10:12 am
       میثاق معیشت اور لیگی سیاست کا بیانیہ

       میثاق معیشت اور لیگی سیاست کا بیانیہ

10:12 am

نادان دوستوں کی موجودگی میں کسی دشمن کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اگر مسلم لیگ ن کے ارکان اسمبلی ، نواز شریف کے ہمنوا صحافی اور متحرک سیاسی کارکنوں  کی آنکھوں پر پٹیاں نہیں بندھی ہوئیں تو ان کو چا چا بھتیجی کے بیانئے پر غور کرنا چاہئے،شہباز شریف اول دن سے مفاہمت کی سیاست پر عمل پیرا رہے ہیں  جبکہ میاں نواز شریف بغض و عناد کی مٹی سے گندھے ہوئے ہیں ۔وہ کبھی بھی حالات کے تیور کا صحیح اندازہ نہیں لگا سکے۔وہ ہر لحظہ اقتدار کے حصول کے خواب میں رہتے ہیں۔وہ خود کو مسلم لیگ ہی نہیں قوم تک کی آخری امید گردانتے ہیں اور یہی خیال ان کی مشکلات میں اضافے کا باعث ہے جسے وہ اور ان کے مشیر کبھی باور نہیں کر پائے۔
اوپر سے مریم نواز کی کچی سیاسی سوچ ،جس نے نواز شریف کو اس مقام تک پہنچایا ہے۔لاہور میں پریس کانفرنس کے  دوران بی بی مریم نے جو نوحہ گری کی اس میں قومی سیاست کی بات کم اور اپنے با با کے زخموں کی رفو گری کا گریہ زیادہ تھا سیاسی بالی نے ’’ میثاق معیشت‘‘ کے اپنے چا چا کے بیانئے کو مسترد تو کر دیا مگر یہ نہیں سوچا کہ ان کے والدایک میثاق  یعنی ’’ میثاق جمہوریت‘‘ کے ثمر ہی سے اقتدار کے مزے لوٹتے رہیں۔  پی پی پی کے منجھے ہوئے سیاستدان سابق صدر آصف علی زرداری اسی میثاق کے طفیل متعدد بار ان کے اقتدار کی ڈوبتی ہوئی کشتی کا باہم سہارا بنے۔
اگر شہباز شریف اور آصف علی زرداری ’’ میثاق معیشت‘‘ کے ذریعے حکومت کی معاشی حکمت عملی کی سمت متعین کرنے کے لئے اپنا قومی کردار ادا کرنے کی سوچ رہے ہیں تو یہ ملکی اور قومی مفاد کی ضرورت کے پیش نظر ہے۔حکومت کی منجھدھار میں پھنسی کشتی کا کندھا بننے کے لئے ہر گز نہیں ۔مریم نواز کی بے وقت ،بے وقعت اور بلا ضرورت کانفرنس نے اور کچھ کیا ہو یا نہ کیا ہو مسلم لیگ ن کے اندرونی  اختلافات کا بھانڈا ضرور پھوڑ دیا ہے جس سے واضح پیغام ملا کہ پارٹی کے اندر رائے دہندگان کے بیچ تقسیم کا عمل جاری و ساری ہو چکا ہے ۔وہ معاملات جو اب تک ڈھکے چھپے تھے طشت از بام ہوگئے ہیں۔
