08:00 am
مالیاتی بد نظمی سے متعلق آرمی چیف کی گفتگو

مالیاتی بد نظمی سے متعلق آرمی چیف کی گفتگو

08:00 am

آرمی چیف جنر ل جاوید باجوہ  نے گزشتہ دنوں نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں مالیاتی بد حالی کا بحران ان ماضی کی حکومتوں کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہے ۔ اگر ماضی میں مالیاتی بد نظمی کو ٹھیک کرنے کے لیے سنجیدگی سے غور کیا جاتا تو صورتحالی ایسی نہ ہوتی جوکہ آج ہے۔ آ ج پاکستان کو اقتصادی شعبے میں ایک بڑے چیلنج کا سامنا ہے جس کو ہم سب کو مل کر ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے ۔ اقتصادی خرابی کے اثرات ملک کی سیکورٹی پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ اگر اقتصادیات مستحکم ہے  تو اس کے اثرات ملک کے تمام شعبوں پر اچھے مرتب ہوتے ہیں ۔ جنرل صاحب کی اس گفتگو سے کون انکار کر سکتا ہے کیونکہ ماضی کی حکومتوں نے اگر مالیاتی شعبے کی اچھی طرح منصوبہ بندی کی ہوتی تو یقینا حالات اتنے دگر گوں نہ ہوتے جو آج ہیں ۔ اقتصادی شعبے کو بہتری کے لیے موجودہ حکومت نے جس قسم کے اقدامات اٹھا رہی ہے ۔ عسکری قیادت اس کے ساتھ کھڑی ہے ۔
 
