07:48 am
کوئی تعمیری سیاست نہیں رہی!

کوئی تعمیری سیاست نہیں رہی!

07:48 am

 گزشتہ دن سپہ سالارِ پاک فوج نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد میں ’’قومی معیشت‘‘ کے موضوع پر منعقد کئے جانے والے سیمینار میں خاصی کھل کر بات چیت کی اور قوم کو جہاں یکجا رہنے کا پیغام دیا وہاں ایسی قوتوں کو بھی پیغام دیا جو کہ اس نازک ترین صورتحال کے دوران ملک میں جلسے جلوسوں اور احتجاجوں کے ذریعے انارکی پھیلانے کے پلید خواب دیکھ رہی ہیں۔  آرمی چیف نے کھلم کھلا کہا کہ ملک مشکل معاشی صورتحال سے دوچار ہے کیونکہ ماضی میں اہم مشکل فیصلے کرنے سے ہم کتراتے رہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اب حکومت اور دیگر سٹیک ہولڈرز کی  قومی اہمیت کے معاملات پر بات چیت کرنا اور نئے راستے نکالنا ناگزیر ہو چکا ہے۔  انہوں نے کہا کہ مشکل فیصلے کرنے سے ہی مختلف ممالک کامیابی سے معاشی بحرانوں سے نکلے ہیں اور ماضی میں اس کی مثالیں موجود ہیں۔  مگر ایسی صورتحال میں محض اکیلا ایک آدمی کچھ نہیں کرسکتا بلکہ پوری قوم کو ایک ہونا ہو گا اور اپنا اپنا حصہ ڈالنا ہو گا۔ پاک فوج نے بھی دفاعی بجٹ میں اس سال اضافہ نہ لے کر اپنا حصہ ڈال دیا ہے انہوں نے  مزید کہا کہ ملک نہیں بلکہ خطے ترقی کرتے ہیں اس لئے ہمیں علاقائی روابط اور تعاون پر زور دینا ہو گا۔ 
 
