07:49 am
یقین قلبی اورا نفاق

یقین قلبی اورا نفاق

07:49 am

قارئین !  آج ہماری گفتگو موضوع بالا کے اعتبار سے سورۃ الحدید کی آیات 8 تا 11 پر محیط ہوگی۔ فرمایا:’’اور تم کیسے لوگ ہو کہ اللہ پر ایمان نہیں لاتے۔ حالانکہ(اس کے) پیغمبر تمہیں بلا رہے ہیں کہ اپنے پروردگار پر ایمان لائو۔‘‘
 
آگے فرمایا: ’’وہ تم سے قول و قرار لے چکا اگر تم مؤمن ہو!‘‘ یہاں پر اصطلاحی ترجمہ کیجیے کہ اگر تم مؤمن ہو‘ تم ایمان کے دعویدار ہو پھر تو تمہارا عہد و میثاق اور قول و قرار ہو چکا۔ یہاں سورۃ التوبۃ کی آیت 111 ذہن میں لایئے :   ’’اللہ تو خرید چکا ہے اہل ایمان سے ان کی جانیں اور مال جنت کے عوض‘‘۔ اب یہ جان و مال ان کے ہیں کہاں؟ اب تو گویا ان کے پاس محض ایک امانت کے طور پر رکھے ہوئے ہیں کہ جیسے ہی مطالبہ ہو حاضر کر دیے جائیں۔ یہ ہے درحقیقت وہ  قول و قرار‘ کہ اگر تم مؤمن ہو پھر تو تم اپنی جان اور مال فروخت کر چکے‘ اب وہ تمہاری ملکیت ہے ہی نہیں۔ اوّلاً تو اصولی طور پر تم اس کے مالک نہیں‘پھر یہ کہ اس     قول و قرار سے اس کی مزید توثیق ہو گئی ۔ اب یہ تمہارے پاس امانت ہے۔تم کلمہ پڑھ کر اللہ سے یہ عہد باندھ چکے ہو کہ اس کی رضا کے لئے اس کے دین کے غلبہ کی راہ میں اپنی جان بھی کھپائو گے اور اپنا مال بھی لگائو گے۔ اس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ تمہیں جنت عطا فرمائے گا۔ اب تم اس عہد کی خلاف ورزی نہیں کر سکتے۔ اگر فی الواقع جنت چاہتے ہو تو تمہیں یہ عہد بہرصورت پورا کرنا ہو گا۔ جب تم نے اللہ کو اپنا رب اور محمد ﷺ کو اس کا رسول مانا ہے تو اب ان کی طرف سے جو بھی تقاضا آئے، اسے پورا کرنا ہو گا۔ یہ اس میثاق کا بھی تقاضا ہے جو عالم ا رواح میں تمام ارواح انسانیہ سے کیا گیا،  جسے  ’’ عہدالست ‘‘کہا جاتا ہے۔ یہ بھی یاد رکھئے کہ اگر فی الواقع جنت کا حصول تمہارا مطمح نظر ہے تو نے اللہ کے ہاتھ اپنے جان و مال کا جو سودا جنت کے بدلے کیا ہے، اس کے تحت جان و مال کو اس کی راہ میں لگانا تم پر لازم ہے، آج ہمارا حال یہ ہے کہ اپنی جان و مال کو بچا بچا کر رکھتے ہیں، اللہ کی دی ہوئی امانت (جان و مال)میں خیانت کرتے ہیں اور پھر یہ کہتے ہیں کہ جنت ہمیں بہر حال ملے گی، یہ ہمارا پیدائشی حق ہے۔ اس انداز فکر کو بدلنے کی ضرورت ہے۔
آگے فرمایا:’’وہی تو ہے جو اپنے بندے پر واضح(المطالب) آیتیں نازل کرتا ہے، تاکہ تم کو اندھیروں میں سے نکال کر روشنی میں لائے۔‘‘
اللہ ہی ہے جو اپنے بندے (ﷺ) پر وہ آیات جو بین ہیں نازل فرما رہا ہے۔ بین اس شے کو کہتے ہیں جو از خود واضح اوراز خود روشن ہو‘ اسے کسی اور وضاحت کی ضرورت نہ ہو‘ اسے کسی دلیل خارجی کی حاجت نہ ہو ۔جیسے ہم کہتے ہیں ع’’آفتاب آمد دلیل آفتاب!‘‘ یعنی سورج طلو ع ہو گیا تو اب سورج کے وجود کے ثبوت کے لیے کسی اور دلیل کی ضر ورت نہیں ہے۔ وہ تو خود اپنے وجود پر سب سے بڑی برہان اور دلیل قاطع ہے۔ قرآن مجید اپنی آیات کے لییٍ (روشن اور بین آیات) کی ترکیب استعمال کرتا ہے۔ سورۃ التغابن میں تو قرآن حکیم کے لیے لفظ ہی ’’نور‘‘ آیا ہے: ’’پس ایمان لائو اللہ پر اور اس کے رسول پر اور اس نور پر جو ہم نے نازل فرمایا‘‘۔ یہ از خود نور ہے اور درحقیقت اسی سے نورِ ایمان پیدا ہوتا ہے۔ یہ نورِ وحی‘ نورِ فطرت کے ساتھ مل کر نورِ ایمان پیدا کرتا ہے۔  قرآن مجید میں نور کا لفظ ہمیشہ واحد آتا ہے‘ جبکہ ’’ظلمات‘‘ ہمیشہ جمع کی صورت میں آتا ہے۔ چنانچہ سورۃ النور میں بھی الفاظ آئے ہیں : ’’اندھیرے ہیں تہہ بہ تہہ‘‘۔اس لیے کہ نور ایک بسیط حقیقت ہے اور تاریکی کے بے شماررخ ہیں‘ مثلاً کفر‘ شرک‘ الحاد‘ انسانی حاکمیت کا تصور‘ مادہ پرستی‘ شہوت پرستی‘ دولت پرستی‘ شہرت پرستی‘ قوم پرستی‘ خود پرستی‘ نفس پرستی اور اس طرح کی بے شمار پرستشیں۔ یہ سب ظلمات ہی کے مختلف سائے ہیں‘ یہ تمام اندھیرے ہیں اور ان تمام اندھیروں سے نکال کر نورِ ایمان میں لانے والی شے قرآن حکیم کی آیاتِ بیّنات ہیں۔ لہٰذا ہم جتنا قرآن سے جڑیں گے یقین قلبی میں اسی قدر اضافہ ہوتا جائے گا اور جس قدر قرآن سے دور ہوں گے۔ ایمان و یقین میں اُسی قدر کمزوری آئے گی۔ مولانا ظفر علی خان نے اس حقیقت کو بہت پیارے انداز سے اپنے اس شعر میں بیان کیا ہے  ۔
