07:51 am
’’لاہوری اقتدار و سیاست روحانی ویژن میں‘‘

’’لاہوری اقتدار و سیاست روحانی ویژن میں‘‘

07:51 am

بجٹ پاس ہوگیا ہے اور ساتھ ہی مسلم لیگ (ن) کے اراکین اسمبلی کی نمایاں تعداد کی ملاقاتیں بنی گالہ میں وزیراعظم عمران خان کے ساتھ ہوگئی ہیں اور بظاہر مسلم لیگ (ن) میں غیر اعلانیہ فارورڈ بلاک بنتا محسوس ہو رہا ہے۔ ماضی بعید میں مسلم لیگ (ق) میں چوہدری برادران کے خلاف کچھ اراکین اسمبلی سامنے آئے تھے‘ فارورڈ بلاک بنایا اور پھر انہی اراکین کے سہارے میاں شہباز شریف نے وزارت اعلیٰ حاصل کی تھی جو نہی نئے انتخابات ہوئے‘ دوبارہ وزارت اعلیٰ حاصل کرکے شہباز شریف طوطا چشم ہوگئے تھے اور اپنے محسن اراکین اسمبلی سے ملاقات سے بھی پرہیز کرتے تھے۔ اب ماشاء اللہ شامت اعمال کا عہد لوٹ رہا ہے ۔ جب عمران خان کے حوالے سے مخالفانہ باتیں عام تھیں تو لاہور کے ماڈل ٹائون کے قرب میں طویل  مدت سے رہائش پذیر روحانی نجومی دوست نے مجھے متوجہ کیا کہ وزیراعظم عمران خان کو مسائل و مصائب ضرور درپیش ہیں مگر ان کے اقتدار کو شدید ترین خطرہ نہیں دکھائی دیتا‘ بجٹ نہ صرف پاس ہوگا بلکہ بجٹ پاس ہوتے ہی اپوزیشن پارٹیوں میں عجب قسم کی افراتفری‘ انتشار‘ عدم اعتماد پیداہوگا۔
 