حقیقت حال یہ ہے کہ شہباز شریف کے سیاسی بیانئے میں سنجیدگی ،متانت اور بلوغت ہے ،باقی سب بچگانہ اور عجلت میں کی جانے والی باتیں ہیں۔،میاں شہباز شریف صاحب فراست سیاستدان ہیں اور قومی سطح کی سیاسی بصیرت کے حامل ہیں اس پر مستزاد یہ کہ وہ ان قوتوں کے بہتر مزاج شناس بھی جو اس ملک کی تقدیر کے فیصلوں پر قادر ہیں۔مجھے یہ کہنے میں  بھی کوئی باک نہیں کہ مسلم لیگ ن کے وجود کو کوئی اگر سالم رکھ سکتا ہے تو وہ سابق خادم اعلیٰ ہی ہیں ،جو ملک کے بڑے صوبے کے بااختیار حکمران رہے اور اپنی کارکردگی کا لوہا منوایا۔سب کچھ اچھا کیا یا نہیں کیا،ان کے مکمل کئے گئے منصوبوں میں بڑے بڑے شگاف سہی،حساب کتاب کا ریکارڈ تلف کرنے کے الزامات سے مبرا نہ سہی،تاہم کوئی بھی  منصوبہ نا مکمل نہیں چھوڑا ۔ان کا سیاسی تجربہ اور طرز حکمرانی بہت عمدہ نہ بھی رہا ہو تو بہت برا بھی نہیں رہا۔ان کی مفاہمتی سیاست نتیجہ خیز ثابت ہوتی رہی ہے۔
اس بارے سابق صدر آصف علی زرداری کی سیاسی بصیرت کا تجزیہ کیا جائے تو وہ ایک صاحب خرد سیاستدان ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہادر آدمی بھی ہیں جن کی بیشتر سیاسی جدو جہدقید و بند کی صعوبتوں سے تعبیر ہے ۔انہوں نے یہ سب کچھ خندہ پیشانی سے برداشت کیا ۔معافیوں تلافیوں کے بیچ سزا نہیں کاٹی،ہرجمہوری حکومتوں کو کڑے وقت میں کندھا دیتے رہے کہ ملکی عوام کا جمہوریت پر سے اعتماد نہ اٹھنے پائے اور وہ آمروں ہی کو اپنا آخری سہارا تصور نہ کر لیں ۔
یہاں یہ بات باور کرانا بھی لازمی ہے کہ بلاول زرداری شہید بھٹو کا نواسہ سہی،شہید بے نظیر بھٹو کا بیٹا سہی آصف علی زرداری کا سیاسی وارث سہی مگر کبھی کبھی لاابالی پن میں سیاسی بیان داغتا رہتا ہے ۔عمران خان کو سیلیکٹڈ وزیر اعظم کہنے  جیسے غیر سنجیدہ بیان جن سے اجاگر ہوتا ہے کہ وہ ایوان اور اس کے ارکان کو منتخب کرنے والے رادہندگاں کا مذاق اڑا رہا ہے اور سندھی عوام کی ناگفتہ بہ حالت کا اعتراف نہ کرنا اور ہر حال میں اپنے صوبے کو خوش حال اور عوام کو مطمئن قرار دینا ‘یہ سب وہ امور ہیں جو بلاول زرداری کی سیاسی ساکھ پر انگلیاں اٹھانے سے نہیں روک سکتے،تاہم اس میں کوئی شک نہیں کہ صحت اور تعلیم کے شعبوں میں سندھ حکومت کا کردار بہتر رہا ہے مگر عوام کی مجموعی حالت تا حال نہیں بدلی۔
میں چونکہ جنوبی پنجاب کے مرکزی شہر ملتان کا باسی ہوں۔ اس لئے اس کے حالات پر نظر رکھنا میری وسیب دوستی کا تقاضا ہے ،سو بڑے صوبے کے حاکم کے کانوں میں یہ بات ڈالنا ضروری ہے کہ سرائیکی وسیب کی سب سے بڑی درس گاہ بہائوالدین زکریا یونیورسٹی عرصہ درازسے گو نا گوں مسائل کا شکارچلی آرہی ہے ایسی ہی نحوست کے سائے اب ملتان  ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایم ڈی اے)پر بھی منڈلانے لگے ہیں جس سے اس کی پہلے سے نا بہتر کارکردگی اور ناگفتہ بہ ہو  جائے گی۔

تازہ ترین خبریں