 وہ جنس نہیں ایمان جسے لے آئیںد کان فلسفہ سے 
ڈھونڈے سے ملے گی عاقل کو یہ قرآں کے سیپاروں میں
’’اور یقینااللہ تمہارے حق میں رؤف بھی ہے‘ رحیم بھی ہے۔‘‘  یہ دونوں صفات رَئُ وْ فٌ اور  رَحِیْمٌ اس   سورئہ مبارکہ کی آیت 27 میں ’’رأفـۃ‘‘ اور ’’رَحمۃ‘‘ کے الفاظ میں آئی ہیں: ’’اور جن لوگوں نے ان (عیسٰی ؑ )  کی اتباع کی ان کے دلوں میں ہم نے نرم دلی اور رحم ڈال دیا۔‘‘ اللہ کی رحمت کا مظہراَتم یہ قرآن ہے۔ سورۃ الرحمن کی ابتدائی آیات میں دراصل اسی حقیقت کو بیان کیا گیا ہے۔ فرمایا:’نہایت رحم والا ہے ‘جس نے قرآن سکھایا‘‘۔ اب دیکھئے، ان میں کیا نسبت ہے! یہ درحقیقت اللہ تعالیٰ کی شانِ رحمانیت کا مظہر ہے کہ اس نے قرآن سکھایا ۔ ’’رَحْمٰن‘‘ ’’فَعْلان‘‘ کے وزن پر اسم مبالغہ ہے کہ جس میں کوئی بھی کیفیت پورے جوش و خروش کے ساتھ ہوتی ہے‘ ایک طوفانی کیفیت ہوتی ہے۔ تو درحقیقت اللہ تعالیٰ کی رحمت کی طوفانی اور ہیجانی کیفیت کا مظہر اَتم یہ قرآن ہے۔ اس لیے کہ یہ ہدایت ہے اور رحمت ہے۔ اسی سے تمہاری عاقبت یعنی آخرت کی زندگی سنورے گی جو کہ اصل اور ابدی زندگی ہے۔ یہی نور ہے‘ یہی راستہ دکھانے والا ہے۔ جیسے کہ نبی اکرمﷺسے ایک بہت ہی پیاری اور جامع دعا مروی ہے   کہ اے ہمارے پروردگار! اس قرآن مجید کو ہمارا امام بنا دے‘ اسے ہمارے لیے نور‘ ہدایت اور رحمت بنا دے۔
آگے پھر انفاق فی سبیل اللہ کے حوالے سے جھنجوڑا جا رہا ہے۔ فرمایا:’’اور تم کو کیا ہوا ہے کہ اللہ کے رستے میں خرچ نہیں کرتے۔ حالانکہ آسمانوں اور زمین کی وراثت اللہ ہی کی ہے۔‘‘
دیکھو، تمہارے پاس جو مال ہے، وہ تمہارا نہیں اللہ کا ہے، وہ اللہ نے تمہیں بطور امانت دیا ہے۔ یہ ہمیشہ تمہارے پاس نہیں رہے گا۔ ایک دن لازماً تم اسے چھوڑ کر جائو گے۔ لہٰذا اسے راہ خدا میں لگائو۔ دین مغلوب ہے۔ طاغوتی قوتوں کا غلبہ ہے۔ ان باطل قوتوں سے ٹکر لینے کے لئے افراد ی قوت بھی درکار ہے اور مال کی بھی ضرورت ہے۔ لہٰذا بے دریغ مال و اسباب فراہم کرو۔ اللہ کے دین کی اقامت اور کفر کے استیصال کی خاطر اپنے مالوں سے اللہ کی جماعت کو تقویت پہنچائو۔ جب اپنا جان و مال کی اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے تو تب اللہ کی نصرت تمہیں حاصل ہو گی۔ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرتے ہوئے تمہیں کسی قسم کے فقر و فاقہ کا اندیشہ دل میں نہیں لانا چاہیے، کیونکہ جس اللہ کی خاطر تم خرچ کرو گے۔ وہ زمین وآسمان کے سارے خزانوں کا مالک ہے۔ اس کے پاس بس اتنا ہی کچھ نہ تھا جو اس نے تمہیں دے رکھا ہے، بلکہ وہ کل تمہیں اس سے بہت زیادہ دے سکتا ہے۔ انفاق جان و مال کے حوالے سے وہ حدیث ذہن میں لائے جس میں آپؐ نے فرمایا: ’’قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے حضور ابن آدم کے قدم اُس وقت تک اپنی جگہ سے ہل نہیں سکیں گے جب تک اس سے پانچ چیزوں کے بارے میںپوچھ گچھ نہ کر لی جائے : ’’(1) اس کی عمر کے بارے میں کہ کہاں گنوائی؟ (2) اس کی جوانی کے بارے میں کہ کہاں لٹائی؟ (3) اس کے مال کے بارے میں کہ کہاں سے کمایا؟ (4)اور کہاں خرچ کیا؟(5) اور جو علم حاصل کیا اس پر کتنا کچھ عمل کیا؟‘‘    ( جار ی ہے )


