07:32 am
دنیا کی حقیقت‘سورۃ کہف کی روشنی میں

دنیا کی حقیقت‘سورۃ کہف کی روشنی میں

07:32 am

سورۃ کہف کے چھٹے رکوع میں دنیوی زندگی کی حقیقت کو نمایا ں کیا گیا ہے۔ایک حقیقت تو ہمارے سامنے ہے۔دنیا
سورۃ کہف کے چھٹے رکوع میں دنیوی زندگی کی حقیقت کو نمایا ں کیا گیا ہے۔ایک حقیقت تو ہمارے سامنے ہے۔دنیا میں بڑی رونقیں ہیں اور اس کے اندر مشغول رہ کر آدمی سوچتا ہے کہ یہ ابدی ہیں۔لیکن آخرت کے اعتبار سے اس کی کیا حقیقت اور اہمیت ہے ، اس کا بیان ضروری ہے۔
قرآن بتارہا ہے کہ اے غافل انسان !جس رب نے تجھے اس دنیا میں بھیجا ہے ، وہ ایک عالم اور بھی اٹھائے گا اور آخرت کے مقابلے میں اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔اگر اللہ پرتیرا ا یمان ہے ۔ اس کو ایک مثال سے واضح کیا گیاہے۔اے نبیﷺ! ان کے لئے مثال بیان کیجئے۔(حیات انسانی کا وقفہ بہت لمبا ہے۔اصل زندگی برزخ کے بعد کی زندگی ہوگ)اس دنیا کی مثال ایسی ہے جیسے ہم پانی کو آسمان سے نازل کرتے ہیں تو اس سے خلط ملط ہوکر نکلتا ہے۔زمین کیا حیات (اس مثال سے کو ہر شخص بخوبی سمجھ سکتا ہے) پھر وہ زرد پڑگئی ہے اور ہوائیں اسے اڑاتی پھرتی (فصل کا عرصہ صرف چھ ماہ کا ہے۔سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس میں دنیوی زندگی کی مثال کیسے آئی؟افراد کی زندگی کا معاملہ بھی یہی ہے ۔ایک شخص ایک وقت میں پیدا ہوتا ہے ۔پھر وہ شیر خوار گی بچپن اورجوانی سے گزرتا ہے اوراس پر کہولت طاری ہوجاتی ہے او ر پھر وہ طبعی عمر پوری کرکے خاک کا پیوند ہوجاتا ہے جس طرح ایک فصل چھ مہینے کے بعد ختم ہوجاتی ہے‘لہٰذا انسانی زندگی کا چکر بھی نوعیت کے اعتبار سے فصل سے مختلف نہیں ہے۔جیسے فصل کی زندگی عارضی ہے، اسی طرح انسان کی دنیوی زندگی بھی عارضی ہے۔
بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ فصل لہلہارہی ہوتی ہے اور امید ہوتی ہے کہ اس سے خوب غلہ نکلے گا لیکن ایک ناگہانی آفت آتی ہے اور وہ اس کو ایسی چٹیل کردیتی ہے جیسے یہاں کچھ تھا ہی نہیں۔انسانی زندگی میں بھی یہی ہوتا ہے۔عین جوانی کے عالم میں اچانک موت آجاتی ہے۔یہ بھی ضروری نہیں کہ انسان زندگی کا طبعی سائیکل پورا ہو۔)ایک جگہ فرمایا ’’بعض لوگوں کو اللہ تعالیٰ پہلے ہی اٹھالیتا ہے۔یہ اس کا اختیار ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ زندگی عارضی ہونے کے ساتھ انتہائی ناپائیدار بھی ہے۔انسان کو جوانی میں احساس نہیں ہوتا کہ مجھے مرنا ہے وہ دوسرے نوجوانوں کو فوت ہوتے ہوئے دیکھتا ہے، مگر اپنی ذات کے لئے کہ جھٹک دیتا ہے کہ مجھے بھی ایک وقت جانا ہے۔چنانچہ اسی غلط فہمی کی بنا پر اس ناپائیدار زندگی ہی کو سب کچھ سمجھ کر اللہ کے احکامات کو توڑتا ہے۔جبکہ اصل زندگی آخرت کی ہے۔ایک حدیث میں تمثیل آئی ہے کہ ایک سمندر میں انسان اپنی انگلی پانی میں ڈالے اور نکال لے تو انگلی کو جو پانی لگا ہے اس کی شرح سمندر کے ساتھ جتنی ہے، دنیا کی زندگی کی شرح بھی آخرت کے مقابلے میں ایسی ہی ہے۔تو تم سمندرکو چھوڑ کر اس سے پانی کے لئے ہلکان ہوئے جارہے ہو ۔
