07:33 am
مشرقِ وسطیٰ اورایران کی اہمیت

مشرقِ وسطیٰ اورایران کی اہمیت

07:33 am

مشرقِ وسطی کے بارے میں پولینڈ کے دارالحکومت وارسا میں ایک سربراہی کانفرنس کرانے کا فیصلہ سیاسی
مشرقِ وسطی کے بارے میں پولینڈ کے دارالحکومت وارسا میں ایک سربراہی کانفرنس کرانے کا فیصلہ سیاسی تجزیہ نگاروں اورسفارتی حلقوں میں ایک توجہ طلب بات بن گئی ہے اوروہ غورکررہے ہیں کہ آخر مشرقِ وسطیٰ کے بارے میں مغربی ممالک کے رہنماؤں اور عرب حکمرانوں کی کانفرنس پولینڈ کے دارالحکومت میں منعقد کیوں کی گئی؟ پولینڈ وہ ملک ہے جو مشرقِ وسطیٰ کے ان گنت مسائل میں گہری دلچسپی لینے کے حوالے سے جانا تو نہیں جاتا ہے لیکن پولینڈ نیٹو اس تنظیم کا ایک فعال رکن ہے، اور اس کے روس کے تسلط کے دنوں کے تجربات اِسے امریکہ  کے قریب لے گئے ۔ اب پولینڈ میں امریکہ کا یورپ میں اینٹی بیلِسٹک میزائل کا اڈا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پولینڈ کے کئی شہری اپنے ملک میں امریکہ کے اڈوں کو بخوشی قبول کرتے ہیں، بعض تو انہیں اپنی سرزمین پر ٹرمپ کا قلعہ کہتے ہیں۔ اس لیے امر یکہ کی اس شاندار کانفرنس کی شریک میزبانی کرنا ان کیلئے ایک بامقصد بات سمجھی گئی۔
تاہم کانفرنس کی ایک بات جو ابھی تک معمہ بنی ہوئی ہے کہ یورپ میں امریکہ کا کوئی بھی اتحادی اس کانفرنس کی میزبانی کیلئے بے تاب نہ تھا۔ اس کانفرنس نے یورپ کے سفارتی حلقوں میں اجتماعی سطح پر ایک یاد دہانی کرائی کہ اچھا یہ بھی ایک مسئلہ ہے۔ کانفرنس کے انعقادسے پہلے یہاں تک یقین نہیں تھاکہ اس کانفرنس میں کون کون سے یورپی رہنما شرکت کریں گے اور یہ ممالک اس کانفرنس میں کس سطح کے وفود بھیجیں گے۔اس کانفرنس کے منعقد کرنے کا خیال امریکہ کی اس تجویز سے پیدا ہوا تھا کہ ایک ایسی بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا جائے جس کا مقصد ایران پر دباؤ بڑھانا ہو لیکن اس خیال پر فوراًہی نظر ثانی کی گئی کیونکہ امریکہ کے یورپی اتحادیوں نے اس خیال پر کوئی خاص دلچسپی کا اظہار نہیں کیا۔ یہ بات فورا ًظاہر ہو گئی کہ ایران کو موضوعِ سخن بنانے سے صدر ٹرمپ کے امریکہ کے یکطرفہ طور پر ایران کے جوہری معاہدے سے الگ ہوجانے کے بعد اپنے ا تحا د یو ں سے اختلاف پیدا ہوئے وہ دوبارہ سے سامنے آجائیں گے۔ لہٰذا اس مذکورہ کانفرنس کو ایک وزارتی سطح کی کانفرنس کہہ کر اس کا ایجنڈا وسیع کردیا گیا اور نام دیا گیا کہ ’’مشرقِ وسطی میں امن اور استحکام کا مستقبل‘‘۔ اب اس کانفرنس کے ایجنڈے پر ایران کا نام غائب کردیاگیااور اس میں انسانی امداد، مہاجروں کے مسائل، میزائلوں کا پھیلاؤ اور اکیسویں صدی کے سائبر جرائم اور دہشت گردی جیسے موضوعات ایجنڈے میں شامل کردیئے گئے۔
اسرائیلی اور فلسطینی تنازع اس کانفرنس کے ایجنڈے پر موجود ہی نہیں تھا۔ فلسطینیوں نے اس کانفرنس میں شرکت ہی نہیں کی کیونکہ انہوں نے ٹرمپ کی وجہ سے اس کا بائیکاٹ کر دیا۔ امریکہ کی نمائندگی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے کی لیکن امریکی نائب صدر مائیک پینس اور صدر ٹرمپ کے داماد جیریڈ کشنر (جنہیں امریکہ کی مشرقِ وسطیٰ کی اس پالیسی کا بنانے والا کہا جاتا ہے اسے آخرتک منکشف نہیں کیا گیا) نے بھی شرکت کی۔ برطانیہ کے وزیر خارجہ جیریمی ہنٹ نے اس کانفرنس کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی ۔ دوسرے مغربی ممالک نے اس سے بھی نچلے درجے کے افسران اس کانفرنس میں بھیجے۔
