08:00 am
یقین قلبی اورا نفاق

یقین قلبی اورا نفاق

08:00 am

(گزشتہ سے پیوستہ)
 اللہ کی راہ میں مال خرچ کرتے ہوئے تمہیں کسی قسم کے فقر و فاقہ کا اندیشہ دل میں نہیں لانا چاہیے، کیونکہ جس اللہ کی خاطر تم خرچ کرو گے۔ وہ زمین وآسمان کے سارے خزانوں کا مالک ہے۔ اس کے پاس بس اتنا ہی کچھ نہ تھا جو اس نے تمہیں دے رکھا ہے، بلکہ وہ کل تمہیں اس سے بہت زیادہ دے سکتا ہے۔ انفاق جان و مال کے حوالے سے وہ حدیث ذہن میں لائے جس میں آپؐ نے فرمایا: ’’قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے حضور ابن آدم کے قدم اُس وقت تک اپنی جگہ سے ہل نہیں سکیں گے جب تک اس سے پانچ چیزوں کے بارے میںپوچھ گچھ نہ کر لی جائے : ’’(1) اس کی عمر کے بارے میں کہ کہاں گنوائی؟ (2) اس کی جوانی کے بارے میں کہ کہاں لٹائی؟ (3) اس کے مال کے بارے میں کہ کہاں سے کمایا؟ (4)اور کہاں خرچ کیا؟(5) اور جو علم حاصل کیا اس پر کتنا کچھ عمل کیا؟‘‘
 
