10:10 am
مذہبی سیاست‘ اے پی سی سے شاہ محمود قریشی تک

مذہبی سیاست‘ اے پی سی سے شاہ محمود قریشی تک

10:10 am

28 جون کو ایک معاصر اخبار میں کالم شائع ہوا ہے جس میں اپوزیشن اور پی ٹی آئی  میں وزیراعظم عمران خان سے نجات پالینے کے ساتھ ہی موجودہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو نیا وزیراعظم بنانے کی سوچ کو تمام بیماریوں کے لئے شافی علاج ثابت کیا گیا ہے۔
 

کالم پڑھتا جارہا تھا اور قدرت الٰہی کو یاد کرتا جارہا تھا کہ ماضی کے چند دریچے کھلتے گئے ۔ آئیے آپ کو بھی شامل کرلوں۔ مخدوم امین فہیم (تاریخ پیدائش4 اگست1939 ء) صدر جنرل پرویز مشرف اور محترمہ بے نظیر بھٹو میں مفاہمت کراتے مسلسل عمل کا نام تھا پھر محترمہ شہید ہوگئیں‘ انتخابات ہوئے اور توقع تھی کہ اب جبکہ پارٹی زرداری کے پاس  آگئی تو بھی وہ لازماً وزیراعظم مخدوم امین فہیم کو بنائیں گے ایک گھر میں چند اہم سیاست دان  جمع تھے بحث مخدوم امین فہیم کے وزیراعظم بننے کی ہو رہی تھی کہ اچانک بزرگ ماہر نجوم پروفیسرغنی نے پوچھا آصف زرداری کی تاریخ پیدائش بتائو‘ کیونکہ مخدوم امین فہیم کے پاس اقتدار نہیں آرہا۔ چنانچہ زرداری کے پٹارو میں کلاس فیلو سے تاریخ پیدائش(26 جولائی1952 ء) حاصل کی گئی۔ چند منٹوں بعد بزرگ ماہر نجوم گویا ہوئے ۔ آصف زرداری کو بڑا عہدہ ملنے جاہا ہے۔ مخدوم فہیم کو کچھ نہیں ملتا نظر آیا پھر اچانک زرداری نے ملتان کے مخدوم شاہ محمود قریشی کو بھی نظر انداز کرتے ہوئے ملتان ہی کے یوسف رضا گیلانی کو وزیراعظم بنوا دیا تھا۔ ان کا حلف ہوگیا تو جونیجو حکومت میں یوسف رضا گیلانی کے ساتھ وفاقی وزیر رہنے والے ایک زمیندار دوست نے مجھ سے کہا ’’جتنا خوبصورت ہے اتنا ہی عقل اور فراست سے پیدل ہے۔ بہت گند ڈالے گا‘ انجام بہت خراب سامنے آئے گا۔‘‘
جب معزول جسٹس چوہدری افتخار کے  لئے تحریک چل پڑی تو اعتزاز احسن بڑے رہنمابن گئے (تاریخ پیدائش ان کی 27 ستمبر1945 ء ہے) بزرگ ماہر نجوم نے کہا تحریک کامیاب ہو جائے گی مگر اعتزاز احسن کو کچھ بھی نہیں ملے گا بلکہ دل برداشتہ ہوں گے۔ طاہر القادری (تاریخ19 فروری1951 ء) ۔ اتنا علم و فضل مگر سیاست میں‘ مذہبی بنیادوں پر حصول اقتدار کی کوششوں میں شدید ناکام۔ ماڈل ٹائون ظلم عظیم میں جہاں حکمراں شریف خاندان کا ظلم عظیم موجود وہاں طاہر القادری کی اپنی جذباتیت اور سیاسی عدم تدبر و فراست بھی نمایاں ہے۔ ہمارے مذہبی قائدین عموماً تلخ زمینی حقائق کی روشنی میں بھی غلط مذہبی حیثیت کو کیوں استعمال کرکے عوام میں مذہب کو  متنازعہ  بناتے اور خود کو کمرتر ثابت کرتے ہیں؟
