08:02 am
ٹیکسوں کی آندھی…گھی، چینی، سینٹ کی پیداواربند! 

ٹیکسوں کی آندھی…گھی، چینی، سینٹ کی پیداواربند! 

08:02 am

٭لاہور ایئرپورٹ پر فائرنگ، دو افراد ہلاک، ایک گرفتار! ایئرپورٹ پر گاڑیوں کا داخلہ بندOالیکشن کمیشن اثاثے: کوئی بھی سیاست دان کروڑ پتی سے کم نہیںO پنجاب اسمبلی ن لیگ فارورڈ بلاک کی کوششیں تیز، چار خواتین کے حکومت سے رابطےO آصف زرداری کے پاس ایک کروڑ کے گھوڑے، وزیراعظم کے پاس دو لاکھ کی چار بکریاں O زرداری کی بیرون ملک کوئی جائیداد نہیںOرانا ثناء اللہ جیل میں، سمگلروں کی بیرک میں سی کلاس، طبیعت خراب O ہر چیز پر ٹیکس:کراچی میں ٹرانسپورٹ، ملک بھر میں نمک، گھی، سیمنٹ کی پیداوار بند، پراپرٹی کا کاروبار ٹھپ، دالوں، سبزیوں کے نرخوں میں 50 فیصد تک اضافہ O بلاول امیر ترین رکن اسمبلی۔
 
