‘ سرکاری ملازمین ہوں‘ مزدور ہوں‘ کسان ہوں یا پرائیویٹ ملازمین‘ عمران خان کی حکومت نے اپنے ابتدائی گیارہ مہینوں میں ہی پاکستان کے 22کروڑ عوام کی چیخیں نکلوا دی ہیں‘ عمران خان ہوں یا ان کے دیگر وزراء صبح و شام قوم سے زبردستی ٹیکس وصولی کی خوشخبریاں سناتے ہیں‘ ٹیکس‘ ٹیکس ‘ ٹیکس لیکن دوسری طرف قومی اسمبلی ہو‘ سینٹ ہو یا صوبائی اسمبلیاں ان کے اراکین کی ماہانہ تنخواہوں‘ ہر اجلاس پر ہونے والے اخراجات‘ دفاتر اور اسفار کے اخراجات‘ پروٹوکول اور ان کی سیکورٹی پر اٹھنے والے اخراجات اربوں روپے تک جا پہنچتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ قومی اسمبلی‘ سینٹ‘ پنجاب‘ سندھ‘ کے پی کے اور بلوچستان اسمبلی کے اراکین میں سے کتنے ایسے ہیں کہ جن کو غریب کہا جاسکتا ہے؟ یا جو اپنے اخراجات اٹھانے سے قاصر ہیں؟ تین‘ تین سو کنال کے محلات میں رہنے والے جب پرچون فروش اور چھابڑی فروش پر بھی بجلی‘ گیس‘ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کا بے پناہ بوجھ لاد کر پھر ٹیکس‘ ٹیکس‘ ٹیکس کی گردان کریں گے تو کون ہے جو ایسی حکومت پہ اعتماد کرنے کے لئے تیار ہوگا؟
خود وزیراعظم ہائوس سے چند فرلانگ کی دوری پر واقع بنی گالا محل میں بھی آنا ہو تو ہیلی کاپٹر کا استعمال لازم ٹھہرے اور قوم کو ٹیکسوں کے کوڑے مار‘ مار کر ادھ موا کرنے کی کوشش کی جائے‘ پھر اگر ذی شعور پاکستانی یہ سوچ رہے ہیں کہ یہ کوئی حکمرانوں کا خاص ایجنڈا ہے تو اس میں غلط کیا ہے؟
شبر زیدی نام والی جس سرکار کا ورود مسعود پاکستان میں ہوا ہے کوئی بتا سکتا ہے کہ قومی خزانے سے ہر ماہ انہیں کتنی تنخواہ اور دیگر مراعات حاصل ہوں گی؟ یقینا ٹیکس ادا کرنا نہایت ضروری ہے اور لازم ہے‘ لیکن ٹیکس وصول کرکے ڈکارنے والوں سے کوئی پوچھے کہ ٹیکس دہندگان کو سہولت دینا ریلیف دینا کس کی ذمہ داری ہے؟عمران خان حکومت کا تو یہ مزاج بنا ہوا ہے کہ ’’کیا لے کے آئے ہو اور کیا دے کے جائو گے‘‘ دمادم مست قلندر‘ نہ ہم کسی کے اور نہ ہمارا کوئی‘ چور‘ چور‘ڈاکو‘ ڈاکو گیارہ مہینوں میں ان الفاظ کی رٹ لگا لگا کر پوری قوم کا برا حال کر دیا ہے۔
ایک ایسے قیامت خیز موقع پر مولانا فضل الرحمن نے تمام اپوزیشن جماعتوں کی اے پی سی کا اہتمام بدھ کے دن کیا تھا‘ اے پی سی دیکھنے ہم بھی اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں پہنچے اور لگاتار 5گھنٹے تک وہاں موجود رہے‘ وہاں جمعیت علماء اسلام کے مولانا سعید الرحمن سرور سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے پوچھا کہ اے پی سی کا نتیجہ کیا نکلے گا؟
اس خاکسار نے عرض کیا کہ مولانا فضل الرحمن کے اختیار میں ہوتا تو وہ عمران خان حکومت کو ایک گھونٹ پانی پینے کا موقع بھی نہ دیتے‘ مگر جن کو وہ اپوزیشن کی بڑی  پارٹیاں سمجھتے ہیں یعنی ن لیگ اور زرداری پارٹی‘ ان کے مفادات کی ڈور ’’ڈیل‘‘ کے کنڈے میں پھنسی ہوئی ہے... اور یہ کبھی بھی حکومت گرانے یا حکومت تبدیل کرنے کے ایجنڈے میں مولانا  کا ساتھ نہیں دیں گے اور اگر اپوزیشن متحد ہو کر اب عوم کو مہنگائی کے طوفان سے نجات دلانے کے لئے میدان میں نہیں نکلتی تو عوام کو کس پاگل کتے نے کاٹا ہے کہ وہ زرداریوں اور شریفوں کو جیلوں سے نکلوانے کے لئے سڑکوں پر ماریں کھاتے پھریں؟ معیشت کا پہیہ مکمل جام ہوچکا ہے لیکن اس حکومت نے لوٹ مار کے ذریعے باہر کے بنکوں میں منتقل کئے جانے والے کروڑوں ڈالر میں سے ایک روپیہ بھی ابھی تک ملک میں منتقل نہیں کیا۔
مجھے کراچی سے ایک تاجر نے فون پہ بتایا کہ بہت سے ٹریڈرز بھی ملک سے اڑان بھرنے کی تیاریوں میں مصروف ہیں‘ اس وقت کوئی کروشیا اور کوئی رومانیہ کی شہریت لینے کی کوششوں میں مصروف ہے‘ لیکن اپوزیشن کی دونوں بڑی پارٹیاں صرف اپنے اپنے ’’ابابچائو‘‘ کوششوں میں مصروف ہیں‘ رہ گئے مولانا فضل الرحمن تو انہوں نے اے پی سی میں شریک رہنمائوں کو جو کھانا پیش کیا ہوگا یقینا ًوہ بڑا مرغن اور شاندار ہوگا؟ ذہنی طور پر ہارے ہوئے لشکری کھانا تو ڈٹ کر کھاتے ہیں مگر اسیر ہمیشہ اپنے خاندانوں کے مفادات کے ہی رہتے ہیں۔ 
(وما توفیقی الاباللہ)

تازہ ترین خبریں