07:41 am
 اے پی سی اور کرکٹ میچ 

 اے پی سی اور کرکٹ میچ 

07:41 am

٭اے پی سی! نشستند، گفتند برخاستند! اندرونی کہانیO پاکستان کی کرکٹ ٹیم، نیوزی لینڈکو ہرا دیاOڈالر 164 روپے سے بھی آگے O آصف زرداری نے ضمانت کی درخواستیں واپس لے لیں۔
 
٭مولانافضل الرحمان کی اے پی سی! بہت سے پہلو ہیں، بے ترتیب پڑھئے۔ پہلے تو یہ بات کہ اے پی سی میں جس وقت نہائت پر تکلف کھانا (مرغ مسلم، پشاوری کباب، حلوہ) کھانے کے بعد حکومت کو گرانے اوور اسلام آباد کے لاک ان کے بارے میں مولانا فضل الرحمن کی نہائت گرمیلی شعلہ فشاں تقریر سن رہے تھے، اور بلاول زرداری اور مولانا آپس میں اُلجھ رہے تھے، عین اسی وقت قومی اسمبلی میں حکومتی اور اپوزیشن میں مفاہمت اوار مصالحت کے مذاکرات جاری تھے۔ ان میں حکومت کی طرف سے شاہ محمود قریشی، پرویز خٹک اور ملک عامر ڈوگر،ن لیگ کی طرف سے سردار ایاز صادق، خواجہ محمد آصف، رانا تنویر حسین اور مرتضیٰ جاوید عباسی اور پیپلزپارٹی کے سید خورشید شاہ، سید نوید قمر اور راجہ پرویز اشرف شامل تھے۔ ان رہنمائوں نے اسمبلی میں پرامن انداز میں مل کر کام کرنے کا فیصلہ کیا! اب اے پی سی کی  بے ترتیب باتیں:
مولانا فضل الرحمان نے کانفرنس کی صدارت کی۔ کانفرنس میں جماعت اسلامی اور اختر مینگل کی بلوچستان نیشنل پارٹی شریک نہیں ہوئے۔ مولانا نے اجلاس میں گیارہ نکاتی ایجنڈا پیش کیا۔ اس میں سے صرف 25 جولائی کو یوم سیاہ منانے پر اتفاق ہوا۔ حکومت گرانے اور اسلام آباد کا گھیرائو کرنے پراتفاق نہیں ہوا بلکہ آمنے سامنے کھلم کھلا اختلاف کا اظہار بھی ہوا۔ بلاول نے صاف صاف کہہ دیا کہ حکومت کو فوری طور پر گرانے کی بات تسلیم نہیں کی جا سکتی نہ ہی اسلام آباد کے گھیرائو پر اتفاق ہو سکتا ہے۔ اے پی سی کی بہت سی اندرونی باتیں اخبارات میں موجود ہیں۔ معاملہ تو یہ ہے کہ اس سے حاصل کیا ہوا؟ حکومت کو تو فائدہ پہنچا کہ اپوزیشن کی عدم موجودگی میں بجٹ کے کھربوں کے مطالبات زر کسی بحث کے بغیر آسانی سے منظور کرا لئے۔ ایوان میں اپوزیشن کے صرف دس ارکان تھے، وہ بھی خاموش بیٹھے رہے۔ ایک اتفاق سینٹ کے موجودہ چیئرمین صادق سنجرانی کو ہٹانے پر ہوا۔ ان پر الزام ہے کہ وہ حکومت کی طرف داری کرتے ہیں۔ مولانا انہیں ہٹا کر اپنے ساتھی غفور حیدری کو چیئرمین بنانا چاہتے ہیں، اے پی سی کے شرکاء نے اسے بھی نامنظور کر دیا۔ یہ بات اپنی جگہ قابل توجہ تھی کہ اس اے پی سی میں ن لیگ کے تین سربراہ (صدور!) پہنچے! علامتی صدر شہباز شریف، عملی صدر مریم نواز اور چیئرمین (؟؟) راجہ ظفر الحق! مریم نواز اب تک بہت آگے جا رہی تھیں مگر، اے پی سی میں بھی وہ اصل صدرکے کروفر کے ساتھ ہی شریک ہوئیں، مگر وہاں خاص پذیرائی نہ ہونے پر مایوس دکھائی دیں اور اجلاس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں شریک ہوئے بغیر شہباز شریف کو وہیں چھوڑ کر چلی گئیں۔ قارئین کرام! اے پی سی کی باتیںکچھ زیادہ ہو گئیں۔ صرف یہ کہ اس کے بارے میںمولانا کی مایوسی کا اندازہ ہو سکتا ہے۔ ایک عرصے سے اے پی سی کا شور مچ رہا تھا۔ اس کے بارے میں تین معتبر اور مدبر تجزیہ نگاروں کے ایک ایک سطر میں تین تجزیئے۔ ’’کھودا پہاڑ نکلا چوہا!… دیکھنے ہم بھی گئے پہ تماشا نہ ہوا‘…صرف اک قطرہ خون نکلا…‘‘ کچھ دوسری باتیں…
٭دُنیا بھر میں پاکستانی قوم اور کرکٹ ٹیم کے بارے میں ایک جیسی رائے پائی جاتی ہے کہ ان دونوں کے بارے کبھی کمزور رائے قائم نہ کرو! یہ دنیا کے عجیب و غریب لوگ ہیں، کچھ پتہ نہیں چلتا، کب کیا کر دیں! 1965ء میں بھارت نے رات کے اندھیرے میں لاہور پر حملہ کیا تو لاہور کے نوجوان لاٹھیاں لے کر بھارتی فوج سے لڑنے کے لئے نکل پڑے تھے۔ کرکٹ ٹیم کے بارے میںتو عام متفقہ رائے ہے کہ یہ بڑی خطرناک ٹیم ہے اس کا کوئی اعتبار نہیں کب کچھ کر دے! مسلسل دس شکستیں کھائیں، پھر انگلینڈ کی ٹیم کی ایسی تیسی کر دی۔ انڈیا سے ہار گئی اورجنوبی افریقہ اور نیوزی لینڈ کی ٹیموں کو ناکوں چنے چبوا دیئے! گزشتہ روز بھی یہی کچھ ہوا۔ نیوزی لینڈ کی ٹیم کسی میچ میں نہیں ہار رہی تھی اسے ایسی شکست دی کہ وہ ہکا بکا چوٹیںسہلا رہی ہے! دلچسپ اور عجیب بات کہ 1992ء میں پاکستان کی ٹیم نے ورلڈ کپ جیتا، اس میں محتلف میچوں اور واقعات کی ترتیب حیرت انگیز طور پر موجودہ واقعات سے مل رہی ہے۔ 1992ء میں پاکستانی ٹیم نے پہلا میچ ہارا اور دوسرا جیتا، تیسرا بارش کی نذر ہو گیا، چوتھا اور پانچواں میچ ہار گئی، پھر چھٹا اور ساتواں میچ جیت لیا۔ یہ ساری ترتیب بالکل اسی طرح جا رہی ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ 1992ء میں ساتواں میچ بدھ ہی کے روز نیوزی لینڈ سے ہی ہوا تھا۔ نیوزی لینڈ اس وقت مسلسل جیتتی چلی آ رہی تھی مگر پاکستانی ٹیم نے اسے ایسی شکست دی کہ پھراس کی پیش رفت کہیں نہ رک سکی۔ ایک اور خاص بات کہ 92ء میں پاکستان کے بائیں بازو والے فاسٹ بائولر وسیم اکرم نے نیوزی لینڈ کی ٹیم کو تِتر بِتر کر دیا تھا۔ اب یہ کام بائیں بازو والے فاسٹ بائولر شاہین آفریدی نے کر دکھایا ہے۔ پاکستانی ٹیم نے اچانک جو حیرت انگیز کارنامے دکھائے ہیں ان پر بھرپور خراج تحسین اور شاباش! مگر اب رکنا نہیں!