30 جون کو ان سے رابطہ ہوا تو ان کا کہنا تھا حکم ربی کے مطابق مولانا فضل الرحمن کی عمران مخالف مہم جوئی ناکام ہوچکی ہے تو مسلم لیگ ن میں توڑ پھوڑ شروع ہے‘ شہباز شریف اور مریم نواز کی سیاست الگ الگ ہوگئی ہے۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہوا ہے مزید ان کے بقول4 جولائی کے بعد شریف خاندان پر مسائل اور مصائب کا نیا مرحلہ شروع ہو رہا ہے۔ امکان ہے اگست کے بعد شدت آئے گی اور نومبر تک یقینا شریف خاندان دولت ریاست کو واپس کرے گا ورنہ مزید مقدمات اور مشکلات سامنے ہوں گے۔ دولت واپس کرنے کے ذریعے ہی وہ بیرون ملک جاسکیں گے۔ یہ مدت جنوری2020 ء تک بھی محیط ہوسکتی ہے۔ شہباز شرف کے پاس نواز شریف سے کہیں زیادہ دولت موجود ہے ۔ چاند اور سورج گرہن کے متعلق ان کا نظریہ ہے کہ اگر یہ کسی ملک میں دکھائی نہ دے تو اس ملک پر اس کا ہرگز اثر نہیں ہوتا جبکہ پروفیسر غنی جاوید جس نجوم مکتب فکر کے قائل ہیں اس میںچاند اور سورج گرہن اگر نہ بھی نظر آئے تب بھی اس کے منفی اثرات  اثر انداز ہوتے ہیں۔دو اور تین جولائی کی شام کو موجودہ سورج گرہن اٹلی ارجنٹائن‘ براعظم امریکہ کے کچھ ممالک میں لگ رہا ہے۔ وہ حکمران جو کینسر ین پیدائشی زائچہ رکھتے ہیں ان کے بارہویں خانے میں 14-12 ڈگری پر گرہن لگے گا یوں وزیراعظم عمران خان (لبرا) اور آرمی چیف باجوہ (سکارپیو) پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوگا نہ ہی شہزادہ محمد بن سلمان پر۔ اگلا چاند گرہن شائد17 جولائی کو متوقع ہے۔ نماز گرہن دو رکعت پڑھنی چاہیے۔ صدقہ و خیرات‘ استغفار‘ ذکر الٰہی اور سنت کے مطابق وظائف  لازماً مفید اثرات فراہم کریں گے۔ ان شاء اللہ۔
 چاند گرہن کے اثرات عام شخصیات پر بھی ہوتے ہیں۔ گرہنوں کے ذریعے اللہ تعالیٰ تقدیر الٰہی کو نئے واقعات کے ساتھ ظہور بخش کر عالمی‘ علاقائی‘ خاندانی و انسانی تبدیلیاں بھی رونما کرتے ہیں مگر گرہنوں سے آپؐ سخت پریشان ہوکر نماز گرہن ادا فرمایا کرتے تھے۔
ماڈل ٹائون لاہور کے قرب میں  مقیم روحانی شخصیت بہت مدت سے مجھے کہہ رہی ہے کہ عمران خان کا اقتدار کم از کم4 سال موجود رہے گا  جبکہ وہ صرف اپنی پسند اور منتخب کردہ وقت کے مطابق اسمبلی توڑیں گے جبکہ ان کے خلاف اکثر سازشیں ناکام ہو جائیں ۔ موجودہ معاشی مشکلات نومبر تک ہیں۔ نومبر کے ساتھ ہی ان شاء اللہ نیا عہد معیشت و استحکام شروع ہو جائے گا جبکہ ڈالر نیچے آئے گا جبکہ پاکستان نومبر کے ساتھ استحکام کے راستے پر گامزن ہو جائے گا۔ ان شاء اللہ۔ ان کی اجازت سے یہ باتیں ہدیہ قارئین کی جارہی ہیں تاکہ افواہوں‘ سازشوں کا اثر کم ہو‘ بے یقینی کا خاتمہ ہو اور یقین محکم کے صبرواستقامت لاتے مثبت اثرات کے فوائد نفسیاتی طور پر عوام میں ظہور پذیر ہوں۔
حماد اظہر وزیر مملکت ریونیو نے جس انداز میں بجٹ پیش کیا‘ جارحانہ انداز میں اپوزیشن کے حملوں کے جواب میں استدلال اور دلائل سے اسے غیر موثر کیا‘ اس سے وزیراعظم ان کے مداح بن گئے ہیں۔ حماد اظہر کے والد میاں اظہر لاہور کے نامور کاروباری آرائیں ہیں۔ میاں زاہد سرفراز فیصل آباد والے ممتاز مسلم لیگی جو جنرل ضیاء الحق کے اقتدار میں وزیر تجارت تھے ‘ میاں اظہر کے  کزن ہیں۔ میاں اظہر کا بزنس لوہا انڈسٹری سے وابستہ ہے۔ جب دوبئی سے میاں شریف لٹ پٹ کر واپس آئے تو میاں اظہر کے والدین نے میاں شریف کو نئی فیکٹری لگوا کر دی تھی۔ یوں میاں اظہر کا خاندان میاں شریف اور شریف خاندان کا مالی و سماجی طور پر محسن ہے۔ میاں نواز شریف نے وزیراعظم بن کر میاں اظہر کو گورنر پنجاب بنایا تھا وہ کامیاب ترین گورنروں میں شمار ہوتے تھے۔
بیرسٹر حماد اظہر لاہور کے شریف خاندان کی آرائیں سیاست میں مخالف ترین کردار کے بیٹے اور میاں زاہد سرفرا ز کے بھتیجے ہیں۔ لاہور کی کشمیری آرائیں سیاست کشمکش میں حماد اظہر  دلیر‘ موثر اظہار خیال کرتے نئے کردار کا جنم ہوا ہے ۔ بجٹ کرائسز نے لاہور کو مالی ویژن اظہاریہ رکھتا نوجوان رہنما دے دیا ہے۔ یاد رہے اسحاق ڈار کا تعلق بھی لاہور سے تھا۔ جب اسحاق ڈار کی شادی ماروی میمن سے ہوئی تو مریم نواز نے بہت کوشش کی کہ اسحاق ڈار مقیم لندن سے ماروی میمن کو طلا ق  دلوائے مگر تاحال ناکامی ہوئی ہے۔ ماضی میں شہباز شریف سے جدہ میں دبائو ڈال کر اس کی ایک بیوی جس کا خاندانی تعلق یوسف بیگ مرزا  سے تھا‘ کو بھی طلاق دلوائی گئی تھی مگر لندن جانے کے بعد شہباز شریف نے تہمینہ درانی سے شادی کرلی تھی۔ تہمینہ د رانی اپنی صلاحیتوں کے سبب شہباز شریف کے لئے خوش قسمتی کا راستہ بنی اسی لئے وہ تہمینہ کو کھل کر بطور بیوی سامنے لے آئے تھے۔ یقین سے میں کہہ سکتا ہوں کہ اگر میں شام19 جنوری 2003 ء کو شہباز شریف سے  مسرور پیلس جدہ میں نہ ملتا‘ مذاکرات نہ کرتا‘ بعد میں اس کے حق میں کالم نہ لکھتا اور تہمینہ درانی اس کی بیوی نہ ہوتی تو طویل مدت کا ا قتدار شہباز کو ہرگز نہ ملتا۔
پس تحریر: تہمینہ درانی لندن میں مقیم تھی اور جدہ میں شہباز سے رابطے میں۔ میرے لکھنے کے سبب شہباز کی زیر قیادت نئی مسلم لیگ بنانے پر کمربستہ مگر جدہ شریف خاندان نے اس کے سارے پر ہی کاٹ دیئے تھے اور اب وہی شریف خاندان مریم نواز کو  لیڈر بنانے پر تلا ہوا ہے۔

تازہ ترین خبریں