08:02 am
مولانا عبد الجبار: اسلام اور پاکستان کے مخلص وکیل

مولانا عبد الجبار: اسلام اور پاکستان کے مخلص وکیل

08:02 am

55 سالہ مولانا عبد الجبار کی مظلومانہ شہادت نے لاکھوں دلوں پر قیامت ڈھا دی‘ اگر سانحہ ساہیوال میں ملوث اہلکاروں کو سزا دے دی جاتی تو چک نمبر65-4-R ضلع ساہیوال سے تعلق رکھنے والے ممتاز عالم دین کو یوں بے دردی سے قتل کرکے ان کی لاش کو  پہاڑوں پر نہ پھینکا جاتا‘ مولانا عبد الجبار صوبہ پنجاب کے ملتان شہر کی معروف دینی یونیورسٹی جامعہ خیر المدارس کے فارغ التحصیل تھے‘ جس وقت سرخ ریچھ افغانستان کے راستے کراچی کے گرم پانیوں تک پہنچنا چاہتا تھا ‘ تب آپ نے د وران طالبعلمی میں ہی جہادی راستے کو منتخب کرکے افغانستان میں اعلائے کلمتہ اللہ اور پاکستان کی سالمیت کی خاطر افغان مجاہدین کے شانہ بشانہ سوویت فوجوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ‘صرف سوویت یونین ہی نہیں بلکہ امریکی اور نیٹو فورسز کا مقابلہ کرنے کے لئے آپ افغان طالبان کے  بھی شانہ بشانہ مصروف جہاد رہے‘ مولانا عبدالجبار  نہ تو ٹی ٹی پی تھے‘ نہ داعش تھے اور نہ ہی پی ٹی ایم کا مائنڈ سیٹ رکھتے تھے بلکہ پاکستان کے جید علماء اور اداروں کے ذمہ داران جانتے ہیں کہ وہ پاکستان کے قانون اور آئین کو نہ صرف دل سے تسلیم کرتے تھے بلکہ پاکستان کی  سالمیت کی خاطر پاک فوج کے شانہ بشانہ دشمنان پاکستان سے مقابلہ کرنا اپنا ایمان سمجھتے تھے۔
 