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ ہم حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپﷺ اس وقت کھجور کی چھال پر استراحت فرمارہے تھے۔ آپﷺ اٹھ بیٹھے تو ہم نے دیکھا کہ آپﷺ کی کمر پر کھجو ر کی چھال کے نشان پڑے ہوئے ہیں تو ہم نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسولﷺ!ہم آپ ﷺ کے لئے کوئی آرام دہ بستر نہ بنادیں تو آپﷺ نے فرمایا کہ مجھے اس دنیا سے کیا لینا دینا؟میری مثال تو اس مسافر کی سی ہے جو تھوڑی دیر آرام کے لئے درخت کے سائے میں بیٹھا ہے۔ایک اور جگہ حضورﷺ نے حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ کے کندھے کو پکڑ کہا کہ دنیا میں ایسے رہو جیسے اجنبی ،  بلکہ راہ گزر کا مسافر۔ایک اور حدیث میں ہے کہ اگر دنیا کی وقعت مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی تو اللہ کسی کافر کو دنیا میں  ایک گھونٹ پانی بھی نہ دیتا۔ایک جگہ ارشاد ہے کہ دنیا مردار کی مانند ہے اور اس کے طلب گار کتوں کی طرح ہیں جو مردار پر جھپٹتے ہیں‘ لیکن عالم یہ ہے کہ انسان دنیا ہی کو سب کچھ سمجھ بیٹھا ہے جبکہ قرآن ان حقائق کو کھول رہا ہے۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے وفادار بندوں کے لئے آخرت کی نعمتیں رکھی ہیں ۔وہ ہر چیز پر قادر ہے۔مال اور بیٹے دنیا کی زینت ہیں۔اس عارضی زندگی کی زینت کے سامان میں سے دو بہت اہم ہیں۔ مال اور دولت اور اولاد میں بیٹے۔اللہ انسان کو بھول کر ان میںمگن ہوجاتا ہے۔ایک جگہ فرمایا کہ یقینا تمہارے مال اور اولاد فتنہ ہیں۔فتنے کا مطلب آزمائش کا ذریعہ۔ مال اور اولاد کی محبت انسان کو اللہ کی یاد اور آخرت سے غافل کردیتی ہے اور نفاق کا بیج پیدا ہوتا ہے۔
سورۃ منافقون میں فرمایا کہ اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو!تمہیں تمہارے مال اور اولاد اللہ کی یاد سے غافل نہ کرنے پائیں۔باقی رہنے والی تو وہ نیکیاں ہیں ۔ان باقیات الصالحات میں ساری نیکیاں شامل ہیں اور تمہارے رب کے نزدیک آخرت کے اعتبار سے بہترین یہ ہیں اور ان نتائج کے اعتبار سے تم بہتر امید رکھ سکتے ہو۔ایک حدیث مبارکہ ہے کہ تین چیزیں میت کے ساتھ جاتی ہیں۔اس کا خاندان، اس کا مال اور اس کا عمل۔ دوچیزیں تو لوٹ آتی ہیں اور ایک چیز ساتھ جاتی ہے ۔اس کے اہل عیال بھی لوٹ جاتے ہیں اور مال بھی اورباقی رہنے جانے والا اس کا عمل ہے۔
ایک اور حدیث نبوی ﷺ ہے کہ آدمی کہتا ہہے میرا مال میرامال، اس کا مال تو اتنا ہے جو ا س نے کھاپی لیا اور پہن لیا۔باقی مال تو اس کے وارثوں کا ہے۔ہم جو سمجھتے ہیں کہ یا میرا مال ہے یہ سب دجل و فریب ہے۔ابدی زندگی میں تو نیک اعمال ہی جائیں گے۔آخرت میں حاضری لازمی ہوگی۔ایک جگہ آخرت کا نقشہ کھینچا گیا کہ مجرموں سے پوچھا جائے گا کہ دنیا میں کتنے عرصے رہے تھے۔وہ جواب دیں گے کہ شاید ایک دن یا اس کا بھی کچھ حصہ۔وہاں جاکر حقیقت کھلے گی کہ ہم تو فریب میں مبتلا تھے۔اصل زندگی تو یہ ہے ۔اس وقت حسرت سے کہیں گے کہ کاش ہم نے اس زندگی کے لئے کچھ کیا ہوتا۔لیکن وہ حسرت کسی کام نہ آئے گی ۔اس دنیا میں اس حقیقت کو جان لوگے تو فائدہ ہوگا۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں دین کا علم اور فہم عطا فرمائے اور ہماری زندگی کو صحیح رخ پر چلائے اور ہم اس دنیوی زندگی اور آخرت کی زندگی کی حقیقت کو سمجھیں۔یہی اصل پیغام ہے۔وما علینا الا البلاغ۔

 

تازہ ترین خبریں