07:50 am
رانا ثناء اللہ گرفتار، 15 کلو ہیروئن! 

رانا ثناء اللہ گرفتار، 15 کلو ہیروئن! 

07:50 am

٭قیامت! سابق سینئر وزیر، صوبائی پارٹی کا صدر 15 کلو ہیروئن کے ساتھ گرفتار!O ناقابل ضمانت جرم کی سزا موت یا عمر قیدOآصف زرداری ایک اور کیس میں گرفتار، بلاول بھی ملوثO نوازشریف بھی نئے کیس میں زیر تفتیشO راجہ پرویز اشرف کے خلاف باقاعدہ فرد جرمO شہباز شریف، 5 جولائی کو گرفتاری کا امکانO کرکٹ، بھارت کی کھلی سازش، پوری اننگز میں صرف ایک چھکا! بھارت کے سابق کھلاڑیوں کی مذمت Oٹیلی ویژن پر آصف زرداری کا انٹرویو روک دیا گیاOراولپنڈی میں وکیل کے ہاتھوں جج کی پٹائی کا ایک اور واقعہ O فیصل آباد میں پولیس کے اے ایس آئی کی دوسرے افراد کے ساتھ مل کر ایک زمیندار کے گھر پرڈکیتی، اے ایس آئی گرفتار،20 لاکھ روپے برآمدOنوازشریف کی رہائی کے لئے دو عرب سربراہوں پر دبائو ڈالا گیا۔ عمران خان O مانسہرہ کے جنگل میں لگی آگ تیسرے دن بھی نہ بجھائی جا سکی۔ عوام کا احتجاج۔
 
