10:13 am
 صدر یا ایلچی؟ 

 صدر یا ایلچی؟ 

10:13 am

     جس مہمان کے  گھر آنے  سے دیدہ‘  منتظر کو  مسرت حاصل ہو اُس کی پذیرائی کے لیے یہ کہنا  بجا ہے ۔ 
وہ آئے ہمارے گھر خدا کی قدرت 
کبھی ہم اُن کو کبھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں 
 
 تاہم بعض  مہمانوں  کی آمد پر  مسرت کے بجائے حیرت یا تشویش ہی جنم لیتی ہے۔  حال ہی میں پاکستان کے دورے پر تشریف لائے  افغان صدر اشرف غنی  کا شمار بھی ایسے مہمانوں میں ہی کیا جائے گا جن کے آنے پر تشویش ملی حیرت سے میزبان دل ہی دل میں یہ سوچتا ہے کہ  یہ بندہ آخر میرے گھر کس ارادے سے آیا ہے ؟  ریاست کے مہمان کی حیثیت سے افغانستان کے صدرِ محترم  ہر ممکن تکریم کے مستحق  سہی  لیکن خدا لگتی بات یہی ہے کہ اُن کی آمد کی خبر سُن کے پہلا تاثر کچھ مثبت نہیں بنا ۔  افغانستان سے پاکستان کے  دو طرفہ تعلقات میں کڑواہٹ زیادہ اور شیرینی کم رہی ہے۔  یہ صورتحال موثر سفارت کاری سے بہتر کی جا سکتی ہے۔ ماضی کی تلخیوں کو بالائے طاق رکھ کے دو طرفہ تعلقات بہتر بنانے کے لیے باتوں اور رسمی بیانات کے بجائے ٹھوس عملی اقدامات پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔ تاہم ماضی کی تلخیوں اور تحفظات کو دفتر خارجہ کے ایسے طاق میں بند نہ کر دیا جائے کہ جس کی چابی ڈھونڈے نہ مل پائے۔ افغانستان سے معاملات طے کرتے ہوئے ہمہ وقت آنکھیں کھلی رکھی جائیں ۔ 
دورے  کے حوالے سے میڈیا  میں ایسی رسمی خبروں کی بھرمار ہے جو ہر سربراہ مملکت کی آمد پرجاری کی جاتی ہیں ۔ اکیس توپوں کی سلامی ، گارڈ آف آنر اور چاق و چوبند فوجی دستے کی سلامی کے ساتھ پر تپاک  استقبال ہو ا۔  دوستی کے نئے باب کھولنے کے دعوے ہیں ! سرحدی راہداریاں چوبیس گھنٹے کھلے رکھنے کی تجویز زیر غور ہے! اعلیٰ سطحی وفود کے تبادلے بھی ہوں گے اور باہمی تعاون کو فروغ بھی دیا جائے گا۔ صدر محترم اشرف غنی نے افغان امن عمل میں پاکستان کے مثبت کردار کو سراہا ہے ۔ میزبان نے مہمان کو تیس لاکھ سے زائد مہاجرین کی واپسی کی جانب بھی  متوجہ کیا !  ان اچھی اچھی باتوں پر خوش ہونے کو دل تو بہت چاہتا ہے لیکن ذہن میں سر اُٹھاتے بعض سوالات لبوں پر آئے تبسم کو روک کے ماتھے پر شکنیں ڈال جاتے ہیں ۔ ایک پاکستانی  جو کچھ جانتا چاہتا ہے وہ تو میڈیا پر نشر ہی نہیں ہوا ۔   افغانستان کے صدر ہونے کے باوجود  محترم اشرف غنی کی  نمائندہ حیثیت متنازعہ ہے۔ نرم سے نرم الفاظ میں افغان حکومت کو امریکہ بہادر کی کٹھ پتلی ہی کہا جانا چاہیے۔ یہ نہ حجت ہے نہ الزام بلکہ ایسی حقیقت ہے جسے گزشتہ برس خود اشرف غنی نے ان الفاظ میں بیان کیا تھا کہ امریکی سہارے کے بغیر افغان حکومت اپنے بل بوتے پر دو ہفتے بھی نہیں چل سکتی ! حقیقت یہی ہے کہ افغان حکومت کا کمزور جھونپڑا  امریکی شہتیر کے سہارے کھڑا ہے ۔ اس بے بس و لاچار حکومت کی عملداری صدارتی محل اور دارلحکومت کے محدود سے علاقے پر قائم ہے۔ داخلی سلامتی کے معاملات  عبداﷲ عبداﷲ کے سپرد ہیں جو کہ اپنا تن من دھن  دلی سرکار کے سپرد کئے بیٹھے ہیں ۔ جس قوت کی افغانستان پر عملداری ہے اُن سے امریکہ بہادر مذاکرات کر رہا ہے۔ جی ہاں وہی افغان مجاہدین جو عشروں سے غیر ملکی قابض افواج کے خلاف بر سر پیکا ر ہیں  جو کسی کے پٹھو یا کٹھ پتلی بننے کو تیار نہیں۔
