10:13 am
استغفار اور کلمہ طیبہ کے  فضائل

استغفار اور کلمہ طیبہ کے  فضائل

10:13 am

٭ حضرت سیدنا اَنس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ خاتم النبیین، صاحب قرآن جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے ’’بیشک لوہے کی طرح دِلوں کو بھی زنگ لگ جاتا ہے اور اس کی جلا (یعنی صفائی) استغفار کرنا ہے‘‘۔ (مجمع الزوائد، ج۱۰، ص۳۴۶، حدیث ۱۷۵۷۵)
 
٭ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ محبوب رب ذوالجلال حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ’’جس نے استغفار کو اپنے اوپر لازم کر لیا، اللہ عزوجل اس کی ہر پریشانی دُور فرمائے گا اور ہر تنگی سے اسے راحت عطا فرمائے گا اور اسے ایسی جگہ سے رزق عطا فرمائے گا جہاں سے اسے گمان بھی نہ ہو گا‘‘۔ (سنن ابن ماجہ، ج۴، ص۲۵۷، حدیث ۳۸۱۹)
٭ حضرت سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ’’جو اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کا نامہ اعمال اسے خوش کرے تو اسے چاہئے کہ اس میں استغفار کا اضافہ کرے‘‘۔ (مجمع الزوائد، ج۱۰، ص۳۴۷، حدیث ۱۷۵۷۹) 
٭ حضرت سیدنا شداد بن اَوس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ خاتم المرسلین، رحمۃ اللعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ یہ سید الاستغفار ہے:
اَللّٰھُمَّ اَنْتَ رَبِّیْ لَا اِلاَّ اَنْتَ خَلَقْتَنِیْ وَاَنَا عَبْدُکَ وَاَنَا عَلیٰ عَھْدِکَ وَوَعْدِکَ مَا اسْتَطَعْتُ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ اَبُوْئُ لَکَ بِنِعْمَتِکَ عَلَیَّ وَاَبُوْئُ بِذَنْبِیْ فَاغْفِرْلِیْ فَاِنَّہٗ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلاَّ اَنْتَ 
ترجمہ: ’’اے اللہ عزوجل تو میرا رب ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو نے مجھے پیدا کیا، میں تیرا بندہ ہوں اور بقدر طاقت تیرے عہدوپیمان پر قائم ہوں، میں اپنے کئے کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں، تیری نعمت کا جو مجھ پر ہے اقرار کرتا ہوں اور اپنے گناہوں کا اعتراف کرتا ہوں، مجھے بخش دے کہ تیرے سوا کوئی گناہ نہیں بخش سکتا‘‘۔ 
جس نے اسے دن کے وقت ایمان و یقین کیساتھ پڑھا پھر اسی دن شام ہونے سے پہلے اس کا انتقال ہو گیا تو وہ جنتی ہے اور جس نے رات کے وقت اسے ایمان و یقین کیساتھ پڑھا، پھر صبح ہونے سے پہلے اس کا انتقال ہو گیا وہ تو جنتی ہے۔ (صحیح البخاری، ج۴، ص۱۹۰، حدیث۶۳۰۶)
کلمہ طیبہ کے فضائل:٭ حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انہوں نے عرض کی: ’’یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، قیامت کے دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت سے بہرہ مند ہونے والے خوش نصیب لوگ کون ہونگے؟‘‘ فرمایا ’’اے ابوہریرہ! میرا گمان یہی تھا کہ تم سے پہلے مجھ سے یہ بات کوئی نہ پوچھے گا کیونکہ میں حدیث سننے کے معاملہ میں تمہاری حرص کو جانتا ہوں، قیامت کے دن میری شفاعت پانے والا خوش نصیب وہ ہو گا جو صدقِ دل سے ’’لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ‘‘ کہے گا‘‘۔ (صحیح البخاری، ج۱، ص۵۳، حدیث۹۹)
٭حضرت سیدنا جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں، میں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ’’سب سے افضل ذکر ’’لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ‘‘ ہے اور سب سے افضل دعا ’’اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ‘‘ ہے۔ (سنن ابن ماجہ ج۴، ص۲۴۸، حدیث ۳۸۰۰)
٭ حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سرور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’جس بندے نے اخلاص کے ساتھ ’’لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ‘‘ کہا تو آسمانوں کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، یہاں تک کہ وہ عرش تک پہنچ جاتا ہے جبکہ کبیرہ گناہوں سے بچتا رہے‘‘۔ (سنن الترمذی ج۵، ص۳۴۰، حدیث ۳۶۰۱)
٭ حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رحمۃ اللعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’اپنے ایمان کی تجدید کر لیا کرو‘‘۔ عرض کیا گیا: ’’یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، ہم اپنے ایمان کی تجدید کیسے کیا کریں؟‘‘ فرمایا: ’’لَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ‘‘ کثرت سے پڑھا کرو‘‘۔ (مسند امام احمد بن حنبل ، ج۳، ص۲۸۱، حدیث ۸۷۱۸)
’’سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ‘‘ پڑھنے کے فضائل:
٭ حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ تاجدار رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان عالیشان ہے: ’’جو سو مرتبہ ’’سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ‘‘ پڑھتا ہے اس کے گناہ مٹا دئیے جاتے ہیں، اگرچہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں‘‘۔ (سنن الترمذی ج۵، ص۲۸۷، حدیث ۳۴۷۷)
٭ حضرت سیدنا ابوامامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ خاتم المرسلین، رحمۃ اللعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے ’’جس کیلئے رات میں عبادت کرنا دشوار ہو یا وہ اپنا مال خرچ کرنے میں بخل سے کام لیتا ہو یا دشمن سے جہاد کرنے سے ڈرتا ہو تو وہ ’’سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ‘‘ کثرت سے پڑھا کرے کیونکہ ایسا کرنا اللہ عزوجل کو اپنی راہ میں سونے کا پہاڑ صدقہ کرنے سے زیادہ پسند ہے۔ (مجمع الزوائد ج۱۰، ص۱۱۲، حدیث ۱۶۸۷۶)
’’لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلاَّ بِاللّٰہ‘‘ پڑھنے کے فضائل
٭ حضرت سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’کیا میں تمہیں جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازے کے بارے میں نہ بتائوں؟‘‘ عرض کی گئی: ’’وہ کیا ہے؟‘‘ ارشاد فرمایا: ’’لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلاَّ بِاللّٰہ‘‘ ۔ (مجمع الزوائد ج۱۰، ص۱۱۸، حدیث ۱۶۸۹۷)
٭حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’جس نے ’’لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلاَّ بِاللّٰہ‘‘ کہا تو یہ (اس کیلئے) ننانوے بیماریوں کی دوا ہے، ان سب سے ہلکی بیماری رنج و الم ہے‘‘۔ (الترغیب والترہیب ج۲، ص۲۸۵، حدیث۲۴۴۸) 
٭ حضرت سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نور کے پیکر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’جسے اللہ عزوجل نے کوئی نعمت عطا فرمائی، پھر وہ بندہ اس نعمت کو باقی رکھنا چاہتا ہو تو اسے چاہئے کہ  ’’لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلاَّ بِاللّٰہ‘‘ کی کثرت کرے‘‘۔ (المعجم الکبیر ج۱۷، ص۳۱۱، حدیث ۸۵۹)

تازہ ترین خبریں