10:15 am
بجٹ پاس ہو گیا مگر!

بجٹ پاس ہو گیا مگر!

10:15 am

٭خبروں کا اتوار بازار: بجٹ پاس ہو گیاOسینٹ کے چیئرمین کو ہٹانے پر ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے ارکان باغیO لاہور کا 52کنال کا رائل پام کلب ریلوے کو واپس O بی این پی کے بعد ایم کیو ایم حکومت پر سوارO بلاول کی شادی کا مسئلہ (عمر31 سال)O جنوبی افریقہ کی ٹیم سری لنکا کو بھی لے ڈوبی O وکلا کی پھر ہڑتال! O مولانا کا لاک اِن: ن لیگ و پیپلزپارٹی کا صاف انکارO چشتیاں میں ایم پی اے کے قبضہ سے 85 ایکڑ اراضی واگزار کرا لی گئی۔
 
٭بجٹ پاس ہو گیا۔ مریم نواز، بلاول زرداری، آصف زرداری، فضل الرحمان اور شہباز شریف دیکھتے رہ گئے۔ بہت اعلانات ہوئے، دعوے کئے، ’’بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے۔‘‘ اسمبلی کے اندر ہنگامے کئے، بجٹ کی کاپیاں پھاڑیں، سپیکر کا گھیرائو کیا اور رائے شماری ہوئی تو حکومت کے حق میں 176 اور اپوزیشن کے پاس 146 ووٹ! 30 ووٹوں کا فرق! حکومت کو برقرار رہنے کے لئے 172 ووٹ درکار تھے، بمشکل چار ووٹوں کی اکثریت ملی! باقی 20 ووٹ کدھر گئے؟ بلوچستان نیشنل پارٹی نے دونوں گروپوں کو خوش رکھا، اپوزیشن اور حکومت دونوں کو ووٹ نہیں دیئے، حکومت کو اس کے سات ووٹ مل جاتے تو تعداد 183 ہو جاتی۔ اب یہ جھگڑا تو ختم ہوا مگر حکومت کی یہ کامیابی؟ ہوا، دھوپ اور بارش کے سوا ہر چیز پر عوام کش بجٹ سیاہ آندھی کی طرح چھا گیا ہے۔ سب سے زیادہ اثر روٹی پر پڑ رہا ہے۔ شہباز شریف نے اپنے چنگیز شاہی مزاج کے مطابق دوروپے کی روٹی کا چکر چلایا تھا۔ صوبے میںسٹیل کے ہزاروں تنور تقسیم کر دیئے، تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں کو تنوروں کے معائنے پر لگا دیا۔ وہ بے چارے رات دن روٹیاں لگواتے رہے۔ کچھ ہی عرصے میں یہ منصوبہ ٹھپ ہوگیا۔ آٹا ملوں کو دی گئی اربوں روپے کی سب سڈی ضائع ہو گئی اور تنور جس جس کے ہاتھ آئے وہ گھر لے گیا۔ اب تو عوام کے لئے کوئی سب سڈی بھی نہیں ۔ لاہور میں بجٹ آنے سے پہلے نان اور خمیری روٹی 10 روپے سے بڑھ کر 12 روپے کی بک رہی تھی۔ تنور والوں نے اس کا سائز بھی بہت کم کر دیا تھا، اب یہ روٹی کم از کم 15 روپے کی ملے گی۔ غریب لوگ کیا کریں گے؟ 
تاریخ کی کتابوں میں ایک حوالہ موجود ہے۔ 5 مئی 1789ء کے خونریز انقلاب فرانس کے وقت بادشاہ لوئی شانز دہم (xvi) اور ملکہ میری شاہانہ عیاشیوں میں گم تھے۔ حکومت سخت مقروض تھی۔ بھاری قرضے واپس نہیں ہو رہے تھے۔ بادشاہ نے ملک کے اندر ہر چیز پر بھاری ٹیکس لگا دیئے۔ روٹی بہت مہنگی ہو گئی، غریب لوگوں کی زندگی مشکل ہو گئی تو شاہی محل کا گھیرائو کر لیا۔ ملکہ کے سوال پر شاہی سٹاف نے بتایا کہ لوگ روٹی مانگ رہے ہیں، ملکہ نے جواب دیا کہ روٹی نہیں ملتی تو کیک کیوں نہیں کھاتے؟ بات مختصر کر رہا ہوں۔ انقلاب کے بعدبادشاہ لوئی کو بھاری چُھرے والے گلوٹین کے سامنے کھڑا کیا گیا تو اس نے کہا ’’میں بے قصور ہوں‘‘ چلئے دوسری باتیں کرتے ہیں۔
