10:15 am
پاکستان نے انڈیا کو ووٹ کیوں دیا؟

پاکستان نے انڈیا کو ووٹ کیوں دیا؟

10:15 am

 افغانستان اپنی نامزدگی واپس لے کر انڈیا کے حق میں دستبردار کیوں ہوا،پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے غیر مستقل اراکین کے انتخاب میں بھارت کی حمایت کیوں کی، یہ سوال بعض حلقوں میں موضوع بحث بنا ہو اہے۔ کوئی اس کے حق میں اور کوئی مخالفت میں دلائل دے رہا ہے۔ پاکستان کے ووٹ کے نتیجے میں انڈیا آئندہ دو برس 2021-22  کے لیے سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن بن گیا ہے۔ انڈیا سمیت  برازیل، جاپان اور جرمنی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل رکن بننا چاہتے ہیں ۔ وہ اس کے لئے دوڑ دھوپ بھی کر رہے ہیں۔ انڈیا کی مستقل رکنیت کی پاکستان اصولی وجوہات کی بنا پر مخالفت کرتا  رہاہے۔ سب سے بڑی وجہ انڈیا کا سلامتی کونسل کا ڈیفالٹر ہونا ہے۔ انڈیا نے سلامتی کونسل کی منظور شدہ قراردادوں کو ہی مسترد کر دیا ہے۔ جب کہ ان پر اس کے دستخط موجود ہیں۔ یہ قراردادیں کشمیریوں کو حق خود ارادیت دینے سے متعلق ہیں۔
 