اس کانفرنس کی اہمیت اس سے واضح ہوتی ہے کہ آخری وقت تک اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاھوکی شرکت کااعلان نہیں ہوالیکن عین وقت پروہ بھی وارسا کی اس کانفرنس میں شریک ہوئے جبکہ کئی ایک عرب ممالک کی نمائندگی ان کے وزرا ء نے کی، ان میں سعودی عرب، یمن، اردن، کویت، بحرین، مراکش، اومان اور متحدہ عرب امارات ہیں۔ البتہ مصر اور تیونس نائب وزرا کی سطح کے وفود نے شرکت کی۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ 1990ء کی دہائی کی میڈرڈ کانفرنس کے بعد پہلی کانفرنس تھی جس میں اسرائیل عرب ممالک کے شانہ بشانہ شریک ہوکر مشرقِ وسطیٰ کی علاقائی سلامتی پر بات کررہاتھا۔ اس کانفرنس کے مذکورہ شرکا ء میں ایک بنیادی اختلاف یہ تھاکہ امریکہ ، اسرائیل اور کئی عرب ممالک ایران کو خطے میں برا اثر پیدا کرنے والا ملک سمجھتے ہیں جو اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے کسی بھی موقع کو ضائع نہیں کرتا ہے۔ یہ وہ دھڑا ہے جو 2015ء  کے ایران کے جوہری معاہدے کو پسند نہیں کرتے جس کا مقصد ایران کی جوہری سرگرمیوں کو روکنا تھا۔ اس مو قف پر اسرائیل، سعودی عرب کے ہمراہ امر یکہ کے ساتھ کھڑا ہے۔ اسرائیل اب شام اور لبنان میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثر کو چیلنج کر رہا ہے۔ وہ خطے میں ایران اور اس کی حامی مسلح قوتوں کے خلاف فوجی کاروائی جاری رکھے ہوئے ہے۔
نیتن یاہو کا استدلال یہ تھا کہ ایران کے جوہری معاہدے کے بارے میں امریکہ اور یورپی ممالک کے درمیان موجودہ اختلافِ رائے کے حوالے سے بات نہ کی جائے بلکہ اسرائیل کاکہناتھا کہ یورپی اقدار کو خطرہ ہے۔ ایران کا رویہ، اس کی دہشت گردی کیلئے حمایت، ایران میں انسانی حقوق کی پامالی، غیر ملکیوں کی گر فتا ر یا ں، یہ وہ معاملات ہیں جن پر یورپی حکومتوں کو غور کرنا چاہیے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ برطانیہ، جرمنی اور فرانس کے وزارئے خارجہ خطے میں ایران کے رویے اور اس کے میزائلوں کے پھیلا ؤکی پالیسی پر تشویش میں مبتلا ہیں لیکن ٹرمپ کے یکطرفہ جوہری معاہدے سے علیحدگی کووہ بین الاقوامی معاہدے کی بے توقیری سمجھتے ہوئے ناپسندیدگی کااظہارکرتے ہیں۔
 یورپی ممالک کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ ایران کی جوہری سرگرمیوں کو آگے نہ بڑھنے دیں۔ جبکہ امریکہ ، اسرائیل اور عرب اتحادیوں کے لیے یہ کافی نہیں ہے۔ اس وقت یورپ بریگزٹ سمیت کئی اور مسائل میں گھرا ہوا ہے۔ صدر ٹرمپ کے ساتھ کشیدہ تعلقات اور ان کی پالیسیوں میں مسلسل عدم استحکام، پھر ان کا اپنے اتحادیوں سے مشاورت کے بغیر شام سے امریکی فوجوں کے انخلا ء کا فیصلہ، یہ ایسی باتیں ہیں جنہوں نے امریکہ اور یورپ کے تعلقات کو خراب کیا ہے۔ ایران کے جوہری پروگرام پر عالمی معاہدے سے یکطرفہ دستبرداری، پھر روس کے ساتھ جوہری ہتھیاروں کی دوڑ کے خاتمے کے معاہدے سے علیحدگی، یہ وہ اہم معاملات ہیں جو یورپی ممالک میں امریکہ پر اعتماد نہ کرنے کے چند کلیدی نکات بن چکے ہیں۔
(جاری ہے)

تازہ ترین خبریں