ہمیں اپنی  مذہبی طبقے کی سیاست کے لئے طیب اردوان اور پروفیسر محمد مرسی کے دو تجربات سامنے رکھنا چاہیے۔ آخر اخوان سوچ کے پروفیسر محمد مرسی کو ایک سال میں ہی کیوں محروم اقتدار ہوکر زندان میں ہی شہید ہونا پڑا؟ کیونکہ وہ بے رحم سیاسی معاملات میں بھی صرف مذہبی شدت پسندی‘ اخوانی سخت گیر اور تعصب پر مبنی رویئے پر کاربند تھے۔ شدید مخالفین کے لئے اور حامیوں کے لئے بھی ’’معیار‘‘ صرف اخوانی ہونا تھا۔ اسی لئے مصر کے اہل حدیث‘ النور پارٹی والے جنہوں نے 26 فیصد اپنی پارلیمانی قوت کو مرسی کے ساتھ کھڑا کیا تب وہ صدر منتخب ہوئے مگر صدر بن کر پھر مرسی مکمل اخوانی ہوگئے اور النور ساتھیوں کو بھی پہچاننے سے انکار کر دیا تو نتیجہ سامنے۔ جبکہ طیب اردوان نے  میئر استنبول بننے سے لیکر صدر بننے تک نہ نائٹ کلب بند کیے‘ نہ شراب خانے بلکہ ملک کو سیکولر ہی رکھا‘ لبرل ازم کے ٹورازم کو فروغ دیا۔ اسرائیل سے بھی سفارتی تعلقات بدستور قائم ہیں۔ یہی وجہ ہے وہ طویل ترین مدت سے اخوانی اور مذہبی پس منظر کے باوجود لبرل اور سیکولر کے لئے بھی لوہے کے چنے بنے ہیں البتہ فتح اللہ گولن جو اردوان کی طرح کے مذہبی اسکالر اور مکمل سیکولر ہیں بلکہ انہی کی تائید سے حصول اقتدار پالینے کے بہت عرصہ بعدطیب اردوان گولن تحریک کے دشمن بنے اور وہ بھی صرف فوجی بغاوت کے سبب۔
اردوان نے  فوجی اقتدار کی روش کو بھی انہوں نے کچل دیا ہے اور  مذہبی تعصب و  نفرت کی بنیاد پر گولن تحریک کی آڑ میں طیب اردوان کو ناکام بناتے کرداروں کے لئے وہ جہنم بن گئے ہیں مگر صرف سیکولر‘ لبرل‘ روشن اور سیاسی زمینی حقائق کو استعمال کرتے ہوئے۔ کیا ہمارے مذہبی بنیاد پر سیاست کرنے والے علمائے دین اور دینی جماعتیں مصر اور ترکی کے تجربات سے مثبت طور پر مستفید ہوسکتے ہیں یا1953 ء کے لاہور کے مارشل لاء کی طرح ہزاروں افراد  کے قتل عام کی طرف جاتا راستہ کھولنا چاہتے ہیں؟ شاید بلاول بھٹو کا مولانا سے اے پی سی میں تلخ رویہ زمینی حقائق  میں بالکل درست  تھا۔ عمر میں چھوٹا بلاول اپنی عمر سے بہت بڑے مولانا کو فراست کے راستے پر ڈال رہا تھا۔
چند روز پہلے میری ملاقات بزرگ ماہر نجوم پروفیسر غنی جاوید سے ہوئی جن کی پیش گوئیوں کا اوپر میںنے ذکر کیا اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے اکثر ہی درست ثابت ہوئی ہیں۔علوم ریاضی پر مبنی یہ علم نجوم‘ علم قیانہ کی ہی ترقی یافتہ شکل ہے۔ غیب کا علم ہرگز نہیں ہے ان کا کہنا ہے کہ شاہ محمود قریشی عمران خان کی جگہ وزیراعظم بنتے ہوئے تو ہرگز نظر نہیں آرہے۔ واللہ اعلم بالصواب
ان کے پاس شاہ محمود قریشی کو پسند کرنے والے تاریخ پیدائش لیکر گئے تھے۔ عمران خان کی معاشی اور سیاسی ناکامیوں کے باوجود ان کی واحد قوت یہ ہے کہ ان کا فی الحال قومی اسمبلی میں کوئی بھی متبادل موجود نہیں ہے۔ اگر  عمران خان ناکام بتائے جاتے ہیں تو شاہ محمود قریشی کیسے کامیاب ہو جائیں گے او ر وہ بھی معاشی معاملات میں؟ جبکہ ان کا کل حدود اربعہ ایک درگاہ کی جاگیردارانہ مجاوری کا ہے‘ معاشی تجربہ تو کوئی بھی نہیں ہے۔

تازہ ترین خبریں