 دیکھئے عمر کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے اور اس کے بارے میں دو سوال ہیں: ’’جو عمر ہم نے تمہیں دی تھی وہ کہاں گنوائی؟ اور خاص طور پر جوانی کہاں لگائی؟‘‘ معلوم ہوا کہ یہ ساری چیزیں وہ ہیں جو اللہ نے ہمیں دی ہیں اور اُس کا تقاضا یہ ہے کہ ہم ان سب چیزوں میں سے اس کی راہ میں انفاق کریں۔ 
آگے فرمایا : ’’تم میںسے جن لوگوں نے فتح سے پہلے خرچ کیا اور جہاد کیا (اور جنہوں نے فتح کے بعد خرچ کیا اور جہاد کیا) وہ برابر نہیں ہیں۔‘‘
 آیت کریمہ کا یہ حصہ بہت اہم ہے۔ ہر عمل کی ایک ظاہری شکل اور کمیت ہوتی ہے اور ایک اس کی باطنی کیفیت ہوتی ہے کہ کن حالات میں وہ عمل کیا گیا ہے۔ ان دونوں اعتبارات سے عمل کے اجر و ثواب میں اور اللہ کے ہاں درجے کے تعین میں زمین و آسمان کا فرق واقع ہو جاتا ہے۔ دیکھئے ایک انفاق اور قتال فتح سے پہلے ہوا ہے۔ اور یہاں اس سے ثابت ہو جاتا ہے کہ یہ سورئہ مبارکہ کم سے کم صلح حدیبیہ کے بعد نازل ہوئی ہے۔
صلح حدیبیہ سے پہلے اور بعد میں انفاق اور قتال کے اجر و ثواب میں تفاوت کا ذکر اس لئے کیا گیا کہ صلح حدیبیہ سے پہلے خاص طور پر مکی دور میں ایمان لانا ، انفاق کرنا بہت ہی زیادہ باعث خطر تھا، بلکہ یہ جوئے شیر لانے کے مترادف تھا۔ یہ ہر طرح کے مصائب اور خطرات کو دعوت دینے والی بات تھی۔ لہٰذا جو لوگ اس وقت ایمان لائے اور جہاد و قتال کے معرکوں میں شرکت کی اُن کا درجۂ ایمان بہت بلند ہے۔ اس کے برعکس جن لوگوں نے صلح حدیبیہ کے بعد انفاق اور قتال کیاجبکہ  اسلام اپنی اجنبیت کے دور سینکل  کر قوت اور طاقت حاصل کر چکا تھا، اُن کا درجہ پہلے والوں سے کم ہو گا۔ دونوں برابر نہیں ہو سکتے۔ صلح حدیبیہ سے پہلے انفاق و قتال کرنے والوںکا درجہ بعد میں خرچ کرنے اور قتال کرنے والوں سے بہت بڑھ کر ہے۔ یہی بات اس سے پہلے ہم سورۃ الرحمن میں پڑھ چکے ہیں، جس کی تشریح پھر سورۃ الواقعہ میںسابقون الاولون اور اصحب الیمین کے حوالے سے  آئی ہے ۔ سابقون الاولون کا بہت ہی اونچا درجہ ہے، اس کے بعد درجہ اصحاب الیمین کاہے۔ لیکن اس فرق کے باوجود یہ بات واضح فرما دی کہ ’’اور اللہ نے سب سے(ثواب) نیک (کا) وعدہ تو کیا ہے۔‘‘یعنی اللہ تعالیٰ کا سب کے لئے اچھا وعدہ ہے۔ اللہ سب کو اجر وثواب سے نوازے گا۔ 
’’اور جو کام تم کرتے ہو اللہ ان سے واقف ہے۔‘‘ 