٭بہت سی چیختی چلاتی خبریں جمع ہو گئی ہیں۔ یہ کہ الیکشن کمیشن کے جاری کردہ گوشواروں کے مطابق آصف زرداری کی تو بیرون ملک کوئی جائیداد ہی نہیں مگر پھر انٹرنیٹ اور فیس بک پر دنیا بھر میں آصف زرداری کے جن 87 اثاثوں (امریکہ میں 37) کی بار بار تفصیل آتی رہی ہے، اس کا کیا بنے گا۔ پاکستان کے اندر بھی صرف 66 کروڑ روپے کے اثاثے دکھائے گئے۔ ان سے تو بیٹا بلاول بازی لے گیا، ایک ارب 54 کروڑ کے اثاثے، دبئی میں دو بڑے وِلاز میں حصہ، اور دبئی اور لندن کے بنکوں میں پانچ کروڑ روپے جمع! بلاول سے تو شیخ رشید کہیں آگے نکلے، صرف 8 کروڑ 73 لاکھ نقد، 25 لاکھ کے بانڈز!! مراد سعید بہت غریب نکلے صرف 32 لاکھ روپے نقد! اور تنخواہ سے اخراجات پورے ہونے کی شکائت والے وزیراعظم کے پاس کوئی ذاتی گاڑی نہیں، صرف دو کروڑ 40 لاکھ روپے بنکوں میں جمع ہیں جب کہ مختلف بنکوں میں پونڈ اور ڈالروں میں صرف پانچ کروڑ 34 لاکھ روپے ہیں، گرینڈ حیات ٹاور اسلام آباد میں ایک فلیٹ کے لئے ایک کروڑ 19 لاکھ روپے جمع کرا رکھے ہیں۔ قارئین کرام! میں بے چارے ’غریب‘ ارکان اسمبلی کے اثاثوں کے بیان سے تنگ آ گیا ہوں۔ صرف بار بار خیال آ رہا ہے کہ آصف زرداری کے پاس ایک کروڑ کے گھوڑے، وزیراعظم کے پاس صرف چار بکریاں۔
٭ایک اچھی خبر، کالم لکھتے وقت چار سال سے پیاسی، تھرپارکر کی وسیع خشک ویران صحرائی زمین پر تیز بارش شروع ہو چکی ہے۔ ندیاں بہہ رہی ہیں۔ خدا کا شکر ہے، اس بدنصیب علاقے کے لاکھوں مفلوک الحال عوام کو پینے کا پانی تو ملا۔ تھرپارکر واحد علاقہ ہے جہاں بارش کا پانی ضائع نہیں جاتا۔ اس سے ٹوبے (تالاب) اور کنوئیں بھر جاتے ہیں جو سارا سال استعمال ہوتے ہیں۔ تھرپارکر کا یہ علاقہ جیسمیر کے صحرا سے ملا ہوا ہے۔ یہ سندھ کا ضلع ہے۔ شمال میں میرپور خاص اور عمر کوٹ کے اضلاع، مشرق میں بھارتی علاقہ بارمیر اور جیسمیر، مغرب میں بدین اور جنوب میںرن کچھ سے ملا ہوا ہے۔
٭لاہور کے ہوائی اڈے پر ملزمان ٹیکسی میں اسلحہ لے کر بڑی آسانی سے ہوائی اڈے پر پہنچ گئے اورعمرہ کر کے آنے والے دو افراد کو قتل دو کو زخمی کر دیا۔ دونوں ملزم گرفتار ہو گئے۔ تفصیلات اخبارات میں موجود ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ قاتلوں نے کوئی پرانا بدلہ لیا ہے۔ پچھلے ڈیڑھ سال میں اس ہوائی اڈے پر فائرنگ اور خونریزی کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔ اب پھر وہی واقعہ! ایئرپورٹ پر باہر رینجرز، اور اندر اے ایس ایف اور پولیس کی سکیورٹی ہوتی ہے، یہ لوگ کہاں تھے؟ دو افراد ہوائی اڈے پر بم بھی گرا سکتے تھے، اندھا دھند فائرنگ کر سکتے تھے! کس کس بات پر کیا لکھا جائے۔
٭الیکشن کمیشن کی رپورٹ سے پتہ چلا ہے کہ آصف زرداری اور بلاول کے پاس عرب امارات کے اقامے ہیں! اس پر پیپلزپارٹی کے ترجمان نے وضاحت ضروری سمجھی ہے کہ یہ اقامے عرب امارات کی کسی کمپنی کے نہیں بلکہ وہاں کی حکومت کے دیئے ہیں! کیا وضاحت ہے! انڈا دیسی مرغی کا ہو یا ولائتی کا، انڈا ہی ہوتا ہے۔ ترجمان نے جتانے کی کوشش کی ہے کہ نوازشریف کے پاس عرب امارات کا ایک کمرشل کمپنی کا اقامہ تھا، مگر زرداری اوربلاول کے پاس ایسے اقامے نہیں تھے۔ اس سے کیا فرق پڑتا ہے! اقامہ تو اقامہ ہی ہے، سرخ ہویا سفید! یہ کیوں لئے گئے! اور کیا لکھا ہے گوشوارے میں کہ آصف زرداری کی بیرون ملک کوئی جائیداد نہیں اور انٹرنیٹ پر 87 جائیدادوں کی الگ الگ تفصیل موجود ہے۔ صرف "Asif Zardari Assets" فیڈ کریں۔ لمبی چوڑی تفصیل نکل آئے گی۔ ولی عہد کے پاس ایک ارب 54 کروڑ کی جائیداد کہاں سے آ گئی! فرانس کا محل، نیویارک کا فلیٹ، ٹیکساس میںگھوڑوں کا فارم،ہیوسٹن وغیرہ میں 37 کاروبار اثاثے!! کیا سب بیچ دیئے، صرف 66 کروڑ باقی رہ گئے! نوازشریف کے دو کم سن بچے اربوں کے فلیٹوں کے مالک بن گئے، صرف 19 سال کی عمر میںپیپلزپارٹی کا چیئرمین کیسے ارب پتی بن گیا!! اور اب خبر گردش کر رہی ہے کہ باپ کے خلاف نئے ریفرنس میں بیٹے کا نام بھی شامل ہے! کیا انجام ہے۔ سامنے کیا کچھ دکھائی دے رہا ہے!
