07:24 am
اے پی سی  یا ’’ متاثرین‘‘ کا اجتماع؟

اے پی سی یا ’’ متاثرین‘‘ کا اجتماع؟

07:24 am

جو ن کو پاکستان کی حزب اختلاف کی جماعتیں ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں یہ فیصلہ کیا جانا تھا
26 جو ن کو پاکستان کی حزب اختلاف کی جماعتیں ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں یہ فیصلہ کیا جانا تھا کہ موجودہ حکومت کو گرایا جائے یا پھر اس کو اپنا ٹرم پورا کرنے کا موقع دیا جائے۔ حزب اختلاف کی جماعتوں کا یہ اجلاس وہ عناصر ملکر کررہے تھے جن پر کرپشن سے متعلق مقدمات قائم ہیں ۔ پی پی پی کے   زرداری نیب کی تحویل میں ہیں جب کہ مسلم لیگ (ن) رہنما نواز شریف سات سال کی قید بھگت رہے ہیں ۔فضل الرحمن اس لحاظ سے آزاد ہیں کہ ان پر کسی قسم کا فی الحال کوئی مقدمہ نہیں ہے لیکن وہ مذہب کو سیاست میں استعمال کرنے کا گر اچھی طرح جانتے ہیں اس لیے وہ اکثر موجودہ حکومت کو گرانے کی دھمکیاں بھی دیتے رہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ مدرسوں میں زیر تعلیم طلبا کو  سڑکوں پر لاکر حکومت کے لیے مسائل کھڑے کر سکتے ہیں اس لیے یہ کہا جاسکتا ہے آل پارٹیز کانفرنس کا اجتماع دراصل متاثرین کا اجتماع تھا جن پر موجودہ حکومت کا عتاب ان کے کرتوتوں کی وجہ سے نازل ہو اہے ۔ تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ اجلاس حکومت کو گرانے میں کامیاب نہیں ہو سکے گا اور نہ انہیں اس سلسلے میں عوام کا تعاون حاصل ہو گا کیونکہ آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کرنے والی دو بڑی پارٹیوں کے سربراہ کر پشن میں ملوث پائے گئے ہیں اور یہی وہ عناصر جو حکومت کو کسی طرح گرانا چاہتے ہیں یا پھر غیر فعال کرنا چاہتے ہیں لیکن دونوں صورتحال میں یہ کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔
مسلم لیگ (ن) میں  شہباز شریف کی میثاق معیشت سے متعلق حکومت کو پیش کردہ تجویز سے ددراڑیں پڑ گئی ہیں ۔ مریم نواز انے اپنے چچا کی میثاق معیشت کی تجویز کو رد کردیا ہے اور کہا ہے کہ موجودہ حکومت کے ساتھ کسی قسم کا تعاون نہیں ہو سکتا ہے ۔ مریم کی ناراضگی کی بڑی وجہ یہ ہے کہ نواز شریف کو علاج کی غرض سے باہر جانے کے سلسلے میں تمام درخواستیں عدالتوں نے مسترد کر دی ہیں اور کہا ہے کہ انہیں کوئی خاص مرض لاحق نہیں ہے ۔ ان کی بیماری کے سلسلے میں ان کی بیٹی اور دیگر رہنما یہ پروپیگنڈہ کر کے حکومت پر دبائو ڈال رہے ہیں کہ انہیں علاج کی غرض سے لندن جانے کی اجازت ملنی چاہیے دراصل میاں نواز شریف جن نا مساعد حالات سے دوچار ہیں وہ ان ہی کے پیدا کردہ ہیں وہ موجودہ حکومت کے خلاف دل میں کینہ رکھتے ہیں اور اس ہی قسم کے ان کے خیالات اسٹیبلشمنٹ سے متعلق بھی ہیںحالانکہ وہ خود بھی تین مرتبہ وزیر اعظم اسی اسٹیبلشمنٹ کی مدد اور تعاون سے بنے تھے لیکن تیسری مرتبہ اقتدار ملنے کے بعد وہ اپنی اوقات بھول گئے تھے اور ان ہی اداروں کے خلاف برہنہ شمشیر لیکر کھڑے ہوگئے تھے جنہوں نے انہیں ’’ عروج‘‘ عطا کیا تھا۔ اب وہ اپنی چرب زبان بیٹی مریم نواز کے ذریعہ عمران خان اور ان کی حکومت کے خلاف تنقید کر کے جذباتی  کارکنوں کو سڑکوں پر لانے کی دھمکیاں دے رہی ہیں لیکن کارکن اورعوام کی اکثریت ان بازی گروں کو پہچان چکی ہے وہ ان کی چکنی چپڑی باتوں میں نہیں آئیں گے اور نہ ہی معاشرتی حالات اتنے سازگار ہیں کہ سڑکوں پر آکر ان کرپٹ عناصر کا ساتھ دیں۔
چنانچہ اے پی سی میں یہ کہا گیا ہے کہ مو جو د ہ  حکومت کو سڑکو ں کی طاقت کے ذریعہ فارغ کرنے کی کوشش کی جائے یا پھر پارلیمنٹ کے اندر ؟جہاں تک سڑکوں کی طاقت کا تعلق ہے میں بالائی سطور میں لکھ چکا ہوں کہ یہ ممکن نہیں ہے ۔ عوام اپنے مالی حالات جس میں مہنگائی سر فہرست ہے اتنے بیزار ہوچکے ہیں کہ وہ اپنے کرپٹ سیاست دانوں پر اعتماد نہیں کرنا چاہتے ہیں اور نہ ان کے لیے سڑکوں پر نکل کر پولیس کے ڈنڈے کھائیں گے ۔ رہی پارلیمنٹ کے اندر تبدیلی لانے کو کوشش تو یہ بھی کامیاب نہیں ہو سکتی کیونکہ اگر اسمبلی میں عدم اعتمادکے ووٹ سے حکومت کو فارغ بھی کر دیا جاتا ہے تو نئی حکومت کون تشکیل دے گا؟کیا یہی کرپٹ عناصر دوبارہ اقتدار میں آسکتے ہیں؟ غالباً یہ ممکن نہیں ہے اس لیے اسمبلی میں بھی موجودہ حکومت کو فارغ کرنے کی تمام کوششیں نقش برآب ثابت ہوں گی۔ رہا یہ سوال کہ کیا حکومت کے ساتھ میثاق معیشت کیا جانا چاہیے یا نہیں اس پر یقینا کھل کر بحث ہو گی۔ یہ تجویز شہباز شریف نے پیش کی تھی جس کی آصف علی زردار ی نے بھی حمایت کی ہے بلکہ انہوں نے کہا کہ پہلے پاکستان کو بچانے کے لیے آگے کی طرف دیکھنا چاہیے ۔
 تاہم دیگر سیاسی پارٹیاں (زیادہ تر تانگہ پارٹیاں ) موجودہ حکومت کے ساتھ کسی قسم کا میثاق کرنے کو تیا ر نہیں ہیں لیکن وہ اے پی سی کے دوران بحث میں موجودہ حکومت کے خلاف اسمبلی کے اندر اور باہر ہنگامہ برپا کرنے کی تجویز  دے چکی ہیں تاکہ موجودہ حکومت یکسوئی کے ساتھ حکومت نہ کر سکے ۔ جو عناصر ہنگامہ کرنے کے لیے اے پی سی میں بحث کے دوران زور  دے رہے تھے۔یہ وہی عناصر ہیں جو غیر ملکی طاقتوں کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں ۔ پاکستان کی ترقی، خوشحالی اور سیاسی و معاشرتی استحکام کے دشمن ہیں لیکن موجودہ صورتحال میں شہباز شریف کی میثاق معیشت کے حوالے سے تجویز پاکستان کے مفاد میں ہے کیونکہ جب تک پاکستان خراب معاشی صورتحال سے باہر نہیں نکلے گا۔ سیاسی و سماجی حالات میں بہتری کے آثار نمایاں نہیں ہو سکتے ہیں ۔ پاکستان کے دشمن ممالک پاکستان کے اندر اپنے ایجنٹوں کے ذریعے پاکستان کو مسلسل سیاسی عدم استحکام میں رکھنا چاہتے ہیں تاکہ معاشی ترقی ممکن نہ ہوسکے اور عوام کی مالی اور معاشی بہتری لانے کی تمام کوششیںکامیابی سے ہمکنار نہ ہو سکیں۔ ذرا سوچیے!

 

تازہ ترین خبریں