  ایک سادہ سوال یہ ہے کہ جس کٹھ پتلی افغان حکومت کی اپنے ملک میں کوئی وقعت و حیثیت نہیں اُس کی مدد سے نیا باب دوستی کیسے کھلے گا ؟ افغان مہاجرین کی واپسی کا پیچیدہ معاملہ کیسے حل کیا جائے گا ؟ اور پاکستان میں دراندازی کرکے دہشت گردی کرنے والے گروہوں کی سرکوبی کا بندوبست کیسے ہو پائے گا؟ یہ تو طے ہے کہ افغان صدر کے دورے پرزیادہ کچھ نہیں لیکن یہ سمجھنا بے حد ضروری ہے کہ موصوف  کی پاکستان آمد کے پیچھے کیا مقاصد کار فرما تھے؟  اس اہم سوال کا جواب کھوجنے کے لیے پاکستان میں رونما ہونے والے بعض اہم واقعات پرنگاہ ڈالنے کی ضرورت ہے۔ گزشتہ ہفتے پاکستان کی کاوشوں سے بھوربن میں افغان امن عمل کے حوالے سے اہم اجتماع منعقد ہوا ہے ۔ غالباً ان سطور کے شائع ہونے تک  دوحہ میں امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات کا ساتواں دور شروع ہوچکا ہوگا۔ زلمے خلیل زاد کی بے پناہ دوڑ دھوپ بھی ذہن میں رکھیے ۔ یہ حسنِ اتفاق تو ہر گز نہیں کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے امریکہ کی جانب سے وزیر اعظم پاکستان کو صدر ٹرمپ سے ملاقات کی باضابطہ  دعوت کا گول مول سے اعلان فرما دیا ہے۔ گول مول اعلان اس لیے کہ جناب شاہ جی کے بقول وہ خود اور  وزیر اعظم ممکنہ طور پر  اگلے ماہ صدر ٹرمپ سے ملاقات کیلئے امریکہ جا سکتے ہیں۔  
یہ سب ایک ایسے وقت رونما ہورہا ہے جب کے خطے میں پاکستان علی الاعلان امریکی منشا کے برخلاف چین اور روس سے کثیرالجہتی تعلقات بھی استوار کر رہا ہے ۔ سی پیک جیسے اہم معاشی منصوبے پہ عملدرآمد بھی جاری رکھے ہوئے ہے اور بظاہر افغانستان میں بچھی شطرنج کی بساط پر امریکی مہرہ بننے کو بھی تیار نہیں ۔ ان گستاخیوں کی پاداش میں آئی ایم ایف کے معاشی غارت گروں نے پاکستانی معیشت کی دکھتی رگ پر اپنے نوکیلے پنجے پوری طاقت سے گاڑ دئیے ہیں۔ ایف اے ٹی ایف کی زنجیر سے پاکستان کا گلا گھونٹنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں ۔ مشرقی و مغربی سرحدوں سے عسکری دبائو اور اندرونی محاذ پر دہشت گردی سمیت بھارت کی شرانگیزیوں پر مزید کچھ لکھنے کی ضرورت نہیں ۔ سامنے کی بات ہے پاکستان کے گرد گھیرا تنگ کر کے شکار گاہ کی جانب دھکیلا جا رہا ہے۔ راقم کا ذاتی تجزیہ یہ ہے کہ امریکی حکومت نے ملاقات کی دعوت نہیں دی بلکہ پاکستانی وزیر اعظم کو پیشی پر بلایا ہے! کٹھ پتلی اشرف غنی افغانستان کے صدر کی حیثیت سے  دو طرفہ تعلقات پر بات کرنے نہیں بلکہ امریکی ایلچی کی حیثیت سے مطالبات یا دھمکیوں کی فہرست لے کر آئے ہیں ۔ کاش کہ ہمارے فیصلہ ساز موجودہ حالات کا درست ادراک کریں۔کاش کہ  اس نازک گھڑی میں وزیراعظم پاکستان کسی دبائو اور مصلحت کا شکار ہوئے بغیر پورے قد سے کھڑے ہوکر قوم کی ہی نہیں بلکہ پورے خطے کی ترجمانی کر سکیں۔         

تازہ ترین خبریں