12:57 pm
سفر ایران کے چند تاثرات و مشاہدات

سفر ایران کے چند تاثرات و مشاہدات

12:57 pm

ہفتہ کے روز ایران سے واپس گوجرانوالہ واپس پہنچ گیا ہوں مگر دوحہ سے لاہور کی فلائیٹ پانچ گھنٹے لیٹ ہونے کی وجہ سے اسباق میں حاضری نہیں ہو سکی۔ سفر کی مدت میں ایک دن کے اضافہ کی وجہ سے نیا روٹ قطر ایئرویز کے ذریعے تہران سے دوحہ اور وہاں سے لاہور کا ترتیب پایا۔ دوحہ میں اسٹاپ سات گھنٹے کا تھا مگر فلائٹ کی روانگی میں پانچ گھنٹے کی تاخیر کی وجہ سے بارہ گھنٹے تک پھیل گیا جو میرے لیے آزمائش سے کم نہیں تھا۔ میرے ٹخنوں میں ایک عرصہ سے درد  رہتا ہے جس کی وجہ سے زیادہ چلنا پھرنا دشوار ہو جاتا ہے ،اللہ بھلا کرے گوجرانوالہ کے ایک نوجوان حافظ محمد صدیق کا جو گلاسگو سے آرہا تھا اور اسی فلائٹ سے اسے بھی لاہور آنا تھا، اس نے مجھے پہچان لیا اور بتایا کہ وہ گوجرانوالہ کے مولانا حافظ ریاض انور گجراتی  کا شاگرد ہے اور ان کے ہاں میرے بیانات سنتا  رہتا ہے، پھر وہ جہاز میں سوار ہونے تک مسلسل میرا سہارا بنا رہا، اللہ تعالیٰ اسے جزائے خیر سے نوازے، آمین یا رب العالمین۔
 