٭تازہ ترین خبر! رانا ثناء اللہ!؟ یقین نہیں آ رہا کہ یہ بھی ہو سکتا ہے! اپنے دور میں سینئر وزیر، ن لیگ پنجاب کاصدر، پیپلز پارٹی کا سابق سینئر جیالا، نہائت دولت مند، فیصل آباد میں بڑا پلازا، وسیع کاروبار اور ہیروئن کے کاروبار میں ملوث!! استغفار! مگر جہاں ملک کا ایک سابق صدر تین سابق وزرائے اعظم، ایک موجودہ صوبائی سپیکر، بہت سے موجودہ اور سابق وزراء، ملک کے وسائل کی لوٹ مار، ملکی سرمائے کی  بیرون ملک سمگلنگ اور ملکوں ملکوں درجنوں پلازے، فلیٹس، محلات اور فارم ہائوس بنانے کے سنگین قومی جرائم میں ملوث ہوں، وہاں ایک سابق سینئر وزیربھی سنگین مجرم نکل آئے تو اس پر حیرت کیسی؟ مگر ہیروئن کی سمگلنگ جو مبینہ طور پر ایک عرصے سے جاری تھی؟ بار بار خبر پڑھنے کے باوجود یقین نہیں آ رہا مگر یہ خبر بھی آ چکی ہے کہ رانا ثناء اللہ کو 14 روز کے ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے۔ اب فیصلہ کسی ایجنسی نے نہیں، عدالت نے کرنا ہے! رانا ثناء اللہ نے وکالت پاس کر رکھی ہے، کبھی کسی کیس میں پیش نہیں ہوا۔ دولت مند شخص ہے، ساری عمر سیاست میں گزر گئی۔ پہلے پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنمائوں میں شمار تھا۔ نوازشریف اور شہباز شریف کے خلاف آسمان سر پر اٹھایا ہواتھا۔ پھر نوازشریف کے زیر سایہ آ کر پیپلزپارٹی کی ایسی تیسی شروع کر دی۔ فیصل آباد میں ہی شریف خاندان کے قریبی رشتہ دار شیر علی اور بیٹے عابد شیر علی کے خلاف کھلی مہم چلائی۔ قتل کے ایک مقدمہ میں بھی نام آیا۔ ماڈل ٹائون لاہور میں عوامی تحریک کے 14 کارکنوں کے قتل کا محرک قرار دیا گیا۔ وزارت چھوڑنی پڑی، جو پھر مل گئی۔ دو دن پہلے ن لیگ کے 15 بھگوڑے ارکان اسمبلی وزیراعظم کے حضور پیش ہوئے تو انہیں خطرناک نتائج کی دھمکیاں دیں، اور خود کو موٹر وے پر روکا گیا تو انسداد منشیات کے عملہ نے بریگیڈیئر عہدہ کے افسر کی زیر قیادت رانا ثناء اللہ کی نہائت مہنگی گاڑی میں مبینہ طور پر 15 کلو ہیروئن دریافت کر لی، قیمت تقریباً 20 کروڑ روپے! انکشاف یہ کہ یہ ہیروئن لاہور سے باہر بھیجی جانی تھی اور یہ کہ رانا ثناء اللہ کے طویل عرصے سے منشیات کا کاروبار کرنے والوں سے رابطے تھے۔! قارئین محترم! اتنا کچھ ہو گیا مگر مجھے اب بھی یقین نہیں آ رہا کہ 15 کلو ہیروئن!!
٭لگتا ہے آج کالم ایسی ہی اذیت ناک خبروں سے بھرے گا۔ لوٹ مار کے کیسے کیسے طریقے! سعودی عرب سے نہائت مہنگی بلٹ پروف چار مرسڈیز گاڑیاں، سرکاری طور پر تحفے میں آئیں۔ ایک ایک گاڑی کروڑوں کی تھی۔ یہ گاڑیاں سرکاری مال خانے (توشہ خانہ) کا حصہ تھیں۔ اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے تین گاڑیاں آصف زرداری کو اور ایک نوازشریف کو دے دی! اب دوسرے کیسوں کے ساتھ اس لوٹ مار کی تحقیقات شروع ہو گئی ہیں۔ توشہ خانہ کی لوٹ مار کی داستان بہت پرانی ہے۔ ہر دور میں ہوتی رہی ہے۔ نوازشریف کو سعودی بادشاہ نے ہیرے جواہرات والی تقریباً 50 لاکھ روپے (اب ایک کروڑ)کی ایک گھڑی تحفہ میں دی۔ موصوف نے توشہ خانہ میں جمع کرانے کی بجائے ہاتھ پر باندھ لی، اس گھڑی کو بہت شہرت حاصل ہوئی۔ ملک میں ہولناک زلزلہ آیا۔ باہر سے بھاری امداد آئی۔ ترکی کے وزیراعظم (اب صدر) اردوان کی بیگم نے اپنا کروڑوں کی قیمت کا نہائت قیمتی جڑائو ہار امداد میں بھیج دیا۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو بہت پسند آیا۔ عہدہ سے فارغ ہو گئے تو ہار ملتان میں اپنے گھر لے گئے۔ اخبارات میں شور مچا تو واپس کرنا پڑا۔ آج تک یہ راز نہ کھل سکا کہ وزیراعظم بے نظیر بھٹو نے سوئس بینک میں جو نہائت قیمتی جڑائو ہار جمع کرایا تھا وہ کہاں سے آیا تھا اور غیر ملکی بنک میں کیوں جمع کرایا تھا؟ (اب بھی وہیں ہے) ایک اور واقعہ چھاپ چکا ہوں اس کی کبھی تردید نہیں ہوئی یہ کہ 1990ء کے عشرہ میںبے نظیر بھٹو وزیراعظم بنیں۔ اسی دوران آصف زرداری نے لندن کے قریب سرے محل خریدا۔ اس کی آرائش و زیبائش کے لئے سرکاری توشہ خانہ کے علاوہ ٹیکسلا کے عجائب گھر سے نہائت قیمتی نوادرات سے بھرے بکس لندن پہنچ گئے۔ سرے محل ہاتھ سے نکل گیا مگر کچھ پتہ نہیں یہ سارے نوادرات کہاں گئے؟؟ حیرت ہے آج تک کسی بھی حکومت کے دور میں توشہ خانے اور ملک بھر کے عجائب گھروںکے نوادرات کی تفصیل عوام کے سامنے نہیں آئی! ویسے تفصیل بھی کیا ہوگی، اب وہاں ہو گا کیا؟
٭رانا ثناء اللہ کی گرفتاری پر آصف زرداری کا بیان: ’’لگتا ہے بندر کے ہاتھ میں استرا آ گیا ہے۔ مجھ پر بھی منشیات کا الزام لگایا تھا، چھٹکارا ہونے میں پانچ سال لگ گئے مگر یہ کہ مجھ سے کچھ برآمد نہیں ہوا تھا، رانا ثناء اللہ سے 15 کلو ہیروئن کی برآمدگی دکھائی گئی ہے۔ یہ ایک بھونڈا الزام ہے جو بونگوں نے لگایا ہے!‘‘
٭ایک نجی ٹیلی ویژن پر ایک معروف اینکر پرسن کا آصف زرداری سے انٹرویو نشر ہوا۔ اسے فوراً روک دیا گیا۔ یہ ایک نرالی روائت تھی کہ سنگین الزامات میں ملوث ایک شخص کے خلاف محتلف عدالتوں میں کیس زیر سماعت ہوں، اسے عدالت کی بجائے ٹیلی ویژن پر اپنی صفائی کے لئے پیش کر دیا جائے۔ آج تک کبھی ایسا نہیں ہوا۔ دوسرے ملکوں کے گرفتار شدہ افراد کو تو اعتراف جرم کے لئے ٹیلی ویژنوں پر پیش کیا جاتا ہے مگر اپنے ہی ملک کے زیر حراست ملزم کو کھلے عام ٹیلی ویژن پر پیشی!! مقدموں کی سماعت ٹیلی ویژنوں نے ہی کرنی ہے تو عدالتوں کی کیا اہمیت رہ جاتی ہے ؟ عجیب روایات قائم ہو رہی ہیں۔
٭برطانیہ میں انڈیا کی ٹیم نے پاکستان کو ورلڈ کپ کی دوڑ سے باہر رکھنے کے لئے کھلے عام جو گھنائونا کھیل کھیلا، اس کی خود بھارتی سینئر کھلاڑی مذمت کر رہے ہیں۔ انگلینڈ ہار جاتا تو پاکستان کے لئے سیمی فائنل کا امکان بہتر ہو جاتا مگر پاکستان کو نقصان پہنچانے کے لئے بھارتی ٹیم نے کھلے عام ہارنے کا مظاہرہ کیا۔ یہ باتیں تفصیل کے ساتھ سامنے آ رہی ہیں۔ صرف ایک واضح بات کہ بھارتی ٹیم کے سکور 306 میں صرف ایک چھکا شامل تھا! کیا یہ ممکن ہو سکتا ہے؟ مگر اصل مسئلہ تو یہ ہے کہ ہم بھارت سے رحم کی اپیل کیوں کرتے رہے؟ ٹیم کی اپنی حالت کیا ہے؟ اپنے سارے میچ ہرانے والی افغانستان کی آخری نمبر والی کمزور ترین ٹیم نے پاکستان کی ٹیم کو ناکوں چنے چبوا دیئے۔ پاکستان کی ٹیم کو دو بائولروں عماد وسیم اور وہاب نے بچا دیا ورنہ یہ عملی طور پر ہار چکی تھی۔ کیا شرم ناک بات ہے کہ بھارتی ٹیم کی کامیابی کے لئے دُعائیں مانگی گئیں؟
٭لاطینی امریکہ کے ملک کولمبیا میں گدھوں کا سالانہ مقابلہ حسن منعقد ہوا۔ بے شمار کسان اپنے گدھوں کو بنا سنوار کر لائے۔ اس موقع پر بادشاہ گدھا اور ملکہ گدھی کا بھی انتخاب ہوا۔ دونوں کو تاج پہنائے گئے۔ یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ان دونوں نے کیا محسوس کیا؟یہ میلہ ہر سال سرکاری طور پر منعقد ہوتا ہے۔
 

تازہ ترین خبریں