 انڈیا نے دنیا کے سامنے کشمیر میں ریفرنڈم یا رائے شماری کرانے کا وعدہ کیا  مگر بھارتی حکمران اپنے وعدوں سے بالکل مکر گئے۔ مکر ہی  نہیں گئے بلکہ وعدے یاد دلانے اور سلامتی کونسل کی قرارداوں پر عمل کرنے کے مطالبات کے ردعمل میں ایک لاکھ سے زیادہ کشمیریوں قتل کر دیا گیا۔ لاکھوں کو معذور بنا یا گیا۔ ہزاروں اب بھی بھارتی جیلوں اور ٹارچر سنٹرز میںسڑ رہے ہیں‘ جو ملک سلامتی کونسل کا ڈیفالٹر ہو ،نسل کشی پر یقین رکھتا ہو،معصوموں کا قتل عام کر رہا ہو، عالمی معاہدوں کی خلاف ورزی کر رہا ہو،  وہ سلامتی  کا مستقل یا غیر مستقل رکن کیسے بن سکتا ہے؟ ایسے میں اگر کشمیریوں کا قتل عام کرنے، پاکستان  کے ساتھ معاہدے توڑنے اور پاکستان کا پانی روکنے ، دریائوں کا رخ موڑنے والے ملک کے حق میں اسلام آباد وٹ دے اور انڈیا کو سلامتی کونسل کا رکن بنا دے تو یہ اصولوں کے سراسر منافی ہو گا۔ لیکن پاکستان نے یہ اصول توڑ دیئے۔ 
عمران خان حکومت اپنی امن پسندی دکھانا چاہتی ہے۔ دنیا کو مثبت پیغام دینا چاہتی ہے۔ شاید عمران خان یا ان کے آس پاس گروہ کے لوگ نہیں جانتے کہ یہی طرز عمل ان سے پہلے کے حکمرانوں نے بھی اپنایا ، ان کے رفقاء میں شامل پرویز مشرف کے احباب گواہ ہیں کہ بھارت نے ان مثبت پیغامات کو پاکستان کی کمزوری سے تعبیر کیا۔ بھارت سمجھا کہ پاکستان جھک گیا ہے۔ اس لئے سب کچھ نظر انداز کیا گیا۔ تو کیا عمران خان حکومت بھی ماضی سے کوئی سبق نہ لینے پر کمر بستہ ہو چکی ہے جو اس نے بھارت کا راستہ روکنے کے بجائے اسے کشمیریوں کی نسل کشی کرنے کی کھلی چھوٹ دے دی۔ پاکستان نے بھارت کو دنیا میں اپنے تعلقات بڑھانے کا مزید موقع دے دیا۔ 
بھارت کو سفارتکاری پھیلانے کے لئے ووٹ دیا گیا۔سلامتی کونسل اقوام متحدہ کے چھ اہم اداروں میں سے ایک ہے۔ اور اس کی ذمہ داریوں میں دنیا میں امن اور سلامتی کو یقینی بنانا، اقوام متحدہ کی نئی رکنیت اور اس کے چارٹر میں تبدیلیوں کی منظوری دینا  شامل ہیں۔سلامتی کونسل مجموعی طور پر پندرہ اراکین پر مشتمل ہے جن میں پانچ مستقل اور دس غیر مستقل اراکین ہیں۔مستقل اراکین تاحیات رکنیت کے حامل ہیں۔ ان میں امریکہ، روس، چین، فرانس، برطانیہ شامل ہیں۔دنیا کی ان پانچ بڑی طاقتوں کو مستقل اراکین کی حیثیت سے ویٹو کی طاقت حاصل ہے جس کے ذریعے وہ کونسل کے کسی بھی فیصلے کو رد کر سکتے ہیں۔غیر مستقل اراکین کونسل کے اجلاسوں میں ہونے والی بحث میں حصہ لیتے ہیں اور فیصلوں پر ہونے والی ووٹنگ میں حق رائے دہی استعمال کر سکتے ہیں۔ تاہم ان کے پاس ویٹو پاور نہیں ہے۔غیر مستقل رکنیت دنیا کے مختلف خطوں کو دی جاتی ہے اور اسی مخصوص فارمولے کے تحت براعظم ایشیا اور افریقہ سے پانچ پانچ ملک کونسل کے غیر مستقل اراکین بنتے ہیں۔ غیر مستقل اراکین کے لیے کونسل کی رکنیت کا دورانیہ دو سال ہے۔ یوں ہر دو سال بعد نئے غیر مستقل اراکین کا انتخاب کیا جاتا ہے۔بھارت اس سے قبل میں بھی کونسل کا غیر مستقل رکن رہ چکا ہے جبکہ اس کے فورا بعد پاکستان کو موقع حاصل ہوا تھا۔عام طور پر بھارت اور پاکستان ایک دوسرے کی مخالفت کا کوئی موقع ضائع نہیں کرتے‘حال ہی میں ہونے والے ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میںبھارت  نے پوری طاقت اور سرگرمی سے اسلام آباد کے خلاف لابنگ کی۔اسی طرح اسلام آباد بھی بھارت کی سلامتی کونسل کا مستقل رکن بننے کی کوششوں کی ہمیشہ مخالفت کرتا رہا ہے‘تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان نے کونسل کے غیر مستقل رکن کے انتخاب میں اپنے دیرینہ دشمن کی حمایت کیوں کی؟  ایشیا پیسیفک خطے سے تعلق رکھنے والے جن 55اراکین نے بھارت کے حق میں ووٹ استعمال کیا۔ ان میں پاکستان اور چین سمیت ایران، عراق، سعودی عرب، ترکی، ریاستہائے متحدہ عرب (یو اے ای)، نیپال، سری لنکا، افغانستان، بھوٹان، برونائی، کمبوڈیا، قبرص، کوریا، فیجی، انڈونیشیا، جاپان، اردن، قزاقستان، کویت، قطر، فلپائن، کرغزستان، لاوس، لبنان، ملائشیا، مالدیپ، مارشل آئی لینڈ، منگولیا، میانمار، اومان وغیرہ شامل تھے۔اگر چہ  یہ ووٹ دراصل پورے گروپ کی طرف سے پڑتا ہے۔ اس میں ایک ملک ذاتی طور پر کچھ نہیں کر سکتامگر پاکستان نے ٹوکن کے طور پر مخالفت میں اپنا ووٹ نہ ڈالا، آئندہ دو سال کے لیے ایشیا پیسیفک گروپ سے ایک غیر مستقل رکن منتخب ہونا تھااور ایسے میں گروپ مجموعی طور پر ووٹ کا حق استعمال کرتا ہے۔یہ حقیقت ہے کہ آئندہ دو سال کے لیے غیر مستقل رکن کی یہ سیٹ ایشیا کے حصے میں آنی تھی۔ اسی لیے تمام ملکوں بشمول پاکستان نے بھارت کے حق میں ووٹ استعمال کیا۔ پورے گروپ نے بھارت کے حق میں ووٹ دیا اور اگر ایسا نہ ہوتا تو کوئی بھی رکن نہ بن سکتا تھاکیونکہ بھارت کے مقابلے میں کوئی دوسرا امیدوار نہیں تھا۔بھارت کے حق میں ووٹ استعمال کرنے سے پاکستان نے اپنا کیا مثبت تاثر بنانے کی کوشش کی جبکہ بھارت پاکستان کی سفارتی سطح پر مسلسل مخالفت کر رہا ہے۔ پاکستان دنیا کے علاوہ بھارت کوکیا  مثبت اشارہ دے رہا ہے۔پاکستان دنیا کو اگر یہ بتانے کی کوشش کر رہاہے کہ وہ بھارت سے بہتر اور متوازن تعلقات رکھنے کا خواہش مند ہے۔تو اس خواہش کا اظہار پہلے حکمران بھی کرتے رہے ہیں مگر ان کے ہاتھ کچھ نہ آیا۔ پاکستان موقع کا فائدہ اٹھا کر مزید مضبوط بن گیا۔ اس کے لئے پاکستان کی راہ میں رکاوٹیں اورمزید مشکلات پیدا کرنے  کی راہیں ہموار ہو گئیں تو کیا پاکستان کے موجودہ حکمران بھی بھارت کی راہیں ہموار کرنے میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں تا کہ ان کی امن پسندی کا دنیا میں چرچا ہو اور ان کا اقتدار قائم و دائم رہے۔ پاکستان کی قیمت پر ایسا کب تک چلتا رہے گا۔ حکمران اپنے اقتدار کے لئے وطن عزیز کے مفادات کب تک قربان کرتے رہیں گے۔ بھارت کی طرف سے ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کی مخالفت کے بعد پاکستان کا یہ مثبت اشارہ کون سے بہتر نتائج لائے گا۔اس پر موجودہ حکومت ہی کوئی وضاحت جاری  کر سکتی ہے۔ 

تازہ ترین خبریں