٭حکومت پر سوار ق لیگ اور بلوچستان نیشنل پارٹی کی چھین جھپٹ ختم ہوئی تو قطار میں کھڑی ایم کیو ایم سوار ہو گئی۔ بی این پی والوں نے بلوچستان میں عوامی مسائل حل کرنے کے لئے اربوں کے فنڈز منظور کرائے (بھاری ٹھیکے تجوریاں) ایم کیو ایم والے بھی بھاری مالیاتی فنڈز کی فہرستیں پکڑے آ گئے۔ حکومت نے کون سے اپنے پاس سے دینے تھے؟ ۔باہر سے ڈالر آ رہے تھے، ایم کیو ایم کے کشکول بھی بھر دیئے۔ مزید وزارتوں کا مطالبہ بھی منظور کر لیا۔ ق لیگ کیوں پیچھے رہتی صرف 5 ارکان کے بل بوتے پر دو وزارتیںپہلے ہی لے چکی تھی۔ اب مونس الٰہی بھی وزیر بن جائیں گے۔ شریفوں اور زرداریوں نے خزانے لوٹے تھے ، اب لٹائے جا رہے ہیں۔ اپنی حکومت بچانے کے لئے خزانہ بلیک میلنگ کے حوالے؟! غالب کا کلام بار بار یاد آ جاتا ہے کہ سارا جسم ہی زخم زخم ہے، مرہم کہاں کہاں لگائوں؟
٭انگریزوں نے ہندوستان پر قبضہ کیا تو جگہ جگہ عالی شان دفاتر، کئی کئی ایکڑوں میں پھیلے گورنر ہائوس، افسروں کی وسیع کوٹھیاں اور کلب تعمیرکرائے۔ لاہور میں 56 ایکڑ کا گورنر ہائوس، پورے باغ جناح پر پھیلا ہوا جم خانہ اور ریلوے کے انگریز افسروں کے لئے نہر کے کنارے 52 کنال کا ریلوے کلب بنا دیا۔ اس کا نام لیڈی گرفن کلب رکھا۔ شاندار عمارت، شراب خانہ، بہت بڑا سوئمنگ پول، ہاکی اور فٹ بال کے میدان اور بقول شیخ رشید پاکستان کا سب سے زبردست گاف کورس، جس میں صرف چند کھلاڑی اکیلے اکیلے ایک چھوٹے سے گیند کو ہٹیں مارتے رہتے ہیں (ضیاء الحق کو یہ کھیل بہت پسند تھا۔ گیند کو ہٹ لگتی تھی یا نہیں، اردگرد اعلیٰ افسر واہ واہ کے ساتھ تالیاں بجانے لگتے تھے) لیڈی گرفن کلب کا نام 2001 تک چلا۔ پھر جنرل مشرف نے اسے ایک منظور نظر پارٹی کو ایک معاہدے کے ذریعے معمولی کرائے پر 30 سال کی لیز پر دے دیا جس میں خود بخود توسیع ہوتی رہنی تھی۔مالکان نے نام رائل پام کلب رکھ دیا۔ اس کے مالکان نے یہاں فائیو سٹار ہوٹل قائم کر کے اربوں کما لئے تو اس معاملہ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا۔ گزشتہ روز سپریم کورٹ کا حکم آ گیا کہ برلب نہر52 کنال (آٹھ ایکڑ چار کنال) کی کھربوں کی یہ زمین ریلوے کو واپس کی جائے اور تین ماہ کے اندر ریلوے اس کا پورا انتظام سنبھال لے۔ وزیر ریلوے نے اس فیصلہ پر مٹھائی بانٹی اور خیال ظاہر کیا ہے کہ اس سے ریلوے کا اربوں کا خسارہ کم کرنے میں بہت مدد ملے گی۔ ابھی ایسی اور بہت سی مثالیں موجود ہیں! لوگوں نے دریائے راوی کے اندر خشک مقامات پر ہائوسنگ سوسائٹیاں بنا کر کروڑوں کما لئے ہیں۔ سیلاب آتا ہے تو ان کے مکین بھاگ کر کناروں پر آ بیٹھتے ہیں!
٭آصف زرداری کو حوالات میں فارغ وقت ملا تو یاد آ گیا کہ بیٹا جوان ہو گیا ہے اس کی شادی کی عمر نکلتی جا رہی ہے۔ سو اعلان کر دیا کہ بلاول کی شادی کر کے میں سیاست سے ریٹائر ہو جائوں گا اوریہ کہ اب بیٹے کے لئے لڑکی ڈھونڈیں گے۔ یہ ان کا ذاتی مسئلہ ہے مگر نیب سے تو جان چھوٹے! نیویارک، لندن، دبئی، کراچی، ملتان، لاہور اور اسلام آباد (شائد پشاور بھی) میں گھر بنا لئے مگر رہائش نیب کی بارہ فٹ، دس فٹ حوالات میں! قدرت کا کیا نظام ہے؟
٭پرانا مقولہ ہے کہ ہم تو ڈوبے ہیں صنم، تم کو بھی لے ڈوبیں گے! جنوبی افریقہ کی کرکٹ ٹیم تو مسلسل شکستوں کے بعد ورلڈ کپ میں اوپر جانے سے محروم ہو گئی،وہ سری لنکا کی ٹیم کو بھی لے بیٹھی جسے سیمی فائنل تک جانے کی تھوڑی سی امید تھی وہ بھی ختم کر دی۔ کھیل کے دوران گرائونڈ پر شہد کی مکھیوں نے حملہ کر دیا۔ اس حملے میں بچائو کا ایک ہی طریقہ ہوتا ہے کہ چپ چاپ اوندھے منہ زمین پر لیٹ جائو۔ شہد کی مکھیوں میں اتنی شرافت ضرور ہوتی ہے کہ لیٹے ہوئے شخص کو کچھ نہیں کہتیں۔ عجیب منظر تھا کہ تمام کھلاڑی اور امپائر بھی اوندھے منہ زمین پر لیٹے رہے۔ بالآخر مکھیاں چلی گئیں۔
 قارئین کرام کو یاد ہو گا کہ لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مولوی مشتاق حسین نے ذاتی انتقام کے لئے ذوالفقار علی بھٹو کو  پھانسی کی سزا سنائی تھی، اس کی لاش پر بھی شہد کی مکھیوں نے حملہ کر دیا تھا!
٭ڈاکٹروزیرآغا (مرحوم) اُردو زبان و ادب کے بین الاقوامی شہرت والے نقاد، شاعر، ادیب اور مشہور ادبی رسالہ ’’اوراق‘‘ کے مالک و چیف ایڈیٹر تھے۔ 1983ء کے اوراق میں ان کے ایک حیران کن مضمون کا ایک اقتباس: لکھتے ہیں کہ ہر انسان کے دماغ کے دایاں اور بایاں دوحصے ہوتے ہیں، دایاں دماغ روائت پسند، خاموش، دانش مند اور رومانی وجدان، صوفیانہ پن اور سنجیدگی کا حامل ہوتا ہے۔ جب کہ بایاں دماغ چُلبلا، ہروقت حرکت میں، مہم جو اور ہنگامہ پسند ہوتا ہے مگر بائیں دماغ کو ساری قوت دائیں دماغ سے ہی ملتی ہے اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ دلچسپ مضمون ہے۔ میں اندازے لگانے بیٹھ گیا ہے کہ ہمارے حکمرانوں اور ان کے چوبداروں کے دماغوں کی کیا صورتِ حال ہے!

تازہ ترین خبریں