07:49 am
لیڈز میں پی ٹی ایم مارکہ مائنڈ سیٹ

لیڈز میں پی ٹی ایم مارکہ مائنڈ سیٹ

07:49 am

پاک افغان میچ کے دوران پاکستان دشمنی میں جو کچھ ہوا  کیا وہ سب اچانک یا اتفاقی تھا؟ حکمران‘ جمہوریت پسندسیاست دان ‘ میڈیا کے پردھان اور مقتدر ادارے غور کریں کہ پاکستان کے بھگوڑے انگلینڈ‘ امریکہ یا دیگر مغربی ممالک میں اس قدر مضبوط کیسے ہو جاتے ہیں کہ وہ نہ صرف یہ کہ وہاں کھلم کھلا پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ کرتے ہیں ‘ مظاہرے کرتے ہیں … میچ کے دوران پاکستانیوں پر تشدد کرتے ہیں بلکہ گرائونڈ کے اوپر پرواز کرنے والے جہاز کے ذریعے پاکستان مخالف بینر بھی لہراتے ہیں۔
امریکہ اور مغربی دنیا کو محفوظ بنانے کے لئے نائن الیون کے بعد پاکستان نے امریکہ کی سب سے بڑی دشمن مسلم تنظیم القاعدہ سے ٹکر لی‘ افغانستان میں امریکہ کو کامیاب کروانے کے لئے رسوا کن ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے دور میں پاکستان نے امریکہ کو مکمل لاجسٹک سپورٹ فراہم کی‘ پاکستان میں اگر کوئی لندن‘ امریکہ یا کسی دوسرے مغربی ملک کے خلاف پروپیگنڈا  کرے یا ان کی  دشمن تنظیموں کی حمایت کا اعلان کرے تو اسے نہ صرف دھرلیا جاتا ہے بلکہ دہشت گردی کا مقدمہ قائم کرکے پس دیوار زنداں دھکیل دیا جاتا ہے۔
 
