07:47 am
مشرقِ وسطیٰ اورایران کی اہمیت

مشرقِ وسطیٰ اورایران کی اہمیت

07:47 am

(گزشتہ سے پیوستہ)
نیتن یاہو کا استدلال یہ تھا کہ ایران کے جوہری معاہدے کے بارے میں امریکہ اور یورپی ممالک کے درمیان موجودہ اختلافِ رائے کے حوالے سے بات نہ کی جائے بلکہ اسرائیل کاکہناتھا کہ یورپی اقدار کو خطرہ ہے۔ ایران کا رویہ، اس کی دہشت گردی کیلئے حمایت، ایران میں انسانی حقوق کی پامالی، غیر ملکیوں کی گر فتا ر یا ں، یہ وہ معاملات ہیں جن پر یورپی حکومتوں کو غور کرنا چاہیے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ برطانیہ، جرمنی اور فرانس کے وزارئے خارجہ خطے میں ایران کے رویے اور اس کے میزائلوں کے پھیلا ؤکی پالیسی پر تشویش میں مبتلا ہیں لیکن ٹرمپ کے یکطرفہ جوہری معاہدے سے علیحدگی کووہ بین الاقوامی معاہدے کی بے توقیری سمجھتے ہوئے ناپسندیدگی کااظہارکرتے ہیں۔
 
 یورپی ممالک کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ ایران کی جوہری سرگرمیوں کو آگے نہ بڑھنے دیں۔ جبکہ امریکہ ، اسرائیل اور عرب اتحادیوں کے لیے یہ کافی نہیں ہے۔ اس وقت یورپ بریگزٹ سمیت کئی اور مسائل میں گھرا ہوا ہے۔ صدر ٹرمپ کے ساتھ کشیدہ تعلقات اور ان کی پالیسیوں میں مسلسل عدم استحکام، پھر ان کا اپنے اتحادیوں سے مشاورت کے بغیر شام سے امریکی فوجوں کے انخلا ء کا فیصلہ، یہ ایسی باتیں ہیں جنہوں نے امریکہ اور یورپ کے تعلقات کو خراب کیا ہے۔ ایران کے جوہری پروگرام پر عالمی معاہدے سے یکطرفہ دستبرداری، پھر روس کے ساتھ جوہری ہتھیاروں کی دوڑ کے خاتمے کے معاہدے سے علیحدگی، یہ وہ اہم معاملات ہیں جو یورپی ممالک میں امریکہ پر اعتماد نہ کرنے کے چند کلیدی نکات بن چکے ہیں۔
 لہٰذا مشرقِ وسطیٰ میں جو بھی مسائل ہوں، وارسا میں ہونے والی کانفرنس بحرِ اوقیانوس کے ممالک کے درمیان اختلافات کو اور زیادہ واضح طور پر ظاہرکیاگیا جو بہتر ہونے کے بجائے اب بد سے بد تر ہوتے جا رہے ہیں۔
ادھربرطانوی حکومت نے اپنے تجارتی معاملات کوامریکی پابندیوںسے بچانے سے متعلق یورپی ضابطوں کوقومی قانون کاحصہ بنانے کی منظوری دیدی ہے اوراب برطانوی کمپنیاں ایران سمیت دیگرممالک کے ساتھ اپنے تجارتی لین دین کاسلسلہ جاری رکھ سکیں گی۔ یورپی یونین کے بلاکنگ اسٹیٹس کوقانون کاحصہ بنانے کابل دسمبر2018ء کوپارلیمنٹ میں پیش کیا گیا تھاجس کی منظوری ماہ رواں پارلیمنٹ نے دیدی ہے۔ دریں اثناء امریکی سفیربرائے جرمنی اچرڈگرسٹیل نے یورپی یونین کومتنبہ کیاہے کہ وہ ایران کے خلاف عائد امریکی پابندیوں کے خلاف بازرہے۔انہوں نے کہاکہ ایران کے ساتھ یورپی تجارت کیلئے یورپی یونین کامتعارف کردہ نظام امریکی پالیسیوں کی خلاف ورزی کے مترادف ہے جس کے نتائج یورپی یونین کیلئے نقصان کاباعث بنیں گے ۔دریں اثناء ایرانی سپریم لیڈرآیت اللہ خامنائی نے کہاہے کہ امریکاسے ہماری مرادامریکی عوام نہیں بلکہ امریکی حکمران ہیں جوایک شرارتی دشمن کی حیثیت سے اسرائیل اورخطے کی دیگررجعت پسند حکو متو ں کو آمادہ کرتے ہیں۔یمن ایک مثال ہے ،سعودی حکو مت  جرم کرتی ہے  اور امریکہ اس جرم میں بر ا بر کا شریک  ہے۔ 
عرب ٹی وی سے بات کرتے ہوئے برطانیہ کے سابق وزیراعظم ٹونی بلیئرنے کہاتھاکہ انقلاب کے چالیس سال بعدبھی ایران سخت گیرکنٹرول میں ہے ، ایران انتہاء پسندگروپس کے ذریعے اپنا اثرونفوذ پھیلانے کی کوشش کررہاہے۔لبنان میں حزب اللہ اور یمن میں حوثی ملیشیاء اس کی مثالیں ہیں۔ان کا کہنا تھاکہ ایران مسئلہ فلسطین کے دوریاستی حل کی بھی حمایت نہیں کرتا۔جوہری طاقت کے ساتھ ایران بہت ہی خطرناک اورتباہ کن ہوگا لیکن جوہری ہتھیاروں کے حصول کے بغیربھی ایران عدم استحکام پیداکرنے کیلئے اثرونفوذرکھتا ہے۔
موجودہ نظام کے حکمراں ہرصورت میں جو ہر ی  پھیلاؤ کاسلسلہ جاری رکھیں گے ،اس لئے عالمی برادری کیلئے ضروری ہے کہ وہ آج ہی سے موجودہ ایرانی حکومت کاتختہ الٹنے کاکام شروع کردے۔ دوسری جانب پولینڈکے نائب وزیرخارجہ برائے سیکورٹی وامریکی امورمسٹربارٹوزسیچولی نے کہاہے کہ ایران کو نظر ا ند ا ز کر کے  مشرقِ وسطیٰ کاحل ناممکن ہے۔انہوں نے کہاکہ 13 اور 14فروی کوپولینڈمیں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پرمنعقدہ کانفرنس میں موجودہ بحرانوں سے متعلق مختلف آراء سامنے آئی ہیںجس سے مشرقِ وسطیٰ کے بحرانوں کے حل تک پہنچنے کی کوشش کی جاسکتی ہے جس سے جاری بحرانوں کے حل کوایسی ترتیب دی جاسکتی ہے جس سے کسی بھی جنگ سے بچتے ہوئے ان گھمبیرمسائل کاحل تلاش کیا جا سکتا ہے لیکن اس کیلئے ضروری ہے کہ ایران پراعتمادکرکے اسے بہترین اوراہم کرداراداکرنے کیلئے کہاجائے لیکن ان معاملات میں امریکی واسرائیلی سازشوں سے باخبر رہنے کی بھی اشدضرورت ہے۔


 

تازہ ترین خبریں