اس میں لطیفہ کا پہلو یہ ہے کہ تہران ائیرپورٹ پر میں صبح جلدی پہنچ گیا تھا اور  ناشتہ وہیں کیا، انڈے والا ایک برگر اور ایک چائے کا آرڈر دیا لیکن جب اس کا بل دیکھا تو وہ ساڑھے پچیس ہزار ایرانی ریال کا تھا۔ ایک دفعہ تو سر گھومنے لگا، پھر میں نے کائونٹر پر کھڑی لڑکی سے کہا کہ کسی اور کرنسی میں بتا، اس نے کہا تین امریکی ڈالر، یہ سن کر میرا سانس بحال ہوا اور ایک کونے میں میز پر سامان رکھ کر اطمینان سے ناشتہ کیا  جبکہ شام کو دوحہ  ائیرپورٹ پر ایک بڑا کپ چائے کا پانچ امریکی ڈالر میں میسر ہوا، جو دو چار سال پہلے پانچ سو روپے کے لگ بھگ بنتا تھا، اب ساڑھے سات سے آٹھ سو روپے کے درمیان بنتا ہے۔ 
میرا ایران کا یہ سفر تین عشروں کے بعد تھا، پہلے سفر کی خود اپنی لکھی ہوئی تفصیلی رپورٹ پرانے ریکارڈ سے نکلوا کر میں ساتھ لے گیا تھا ۔ وہاں کے کچھ دوستوں نے اسے پڑھا  اور میرے استفسار پر بتایا کہ مجموعی صورتحال اب بھی کم و بیش اسی طرح ہے جبکہ کوئی نمایاں فرق مجھے بھی دکھائی نہیں دیا البتہ یہ دیکھ کر اطمینان ہوا کہ ایران کے اہل سنت علماء کرام نے اپنے تحفظات و شکایات کے حوالہ سے تصادم اور کشمکش کی بجائے تعاون اور افہام و تفہیم کا راستہ اختیار کر رکھا ہے جس کے مثبت اثرات دھیرے دھیرے سامنے آرہے ہیں اور اہل سنت کے حقوق و مفادات کے لیے پیشرفت دیکھنے میں آرہی ہے جس کا کریڈٹ یقینا زاھدان کے حضرت مولانا عبدالحمید کو جاتا ہے جو بڑی حکمت عملی، تدبر اور حوصلہ کے ساتھ اہل سنت کی راہنمائی اور قیادت کر رہے ہیں اور ان کی بات کو سرکاری حلقوں میں بھی توجہ کے ساتھ سنا جاتا ہے۔ 
یہ بات وہاں پہنچنے کے بعد معلوم ہوئی کہ 26جون کو تہران یونیورسٹی میں منعقد ہونے والے عالمی موتمر کے اصل محرک یونیورسٹی کے سنی اساتذہ تھے بالخصوص فقہ شافعی کے شعبہ میں کام کرنے والے اساتذہ اور دانشور حضرات نے اس کی تحریک کی تھی جس میں انہیں سرکاری سرپرستی کے ساتھ ساتھ اہل سنت کے اکابر علما ء کرام کی حمایت بھی حاصل تھی۔ 
میری حاضری پر سب سے زیادہ خوش یہ اکابر علماء کرام تھے، اس کے ساتھ ہی والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر کے تلامذہ اور خود میرے شاگردوں میں سے جو بھی وہاں آسکا اس نے ملاقات کی صورت ضرور نکالی۔ بالخصوص زاھدان کے مولانا غلام اللہ اور مولانا محمد شاہنوازی کی خوشی قابل دید تھی۔ یہ دونوں جامعہ دارالعلوم کراچی کے فضلا میں سے ہیں، ایک سال کے لگ بھگ عرصہ الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں گزار چکے ہیں اور اب دارالعلوم زاھدان میں تعلیمی و تدریسی فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ یہ دونوں حضرات باری باری پورے سفر میں میرے ساتھ رہے اور خدمت و میزبانی کا حق ادا کیا۔ اللہ تعالیٰ انہیں دونوں جہانوں کی سعادتوں سے بہرہ ور فرمائے،  آمین یا رب العالمین۔  ایران میں جامعہ دارالعلوم کراچی، جامعہ فاروقیہ، دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک، جامعہ نصر العلوم گوجرانوالہ اور جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹائون کے بہت سے فضلا مختلف مقامات پر تدریسی و تعلیمی خدمات میں مصروف ہیں، ان کی محنت و کاوش کا تسلسل دیکھ کر دل خوش ہوا۔ 
مختلف مجالس میں علمی و فکری مسائل پر بھی ہلکی پھلکی گفتگو ہوتی رہی، ان میں سے ایک کا تذکرہ دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا۔ ایک مجلس میں ایران کے سرکردہ علماء کرام سے ہمارے کسی ساتھی نے سوال کیا کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صحابہ کرامؓ  اور تابعین جن علاقوں میں بھی گئے وہاں عربی زبان کو فروغ ہوا اور آہستہ آہستہ وہ سب علاقے عرب بن گئے۔ مثلاً مصر، شام، عراق، سوڈان، الجزائر اور لیبیا وغیرہ ایسے ممالک ہیں جو عرب نہیں تھے مگر عرب بن گئے۔ جبکہ ایران میں ایسا نہیں ہوا حالانکہ صحابہ کرامؓ اور تابعین کی اچھی خاصی تعداد یہاں آئی ہے، ایسا کیوں ہوا ہے؟ اس موقع پر میں نے عرض کیا کہ اس سوال میں میری طرف سے ایک اضافہ کر لیں کہ ایرانیوں نے نہ صرف یہ کہ خود عربی زبان کو قبول نہیں کیا بلکہ ہمارے لیے بھی رکاوٹ بن گئے اور ہمارے ہاں صدیوں تک فارسی بطور دفتری، عدالتی اور قومی زبان رہی، جوکہ  اب انگریزی میں تبدیل ہوگئی ہے اور اس سے پیچھا چھڑانا ہمارے لیے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔ 
میں نے اس مجلس میں بتایا کہ مصدقہ معلومات کے مطابق پاکستان بن جانے کے بعد ممتاز مسلم لیگی لیڈر آغا خان نے تجویز دی تھی کہ اس نئے ملک میں انگریزی کی بجائے عربی کو سرکاری زبان بنایا جائے جس سے یہ ملک عرب کلچر سے وابستہ ہو جائے گا اور بہت سی ثقافتی الجھنوں سے محفوظ رہے گا، مگر ان کی بات قابل توجہ قرار نہیں پائی چنانچہ انگریزی زبان اب تک اپنے تمام تر ثقافتی ماحول اور تہذیبی رعب و ادب کے ساتھ ہم پر بدستور مسلط ہے اور اس کے حصار کو توڑنے میں دستور، پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ کے واضح فیصلے بھی کامیاب نہیں ہو پا رہے۔ 
یہ بات میرے لیے اطمینان کا باعث ہے کہ اپنی علمی و فکری جدوجہد کا اصل موضوع اس سفر میں بھی مجھے یاد رہا کہ آج کی سب سے بڑی علمی و فکری ضرورت انسانی حقوق کے عالمی فلسفہ و نظام اور بین الاقوامی معاہدات سے صحیح طور پر آگاہی حاصل کرنا اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اس حوالہ سے امت کی راہنمائی کرنا علماء کرام کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔ چنانچہ گزشتہ ماہ مکہ مکرمہ کے سفر کے دوران اس سلسلہ میں اپنی تجاویز اور دیگر ضروری دستاویزات پر مشتمل فائل میں نے رابطہ عالم اسلامی کے سیکرٹری جنرل سعادت الدکتور ڈاکٹر عبد الکریم العیسی  کے سپرد کی تھی، اور اب ایران کے سفر میں وہی فائل زاھدان اور تہران کے سرکردہ علماء کرام کے حوالہ کر کے آیا ہوں۔ اس درخواست کے ساتھ کہ وہ اس پر مذاکرہ و مکالمہ کا ماحول بنائیں گے اور نئی نسل کی صحیح طور پر راہنمائی کا اہتمام کریں گے، اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق دے،  آمین یا رب العالمین۔