یعنی اللہ تعالیٰ اس بات سے خوب آگاہ ہے کہ کس نے کون سا عمل کس حالت میں کیا ہے۔ اس نے اس کام کی انجام دہی کے لئے اپنی کتنی اندرونی رکاوٹوں کے اوپر غلبہ حاصل کیا ہے اور اُسے اس کے لئے کتنی جدوجہد کرنا پڑی ہے۔ خارجی حالات اور داخلی حالات دونوں کے اعتبارات سے کسی بھی عمل کی قدر و قیمت کایقین ہو گا۔ لہٰذایہ یقین رکھو کہ جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اس سے آگاہ  ہے ۔ تمہارے عمل کا ہر ہر پہلو اس کی نگاہ میں ہے۔
 آگے فرمایا:’’کون ہے جو اللہ کو(نیت) نیک(اور خلوص سے) قرض دے تو وہ اس کو اس سے دگنا ادا کرے اور اس کے لئے عزت کاصلہ(یعنی جنت) ہے۔‘‘
اللہ تعالیٰ کی ذات کتنی کریم ہے کہ اگر آدمی اس کے بخشے ہوئے مال کو اس کی راہ میں خرچ کرے تو وہ اس کو اپنے ذمہ قرض قرار دیتا ہے بشرطیکہ وہ قرض حسن ہو یعنی اللہ کی رضا کے لئے، اللہ کی راہ میں، اللہ کے دین کے غلبہ کے لئے دیا جائے۔ اگرچہ انسانی ہمدردی کے کاموں میں مال خرچ کرنا بھی اللہ کو بہت پسند ہے، اس کا بڑا اجر و ثواب ہے۔ لیکن اِس ضمن میں دین کے غلبہ کے لئے مال خرچ کرنے کی خصوصی اہمیت ہے۔ اور جو شخص اللہ کو قرض حسن دے، اللہ اُسے کئی گنا بڑھا کر واپس کرے گا۔ ایسے شخص کے لئے بہت با عزت اجر ہو گا۔حدیث میں حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کی روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی اور حضورﷺ کی زبان مبارک سے لوگوں نے اس کو سنا تو حضرت ابوالد حداح انصاری نے عرض کیا یا رسول اللہ، کیا اللہ تعالیٰ ہم سے قرض چاہتا ہے؟ حضورﷺ نے جواب دیا، ہاں اے  ابوالدحداح۔ انہوں نے کہا، ذرا اپنا ہاتھ مجھے دکھائیے۔ آپؐ نے اپنا ہاتھ ان کی طرف بڑھا دیا۔ انہوں نے آپؐ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر کہا:’’میں نے اپنے رب کو  اپنا باغ قرض دے دیا۔‘‘ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ    فرماتے ہیں کہ اُس باغ میں کھجور کے چھ سو درخت تھے، اُسی میں ان کا گھر تھا، وہیں ان کے بال بچے رہتے تھے۔   رسول اللہ ﷺ سے یہ بات کر کے وہ سیدھے گھر پہنچے اور بیوی کو پکار کر کہا:’’دَحْداح کی ماں نکل آئو، میں نے یہ باغ اپنے رب کو قرض دے دیا ہے۔‘‘ وہ بولیں ’’تم نے نفع کا سودا کیا وحداح کے باپ:’’اور اسی وقت اپنا سامان اور اپنے بچے لے کر باغ سے نکل گئیں۔‘‘ (ابن ابی حاتم)
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی راہ میں جان و مال کے انفاق کی توفیق عطا فرمائے، (آمین) 







 

تازہ ترین خبریں