لیکن امریکہ سمیت دیگر مغربی ممالک میں پاکستان کے دشمن کھلے عام پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کرتے ہیں مگر وہاں کی حکومتیں اور سیکورٹی ادارے ان پاکستان دشمنوں کو گرفتار کرنا تو درکنار جھوٹے منہ تحقیقات کرنے کے لئے بھی تیار نہیں ہوتے تو کیوں؟
پاک‘ افغان میچ کے دوران پاکستان دشمنی میں کیے جانے والے واقعات کیا ہمارے حکمرانوں اور میڈیا سے یہ تقاضا کرنے کے لئے کافی نہیں ہیں کہ انہیں اب امریکہ کی غلامانہ ذہنیت اور مغرب کی غلامانہ تقلید سے باہر آجانا چاہیے۔
پی ٹی ایم اور بلوچ علیحدگی پسند اگر بیرون ممالک پاکستان کے خلاف مظاہرے کررہے ہیں‘ ان کے بھگوڑے راہنما اگر بیرونی دنیا میں پاکستان کے خلاف تقریریں کررہے ہیں‘ میچ کے دوران پاکستان مخالف بینر لہرا رہے ہیں تو یہ اس با ت کا ثبوت ہے کہ مغربی ممالک کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے لیکن ایسا کرنے والے مجرموں کو کوئی گرفتار کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔
پاکستان سے تو مطالبہ کیا جاتا ہے کہ پاکستان کی سرزمین‘ امریکہ یا مغربی ممالک تو دور کی بات دہلی کے خلاف بھی استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے‘ چنانچہ ہماری بہادر پولیس نے کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کی حمایت میں تقریر کرنے والوں کے خلاف نہ صرف یہ کہ ایف آئی آر کاٹی بلکہ … اسے گرفتار کرکے اس فضول مقدمے میں عدالت سے سزا بھی دلوائی‘ لیکن پی ٹی ایم اور بلوچ علیحدگی پسندوں کے لئے مغربی ممالک ایسے ہیں کہ جیسے وہ ان کے سسرال والوں کے گھر ہوں؟ ایک بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ پاکستان کے مسلمان عوام ہوں یا افغانستان کے مسلمان عوام یہ یک جان دو قالب ہیں‘ جن چند درجن ’’شیطانوں‘‘ نے میچ کے دوران پاکستانی تماشائیوں کو زدو کوب کیا‘ یہ پی ٹی ایم مارکہ مائنڈ سیٹ کے حامل افغان تھے … پی ٹی ایم مارکہ مائنڈ سیٹ کے حامل افغان گروہ کے کسی اقدام کو بنیاد بناکر پوری افغان قوم پر تبراء کرنے والے بھی کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں‘ افغان قوم نے افغانستان  کی آزادی کے لئے گزشتہ  30 سالوں میں20 لاکھ سے زائد جانیں قربان کرکے دنیا کی دو سپر پاورز کا غرور خاک میں ملایا‘ حامد کرزئی‘ اشرف غنی‘ عبد اللہ عبد اللہ‘ ننگ انسانیت جنرل رشید دوستم نہ کل افغان قوم کے ہمدرد تھے‘ نہ آج ہمدرد ہیں‘ اسی لئے تو افغان قوم نے ان امریکی کٹھ پتلیوں کو آج تک تسلیم نہیں کیا‘ اس حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کا یہ بیان بھی چشم کشا ہے کہ جس میں وہ کہتے ہیں کہ ’’کھیل کی گہما گہمی اور گرمی کے باوجود روپ بدل کر کچھ لوگوں نے سٹیڈیم کے اندر اور باہر جو رویہ اپنایا وہ کھیل نہیں تھا‘یہ رویہ اپنانے والوں کو کچھ خاص لوگوں کی مدد حاصل تھی ‘‘ گو کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے ان ’’خاص‘‘ لوگوں کا نام نہیں لیا‘ لیکن بھارت کی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ اور افغان خفیہ ایجنسی این ڈی ایس کی راتب خوری کرنے والی فری بلوچستان موومنٹ‘ ورلڈ بلوچ آرگنائزیشن‘ بلوچ ری پبلکن پارٹی‘ بلوچ نیشنل موومنٹ اور پی ٹی ایم کے ناموں سے ہر ذی شعور پاکستانی  خوف واقف ہے‘ اس لئے میچ کے دوران چند درجن شیطان صفت  افغانوں کی مذموم حرکتوں کی بنیاد پر پوری افغان ملت پر تبراء کرنے والے بھی دراصل ’’را‘‘ اور این ڈی ایس کے ہاتھوں کو ہی مضبوط کررہے ہیں‘ ڈ اکٹر نجیب کا افغانستان سوویت یونین کا افغانستان تھا‘ حامد کرزئی اور اشرف غنی کا افغانستان ‘ امریکہ اور دہلی کے راتب خوروں کا افغانستان ہے۔
کابل کی چند گلیوں تک محدود اشرف غنی کی حکومت اپنی آخری ہچکیاں لے رہی ہے … ملا محمد عمر مجاہد اور ان کے ہزاروں طالبان بھی تو افغان ہی ہیں کہ جنہوں نے آج تک پاکستان کے خلاف  کبھی پتھر بھی نہیں پھینکا‘ بلکہ ملا عمر کی حکومت کے6 سال پاکستان اور افغانستان کے آپس کے تعلقات انتہائی شاندار اور مثالی رہے‘ اس لئے ایک واقعہ کو بنیاد بناکر پوری قوم پر تبراء کرنے والے کرکٹ شدت پسندوں کو چاہیے کہ وہ ذرا اپنی چارپائی کے نتیجے ڈانگ پھیرتے ہوئے ان سیاست دانوں اور ممبران اسمبلی کا بھی نوٹس لیں کہ جو پی ٹی ایم اور بلوچ علیحدگی پسندوں کو اپنے بچے قرار دیتے ہوئے نہیں تھکتے۔
لیڈز کے میدان میں پاکستان دشمنی میں جن اندھوں نے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کیے‘ وہ اتفاقی یا اچانک نہیں بلکہ منصوبہ بندی کے تحت تھا‘ ہر پاکستانی کی ذمہ داری ہے کہ وہ پی ٹی ایم اور بلوچ علیحدگی پسندوں کے خلاف پاک فوج کے ہاتھ مضبوط کرے ‘ تاکہ ’’را‘‘ کے ان گماشتوں کی سازشوں سے پاکستان کو بچایا جاسکے۔

 

تازہ ترین خبریں