07:59 am
ہارس ٹریڈنگ، نئے لوٹے! 

ہارس ٹریڈنگ، نئے لوٹے! 

07:59 am

٭سینیٹ: چیئرمین کی تبدیلی کا مسئلہO افغان صدر اشرف غنی کی میٹھی باتیںO آصف زرداری کی نمکین باتیںO ہارس ٹریڈنگ شروع، لوٹے حرکت میںO برطانیہ:میچ کے جھگڑے کا نوٹس O سٹیڈیم کے اوپر پاکستان دشمن بینروں والا طیارہO وزیراعظم ہائوس ’سادگی‘! اخراجات 96 کروڑ سے ایک ارب 9 کروڑ O بلوچستان کے وزیراعلیٰ، سپیکر اسلام آباد میں O ایک اور آئل ٹینکر الٹ گیا، 40 ہزار لٹر تیل ضائع O گجرات، تین افغان دہشت گرد ہلاک۔
٭بجٹ کا ہنگامہ ختم ہوا تو سینٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی کو ہٹانے کا شور شرابا شروع ہو گیا ہے۔ بلوچستان کے وزیراعلیٰ جام کمال اور سپیکر ایک وفد کے ساتھ اسلام آباد پہنچ گئے، صادق سنجرانی اور دوسرے سیاسی رہنمائوں سے ملاقاتیں کیں اور اعلان کیا کہ صادق سنجرانی کے خلاف کوئی کارروائی بلوچستان کے خلاف کارروائی قرار پائے گی، اس کا سخت ردعمل ہو سکتا ہے۔ یہ بات اہم ہے کہ مارچ 2018ء میں سینٹ کے نصف ارکان کے الیکشن کے ساتھ نئے چیئرمین کا انتخاب عمل میں آیا تو آصف زرداری اور عمران  خان نے مل کر ن لیگ کے امیدوار کے مقابلہ میں آزاد رکن صادق سنجرانی کو چیئرمین بنوا دیا اور ن لیگ کو بری طرح شکست دی۔ پھر حالات کی ستم گری کہ اب اسی ن لیگ اور پیپلزپارٹی کے سربراہ آصف زرداری کاگٹھ جوڑ ہو چکا ہے اور عمران  خان کی تحریک انصاف کے ساتھ محاذ آرائی شروع ہو چکی ہے۔ اس سیاسی چکر میں اچانک سینٹ کے چیئرمین کے خلاف مہم شروع کر دی گئی۔ ان پر کسی بدعنوانی یا غیر قانونی اقدام کا کوئی الزام نہیں صرف یہ کہ خود آصف زرداری کے بقول ’’صادق سنجرانی نے ہماری باتیں نہیں مانیں اور کوئی کام نہیں کیا‘‘ آصف زرداری کی باتیں کیا ہو سکتی ہیں؟ ظاہر ہے مالی یا سیاسی مفادات ہوں گے! مگر ن لیگ کیوں خلاف ہو گئی؟ کوئی وضاحت نہیں! صرف یہ کہ آج کل ن لیگ مکمل طور پر پیپلزپارٹی کی تابع فرمان بنی ہوئی ہے۔ کبھی…کا پیٹ پھاڑنے کا اعلان کرنے والے شہباز شریف اب اسمبلی میں اسی شخص… کے بیٹے سے جھک کر مصافحہ کرتے ہیں۔ یہ سیاست! یہ جمہوریت ہے!
٭اب ذرا سینٹ کی معروضی صورت حال۔ اس کے کل ارکان 104 ہیں۔ چاروں صوبوں کے ارکان کی تعداد برابر ہوتی ہے۔ اس وقت سینٹ میں تحریک انصاف کی حکومت کے کل ارکان 38 اور ن لیگ، پیپلزپارٹی اور اپوزیشن کے ارکان کی تعداد 66 ہے۔ گویا 28 ارکان کا فرق ہے۔ ان میںسے 15 ارکان حکومت سے آ ملیں تو عدم اعتماد کی تحریک ختم ہو سکتی ہے (یہ عمل شروع ہو چکا ہے) دونوں فریقوں کے ارکان کی تفصیل یوں ہے، حکومتی فریق تحریک انصاف 17، بلوچستان عوامی پارٹی 11، ایم کیو ایم 5، آزاد ارکان 5، بی این پی ایک اور جی ڈی اے ایک، کل 40 ۔اپوزیشن پارٹیوں کی صورت حال یوں ہے، ن لیگ 30، پیپلزپارٹی 20 ایم ایم اے 6، این پی 5، پختون ملی عوام پارٹی 2 اور اے این پی ایک، کل 64! حکومتی پارٹی کے دو ارکان اپوزیشن میں شمار کئے جا رہے ہیں، یوں حکومتی تعداد 38 اور اپوزیشن کی تعداد 66 ہو جاتی ہے۔ ق لیگ کے سربراہ چودھری شجاعت حسین نے صادق سنجرانی کی حمائت کا اعلان کیا ہے مگر سینٹ میں ان کی پارٹی کا کوئی رکن نہیں۔ اس وقت اسلام آباد سینٹ کی خبروں کی زد میں آیا ہوا ہے۔
