07:21 am
نورتن اور ریلو کٹے

نورتن اور ریلو کٹے

07:21 am

ہندوستان ظہیر الدین بابر نے فتح کیا مگر مغل سلطنت کا بانی بلاشبہ جلال الدین اکبر ہے
ہندوستان ظہیر الدین بابر نے فتح کیا مگر مغل سلطنت کا بانی بلاشبہ جلال الدین اکبر ہے، شہزادہ اکبر، سکندر سوری کے تعاقب میں تھا کہ ہمایوں کی موت کی اطلاع ملی، سپہ سالار ہیمو بقال نے تخت دھلی پر قبضہ کیا اور شہزادے کو اطاعت کیلئے طلب کیا۔ بوڑھے جرنیل بیرم خان نے گورداسپور میں اینٹوں کا چبوترہ بنا کر 14 سالہ شہنشاہ اکبر کی رسم تاجپوشی  ادا کی۔ بیرم خان کمک کے انتظار کا مشورہ دیتا ہے مگر پرجوش اکبر صرف 200 ساتھیوں کے ساتھ پانی پت میں ہیمو بقال کے لشکر کو شکست فاش سے دوچار کر کے فاتح ٹھہرتا ہے۔ لگ بھگ 50 سال بعد جب اکبر دنیا سے رخصت ہوا تو سلطنت میں ہندوستان، کشمیر، بنگال، افغانستان اور سری لنکا شامل، خزانے بھرے ہوئے، ریاست مستحکم، عوام خوشحال، کیا یہ سب تن تنہا اکبر کا کارنامہ تھا؟ نہیں جناب ایسا ہرگز نہیں، نوجوان اکبر اگرچہ اس زمانے کے شہزادوں کی طرح پڑھا لکھا نہ تھا مگر شجاع، ذہین اور جوہر شناس ضرور تھا، اکبر کی ٹیم آج بھی نورتن کے حوالے سے معروف ہے۔ گوکہ ہم نورتن کو صرف ملا دو پیازہ اور بیربل کے حوالے سے جانتے ہیں مگر انہی نورتنوں میں شاعر، ادیب، دانشور ابوالفیض فیضی اور ابوالفضل جیسے عالم و دانشور، راجہ ٹوڈر مل جیسا با حکمت وزیر، راجہ مان سنگھ جیسا جری سالار، مرزا عزیز کوکلتاش جیسا مشیر، عبدالرحیم خانخاناں جیسا مدبر اور تان سین جیسے عظیم گلوکار شامل تھے۔ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں کسی بھی عظیم لیڈر کے پیچھے اسکی ٹیم کھڑی نظر آئیگی، لیڈر اپنی ٹیم میں کتنے باصلاحیت ہیروں کو جمع کرتا ہے، یہی اسکی پہلی پہچان ہوتی ہے۔
وزیر اعظم عمران خان نے بھی حکومت بنتے ہی اپنی ٹیم بنائی، اسد عمر تحریک انصاف کا معاشی تھنک ٹینک اور وہ واحد شخص تھے جنہیں حکومت بننے سے پہلے ہی وزیر خزانہ کا منصب سونپا گیا تھا مگر نو ماہ میں ہی فارغ ہو گئے۔ دوسری اہم وزارت اطلاعات کی تھی جہاں فواد چوہدری کو تعینات کیا گیا، ماشااللہ فواد چوہدری  نہ صرف بیشتر سیاسی گھاٹوں کا پانی پی چکے ہیں بلکہ دریدہ دہنی کے حوالے سے شہرت بھی رکھتے ہیں، انہیں وزیر اطلاعات فائز کرنے پر سب کو حیرت تھی مگر کپتان فیصلہ کر چکے تھے۔ تو جناب ہوا کچھ یوں کہ کچھ ہی عرصے میں چوہدری صاحب نے دوستوں کو بھی دشمن بنا دیا، قومی اسمبلی اور سینیٹ میں چنگھاڑتے رہے، سینیٹ میں داخلہ ممنوع ٹھہرا، پریس کلبز نے پابندی لگا دی۔ حکومت کا ترجمان مذاق بن کر رہ گیا سو انہیں بھی وزارت سے ہاتھ دھونا پڑے۔ وزارت داخلہ اہم ترین ہے سو وزیر اعظم کے پاس ہے مگر شہریار آفریدی وزیر مملکت ٹھہرے، سو جلد انہیں بھی فارغ ہونا پڑا۔ عامر کیانی وزیر صحت بنے مگر گھر جانا پڑا۔ غلام سرور خان بغض چوہدری نثار میں وزیر پیٹرولیم بنے مگر بوجھ بن گئے۔ اگرچہ عمران خان نے ان تبدیلیوں کو کارکردگی سے مشروط قرار دیا ہے مگر سب جانتے ہیں یہ ان میںسے بعض پرمبینہ کرپشن، اقربا پروری اور اختیارات سے تجاوز کے بھی الزامات ہیں۔ اعظم سواتی سائنس و ٹیکنالوجی کے وزیر بنے، اسلام آباد کے فارم ہائوس کے قریب غریبوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے، سپریم کورٹ میں معتوب ٹہرنے کے بعد وزارت ہاتھ سے گئی، مگر سابق چیف جسٹس کے جاتے ہی دوبارہ پارلیمانی امور کے وزیر ٹھہرے۔ بابر اعوان نے نندی پور ریفرنس میں ملوث ہونے کے باعث استعفیٰ دیا، اب وہ عدالت سے بری ہو چکے ہیں سو دوبارہ وزارتی دوڑ میں شامل ہیں۔ بہرحال حضور صورتحال کچھ یوں ہے کہ کارکردگی کچھ بھی ہو مگر قیادت اعلی کی جوہر شناسی پر تو حرف آتا ہے، ایک سال کے دوران اتنی بڑی تبدیلیاں قیادت پر سوالیہ نشان تو ہیں۔
اب صورتحال یہ ہے کہ نورتن بدل چکے ہیں، منتخب حکومت کی بیشتر نمائندگی آزمودہ غیر منتخب رتنوں کی مرہون منت ہے۔ وزیر خزانہ کی پہچان آئی ایم ایف اور پیپلز پارٹی ہے معاون خصوصی اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان بھی ماشااللہ پیپلز پارٹی میں اسی عہدے پر فائز رہیں۔ ویسے تو شاہ محمود قریشی، اعجاز شاہ، فہمیدہ مرزا، ندیم افضل چن، نورالحق قادری، اعظم سواتی، صمصام بخاری سمیت کئی وزیر و مشیر زرداریات کا حصہ رہ چکے ہیں جبکہ زبیدہ جلال، عمر ایوب، رزاق دائود، شفقت محمود، محمد میاں سومرو، خسرو بختیار، طارق بشیر چیمہ اور شیخ رشید مشرفیات کے سپاہیوں کا فریضہ انجام دے چکے ہیں۔ جہانگیر ترین وزرا سے بھی زیادہ طاقتور ہیں، بیشتر ایسے جو حسب استطاعت کئی کئی سیاسی گھاٹوں کی پہرہ داری کا تجربہ رکھتے ہیں۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ تحریک انصاف کا نظریاتی کارکن جانے کب کا بچھڑ چکا ہے، سو نظریات بھی کہیں پیچھے رہ گئے، کپتان ریلو کٹوں کے حصار میں ہیں۔ ایک بیچارے فیاض الحسن چوہان بھی ہوا کرتے تھے، گھاٹ گھاٹ کا تجربہ تھا مگر اپنی ہی زبان کے ہاتھوں شہید ہوئے، فواد چوہدری کا حشر سامنے ہے اطلاعات گئی تو سائنس و ٹیکنالوجی کے مسند پر جا بیٹھے، ہاتھ اور زبان پر قابو نہ رکھنے کے مرض میں مبتلا ہیں، سوشل میڈیا حکایتوں اور شکایتوں سے بھرا پڑا ہے۔ ایک فیصل واوڈا صاحب ہوتے ہیں، نہ صرف بلند آواز میں سوچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں بلکہ بسا اوقات تو ٹوئٹر پر بھی خیالی محلات بنانے پر قادر ہیں،  مجھے تو لگتا ہے کہ ف کا حرف کپتان کو راس نہیں آتا، اب دیکھیں فردوس بی بی کا کیا ہوتا ہے؟
