08:01 am
مذاکرات سے راہ فرار

مذاکرات سے راہ فرار

08:01 am

بھارت نریندر مودی کے دوسرے دور حکومت میں ابھی تک پاکستان یاحریت کانفرنس  کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ نہیں  کر سکا ہے۔ بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے مقبوضہ کشمیر کے دورے کے بعدپارلیمنٹ میں جو بیان دیا اس میں کہا گیا نئی دہلی مقبوضہ ریاست میں آئندہ چھ ماہ میں اسمبلی انتخابات کرائے گی۔تب تک صدر راج کو توسیع دی جائے گی۔
 
امیت شاہ وزارت داخلہ کا قلمدان سنبھالنے کے بعد مقبوضہ ریاست کے اپنے پہلے دورے پر سری نگر پہنچنے۔ وادی کشمیر میں اپنے دو روزہ قیام کے دوران وہ ریاست کے سیاسی پیش منظر اور حفاظتی صورت حال کا جائزہ لیا اور اس مقصد کے لیے گورنر ستیہ پال ملک، حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی سمیت بھارت کے قومی دھارے میں شامل سیاسی جماعتوں کے اہم قائدین، فوج، پولیس اور دوسری قابض فورسز اور خفیہ ایجنسیوں کے اعلیٰ عہدے داروں سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ کشمیر کی پہاڑیوں میں واقع ہندوؤں کی اہم عبادت گاہ امر ناتھ گھپا پر حاضری دی۔ریاست کے سیاسی حلقوں میں امیت شاہ کے اس دورے کو بڑی اہمیت دی جارہی تھی کیونکہ وہ ریاست کو درپیش مختلف معاملات بالخصوص وادی کشمیر میں جاری تحریک مزاحمت اور اس کا توڑ کرنے کے لیے حکومت اور حفاظتی دستوں کی طرف سے جاری کوششوں کے سلسلے میں ایک سخت موقف رکھتے ہیں۔ نیز یہ دورہ سرکردہ مذہبی اور سیاسی رہنما  حریت کانفرنس ایک دھڑے کے سربراہ میر واعظ عمر فاروق کی طرف سے دیئے گئے اس بیان کے چند دن بعد کیاگیا کہ ان کی قیادت والی حریت کانفرنس کشمیر میں بحالی امن کے لیے نئی دہلی کے ساتھ مذاکرات کرنے پر تیار ہے۔میر واعظ عمر کے اس بیان کا گورنر ستیہ پال ملک نے خیر مقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ جن لوگوں نے کچھ عرصہ پہلے بھارت میں حکمران اتحاد نیشنل ڈیموکریٹک الائنس میں شامل ایک اہم سیاسی لیڈر اور وفاقی وزیر رام ولاس پاسوان کے لیے اپنے دروازے بند کئے تھے، وہی اب حکومت کے ساتھ بات چیت پر آمادہ ہو گئے ہیں۔ انہوں نے اسے ایک خوش آئند تبدیلی قرار دیا تھا۔اگرچہ بھارت کی مرکزی حکومت نے اس سلسلے میں کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا۔ حکمران بی جے پی کے قومی نائب صدر اور امور کشمیر کے نگران اویناش رائے کھنہ نے، جو سری نگر کے دورے پر تھے، کہا  کہ اُن کی پارٹی سابق وزیرِ اعظم اٹل بہاری واجپائی کی حریت کانفرنس کے ساتھ بات چیت کرنے کی ’’میراث‘‘ کو آگے لے جانے کے لیے تیار ہے اور ملک کے آئین کے ساتھ کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہو گا۔ لہٰذا، حریت کانفرنس کے ساتھ مذاکرات بھارت کے آئین کے دائرے ہی میں ہو ں گے۔امن مذاکرات کی اہمیت اور اس سلسلے میں حریت کانفرنس کی طرف سے اختیار کیے گئے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے میر واعظ عمر کا کہنا ہے کہ ہمارا روز اول ہی سے یہ موقف ہے کہ کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے جسے گفت و شنید سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے تمام فریقوں کو امن کی بحالی کے عمل میں شامل کرنا ناگزیر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی انتخابات میں ایک بڑے مینڈیٹ کے ساتھ دوبارہ اقتدار میں آ گئے توانھوں نے کہا تھا انہیں اپنے پاکستانی ہم منصب عمران خان کے ساتھ مل کر بات چیت کا عمل شروع کرنا چاہیئے۔ وہ  جو کہہ رہے ہیں وہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ہمار اصولی موقف ہے کہ اس مسئلے کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔میرواعظ نے کہا کہ  اگر بھارتی حکومت مذاکرات شروع کرنے کے لیے کوئی پہل کرتی ہے تو ہم اس کا مثبت جواب دیں گے۔ اب دیکھنا یہ تھا کہ آیا حکومت ہند کوئی قدم اٹھانے کے لیے تیار ہے یا نہیں۔ کیا وہ پاکستان اور کشمیریوں کے ساتھ مذاکراتی عمل میں شریک ہونے کے لیے تیار ہے جیسا کہ واجپائی کی حکومت کے دوران ہوا تھا۔ کیا اُس عمل کو آگے لے جایا جائے گا۔ حکومت نے اس بارے میںحریت کو  کوئی اطلاع نہ دی اور نہ کسی نے حریت سے رابطہ قائم کیا ہے۔بجائے اس کے بھارت نے سخت پیغامات دینے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ ٹیرر فنڈنگ اور حوالہ رقومات کے معاملے کو تیز کیا گیا ہے۔ لا تعداد حریت پسند اور کشمیری تاجر ان الزامات کے تحت حراست میں لئے گئے ہیں۔ کشمیریوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔  بھارتی خصوصی تحقیقاتی ادارے  این آئی اے نے حریت( گ) کے چیئرمین  سید علی شاہ گیلانی کے پوتے کو پوچھ تاچھ کیلئے 9جولائی کو نئی دہلی طلب کیا ہے ۔میڈیا خدشہ ظاہر کر رہا ہے کہ ٹیرر فنڈنگ معاملے میں مزیدکئی کشمیریوں، تاجروں کو نئی دہلی خصوصی تحقیقاتی ادارہ پوچھ تاچھ کیلئے طلب کرسکتاہے۔وزیر داخلہ کے پہلے دورہ کشمیر کے یہی نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔ جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت کشمیریوں کو مغلوب رکھنے کے لئے سرگرم ہے۔ یہ صورتحال وادی کشمیر کی ہے مگر جموں میں بی جے پی اور اس کے اتحادی منفرد کھیل میں مصروف ہیں۔ 
بھارتی حکمرانوں کے  اس بیان پر کہ مذاکرات صرف بھارتی آئین کے تحت ہی ہو سکتے ہیں، ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے کشمیری کہتے ہیں کہ ان کا  موقف بالکل واضح ہے۔ ماضی میں بھی جب حریت کانفرنس نے نئی دہلی اور اسلام آباد کے ساتھ بات چیت کی تو وہ غیر مشروط تھی۔ جب وزیرِ اعظم واجپائی کے ساتھ ملاقات کی گئی  تویہ  بات چیت انسانیت کے دائرے میں اور بلا شرط تھی۔ وہ بات چیت ہندوستان تک ہی محدود نہیں تھی، بلکہ حریت میر واعظ پاکستان بھی آئے اوراسلام آبادکی قیادت کے ساتھ بھی غیر مشروط بات چیت کی۔ اسی تناطر میں اگر بات ہوتی ہے کشمیری  اس کے لیے تیار ہیں۔جموں خطے والے کچھ اور ہی سوچ رہے ہیں۔وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) کے جموں میں منعقدہ چار روزہ اجلاس کے آخری دن آئین ہند کے دفعہ 370 اور دفعہ 35 اے کو ہٹانے اور مقبوضہ جموں کشمیر میں اسمبلی حلقوں کی ازسرنو حدبندی کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔وشو ہندو پریشد جموں وکشمیر کے صدر راجیش گپتا نے کہا کہ سال 2008 کے اسمبلی انتخابات کے اعداد وشمار کے مطابق جموں خطے میں ایک اسمبلی حلقہ 85 ہزار ووٹروں پر مشتمل ہے جبکہ وادی  کشمیر خطے میں ایک اسمبلی حلقہ 70 ہزار ووٹوں پر ہی مشتمل ہے۔ اگر اسی حساب سے جموں میں اسمبلی حلقے بنائے جائیں تو جموںمیں مزید سات اسمبلی حلقے بن سکتے ہیں۔جس کا مقصد یہ ہو سکتا ہے کہ جموں کو مزید مراعات دینے کی راہ نکالی جائے۔وادی کشمیر کو گزشتہ 30برسوں سے نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ وادی کے عوام سے امتیازی سلوک روا رکھا گیا ہے۔ جموں کے اس  اجلاس میں مذہبی امور پر بحث کے دوران لیہہ کی طرف کیلاش مانسروور کی یاترا کا راستہ کھولنے، وادی نیلم میں شاردا پیٹھ یاترا کے لئے آزاد کشمیر(کیرن سیکٹر) میں ویزا فری راہداری کھولنے، امرناتھ یاترا کو آسان بنانے اور اس کے لئے کیبل کار ٹرانسپورٹ کا انتظام کرنے کے لئے بھی قرار دادیں پاس کی گئیں۔ 1990میں مقبوضہ کشمیر سے بھارت چلے گئے کشمیری پنڈت لوگوں کو گھر واپس بھیجنا اور وہاں ان کو  دوبارہ بسانا اورجو مندر تباہ ہوئے، ا ن کی آباد کاری کا بھی مطالبہ کیا گیا، وشو ہندو پریشد کی 55 سالہ تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ پریشد کی اعلیٰ قیادت جموں میں جمع ہوئی ۔جہاں جموں کو الگ ریاست کا درجہ دینے پر بھی غور کیا گیا۔ یہ سب نریندر مودی کا کشمیر ایجنڈے کی ایک جھلک ہے۔ بھارت نے پاکستان اور مسئلہ کشمیر پر بات چیت سے مسلسل انکار اور فرار کی راہ اختیار کی ہے۔ حریت کانفرنس کے ساتھ بھی از سر نو دھوکہ کرنے کی پالیسی تشکیل دینے کے آثار ظاہر ہو رہے ہیں۔ توقع ہے کہ پاکستان اور کشمیری بھارت سے مزید دھوکہ کھانے سے بچتے ہوئے مسئلہ کشمیر کے حل کی راہیں تلاش کرنے پر توجہ دیں گے۔ 


 

تازہ ترین خبریں