07:56 am
ایجنڈا

ایجنڈا

07:56 am

وزیراعظم عمران خان نے بڑھتی ہوئی مہنگائی اور اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کو کنٹرول کرنے میں انتظامیہ کی ناکامی کا جمعرات 27جون کو نوٹس لیا تھا...آج منگل2جولائی  ہے‘پانچ دن ہونے کو ہیں مگر اشیاء خوردونوش کی قیمتیں ہوں یا دیگر ضروریات زندگی کی چیزوں کی قیمتیں‘ ان میں ذرا برابر بھی کمی نہیں آسکی‘ تو کیوں؟
 
کیا انتظامیہ وزیراعظم کے حکم کو حیثیت دینے کے لئے تیار نہیں ہے یا پھر اشیاء خوردونوش کی قیمتوں کو بلاجواز بڑھانے والی مافیا انتظامیہ سے بھی زیادہ طاقتور ہے؟
اشیاء خوردونوش کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ’’انسانیت‘‘  کا منہ چڑا رہی ہیں‘ مجھے ڈر ہے کہ اگر مہنگائی میں فوری طور پر کمی نہ لائی گئی تو یہ کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ نہ بن جائے؟
پشاور ہائی کورٹ نے خیبر ٹیکسٹ بک بورڈ پشاور کی نہم جماعت کی  اسلامیات کی کتاب میں قرآنی آیات کے ترجمے کو درست کرنے کا حکم دے دیا ہے‘   مقدمے کی سماعت کے دوران جسٹس قیصر رشید نے ریمارکس دئیے کہ آپ لوگ نئی نسل کو تباہ کر رہے ہیں‘ نئی نسل کے ذہنوں کو آپ آلودہ کر رہے ہیں‘ آپ کس کے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں؟
یاد رہے کہ خیبرپختونخواہ ٹیکسٹ بک بورڈ پشاور کی نہم جماعت کی اسلامیات کی کتاب میں قرآنی آیت کے ترجمے میں مال غنیمت کو ’’لوٹ کر‘‘ لکھا گیا ہے۔
پشاور ہائی کورٹ کے جسٹس قیصر رشید کو اللہ پاک جزائے خیر عطا فرمائے کہ جنہوں نے ’’مال غنیمت‘‘ کا غلط ترجمہ چھاپنے کا نوٹس لے کر یہ سوال پوچھا کہ آخر مسلمانوں کی نئی نسل کے ذہنوں کو پراگندہ کرنے کا ایجنڈا ہے کس کا؟
یادش بخیر! گیارہ جون 2019ء کی شب وزیراعظم عمران خان نے اپنے قوم سے خطاب کے دوران بدر اور احد کے صحابہؓ کا تذکرہ کرتے ہوئے ’’مال غنیمت‘‘ کا ترجمہ بھی کچھ ایسا ہی کیا تھا‘ سوال یہ ہے کہ اسلامیات میں قرآن مقدس کی آیت مبارکہ کا غلط ترجمہ چھاپنے والے مردود عناصر کون ہیں؟ ’’مال غنیمت‘‘ کو لوٹ مار قرار دینے والے خناسوں کا گروہ آج تک قانون کی گرفت سے کیسے بچا رہا؟
گو کہ پشاور ہائی کورٹ نے جماعت نہم و دہم اسلامیات کی تمام کتابیں ضبط کرنے اور مال غنیمت کے ترجمے کو صحیح کرکے دوبارہ چھاپنے کا حکم دے دیا ہے‘ لیکن ان موذی عناصر کو بھی انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کرنا ضروری ہے کہ جنہوں نے اس شرمناک حرکت کا ارتکاب کیا۔
