07:28 am
سیاست میں مذہب کے استعمال کا مغالطہ

سیاست میں مذہب کے استعمال کا مغالطہ

07:28 am

ولانا فضل الرحمن تو پہلے ہی آسمان سیاست پر چودھویں کے چاند کی طرح چمک رہے ہیں اور ہمارے دل میں
مولانا فضل الرحمن تو پہلے ہی آسمان سیاست پر چودھویں کے چاند کی طرح چمک رہے ہیں اور ہمارے دل میں ان کی بہت قدر و منزلت بھی ہے لیکن ’’مولانا‘‘ کی ایک ’’ادا‘‘ نے ان کے قد کاٹھ کو مزید بلند کر دیا ہے‘ آل پارٹیز کانفرنس کے اعلامیہ میں انہوں نے توہین صحابہؓ کا معاملہ شامل کروانے کی کوشش کی تو آکسفورڈ مارکہ بلاول زرداری نے یہ کہہ کر اس کی مخالفت کر دی کہ وہ سیاست میں مذہب کے استعمال کے مخالف ہیں‘ یاد رہے کہ یہ توہین صحابہؓ والا وہی معاملہ ہے کہ بلاول کی پارٹی‘ مسلم لیگ (ن) کے ساتھ مل کر جے یو آئی کی حمایت میں قومی اسمبلی میں جس پر سخت احتجاج کر چکی تھی۔
سوال یہ ہے کہ اگر وزیراعظم کی تقریر میں توہین صحابہؓ کا کوئی پہلو نہیں تھا تو پھر اپوزیشن جماعتوں نے جے یو آئی کے ساتھ مل کر قومی اسمبلی اور سینٹ میں کئی دنوں تک احتجاج کیوں کیا تھا؟ جس معاملے پر قومی اسمبلی اور سینٹ میں اپوزیشن جماعتیں احتجاج کرچکی ہوں‘ صرف قومی اسمبلی یا سینٹ میں ہی نہیں پنجاب اسمبلی میں بھی توہین صحابہؓ کے  جس معاملے پر قراردادیں پیش ہوچکی ہوں اس معاملے کو اگر مولانا فضل الرحمن اے پی سی کے مشترکہ اعلامیہ میں شامل کروانا چاہتے تھے تو یہ ’’سیاست‘‘   میں ’’مذہب‘‘ کا استعمال کیسے ہوگیا؟
’’جہالت‘‘کی بین الاقوامی یونیورسٹی آکسفورڈ  کے نظام تعلیم میں سیاست میں ’’لسانیت‘‘ کا استعمال تو جائز ہے...سیاست میں منی لانڈرنگ اور کرپشن کا استعمال تو جائز ہے ‘ سیاست میں بھتہ خوری اور عزیر بلوچ ٹائپ دہشت گردوں کا استعمال تو جائز ہے۔
سیاست میں کالعدم امن کمیٹی کا استعمال تو جائز ہے‘ ہاں البتہ اگر کسی اعلامیہ میں توہین صحابہؓ یا توہین رسالتؐ کے خلاف معاملہ شامل کرنے کی کوشش کی جائے تو وہ بالکل نا جائز او رحرام ہے۔
مولانا فضل الرحمن کو بھی چاہیے کہ وہ کم سنوں کو بچوں ہی کی طرح ٹریٹ کیا کریں‘ جیسے ان کی موجودگی میں اسد محمود قائد نہیں بن سکتا تو اسی کے ہم عمر یا اس سے بھی کم عمر‘ بلاول کو ان کے ابا آصف علی زرداری کی زندگی میں ’’قائد‘‘ کیسے مانا جاسکتا؟