٭پنجاب اسمبلی کی اپوزیشن کے 16 ارکان وزیراعلیٰ بزدار کی قیادت میں بنی گالا میں وزیراعظم عمران خان  سے جا ملے، ان میں 15 افراد ن لیگ کے اور ایک پیپلزپارٹی کا تھا۔ یہ تفصیل چھپ چکی ہے اور یہ کہ لوٹوں کی ہوا چل پڑی ہے۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار کو بہت سادہ دماغ سمجھا جا رہا تھا، انہوں نے اپنی سادگی کے ساتھ 16 ’مسافر‘ وزیراعظم کو پیش کر دیئے ہیں، مزید کا بھی دعویٰ کیا ہے۔ بے چاری ن لیگ کی قابل رحم حالت! پہلے ہی تین حصول میں بٹ چکی ہے ایک حصے کے علامتی صدر شہباز شریف، دوسرے حصے کی نظامتی صدر مریم نواز، تیسرے حصے کے سلامتی صدر (چیئرمین) راجہ ظفر الحق اور ان تمام گروہوں کے جیل میں بند تاقیامتی صدر نوازشریف! ایسی صورت حال میں 16…لڑھکتے ہوئے وزیراعظم کے حضور حاضر ہو گئے! برصغیر میں لوٹوں کا کھیل 1937ء میں شروع ہوا تھا۔ اس کی دلچسپ داستان ایک روز ایک کیس کی سماعت کے دوران لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس خلیل الرحمان خاں نے سنائی۔ اس کے مطابق 1937ء میں پنجاب اسمبلی کے ایک رکن نواب …نے پارٹی بدل لی۔ اس پر خاصا شور مچا اور ہائی کورٹ میں کیس دائر ہو گیا۔ ایک روز سماعت شروع ہوئی تو باہر مال روڈ پر زور دار دھماکے ہونے لگے۔ بتایا گیا کہ کچھ لوگ مٹی کے لوٹے اور آتش بازی کے زوردار دھماکوں والے گولے لے آئے ہیں۔ وہ سڑک پر گولا رکھ کر آگ دکھاتے ہیں اور اس کے اوپر مٹی کا لوٹا اوندھا کر کے رکھ دیتے ہیں۔ گولا زبردست دھماکے ساتھ پھٹتا ہے ، لوٹا ہوا میں بلند اڑ جاتا ہے، اور پھر دوسرے دھماکے کے ساتھ زمین پر گر کر ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتا ہے۔ یہاں سے لوٹے کی اصطلاح چلی اور اب تک چلی جا رہی ہے۔
٭قارئین! آپ نے پرانے ڈراموں کے نام سنے ہوں گے۔ ان دنوں ڈراموں کے نام دہرے ہوتے تھے مثلاً ’’چال باز حسینہ عرف دو دھاری خنجر‘‘ ’’یہودی کی لڑکی عرف میٹھی چھری‘‘ وغیرہ یہ نام مجھے افغانستان کے توسیع شدہ صدر اشرف غنی کا ایک ٹیلی ویژن پر انٹرویو سن کریاد آئے۔ پاکستان کے ساتھ اتنی محبت! اتنی میٹھی باتیں! اتنی اپنائیت! فرمایا کہ افغانستان سے کبھی پاکستان میں کوئی شر پسند، کوئی دہشت گرد نہیں بھیجا گیا! (ارجنٹائن سے آتے ہوں گے!)۔ سوال اُردو میںجواب انگریزی میں آتا تھا۔ میں حیران! یہ باتیں وہ شخص کر رہا ہے جومسلسل پاکستان کے خلاف زہر اگلتا رہتا ہے۔ اور یہ کہ یہ صاحب جب پاکستان کے ساتھ والہانہ محبت کا اظہار کر رہے تھے عین اسی وقت گجرات کے پاس سکیورٹی فورس اور افغانستان سے آئے ہوئے دہشت گردوں میں فائرنگ کا مقابلہ ہو رہا تھا اس میں تین دہشت گرد ہلاک ہو چکے تھے۔ اور ذرا سا پہلے برطانیہ کے کرکٹ میچ میں افغان باشندے پاکستان کے تماشائیوں پر حملے کر رہے تھے! ایک اہم بات! اشرف غنی نے البتہ یاد دلائی کہ سابق افغان صدر حامد کرزئی 22 دفعہ اسلام آباد آیا تھا۔ آیئے دوسری باتیں کریں:
٭آصف زرداری نے ایک ٹیلی ویژن کو طویل انٹرویو دیا۔ خلاصہ یہ کہ ہم تو محبت کے پجاری ہیں، محبت کے سوا اور کوئی کام ہی نہیں آتا! مجھے آسٹریلیا میں مقیم بہاول پور کی مشہور شاعرہ نوشی گیلانی کے دو تین شعر یاد آ گئے۔ پڑھئے اور لطف اٹھایئے۔ کہتی ہیں کہ ’’عشق دربار سجاتا ہے تو ہم ناچتے ہیں، پھر سرِدار بلاتا ہے تو ہم ناچتے ہیں!…آخرِ شام کوئی عشق کا پاگل لمحہ، جب ہمیں پاس بلاتا ہے تو ہم ناچتے ہیں!‘‘ …اور یہ کہ ’’شب کی پازیب سے الجھا ہوا تنہا گھنگھرو، وصل کے گیت سناتا ہے تو ہم ناچتے ہیں…‘‘ عجیب اتفاق ہے کہ اشرف غنی اور آصف زرداری، دونوں کے محبت بھرے انٹرویو ایک ہی روز ریکارڈ ہوئے، محبت کی اتنی باتیں!؟ چلئے، نوشی گیلانی کا ایک اور محبت بھرا شعر پڑھئے کہ ’’اس شہر میں کتنے چہرے تھے، کچھ یاد نہیں، سب بھول گئے…اک شخص کتابوں جیسا تھا، وہ شخص زبانی یاد رہا‘‘
ایک دلچسپ خبر: گوجرانوالہ کے نزدیک کامونکی میں پولیس ایک سب انسپکٹر ریاست علی بھٹی کو سانپ نے ڈس لیا۔ سانپ تڑپ تڑپ کر مر گیا، سب انسپکٹر ہسپتال میں زیرعلاج ہے! کسی تبصرے کی ضرورت ہے؟
 

تازہ ترین خبریں