 پاکستان میں کئی دہائیوں کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ سیاسی  اور عسکری قیادت مل کر ملک کو موجودہ تکلیف دہ صورتحال سے نکالنے کی کوشش کررہے ہیں۔ عوام کو بھی موجودہ حالات کو بدلنے کے لیے حکومت کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے ‘ تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ ناقابل تردید ہے کہ اقتصادی اور سماجی حالات کو بہتر بنانے کے سلسلے میں حکومت کی جانب سے جو پالیسیاں وضع کی جارہی ہیںان کی  وجہ سے عوام کو مہنگائی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جبکہ مارک اپ بڑھنے کی وجہ سے تاجروں اور صنعت کاروں کے لیے سرمایہ کاری مشکل ہوتی جارہی ہے جو کہ اچھا شگون نہیں ہے لیکن اب وقت آگیا ہے کہ اس ’’ خوش حال طبقے‘‘ کو ملک کے حالات سنوارنے اور سدھارنے کے لیے قربانی دینی چاہیے انہیں چاہیے کہ وہ ملک میں سرمایہ کاری کا پراعتماد طریقے سے آغاز کریں تاکہ ملک میں بے روزگاری کے عفریت کو بوتل میں بند کیا جاسکے ۔ داراصل پچھلے پچاس سالوں کے دوران کسی بھی حکومت نے صنعتی پالیسی نہیں بنائی اور اگر بنائی بھی تو اس پر عمل نہیں کیا گیا ۔ نئے کارخانے نہ لگنے کی وجہ سے بے روزگاری میں بتدریج اضافہ ہو ا ہے کیونکہ صنعتی شعبہ روز گار فراہم کرنے کاایک بہت بڑا ذریعہ ہوتا ہے جبکہ زرعی شعبے نے بہت حد تک بے روز گاری میں کمی لانے میں مدد کی ہے۔ اس وقت بھی اس شعبے میں کام کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد اس سے وابستہ ہے جس میں چھوٹے بڑے کسان اور کھیت کے مزدور بھی شامل ہیںنیز پاکستان کی معیشت میں زرعی شعبے کو کلیدی حیثیت حاصل ہے ۔
پاکستان کو موجود ہ تشویش ناک حالات سے دوچار کرنے والے چند بڑے سیاست دان ہیں جو اس وقت جیل میں اپنے کرتوتوں کی سزا بھگت رہے ہیں ۔ اگر یہ سیاست دان اچھی طرز حکومت کرنے کا مظاہرہ کرتے تو ملک کے حالات آج سے بالکل مختلف ہوتے ۔ ان ہی عناصر نے منی لانڈرنگ کر کے ملک کی معیشت اور معاشرت کو غیر معمولی نقصان پہنچایا ہے۔ منی لانڈرنگ کرنے کی وجہ سے پاکستان آج گرے لسٹ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جبکہ ملک بد نام بھی ہو رہا ہے۔ عمران خان نے بجٹ تقریر میں پھر کہا ہے کہ منی لانڈرنگ کرنے والوں کا احتساب کرنا ملک کے مفاد میں ہے ان سے ناجائز طریقے سے باہر بھیجا ہوا پیسہ لانا بہت ضروری ہے ۔ اس وقت ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستانیوں  کے 22 ارب ڈالر باہر بینکوں میں رکھے ہوئے ہیں ۔ اگر اتنی بڑی رقم واپس پاکستان آجاتی ہے تو ملک کے تمام بیرونی اور اندرونی قرضے اتر سکتے ہیں۔ سابق بھگوڑے  وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اپنی حکومت کے دوران اسمبلی کے فلور پر یہ بیان دیا تھا کہ پاکستانیوں کے 22 ارب ڈالر بیرونی ممالک میں رکھے ہوئے ہیں۔ میں اس دولت کو پاکستان لائوں گا لیکن یہ بیان بعد میں ہوا میں تحلیل ہو گیا ۔ اب موجودہ حکومت معاشی سدھار کے لیے بیرونی ممالک میں منی لانڈرنگ کے ذریعہ بھیجی ہوئی دولت کو واپس لانا چاہتی ہے جس میں انہیں کچھ ممالک کی حمایت حاصل کرنا ضروری ہو گا ۔ ہو سکتا ہے کہ ان ممالک کے ساتھ کسی قسم کا قانونی سمجھوتا بھی کرنا پڑے گا تاکہ یہ ناجائز دولت پاکستان آسکے۔
دراصل پاکستان کے عوام جذباتی اور سیدھے سادھے لوگ ہیں ان کو معلومات کے ذریعے ٹی وی، ریڈیو اور اخبارات کے ذریعے سے ملتی ہیں ۔ ٹی وی ٹاک شوز کے ذریعے بعض ا ینکرز عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ وہ از خود  سیاسی پارٹیوں کے’’ ترجمان ‘‘  بنا کر موجودہ حکومت کی کارکردگی بے ثمر بنانے کی کوشش کررہے ہیں جس کی وجہ سے سماجی نقصان کے علاوہ عداوتوں کو فروغ حاصل ہورہا ہے اور معاشرہ اپنی سمت کھو بیٹھا ہے ۔ یہ موجودہ حالات کا بہت تاریک پہلو ہے جس کو باسمت بنانے میں ایک عرصہ درکارہے ۔
بحرحال پاکستان کے لیے یہ خوشی کی علامت ہے کہ عسکری قیادت موجودہ حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کر رہی ہے تاکہ اقتصادی حالات میں ماضی کی حکومتوں نے جو بگاڑ پیدا کیا ہے اس کو جلد از جلد ٹھیک کر لیا جائے کیونکہ جیسا کہ میں نے بالائی سطور میں لکھا ہے کہ اقتصادی بدحالی کے اثرات پاکستان کی سیکورٹی اور خارجی تعلقات پر بھی مرتب ہوتے ہیں‘ نیز پاکستان کا ازلی دشمن بھارت اور اس کے ایجنٹ اندرونی حالات کو افواہوں اور غلط خبروں کے ذریعے مزید خراب کرنے پر تلے ہوئے ہیں ۔ موجود ہ حالات میں سیاسی اور عسکری قیادت کے مابین خوشگوار تعلقات ایک حقیقی بہتری کی صورت میں سامنے آرہے ہیں جو ملک کی آئندہ ترقی ، خوشحالی اور استحکام میں معاون اور  مدد گار ثابت ہونگے ۔ ماضی میں انہی حکومتوں نے بالخصوص نواز شریف کی حکومت نے عسکری قیادت سے دوری اختیار کر کے ملک کے استحکام کو بہت نقصان پہنچایا تھا۔ اسی سابق وزیر اعظم نے اپنے ایک بیان میں کہاتھا کہ ’’ ممبئی حملوں میں غیر ریاستی عناصر کی مدد پاکستان کے خفیہ اداروں نے کی تھی‘‘  اس بیان کے بعد بھارت کو پاکستان کو بدنام کرنے کا ایک نادر موقع ہاتھ آگیا تھا جبکہ سفارتی سطح پر بھارت نے پاکستان کو یہ کہہ کر بدنام کر نا شروع کر دیا تھا کہ پاکستان دہشت گردوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے جسکی وجہ سے خطے میں امن قائم نہیں ہو پا رہا ہے حالانکہ ممبئی حملوں میں ’’را‘‘  اور ’’ سی آئی اے‘‘ ملوث تھے جس کے ثبوت اب خود بھارتی اخبارات پیش کررہے ہیں ۔ دنیا بھر کے ممالک جہاں جمہوریت رائج ہے ، فروغ پارہی ہے یا فروغ پا چکی ہے وہاں سیاسی اور عسکری قیادت باہم مل کر ہی ملک کے معاملات چلاتے ہیں اسکی بہترین مثال امریکہ، برطانیہ اور چین ہیں۔ اس لیے پاکستان میں اگر سیاسی قیادت اور فوجی قیادت باہم مل کرملک کے حالات کو ٹھیک کرنے کو کوشش کررہے ہیں تو پاکستان اور اس کے عوام کی اس بڑھ کر خوش قسمتی اور کیا ہو سکتی ہے۔ ذرا سوچیے!

 

تازہ ترین خبریں