پشاور ہائی کورٹ نے سوال اٹھایا ہے کہ قرآنی آیت کا غلط ترجمہ ‘کس کے ایجنڈے پر کام ہو رہا ہے؟ یقینا یہ سوال بہت اہم ہے‘ مجھے یہ بات لکھنے میں کوئی باک نہیں ہے کہ موجودہ حکومت کو قائم ہوئے ابھی گیارہ ماہ ہی ہوئے ہیں‘ لیکن ناموس رسالت  ؐ‘ ناموس صحابہؓ اور قانون توہین رسالت کے حوالے سے ان گیارہ مہینوں میں بعض متشدد عناصر نے بیرونی ایجنڈے پر جان بوجھ کر متنازعہ سوالات اٹھانے کی کوشش کی‘ آسیہ ملعونہ کی غیر متوقع رہائی اور پھر اس کی بیرون ملک روانگی کو تادم تحریر یہ قوم قبول کرنے کے لئے آمادہ نہیں ہے۔
عمران خان کی کابینہ کے بعض وزراء بالخصوص‘ وزیر سائنس فواد چوہدری کے دینی مدارس اور علماء کرام کے خلاف مسلسل بیانات بھی جلتی پر تیل ڈالنے کا کام دے رہے ہیں‘ اس ملک میں اکثریت آبادی مسلمانوں کی ہے‘ مسلمانوں کو لبرل‘ سیکولر‘ بے دین بنانے کے لئے جو بے پناہ کوششیں ہو رہی ہیں وہ تو اپنی جگہ پر جاری و ساری ہیں ہی‘ مگر مزید ظلم یہ  کہ اکثریتی مسلمان آبادی کے حقوق کی بات کرنے کے لئے بھی کوئی تیار نہیں  ہے‘ جس کو دیکھو وہ ’’اقلیتوں‘‘ کے حقوق کی ڈفلی بجا کر یہود و نصاریٰ سے ڈالر اینٹھنے والوں کی صف میں کھڑا نظر آتا ہے... شاید پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے کہ جہاں ’’اکثریت‘‘ کی رائے اور حقوق کو بری طرح پامال کیا جارہا ہے‘ جمہوریت اور جمہوری اقدار کی حفاظت کے نام پر سرکس سجانے والے سیاست دان ہوں‘ حکمران ہوں یا میڈیا کے پردھان ان کے دوغلے پن کی انتہا دیکھئے کہ غازی ممتاز قادری کی پھانسی کو اس قوم کی اکثریت نے مسترد کیا‘ آسیہ ملعونہ کی رہائی کے فیصلے کو اس قوم کی اکثریت نے قبول نہیں کیا‘  لیکن  اس کے باوجود اشرافیاء نے دونوں فیصلے قوم پر مسلط کئے۔
الحمدللہ پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق محفوظ ہیں اور محفوظ رہنے بھی چاہئیں‘ کسی شخص کو حضرت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام سمیت کسی بھی آسمانی  نبی یا آسمانی کتاب کی توہین کی اجازت نہیں ہونی چاہیے اور یہاں یہ سب کچھ ہے  ہی نہیں۔ لیکن اکثریتی مسلمان آبادی کے حقوق یہاں پر غیر محفوظ ہیں‘ یہاں نبی پاکﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کرنے والے ملعونوں کو مغرب نہ صرف یہ کہ چھڑا لیتا ہے‘ بلکہ ناموس رسالت ؐکے دشمن قادیانی ٹولے کو زور‘ زبردستی سے مسلمانوں کی صفوں میں شامل کرنے کی بھی مذموم کوششیں کرتا ہے۔
حد تو یہ ہے کہ یہاں مسلمان طالب علموں کو نصاب تعلیم میں پڑھائی جانے والی قرآنی آیات کا ترجمہ تک غلط چھاپ کر جان بوجھ کر نئی نسل کے ذہنوں کو آلودہ کیا جارہا ہے‘ اس سارے منظر نامے کو دیکھ کر پاکستان کی مذہبی جماعتوں ‘ مذہبی سیاسی قائدین اور علماء کرام کی ذمہ داریاں پہلے سے دوچند ہوجاتی ہیں۔

 

تازہ ترین خبریں