07:58 am
پانچ ہزار کا نوٹ

پانچ ہزار کا نوٹ

07:58 am

آج کل یہ افواہ گردش میں ہے کہ حکومت کی اقتصادی ٹیم بڑی سنجیدگی سے پانچ ہزار روپے کے نوٹ کو ختم کرنے کے بارے غورکر رہی ہے۔ کہا یہ جارہا ہے کہ بڑی مالیت کا نوٹ ناجائز دولت کو چھپانے میں مدد کرتا ہے۔ اگر یہ نوٹ نہیں رہے گا تو لوگ مجبور ہو کر تمام بڑی بڑی ادائیگیاں بنکوں کے ذریعے کریں گے۔ اسی طرح جو لوگ اپنی ناجائز دولت گھروں میں رکھتے ہیں وہ بڑے نوٹوں کی غیر دستیابی کے باعث زیادہ بھاری رقوم محفوظ نہیں کر سکیں گے۔ اس کے علاوہ جرائم پیشہ طبقے کو بھی بڑے نوٹوں کے نہ ہونے سے دشواریوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ گویا ان تمام باتوں کا بنیادی نقطہ یہ ہے کہ پانچ ہزار روپے کے نوٹ ختم کر دینے سے لوگ باگ بینکوں میں رقوم رکھوانا شروع کر دیں گے اور اس طرح حکومت کو ان تک پہنچنے میں اور ان سے دولت کے بارے میں استفسار کرنے میں آسانی ہوگی۔
 
یہ تو ہے تصویر کا ایک رخ‘ جو بظاہر بڑا موثر نظر آتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ پانچ ہزار روپے کا نوٹ ختم کرنے سے ہماری معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا۔ یہ بڑا نوٹ ختم بھی ہو جائے لوگ اپنی رقوم اور خاص کر ناجائز ذرائع سے حاصل کی گئی رقوم بینکوں میں ہرگز نہیں رکھیں گے۔ ناجائز دولت کمانے والے لوگ احمق نہیں ہوتے نہ وہ اتنی آسانی سے ان پھندوں میں پھنسنے والے  ہوتے ہیں ان کے پاس ہمیشہ متبادل طریقہ کار موجود ہوتا ہے۔
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی  نے بھی اپنے پہلے دور حکومت میں یہی کام کیا تھا۔ سارا ہندوستان ایک بھونچال کی زد میں آگیا تھا۔ جرائم پیشہ لوگوں نے تو اپنے سیاسی اثرورسوخ سے اپنے تمام بڑے نوٹ آرام سے تبدیل کروالئے تھے مگر عام آدمی کو جن مشکلات سے گزرنا پڑا تھا اور چھوٹے تاجران کو جس عذاب کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ اس سے ملک بھر میں حکومت کے خلاف نفرت پھیل گئی تھی۔ حکومت نے اپنے کارندوں کے ذریعے بڑے نوٹ ختم کرنے کے فوائد کی بے تحاشہ تشہیر کی۔ ٹی وی پروگرام ہوئے اخبارات میں کالم لکھے گئے بڑے بڑے اشتہار دئیے گئے مگر عوامی تکالیف کا ازالہ نہ  ہوا۔ اور جب یہ کام مکمل ہوگیا اور اس کے ایک سال بعد  تجزیہ کیا گیا تو اس اتنی لمبی تکلیف دہ اور مہنگی مہم کا کوئی اقتصادی فائدہ نظر نہیں آیا۔ بھارت کی معیشت آج بھی کالے دھن پر چل رہی ہے۔ آج بھی وہاں کے کرپٹ سیاستدانوں اور گارڈ فاردر کے گودام کرنسی نوٹوں سے بھرے ہوئے ہیں۔
کوئی  ایسی وجہ نظر نہیں آتی کہ پاکستان میں پانچ ہزار روپے کا نوٹ ختم کرنے کے نتائج بھارت کی مہم سے مختلف نکلیں گے‘ بلکہ مجھ ناچیز کی رائے میں تو پاکستان  میں اس فیصلے کے بہت ہی منفی نتائج نکلیں گے۔
آج کا کاروباری شخصیت اپنی دولت کو اگر اپنے گھر میں رکھتا ہے مگر پاکستانی کرنسی میں رکھتا ہے تو ملک کو کوئی خاص نقصان نہیں ہوتا۔ اگر آپ اسے اپنے پیسے بنکوں میں جمع کرنے پر مجبور کریں گے تاکہ آپ اس پر نظر رکھیں سکیں تو وہ مجبوراً متبادل طریقہ تلاش کرے گا۔ سادہ سا طریقہ یہ ہے کہ وہ ان تمام بڑے پاکستانی نوٹوں کو ڈالر میں تبدیل کروالے گا۔ سو ڈالر کے نوٹ کی  اگر آج سولہ ہزار قیمت ہے اورجس طرح کے حالات چل رہے ہیں تو جلد ہی سو ڈالر  بیس ہزار روپے کا ہو جائے گا۔ گویا نوٹوں کی ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کو پانچ پانچ ہزار روپے کے 4نوٹوں کی بجائے سو ڈالر کا صرف ایک نوٹ کہیں چھپانا ہوگا۔ ہمارا تاجر اور راشی افسر پھر بھی بینک نہیں جائے گا۔
اب ذرا یہ سوچیں کہ اگر لوگوں نے حکومتی پالیسی سے گھبرا کر پاکستانی روپے کی بجائے ڈالروں کی ذخیرہ اندوزی شروع کر دی تو کیا ہوگا۔ ڈالر کی ڈیمانڈ بڑھے گی اور اس کے ساتھ ہی  اسکی قیمت بھی مزید  بڑھے گی اور یہ ڈالر جو گھروں کے تہہ خانوں میں بند ہوں گے ملک کے کسی کام نہیں آئیں گے۔ روپے کی قیمت گرتی چلی جائے گی جس سے ڈالر کی ڈیمانڈ مزید بڑھے گی اور ملک میں مہنگائی کا طوفان گہرا ہوتا جائے گا۔
حکومت کی یہ پالیسی کہ تاجروں کو ڈرا دھمکا کر بینکوں کی طرف ہانکا جائے،سراسر منفی  پالیسی ہے۔ ہمارے اقتصادی ماہرین کو ڈنڈے کی بجائے گاجر کا استعمال کرنا چاہیے۔ لوگوں کو بینک میں پیسے رکھنے کے لئے انہیں مثبت ترغیب دینی چاہیے۔انہیں  ایف بی آر کا سامنے قربانی کا بکرا بنانے کی بجائے ان کی عزت کرنی چاہیے۔ اس موضوع پر میرے ذہن میں بہت کچھ ہے مگر فی الحال صرف اتنا عرض کرنا چاہتا ہوں کہ پانچ ہزار روپے کا نوٹ ختم کرنے کے نتائج ہماری معیشت کے لئے بے حد خطرناک ہوں گے۔ پوری تحقیق کئے بغیر یہ انقلابی قدم اٹھانے سے گریز کیا جائے۔

 

تازہ ترین خبریں