آرمی چیف کے اس بیان سے قوم کو کافی حوصلہ ملا ہے مگر کچھ شرپسند طاقتیں جنہیں پاکستان میں ہم آہنگی اور مثبت سوچ پروان چڑھتی ہضم نہیں ہوتی وہ ابھی بھی سماجی میڈیا پر بیٹھ کر چائے کی پیالی میں طوفان برپا کئے ہوئے ہیں۔ مگر یہ کوئی نہیں بتا رہا آخر آرمی چیف کو یہ باتیں کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟  کیونکہ اس وقت پاکستان اہم مالیاتی بد انتظامیوں کی وجہ سے ایک سنگین صورتحال سے دوچار ہے جس میں حکومت آئی ایم ایف سے معائدے کی وجہ سے شدید تنقید کی زد میں ہے اور اسے غربت کی چکی میں پسی عوام سے پذیرائی نہیں مل رہی اور ادھر حزب اختلاف نے ایوان میں اس معاشی صورتحال سے نمٹنے کے لئے کوئی مثبت رائے دینے کی بجائے اپنے اپنے لیڈران کی  پروڈکشن آرڈرز جاری کرانے پر زور رکھا، کوئی تعمیری رائے نہیں دی بلکہ سیاسی رونے دھونے پر اکتفا کیا۔ نیز انہوں نے وفاقی بجٹ کو پاس نہ کرنے کی دھمکی بھی دے رکھی ہے۔ اس سے بھی کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ معیشت اور ملک کی سکیورٹی کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔  اس لئے دفاعی بجٹ میں کٹوتی ایک حد تک ہو سکتی ہے اور ابھی ہمیں اضافی دفاعی بجٹ کی بھی ضرورت ہے  کیونکہ اب ہم ایران کے باڈر کے ساتھ بھی باڑ لگا رہے ہیں جو کہ بالکل مفت میں نہیں ہوگی۔  ایسی مذکورہ بالا صورتحال کے تناظر میں آرمی چیف کی گفتگو بالکل درست سمت میں دکھائی دیتی ہے۔ جس سے جہاں مشکلات کی شکار حکومت کو حوصلہ ملا ہے وہاں اس کی بے نامی اکانٹس کو رجسٹر کرانے کی ایمنسٹی اسکیم کو بھی عوام میں پذیرائی ملے گی۔ اور قوی امید ہے کہ ہمارا ملک اس معاشی بحران سے نکل آئے گا جس کے بھنور میں ہم سب پھنسے ہوئے ہیں اور ہچکولے کھا رہے ہیں۔ 
معیشت کسی بھی ریاست کی ریڑھ کی ہڈی سے کم نہیں ہوتی کیونکہ کسی بھی ریاست کی عوام کی خوشحالی کا دارومدار اس کے معاشی استحکام سے نتھی ہوتا ہے۔ اور معاشی استحکام کو ضرروی بنانے کے لئے عصر حاضر کے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ موزوں پالیسیوں کا انتخاب اور  بروقت کڑے اور اہم فیصلے درکار ہوتے ہیں۔ بعد ازاں جن میں حکومتوں کی تاخیر کی قیمت قوموں کو کڑا امتحان دے کرچکانی پڑتی ہے۔ پھر ملک چاہتے نا چاہتے ہوئے عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے شکنجے میں پھنس جاتے ہیں جن کے قرضوں کی ادائیگی کے لئے بھی ریاستوں کو ان سے مزید قرضے لینے پڑتے ہیں اور یوں قرضوں کی دلدل میں ملک جوں جوں دھنستا ہے ویسے ویسے اس ملک کی عوام مہنگائی اور غربت کی چکی میں پستی چلی جاتی ہے۔ سمجھ لیں یہ مالیاتی ادارے جن کی طرف مجبوری کے عالم میں ملک اپنا دامن پھیلاتے ہیں یہ ان کا استحصال تو کرتے ہی ہیں ساتھ ساتھ اس ملک کی خودمختاری کے خواب کو بھی چکنا چور کر دیتے ہیں۔
کچھ ایسا ہی حال ہمارے پیارے ملک پاکستان کا بھی ہے۔ جو کہ تمام تر قیمتی قدرتی معدنیات اور موسموں اور وسائل کی دستیابی کے باوجود انہی عالمی مالیاتی اداروں کے شکنجے میں بری طرح جھکڑا ہوا ہے۔ نیز اس کے تمام تر ادارے گھاٹے میں جارہے ہیں اور تو اور ہمارے ملک کی کرنسی بھی عالمی منڈی میں بے وقعت ہوتی جارہی ہے۔ روپے کے مقابلے میں ڈالر کی اونچی اڑان اور عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی قیمتوں نے بھی ہماری حکومت کے ہاتھ پائوں پھولا رکھے ہیں۔ گو کہ وہ برسراقتدار آنے کے بعد سے ہی کوشاں ہیں کہ معیشت کی اس ڈوبتی نیا کو کسی طرح سہارا دے سکیں مگر تاحال انہیں کامیابی مو صو ل  نہیں ہو رہی بلکہ حالات دن بدن خراب ہوتے جا رہے ہیں۔ عام آدی کا گزارہ محال اور اس کی جیب کنگال ہوتی جارہی ہے جس نے پی ٹی آئی کے موجودہ حکومت پر بہت زیادہ عوامی دبائوہے جسے حزب اختلاف کی جماعتیں بھی کیش کرنے کا سوچ رہی ہیں۔ مگر مشکل کی اس صورتحال میں فوج حکومت کے شانہ بشانہ کھڑی نظر آرہی ہے۔
اب معیشت کا درست سمت میں گامزن ہونا ناگزیر ہے کیونکہ اس کے بغیر کسی بھی ریاست کی کو خود مختاری نہیں ہوتے اسے دوسروں کے سامنے اپنے مفاد کے پیش نظر جھکنا پڑ جاتا ہے۔ اگر ہمیں حقیقی معنوں میں خود مختار ریاست بننا ہے تو ہمیں موجودہ حکومت کے ان کڑے فیصلوں کا کڑوا گھونٹ اپنے پیارے وطن کے وسیع تر مفاد کی خاطر باخوشی پینا ہو گا۔ وقتی طور پر بہت دقت ہو گی مگر یاد رکھیے ہر مشکل کے بعد آسانی مہیا کرنے کا وعدہ اللہ تعالیٰ  نے قران پاک میں خود فرمایا ہے۔


 

تازہ ترین خبریں