سنا کرتے تھے غریب ممالک کی کابینہ 10 سے زائد ہونا عیاشی ہے، سو اب 55 ارکان کی ہے۔ یہ بھی سنا تھا کہ وزیر اعظم ہائوس میں 524 ملازم تھے، وزیر اعظم ہائوس یونیورسٹی بن رہا ہے، وزیر اعظم ملٹری سیکرٹری کے گھر میں قیام کرینگے، سادگی اور قناعت، گاڑیاں اور بھینسیں بھی نیلام کر دی گئیں۔ مگر جانے کیوں  وزیراعظم ہائوس کا  بجٹ 96 کروڑ سے ایک ارب 9 کروڑ ہو گیا، جا نے  کیوں اس بار بجٹ میں صرف تنخواہوں کی مد میں 35 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔ جانے کیوں اسٹیٹ بینک کہتا ہے کہ قوم پر ہر سال قرضہ 2 ہزار 319 ارب بڑھا کرتا تھا مگر اس سال 5 ہزار 215 ارب روپے یعنی دوگنا ہو چکا ہے۔ ڈالر 165 کو چھو رہا ہے، پیٹرول، ڈیزل، بجلی، گیس سب مہنگی، کھانے پینے کی اشیا نایاب، کاروں کی قیمتوں میں 4 سے 5 پانچ لاکھ اضافہ، دوائیں دوگنا قیمت پر، عوام کی سانسیں رک رہی ہیں، غریب آدمی کا جینا مشکل ہے، کسے وکیل کریں کس سے منصفی چاہیں، پہلے تجربہ کار معاشی و سیاسی خرکاروں  کے ہاتھوں لٹے، اب ناتجربہ کار نیکو کاروں کے ہاتھوں لٹ رہے ہیں، لیکن بس گھبرانا نہیں ہے۔ ایک سال بعد تحریک انصاف ہر کجی و خامی کو گزشتہ حکومتوں کا کارنامہ قرار دے رہی ہے، گزشتہ حکومتیں پورے پانچ سال یہی کیا کرتی تھیں، حوصلہ رکھیں ابھی چار سال باقی ہیں۔ پارلیمنٹ سلیکٹڈ، الیکٹڈ، ریجیکٹڈ کی بحث میں پھنسی ہے، اپوزیشن آل پارٹیز کانفرنس کے بعد بھی کچھ کرنے کے قابل نہیں، سیاست، ریاست کو نگلتی جا رہی ہے۔
ایسا نہ سمجھیں کہ مجھے تحریک انصاف کی ہر چیز میں عیب نظر آتا ہے، کپتان نیک نیت ہیں مگر نیک اعمال بھی ضروری ہیں، صرف نیت سے کام نہیں بنا کرتا۔ رابندر ناتھ ٹیگور کو خلیل جبران بنایا، جرمنی و جاپان پڑوسی بنے، گولان کی پہاڑیاں فلسطین کو بخشیں، میں نہیں گھبرایا۔ شراب کو شہد بنتے دیکھا، ہیلی کاپٹر کا 55 روپے کلومیٹر سفر کیا، ہرشل گبز کو بھی عمران خان بنتے دیکھا، ملک میں تیل نکلتے اور تین ہفتوں میں ہزاروں نوکریاں بٹتے دیکھا، اس کے باوجود میں نہیں گھبرایا۔ لیکن بھائی کمزور انسان ہوں جب یہ سوچتا ہوں کہ نورتنوں میں کتنے ریلو کٹے ہیں تو یقین جانیں پسینے چھوٹ جاتے ہیں، دل کی دھڑکن بے قابو اور اعصاب شل ہو جاتے ہیں، مگر گھبراتا پھر بھی نہیں ہوں۔

 

تازہ ترین خبریں