تازہ ترین خبریں

بھارت کو ایک ماہ کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت کی ذمہ داری۔۔۔دفتر خارجہ کا ردعمل سامنے آگیا

بھارت کو ایک ماہ کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت کی ذمہ داری۔۔۔دفتر خارجہ کا ردعمل سامنے آگیا

بلاول بھٹو زرداری اور ایمل ولی خان کی ملاقات۔۔۔۔۔سیاسی صورت حال پر تبادلہ خیال

بلاول بھٹو زرداری اور ایمل ولی خان کی ملاقات۔۔۔۔۔سیاسی صورت حال پر تبادلہ خیال

 پاکستان نے ویسٹ انڈیز کو جیت کیلئے 158 رنز کا ہدف دیدیا۔

پاکستان نے ویسٹ انڈیز کو جیت کیلئے 158 رنز کا ہدف دیدیا۔

وزیراعظم عمران خان کل عوام سے براہ راست مخاطب ہونگے 

وزیراعظم عمران خان کل عوام سے براہ راست مخاطب ہونگے 

موت تعاقب میں تھی ، پاکستان کے اہم شہر میں امتحان دینے نکلی نویں جماعت کی طالبہ کی افسوسناک موت

موت تعاقب میں تھی ، پاکستان کے اہم شہر میں امتحان دینے نکلی نویں جماعت کی طالبہ کی افسوسناک موت

پاکستان کے اس شہر کے عوام سپر احتیاط کریں، ہفتے کے روز ہونے والی موسلادھار بارش صرف شروعات تھی

پاکستان کے اس شہر کے عوام سپر احتیاط کریں، ہفتے کے روز ہونے والی موسلادھار بارش صرف شروعات تھی

مسٹر زرداری آپ کیا چاہتے ہیں لاک ڈاؤن، لاک ڈاؤن، لاک ڈاؤن۔اسد عمر کا بلاول کو جواب

مسٹر زرداری آپ کیا چاہتے ہیں لاک ڈاؤن، لاک ڈاؤن، لاک ڈاؤن۔اسد عمر کا بلاول کو جواب

پاکستان ٹیم کے نام ایک اور عزاز ۔۔۔۔محمد رضوان نے ٹی ٹوئنٹی میں ورلڈ ریکارڈ بنادیا

پاکستان ٹیم کے نام ایک اور عزاز ۔۔۔۔محمد رضوان نے ٹی ٹوئنٹی میں ورلڈ ریکارڈ بنادیا

 تحریک انصاف کے رکن اسمبلی نذیرچوہان کے پروڈکشن آرڈرز۔۔۔ ن لیگ نے بھی سپیکر اسمبلی پرویزالٰہی کی حمایت کافیصلہ کرلیا

 تحریک انصاف کے رکن اسمبلی نذیرچوہان کے پروڈکشن آرڈرز۔۔۔ ن لیگ نے بھی سپیکر اسمبلی پرویزالٰہی کی حمایت کافیصلہ کرلیا

افغانستان سے علاج کیلئے آنے والی خاتون کی ٹانگ سے ایسی چیز برآمد کہ بارڈر پر موجود سیکیورٹی اہلکار بھی ہکا بکا رہ گئے

افغانستان سے علاج کیلئے آنے والی خاتون کی ٹانگ سے ایسی چیز برآمد کہ بارڈر پر موجود سیکیورٹی اہلکار بھی ہکا بکا رہ گئے

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اضافہ ۔۔۔ وزارت خزانہ کی جانب سے نوٹیفیکشن جاری

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اضافہ ۔۔۔ وزارت خزانہ کی جانب سے نوٹیفیکشن جاری

 کراچی میں بھارت جیسی صورتحال ہوئی تو وزیراعظم اور ان کے وزرا ذمہ دار ہوں گے۔بلاول بھٹو 

 کراچی میں بھارت جیسی صورتحال ہوئی تو وزیراعظم اور ان کے وزرا ذمہ دار ہوں گے۔بلاول بھٹو 

اوگرانے اگست کیلئے ایل پی جی کی قیمت میں اضافہ کر دیا۔

اوگرانے اگست کیلئے ایل پی جی کی قیمت میں اضافہ کر دیا۔

بھارت میں مون سون بارشوں نے تباہی مچادی، 230 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے 

بھارت میں مون سون بارشوں نے تباہی مچادی، 230 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے