07:29 am
 روح پر جھریاں نہ پڑ جائیں!

روح پر جھریاں نہ پڑ جائیں!

07:29 am

سنسنی خیز خبروں کی کمی نہیں ! بجٹ پاس ہوا اور حکومت کی جان میں جان آئی ۔ عوام کی البتہ جان نکلی جا رہی ہے۔
  سنسنی خیز خبروں کی کمی نہیں ! بجٹ پاس ہوا اور حکومت کی جان میں جان آئی ۔ عوام کی البتہ جان نکلی جا رہی ہے۔ پارلیمان کے یخ بستہ ماحول میں گرما گرم تقریروں ، ہوٹنگ اور اچھل کود سے عوام کو کچھ حاصل نہیں ہوا ۔ ایک کالم نگار نے قوم کے غم میں گھلے جا رہے قائدین کی بجٹ اجلاس میں عدم دلچسپی اور چھچھور پن کا تفصیل سے تذکرہ لکھا تو اکبر الہ آبادی کا یہ شعر یاد آیا !
قوم کے غم میں ڈنر کھاتے ہیں حکام کے ساتھ
رنج لیڈر کو بہت ہیں مگر آرام کے ساتھ
تقریری دنگل بپا ہوا ۔ کون جیتا کون ہارا کچھ پتا نہیں ۔ بے مقصد شعلہ بیانی سے عوام کو نہ کچھ پہلے ملا نہ اب کچھ حاصل ہو گا ۔ پارلیمان کے متعلق یہ شعر ہی کافی ہے
سب کر رہے ہیں آہ و فغاں
سب مزے میں ہیں!
 اے پی سی کا بڑا دھوم دھڑاکا ہوا۔ طبلِ جنگ بجا تو سہی لیکن بات زبانی گولہ باری سے آگے نہیں بڑھی ۔ شنید ہے پارلیمان سے استعفوں کی تجویز پر تجویز کنندہ کے علاوہ سب کا اتفاق ہو گیا کہ کچھ بھی ہو جائے لیکن استعفے نہیں دیئے جا ئیں گے ۔سماں تو ایسا باندھا گیا تھا کہ حزب اختلاف کی احتجاجی یلغار سے نومولود حکومت کا دھڑن تختہ ہوجائے گا لیکن آتش فشاں پھٹنے سے پہلے دھواں دے کے سرد ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ حکومت کے پرخچے اُڑانے پر تُلے بیٹھے جغادریوں کی شعلہ بیانیوں کے بعد یکلخت ٹھنڈی لسی کی جھاگ کی طرح بیٹھ جانے پر تیمور علی تیمور کا شعر یاد آگیا ۔
مرا ارادہ ہے اس شہر کو جلا دوں میں
جو تو کہے تو ارادہ بدل بھی سکتا ہے
 دلچسپ بات یہ کہ جو اسمبلی میں ہیں وہ اندر رہ کے جد وجہد کرنا چاہ رہے ہیں جبکہ وہ اصحاب جو ناگزیر وجوہات کی بنا پر کسی طرح اسمبلی میں جانے سے رہ گئے تھے وہ اب اندر والوں کو مستعفی ہو کے اسمبلی سے باہر آنے کے مشورے دے رہے ہیں ۔ کون کون اندر ہے اور کون کون باہر ہے ؟ یہ تو سب ہی جانتے ہیں ۔ اندر اور باہر کا چکر بھی دلچسپی سے خالی نہیں ۔ کچھ جماعتوں کے قائدین اپنے سہولت کاروں سمیت جیل کے اندر ہیں ‘ جبکہ کچھ ان کی پیروی میں جیل کے اندر جانے کے تکلیف دہ عمل سے گذر رہے ہیں ۔ یہ بات بھی غور طلب ہے کہ بعض شخصیات کو جیل کے اندر جانے کے لیے  اسمبلی کے اندر سے ہو کے جانا پڑ رہا ہے۔ نیب کی ڈالی خراشوں پر پروڈکشن آرڈر کی مرہم سے کچھ ٹھنڈ پڑ جاتی ہے ۔ پارلیمان کے ائیر کنڈیشنر کی ٹھنڈی ہوا سے عارضی آرام تو ملتا ہے لیکن شفائے کاملہ کے لیے کوئی طبیب دستیاب نہیں ہو پارہا ۔ سیاسی مریضوں کا علاج قائد اعظم کے غریب مسکین پاکستان میں ممکن بھی نہیں ۔ یہ سہولت برطانیہ ، دبئی اور امریکہ وغیرہ میں دستیاب ہے۔ سیاسی افق پر تازہ تازہ وارد ہونے والے صاحبزادے اور صاحبزادی اپنے اپنے والد بزرگوار کی محبت میں کچھ بھی کر گذرنے کے جذبے سے سرشار ہیں ۔ کبھی شہر سیاست کو جلانے کا ارادہ باندھتے ہیں تو کبھی اپنا ارادہ بدلنے کا عندیہ دے دیتے ہیں۔
قبائلی علاقے کے دو بڑبولے اراکین پارلیمان بھی جیل کے اندر ہیں‘  تاحال ان دونوں کو پروڈکشن آرڈر کا مرہم دستیاب نہیں ہو سکا ۔ اس معاملے پر اپوزیشن کی صفوں میں اچھل کود کرنے والے چند خواتین و حضرات کی حالت دیدنی ہے۔ پارلیمان سے زیادہ سوشل میڈیا پر طوفانِ بد تمیزی بپا ہے ۔ راقم تو سوشل میڈیائی گٹر سے دور رہا ہے تاہم بعض احباب کی زبانی اس کے زہریلے تعفن کا تذکرہ سنائی دے جاتا ہے۔ سوشل میڈیا کی نحوست ہے کہ ما ں باپ بلکہ دادا دادی کی عمر کے مرد و زن کو فیس بک اور ٹوئٹر پر نوجوان طبقہ فحش گالیاں دے رہا ہے ۔ اُس پر ستم یہ کہ وہ بظاہر جہاں دیدہ خواتین و حضرات بھی جواباً گالم گلوچ شروع کر دیتے ہیں ۔بقول داغ دہلوی!
لگے منہ چڑاتے دیتے دیتے گالیاں صاحب
زباں بگڑی سو بگڑی تھی خبر لیجیے دہن بگڑا
 ایک دوست نے چند بد زبان شخصیات کے سوشل میڈیائی کرتوت دکھائے تو تشویش بھی ہوئی اور دکھ بھی ۔ ان شخصیات میں سے اکثر پر صحافت کی تہمت بھی لگی ہے اور بیرون ملک سے ڈگری لینے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ سب بال بچے دار ہیں ۔ خود کو عزت دار کہلاتے ہیں ۔ زیادہ تر لبرل اور ترقی پسند ہونے کے دعویدار ہیں ۔ حیرت ہوتی ہے جب ادھیڑ عمر مرد یا عورت اپنی پوسٹ پر کھلم کھلا گالیاں لکھتے ہیں ۔ جواب میں فحش گالیاں کھاتے ہیں ۔ یہی پوسٹ جب ان کے بچے ، بچیاں ، ماں ، باپ بہن بھائی اور دیگر احباب پڑھتے ہیں تو کیا سوچتے ہوں گے ؟ یہ کون سی تہذیب ہے اور یہ کون سی آزادی اظہار رائے ہے جو دوسروں کو گالیاں دیئے بغیر تسکین نہیں پاتی۔ استاد داغ دہلوی نے تو دشنام طرازی اور دہن بگڑنے کا رونا رویا تھا یہاں تو ذہن ہی گل سڑ گیا ہے۔ احترام کے رشتے روشن خیالی کے خنجر سے ذبح ہو رہے ہیں۔ کچھ دین دار اور اپنے تئیں اسلام کے محافظ سوشل میڈیا کے گٹر میں دشنام طرازی کے ہتھیار سے مخالفین کی دھجیاں اُڑا رہے ہیں ۔ جسے چاہا کافر قرار دے ڈالا ۔  جب دل کیا کسی پر مذہب کی گستاخی کا فتویٰ جڑ دیا۔ مسلکی اور فقہی مباحث سوشل میڈیا پر چھیڑ کے گالم گلوچ کی جا رہی ہے۔ معاشرے کی رگوں میں تیزی سے سرائیت کرتے اس زہر کا تریاق فوری ڈھونڈنا ہوگا۔ بدقسمتی یہ کہ ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں پر بھی سوشل میڈیا کے ذریعے مخالفین کی کردار کشی ، دشنام طرازی، الزام تراشی اور بد زبانی کا رواج عام کرنے کا الزام ہے۔ تعلیمی اداروں میں اساتذہ نوجوانوں کو سوشل میڈیا سے وابستہ خطرات سے آگا ہی دیں ۔ بنیادی ذمہ داری والدین اور خاندان کے بزرگوں پر عائد ہوتی ہے ۔ بچوں کو سوشل میڈیا کا ہتھیار تھماتے ہوئے احتیاطی تدابیر اختیار نہ کی جائیں تو پھر حادثہ لازم ہے اور جان لیجیے کہ یہ حادثہ جسمانی نہیں بلکہ اخلاقی حدود میں رونما ہو گا۔ نہ شدت پسندی اچھی اور نہ اخلاق و کردار کی قاتل روشن خیالی ! انور مسعود صاحب کے بامعنی قطعے پر غور کیجیے گا
خیر ایسا تو ہو کے رہتا ہے
جسم پر سلوٹیں ابھر آئیں
بس یہی احتیاط لازم ہے
روح پر جھریاں نہ پڑ جائیں

 

تازہ ترین خبریں