٭بلاول زرداری نے مطالبہ کیا ہے کہ ہمیں فوج سے محبت ہے مگر فاٹا میں انتخابات کے دوران پولنگ سٹیشنوں کے اندر فوج متعین نہ کی جائے! بلاول کی اس بات پر ایک بزرگ قاری نے بلاول کو مشورہ دیا ہے کہ فوج کے بارے میں کچھ کہنے سے پہلے اپنے والد صاحب سے مشورہ کر لیں کہ ان کا موقف کیا ہے اور وہ کیا کہتے رہے ہیں؟ بلاول کو ان ساری باتوں کا علم ہو گا، بار بار چھپ  چکی ہیں تاہم محترم قاری کی خواہش پر بلا تبصرہ ایک بار پھر پڑھ لیجئے: 16 جون2015ء اسلام آباد، فاٹا سے تعلق رکھنے پیپلزپارٹی کے پارلیمانی ارکان سے خطاب کرتے ہوئے آصف زرداری نے پورا منہ کھول کر پوری بلند آواز سے کہا ’’ ہماری کردار کشی بند نہ کی گئی تو ہم جرنیلوں کاکچا چٹھا کھول دیں گے، ان کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے… ہم جس دن کھڑے ہوں گے تو صرف سندھ ہی نہیں، کراچی سے خیبر تک سب بند ہو جائیں گے۔‘‘
٭ایک روح افزا منظر دیکھ رہا ہوں۔ برمنگھم میں نیوزی لینڈ کے خلاف پاکستان کی فتح کے بعد سٹیڈیم کے اندر اور باہر پاکستانی باشندوںکا ہجوم ’پاکستان زندہ باد، پاکستان زندہ باد‘ کے نعرے لگا رہا ہے۔ کچھ پاکستان کہیں سے ڈھول لے آئے ہیں اور بھنگڑا ڈال رہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کچھ سکھ حضرات بھی بلند آواز سے پاکستان زندہ باد کے نعرے لگا رہے ہیں۔ مجھے ایک بہت پرانا منظر یاد آ گیا۔ 1979ء امرتسر سٹیڈیم: پاکستان کی کرکٹ ٹیم ظہیر عباس کی قیادت میں بھارتی پنجاب کی ٹیم سے میچ کھیلنے والی ہے۔ میں پاکستان کا واحد صحافی سٹیڈیم میں بھارتی صحافیوں کے ساتھ موجود ہوں۔ میری بہت آئو بھگت ہو رہی ہے سموسے، کچوریاں، جوس،! بہت سے پاکستانی تماشائی بھی لاہور سے آئے ہیں۔ تین روز کیلئے صبح امرتسر جانے اور شام کو واپس لاہور جانے کی سہولت ہے۔ میرے ساتھ والے انکلوژر میں بہت سے پاکستانی کہیں سے ایک ڈھول لے آئے ہیں۔ ایک شخص نے بڑا سا پاکستانی جھنڈا لہرا دیا ہے۔ کھیل شروع ہوتے ہی اچانک ڈھول بج اٹھتا ہے اور پاکستان زندہ باد کے نعروں کے ساتھ ہے ’جمالو‘ کا بھنگڑا شروع ہو جاتا ہے۔ ہزاروں تماشائیوں سے بھرا سٹیڈیم دم بخود اور ششدر رہ جاتا ہے۔ ہر طرف سناٹا چھا جاتا ہے۔میرے پاس بیٹھا ایک معمر ہندو صحافی چیخ اٹھتا ہے، ’’کیا ضرورت تھی یہاں پاکستان کے ساتھ میچ رکھنے اور پاکستانیوںکو آنے کی دعوت دینے کی؟ 1947ء میں ان لوگوں کو نکال دیا تھا، آج 33 سال بعد پھر امرتسر میں پاکستان کا جھنڈا لہرا رہا ہے، پاکستان زندہ باد کے نعرے لگ رہے ہیں؟

تازہ ترین خبریں