 دیکھئے عمر کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے اور اس کے بارے میں دو سوال ہیں: ’’جو عمر ہم نے تمہیں دی تھی وہ کہاں گنوائی؟ اور خاص طور پر جوانی کہاں لگائی؟‘‘ معلوم ہوا کہ یہ ساری چیزیں وہ ہیں جو اللہ نے ہمیں دی ہیں اور اُس کا تقاضا یہ ہے کہ ہم ان سب چیزوں میں سے اس کی راہ میں انفاق کریں۔ 
آگے فرمایا : ’’تم میںسے جن لوگوں نے فتح سے پہلے خرچ کیا اور جہاد کیا (اور جنہوں نے فتح کے بعد خرچ کیا اور جہاد کیا) وہ برابر نہیں ہیں۔‘‘
 آیت کریمہ کا یہ حصہ بہت اہم ہے۔ ہر عمل کی ایک ظاہری شکل اور کمیت ہوتی ہے اور ایک اس کی باطنی کیفیت ہوتی ہے کہ کن حالات میں وہ عمل کیا گیا ہے۔ ان دونوں اعتبارات سے عمل کے اجر و ثواب میں اور اللہ کے ہاں درجے کے تعین میں زمین و آسمان کا فرق واقع ہو جاتا ہے۔ دیکھئے ایک انفاق اور قتال فتح سے پہلے ہوا ہے۔ اور یہاں اس سے ثابت ہو جاتا ہے کہ یہ سورئہ مبارکہ کم سے کم صلح حدیبیہ کے بعد نازل ہوئی ہے۔
صلح حدیبیہ سے پہلے اور بعد میں انفاق اور قتال کے اجر و ثواب میں تفاوت کا ذکر اس لئے کیا گیا کہ صلح حدیبیہ سے پہلے خاص طور پر مکی دور میں ایمان لانا ، انفاق کرنا بہت ہی زیادہ باعث خطر تھا، بلکہ یہ جوئے شیر لانے کے مترادف تھا۔ یہ ہر طرح کے مصائب اور خطرات کو دعوت دینے والی بات تھی۔ لہٰذا جو لوگ اس وقت ایمان لائے اور جہاد و قتال کے معرکوں میں شرکت کی اُن کا درجۂ ایمان بہت بلند ہے۔ اس کے برعکس جن لوگوں نے صلح حدیبیہ کے بعد انفاق اور قتال کیاجبکہ  اسلام اپنی اجنبیت کے دور سینکل کر قوت اور طاقت حاصل کر چکا تھا، اُن کا درجہ پہلے والوں سے کم ہو گا۔ دونوں برابر نہیں ہو سکتے۔ صلح حدیبیہ سے پہلے انفاق و قتال کرنے والوںکا درجہ بعد میں خرچ کرنے اور قتال کرنے والوں سے بہت بڑھ کر ہے۔ یہی بات اس سے پہلے ہم سورۃ الرحمن میں پڑھ چکے ہیں، جس کی تشریح پھر سورۃ الواقعہ میںسابقون الاولون اور اصحب الیمین کے حوالے سے  آئی ہے ۔ سابقون الاولون کا بہت ہی اونچا درجہ ہے، اس کے بعد درجہ اصحاب الیمین کاہے۔ لیکن اس فرق کے باوجود یہ بات واضح فرما دی کہ ’’اور اللہ نے سب سے(ثواب) نیک (کا) وعدہ تو کیا ہے۔‘‘یعنی اللہ تعالیٰ کا سب کے لئے اچھا وعدہ ہے۔ اللہ سب کو اجر وثواب سے نوازے گا۔ 
’’اور جو کام تم کرتے ہو اللہ ان سے واقف ہے۔‘‘ 
یعنی اللہ تعالیٰ اس بات سے خوب آگاہ ہے کہ کس نے کون سا عمل کس حالت میں کیا ہے۔ اس نے اس کام کی انجام دہی کے لئے اپنی کتنی اندرونی رکاوٹوں کے اوپر غلبہ حاصل کیا ہے اور اُسے اس کے لئے کتنی جدوجہد کرنا پڑی ہے۔ خارجی حالات اور داخلی حالات دونوں کے اعتبارات سے کسی بھی عمل کی قدر و قیمت کایقین ہو گا۔ لہٰذایہ یقین رکھو کہ جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اس سے آگاہ  ہے ۔ تمہارے عمل کا ہر ہر پہلو اس کی نگاہ میں ہے۔ آگے فرمایا:’’کون ہے جو اللہ کو(نیت) نیک(اور خلوص سے) قرض دے تو وہ اس کو اس سے دگنا ادا کرے اور اس کے لئے عزت کاصلہ(یعنی جنت) ہے۔‘‘
اللہ تعالیٰ کی ذات کتنی کریم ہے کہ اگر آدمی اس کے بخشے ہوئے مال کو اس کی راہ میں خرچ کرے تو وہ اس کو اپنے ذمہ قرض قرار دیتا ہے بشرطیکہ وہ قرض حسن ہو یعنی اللہ کی رضا کے لئے، اللہ کی راہ میں، اللہ کے دین کے غلبہ کے لئے دیا جائے۔ اگرچہ انسانی ہمدردی کے کاموں میں مال خرچ کرنا بھی اللہ کو بہت پسند ہے، اس کا بڑا اجر و ثواب ہے۔ لیکن اِس ضمن میں دین کے غلبہ کے لئے مال خرچ کرنے کی خصوصی اہمیت ہے۔ اور جو شخص اللہ کو قرض حسن دے، اللہ اُسے کئی گنا بڑھا کر واپس کرے گا۔ ایسے شخص کے لئے بہت با عزت اجر ہو گا۔حدیث میں حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کی روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی اور حضورﷺ کی زبان مبارک سے لوگوں نے اس کو سنا تو حضرت ابوالد حداح انصاری نے عرض کیا یا رسول اللہ، کیا اللہ تعالیٰ ہم سے قرض چاہتا ہے؟ حضورﷺ نے جواب دیا، ہاں اے  ابوالدحداح۔ انہوں نے کہا، ذرا اپنا ہاتھ مجھے دکھائیے۔ آپؐ نے اپنا ہاتھ ان کی طرف بڑھا دیا۔ انہوں نے آپؐ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر کہا:’’میں نے اپنے رب کو  اپنا باغ قرض دے دیا۔‘‘ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ    فرماتے ہیں کہ اُس باغ میں کھجور کے چھ سو درخت تھے، اُسی میں ان کا گھر تھا، وہیں ان کے بال بچے رہتے تھے۔   رسول اللہ ﷺ سے یہ بات کر کے وہ سیدھے گھر پہنچے اور بیوی کو پکار کر کہا:’’دَحْداح کی ماں نکل آئو، میں نے یہ باغ اپنے رب کو قرض دے دیا ہے۔‘‘ وہ بولیں ’’تم نے نفع کا سودا کیا وحداح کے باپ:’’اور اسی وقت اپنا سامان اور اپنے بچے لے کر باغ سے نکل گئیں۔‘‘ (ابن ابی حاتم)اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی راہ میں جان و مال کے انفاق کی توفیق عطا فرمائے، (آمین)



 

تازہ ترین خبریں