ان کا افغان طالبان کے امیر المومنین مرحوم ملا محمد عمر مجاہد سے بھی خصوصی تعلق رہا‘ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل (ر) حمید گل مرحوم بھی ان کا بے حد احترام کرتے تھے‘ پیر کی شام ان کی نماز جنازہ میں شرکت کے لئے اہلیان ساہیوال ہی نہیں بلکہ پنجاب بھر سے علماء کرام کی بہت بڑی تعداد جوق درجوق پہنچی۔
مجھے ساہیوال سے ایک صحافی دوست نے فون کرکے بتایا کہ مولانا عبد الجبار کی نماز جنازہ کا اجتماع بھی اتحاد و یگانگت اور حب الوطنی کے پیغام کا استعار ہ ثابت ہوا۔اجتماع سے مولانا فضل الرحمن خلیل نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’مولانا عبدالجبار عظیم شہید ہیں‘ وہ بے گناہ تھے‘ وہ کسی جرم میں ملوث نہیں تھے‘ وہ کریمنل نہیں تھے‘ وہ ملک دشمن نہیں تھے‘ وہ کسی سازش میں ملوث نہیں تھے‘ جن لوگوں نے مولانا کو ظالمانہ انداز میں شہید کیا ہے‘ انہوں نے پاکستان اور اسلام کے بہت بڑے وکیل کو قتل کرکے  بدامنی کی فضا ہموار کرنے کی کوشش کی۔‘‘ سیدھی سی بات ہے کہ یہ تو مولانا عبدالجبار کا قتل تھا‘ ماوراء عد الت کسی کا قتل بھی ہو کسی بھی مہذب معاشرے میں اس کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
اگر کوئی مجرم ہے تو اسے عد الت میں پیش کرنا لازم ہوتا ہے‘ کبھی بھی قانون شکنی کرکے قانون کی بالادستی قائم نہیں کی جاسکتی‘ اگر مولانا عبد الجبار کسی جرم میں ملوث تھے تو انہیں عدالت میں پیش کیا جانا چاہیے تھا‘ جاننے والے جانتے ہیںکہ کراچی سے خیبر اور گلگت بلتستان سے لے کر گوادر تک مولانا عبدالجبار کے ہزاروں شاگرد ان کے مظلومانہ قتل پر خون کے آنسو رو رہے ہیں‘ اگر انہیں عدالت میں پیش کرکے ان کے جرائم سے عدالت اور قوم کو آگاہ کیا جاتا تو وہ ملک میں قانون کی حکمرانی کے تصور کو اجاگر کرتے‘ نقیب اللہ محسود کے قتل کو بنیاد بناکر پاک فوج کے خلاف طوفان بدتمیزی کا بازار گرم کرنے والی پی ٹی  ایم کے قائدین کی غیرت اگر دہلی کی راتب خوری نے ختم نہیں کر دی تو انہیں مولانا عبدالجبار کا گولیوں سے چھلنی لاشہ بھی یہ دعوت فکر دیتاہوا نظر آئے گا کہ جب تک سانس میں سانس اور جسم میں جان باقی رہی تب تک اسلام اور پاکستان کے دشمنوں سے برسر پیکار رہا اور جب  میرا گولیوں سے چھلنی لاشہ پہاڑ پر پھینکا تو میرا بہتا لہو بھی پاکستان کی سالمیت اور سلامتی کے لئے دعاگو نظر آئے گا۔
پی ٹی ایم کے خلاف پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے دو مرتبہ پریس کانفرنس کی‘ پی ٹی ایم صرف قبائلی علاقوں‘ کے پی کے‘ اسلام آباد‘ لاہور‘ کراچی ہی نہیں بلکہ مغربی ممالک میں بھی پاکستان اور پاک فوج کے خلاف بدترین پروپیگنڈے کے ساتھ ساتھ مظاہرے بھی کررہی ہے مگر محسن داوڑ سے لے کر اسماعیل گلالئی اور منظور پشتین تک کو نہ تو کسی نے ماوراء عدالت مارنے کی کوشش کی اور نہ ہی دھمکی دی‘ لیکن اس کے باوجود پی ٹی ایم والے پختون‘ پختون کی رٹ لگاکر پاکستان میں پنجابیوں کے خلاف لسانیت کی بدبو پھیلا رہے ہیں‘ جبکہ پیپلز پارٹی سے لے کر ن لیگ اور اے این پی سمیت میڈیا کے بعض پنڈت اور پردھان  بھی کھل کر ان کی حمایت کررہے ہیں۔
انتہائی مظلومیت کے عالم میں بے دردی کے ساتھ قتل کیے جانے والے مولانا عبد الجبار تو پختون نہیں بلکہ ٹھیٹھ پنجابی اور راجپوت خاندان کے چشم و چراغ تھے … انہوں نے اپنی ساری زندگی پیپلز پارٹی یا مسلم لیگ سے رابطہ رکھنے کی بجائے ‘ اپنا رابطہ مولانا سمیع الحق شہید سے لے کر مولانا فضل الرحمن‘ جامعتہ الرشید کے مفتی عبد الرحیم سے لے کر مولانا زاہد الراشدی سمیت پاکستان بھر کے علماء کرام اور دینی مدارس کے قائدین سے رکھا۔کسی دور میں وہ مولانا محمد مسعود ازہر کے دست راست سمجھے جاتے تھے ‘ ان کی مظلومانہ شہادت نے لاکھوں دلوں پر بجلیاں گرائیں‘ لیکن ہوش و حواس قائم رکھے‘ ایک نامور پنجابی عالم دین زندگی کے 30  برس افغانوں کے شانہ بشانہ ظلم کے خلاف لڑتا رہا‘ اس کی لاش پر نہ تو کسی نے سیاست چمکانے کی کوشش کی ‘ نہ ان کی مظلومانہ شہادت کے بعد پاک فوج یا ملکی سلامتی کے اداروں کے خلاف بیہودہ کمپیئن چلانے کی کوشش کی‘ ہاں البتہ یہ مطالبہ بالکل جائز اور درست ہے کہ پلوامہ واقع کے بعد ان کے ساہیوال والے گھر سے غالباً سی ٹی ڈی والوں نے اگر حفاظتی تحویل میں لیا تھا تو پھر ان کی ہاتھ بندھی گولیوں سے چھلنی لاش  بلوچستان کے پہاڑوں سے کیسے ملی؟ اس کی تحقیقات ہونی چاہیں اور اس میں ملوث کرداروں کو بے نقاب کرکے قرار واقعی سزا بھی دینی چاہیے۔(وما توفیقی الا باللہ) 
 

تازہ ترین خبریں