محترمہ کی شہادت کے بعد برآمد ہونے والی وصیت صرف پیپلزپارٹی والوں کے لئے تھی۔ ’’سیاست‘‘ میں  صرف مذہب کا ہی نہیں بلکہ لسانیت‘ صوبائی تعصب‘ فرقہ واریت‘ منی لانڈرنگ‘ بھتہ خوری‘ لوٹ مار‘ کرپشن‘ قبضہ گروپوں‘ دہشت گردی غرضيکہ کسی بھی چیز کا استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ ہاں البتہ اگر کوئی حکمران‘ سیاست دان یا کوئی بھی فرد توہین رسالتؐ‘ توہین صحابہؓ یا اسلامی شعائر کی توہین کا مرتکب ہوتا ہے تو اس کے خلاف احتجاج کرنا اس کے خلاف بات کرنا‘ اس کے خلاف مشترکہ اعلامیے میں کوئی شق شامل کرنا‘ سیاست میں مذہب کا استعمال نہیں‘ بلکہ مذہب سے محبت کرنے والے کروڑوں مسلمانوں کے  حقوق کا دفاع کرنا کہلائے گا۔
 پاکستان لاکھوں عشاق صحابہؓ کی قربانیوں کی بدولت حاصل ہوا تھا‘ یہاں پر صحابہ کرامؓ اور اہل بیت اطہارؓ کے 22کروڑ ماننے والے بستے ہیں‘ اس لئے صحابہؓ یا اہل بیتؓ اطہار کی عزت‘ عظمت اور رفعت سے متصادم کوئی بات برداشت کرنے کا حوصلہ کسی سچے مسلمان میں نہیں ہوسکتا‘ میں سمجھتا ہوں کہ مولانا فضل الرحمن نے اپوزیشن کو متحد کرنے کے چکر میں کل کے بچوں کو اتنا سر پر چڑھا لیا ہے کہ وہ اب لادینیت کے ایجنڈے کی فیور میں ان کے منہ لگنے لگ گئے ہیں‘ اگر اپوزیشن  اعلامیہ میں توہین صحابہؓ کے کسی مرتکب کے خلاف بات شامل نہیں ہوسکتی۔ تو پھر پاکستان میں بسنے والے 22کروڑ مسلمان ایسی ’’اپوزیشن‘‘ کا ساتھ کیونکر دیں گے؟
کیا رسول اکرمﷺ ‘ حضرت سیدنا صدیق اکبرؓ‘ سیدنا فاروق اعظمؓ‘ سیدنا عثمان غنیؓ‘ سیدنا علی المرتضیٰؓ‘ بدر‘ احد‘ خندق‘ حنین‘ خیبر‘ تبوک‘ یرموک‘ قادسیہ‘ یمامہ سمیت 27غزوات   میں شامل صحابہ کرامؓ کا ہم پر کوئی حق نہیں ہے؟
جن صحابہ کرامؓ نے رسول اللہﷺ کی حفاظت کی خاطر اپنے جسموں کے ٹکڑے کروالئے‘ اپنے بچے قربان کر دئیے‘ اپنا گھر‘ باہر‘ زمینیں‘ کاروبار چھوڑ کر ہجرت کو قبول کرلیا‘ جن صحابہ کرامؓ کو کافروں نے تیل کے  ابلتے کڑاھوں میں ڈال کر بھون ڈالا‘ جن صحابہ کرامؓ کو تپتی ریت پر گھسیٹا گیا‘ جلتے انگاروں پر لٹایا گیا جن صحابہ کرامؓ کو مشرکین مکہ  نے مار‘ مار کر ان کی چمڑیاں ادھیڑ ڈالیں۔
اہل بیتؓ کے قدسی نفوس کو کربلا کے میدان میں ظلم و جبر کا نشانہ بنا کر انہیں خاک و خون میں تڑپا گیا‘ اگر اسلامی جمہوریہ پاکستان کی اپوزیشن جماعتیں اپنے اعلامیے میں ان کی مقدس ہستیوں کے دفاع میں کی جانے والی بات کو بھی سیاست میں مذہب کے استعمال کے مترادف سمجھتی ہے...تو پھر ایسی اپوزیشن پر پاکستان میں  بسنے والے کروڑوں عشاق صحابہؓ و اہل بیتؓ کبھی بھی اعتماد کرنے کے لئے تیار نہیں ہوں گے۔
شاعر مشرق تو فرماتے ہیں کہ
جدا ہو دیں سیاست سے
تو رہ جاتی ہے چنگیزی
آخر میں مولانا فضل الرحمن سے گزارش ہے کہ وہ اپنے ساتھ وابستہ ان مولوی صاحبان کی بھی گوشمالی فرمائیں کہ ’’جوکم سنوں‘‘ کے ساتھ سیلفیاں بنا کر اغیار کو علماء کے خلاف ہنسنے کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔

 

تازہ ترین خبریں