٭چند روز قبل متروکہ اوقاف کے سابق لیگی چیئرمین صدیق الفاروق نے سکھوں کی محبت میں بیان دیا کہ ’’ہم اور سکھ ایک ہی قوم ہیں‘‘ اس پر بزرگ تجزیہ نگار اثرچوہان نے سوال کیا ہے کہ کیا کبھی کوئی مسلمان شخص سکھوں کے ساتھ اپنی خواتین کے رشتے کر سکتا ہے! محترم چوہان صاحب! ایسا ہوا ہے کہ ولی خا ن کے تایا اور (مغربی پاکستان کے سابق وزیراعلیٰ) ڈاکٹر خا ن صاحب کی ایک بیٹی نے ایک سکھ سے شادی کی تھی۔ دونوں خاندانوں کی رضا مندی شامل تھی۔ ڈاکٹر خا ن  صاحب کی بیوی انگریز اور بہو پارسی تھی۔ (حوالہ کتاب، گاندھی کے چیلے) میں زیادہ دور نہیں جاتا مگر صدیق الفاروق کا بیان!! شائد یہ صاحب بھول گئے کہ بھارت اور دوسرے ملکوں کے جو سکھ حلقے آزاد خالصتان کی مہم چلائے ہوئے ہیں اس کے نقشے میں لاہور، ننکانہ صاحب اور حسن ابدال تک سارا علاقہ شامل ہے! یہ نقشے حکومت کے پاس موجود ہیں۔ کافی عرصہ پہلے میرے پاس بھی ایک نقشہ آیا تھا، کہیں ڈھونڈنا پڑے گا!
٭لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں نوازشریف کو ایئرکنڈیشنڈ کمرہ، ٹیلی ویژن، اخبارات، گھر کا کھانا اور رانا ثناء اللہ کو سمگلروں والی بیرک میں عام ملزموں والی سی کلاس! ایئرکنڈیشنر، ٹی وی، اخبار کچھ نہیں! جیل کا شام سے پہلے عام بدمزہ پھیکا کھانا، شام ہوتے ہی بیرک میں صبح تک بند! یہ دن بھی دیکھنے تھے! جہاں تک 15 کلو ہیروئن کا تعلق ہے تو انسداد منشیات محکمہ فورس والوں نے بتایا ہے کہ رانا ثناء اللہ کے منشیات فروشوں اور سمگلروں کے ساتھ رابطوں کا دو ماہ سے دھیان رکھا جا رہا تھا اور شواہد جمع کئے جا رہے تھے، ٹھوس شواہد مل جانے پر ہاتھ ڈالا گیا۔ موٹر وے پر ان کی گاڑی کے ساتھ ان کی ایک دوسری گاڑی بھی تھی۔ ہیروئن اس دوسری گاڑی سے نکلی۔ اس کی تصویریں بھی لی گئیں۔اس موقع پر خود رانا ثناء اللہ اور ان کے محافظوں نے اینٹی نارکوٹکس کے عملے کے ساتھ ہاتھا پائی بھی کی۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ آصف زرداری کے خلاف بھی منشیات کا مقدمہ درج ہوا تھا اسے نوازشریف کے دور میں احتساب بیورو کے سربراہ سیف الرحمان نے دائر کیا تھا۔ یہ مقدمہ پانچ سال تک چلتا رہا پھر ’این آر او‘ کی نذر ہو گیا۔ اسی زمانے میں شیخوپورہ کے ایک رکن اسمبلی منور منج اور اسکے تین ساتھیوں کو لاہور جاتے ہوئے راستے میں روکا گیا۔ بھاری مقدار میں ہیروئن برآمد ہوئی۔ منور منج اور ایک ساتھی کو 14 سال اور دو ساتھیوں کو سزائے موت سنائی گئی۔ کچھ عرصہ کے بعد یہ سزائیں ختم ہو گئیں۔ آج تک کبھی کسی منشیات فروش کو سزائے موت پر عمل نہیں ہوا۔
٭ایک خبر: ن لیگ کے پنجاب اسمبلی کے 14 ارکان کی بنی گالا یاترا کے بعد چار خاتون ارکان نے حکومت سے رابطے قائم کر لئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ن لیگ کے بعض حلقے شریف خاندان کی حالیہ صورتحال سے بہت بددل اور مایوس دکھائی دے رہے ہیں۔ پی ٹی آئی اس کا فائدہ اٹھا رہی ہے۔ ن لیگ کے قومی اسمبلی میں 85 ارکان ہیں۔ ضابطہ کے مطابق پارٹی سے ناراض 52 ارکان فارورڈ گروپ بنا لیں تو انہیں باقاعدہ مسلم لیگ قرار دے دیا جائے گا۔
 

تازہ ترین خبریں